Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 1 · Chapter 6

مقدمہ

6. منبر کی آواز و گفتگو سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکریم کا بیان

12 hadiths in this chapter

31

Sunan Darmi #31

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ "يَخْطُبُ إِلَى جِذْعٍ، فَلَمَّا اتَّخَذَ الْمِنْبَرَ حَنَّ الْجِذْعُ حَتَّى أَتَاهُ، فَمَسَحَهُ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے تنے کا سہارا لے کر خطبہ دیا کرتے تھے، پھر جب منبر بن گیا (اور آپ اس پر تشریف لے گئے «كما فى رواية البخاري») تو وہ تنا رونے لگا حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے اور اپنا ہاتھ اس پر پھیرا۔

32

Sunan Darmi #32

Zaeef

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ حَيَّانَ، حَدَّثَنِي ابْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيامَ، فَكَانَ يَشُقُّ عَلَيْهِ قِيَامُهُ، فَأُتِيَ بِجِذْعِ نَخْلَةٍ فَحُفِرَ لَهُ وَأُقِيمَ إِلَى جَنْبِهِ قَائِمًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ فَطَالَ الْقِيَامُ عَلَيْهِ، اسْتَنَدَ إِلَيْهِ فَاتَّكَأَ عَلَيْهِ فَبَصُرَ بِهِ رَجُلٌ كَانَ وَرَدَ الْمَدِينَةَ، فَرَآهُ قَائِمًا إِلَى جَنْبِ ذَلِكَ الْجِذْعِ، فَقَالَ: لِمَنْ يَلِيهِ مِنْ النَّاسِ: لَوْ أَعْلَمُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَحْمَدُنِي فِي شَيْءٍ يَرْفُقُ بِهِ، لَصَنَعْتُ لَهُ مَجْلِسًا يَقُومُ عَلَيْهِ، فَإِنْ شَاءَ، جَلَسَ مَا شَاءَ، وَإِنْ شَاءَ، قَامَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "ائْتُونِي بِهِ"، فَأَتَوْهُ بِهِ، فَأُمِرَهُ أَنْ يَصْنَعَ لَهُ هَذِهِ الْمَرَاقِيَ الثَّلَاثَ، أَوْ الْأَرْبَعَ هِيَ الْآنَ فِي مِنْبَرِ الْمَدِينَةِ، فَوَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ رَاحَةً، فَلَمَّا فَارَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجِذْعَ وَعَمَدَ إِلَى هَذِهِ الَّتِي صُنِعَتْ لَهُ، جَزِعَ الْجِذْعُ فَحَنَّ كَمَا تَحِنُّ النَّاقَةُ حِينَ فَارَقَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَزَعَمَ ابْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَمِعَ حَنِينَ الْجِذْعِ، رَجَعَ إِلَيْهِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ وَقَالَ:"اخْتَرْ أَنْ أَغْرِسَكَ فِي الْمَكَانِ الَّذِي كُنْتَ فِيهِ، فَتَكُونَ كَمَا كُنْتَ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ أَغْرِسَكَ فِي الْجَنَّةِ فَتَشْرَبَ مِنْ أَنْهَارِهَا وَعُيُونِهَا فَيَحْسُنُ نَبْتُكَ، وَتُثْمِرُ فَيَأْكُلَ أَوْلِيَاءُ اللَّهِ مِنْ ثَمَرَتِكَ وَنَخْلِكَ فَعَلْتُ"فَزَعَمَ أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ لَهُ:"نَعَمْ قَدْ فَعَلْتُ مَرَّتَيْنِ"، فَسُأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:"اخْتَارَ أَنْ أَغْرِسَهُ فِي الْجَنَّةِ".

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن بریدہ نے اپنے باپ سے روایت کیا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ دیتے تو کھڑے ہو جاتے اور دیر تک کھڑے رہتے اور یہ آپ پر شاق گزرنے لگا تھا، چنانچہ ایک کھجور کا تنا لایا گیا اور گڑھا کھود کر اسے آپ کے پہلو میں کھڑا کر دیا گیا، اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دیتے تو دیر تک اس سے ٹیک لگائے کھڑے رہتے، ایک آدمی جو مدینہ آئے ہوئے تھے جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس تنے کے پاس کھڑے دیکھا تو اپنے پاس بیٹھے شخص سے کہا کہ اگر مجھے معلوم ہو جاتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کسی ایسی چیز پر میری تعریف کریں گے جو انہیں آرام دے تو ان کے لئے ایسی نشست گاہ بنا دیتا جس پر آپ کھڑے ہو سکتے اور اس پر چاہے جتنا بیٹھتے اور جتنا چاہتے کھڑے رہتے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں میرے پاس لے کر آو“، چنانچہ انہیں آپ کے رو برو لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ تین یا چار سیڑھی کا منبر بنائیں جو آج مدینہ میں موجود ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں راحت محسوس کی، اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس تنے سے دور ہوئے اور جو چیز (منبر) آپ کے لئے بنائی گئی اس کے قریب جانے لگے تو وہ تنا اداس ہو کر اونٹنی کی طرح باریک آواز سے رونے لگا۔ عبداللہ بن بریدہ نے اپنے والد سے روایت کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تنے کے رونے کی آواز سنی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف واپس لوٹے اور دست مبارک اس پر رکھا اور فرمایا: ”اگر تم چاہو تو جس جگہ لگے ہو اسی میں گڑا رہنے دوں اور تم جس حال میں ہو برقرار رہو، اور اگر تم چاہو تو جنت میں لگا دوں اور جنت کی نہروں اور چشموں سے سیراب ہو اور تیری روئیدگی اچھی ہو اور تو پھل دے اور اللہ کے ولی تیرے پھل کھائیں“، راوی کا خیال ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بار فرمایا ” «نعم قد فعلت» ٹھیک ہے میں یہی کروں گا۔“ راوی نے استفسار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے یہ اختیار کیا کہ میں اسے جنت میں لگا دوں۔“

33

Sunan Darmi #33

See Details

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَقُومُ إِلَى جِذْعٍ قَبْلَ أَنْ يُجْعَلَ الْمِنْبَرُ، فَلَمَّا جُعِلَ الْمِنْبَرُ حَنَّ ذَلِكَ الْجِذْعُ حَتَّى سَمِعْنَا حَنِينَهُ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَيْهِ فَسَكَنَ".

اردو ترجمہ · Urdu

روایت ہے سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما سے کہ منبر بنائے جانے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تنے کا سہارا لے کر کھڑے ہوتے تھے، جب منبر بنا لیا گیا تو وہ تنا رونے لگا یہاں تک کہ ہم نے اس کے رونے کی آواز سنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس پر رکھا تو وہ خاموش ہو گیا۔

34

Sunan Darmi #34

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِلَى خَشَبَةٍ، فَلَمَّا صُنِعَ الْمِنْبَرُ فَجَلَسَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَنَّتْ حَنِينَ الْعِشَارِ حَتَّى وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَيْهَا فَسَكَنَتْ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک لکڑی کا سہارا لے کر خطبہ دیا کرتے تھے، پس جب منبر بنا لیا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تشریف فرما ہوئے تو وہ لکڑی اونٹنی کی طرح رونے لگی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس پر رکھا تو وہ چپ ہو گئی۔

35

Sunan Darmi #35

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا فَرْوَةُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي كَرِيبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "حَنَّتْ الْخَشَبَةُ حَنِينَ النَّاقَةِ الْخَلُوجِ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ لکڑی اس طرح روئی جیسے وہ اونٹنی روتی ہے جس کا بچہ چھین لیا گیا ہو۔

36

Sunan Darmi #36

Hasan

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُصَلِّي إِلَى جِذْعٍ وَيَخْطُبُ إِلَيْهِ إِذْ كَانَ الْمَسْجِدُ عَرِيشًا، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: أَلَا نَجْعَلُ لَكَ عَرِيشًا تَقُومُ عَلَيْهِ يَرَاكَ النَّاسُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَتُسْمِعُ مِنْ خُطْبَتِكَ؟، قَالَ: "نَعَمْ"، فَصُنِعَ لَهُ الثَّلَاثَ دَرَجَاتٍ، هُنَّ اللَّوَاتِي عَلَى الْمِنْبَرِ، فَلَمَّا صُنِعَ الْمِنْبَرُ وَوُضِعَ فِي مَوْضِعِهِ الَّذِي وَضَعَهُ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ الْمِنْبَرَ مَرَّ عَلَيْهِ، فَلَمَّا جَاوَزَهُ، خَارَ الْجِذْعُ حَتَّى تَصَدَّعَ وَانْشَقَّ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَهُ بِيَدِهِ حَتَّى سَكَنَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْمِنْبَرِ، قَالَ: فَكَانَ إِذَا صَلَّى، صَلَّى إِلَيْهِ فَلَمَّا هُدِمَ الْمَسْجِدُ أَخَذَ ذَلِكَ الْجِذْعَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَلَمْ يَزَلْ عِنْدَهُ حَتَّى بَلِيَ فَأَكَلَتْهُ الْأَرَضَةُ وَعَادَ رُفَاتًا.

اردو ترجمہ · Urdu

طفیل نے روایت کیا اپنے والد سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہ جب مسجد (نبوی) کی چھت تنوں پر تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے تنے کے پاس نماز پڑھتے اور اس کا سہارا لے کر خطبہ دیتے تھے، آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص نے کہا ہم آپ کے لئے بیٹھنے کی جگہ بنا دیتے ہیں جس پر آپ کھڑے ہوں اور لوگ آپ کو دیکھ سکیں اور خطبہ بھی سن سکیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی چنانچہ تین سیڑھی کا منبر بنایا گیا، اور جہاں آپ نے حکم دیا وہ منبر رکھ دیا گیا، اور جب رسول اللہ ن صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اس منبر کی طرف جانے لگے اور اس تنے کے پاس سے گزرے تو وہ بھینسے کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ہاتھ پھیرا تو وہ خاموش ہو گیا، آپ منبر کی طرف تشریف لے گئے، آپ نماز اسی تنے کے پاس پڑھتے تھے اور جب مسجد نبوی کی ترمیم ہوئی تو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اس تنے کو لے گئے اور وہ انہیں کے پاس رہا یہاں تک کہ بوسیدہ ہو گیا اور اسے دیمک نے کھا لیا اور وہ ریزہ ریزہ ہو گیا۔

37

Sunan Darmi #37

Hasan

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَخْطُبُ إِلَى لِزْقِ جِذْعٍ فَأَتَاهُ رَجُلٌ رُومِيٌّ، فَقَالَ: أَصْنَعُ لَكَ مِنْبَرًا تَخْطُبُ عَلَيْهِ، فَصَنَعَ لَهُ مِنْبَرًا هَذَا الَّذِي تَرَوْنَ، قَالَ: فَلَمَّا قَامَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، حَنَّ الْجِذْعُ حَنِينَ النَّاقَةِ إِلَى وَلَدِهَا، فَنَزَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَمَّهُ إِلَيْهِ فَسَكَنَ، فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُحْفَرَ لَهُ وَيُدْفَنَ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک تنے سے لگ کر خطبہ دے رہے تھے کہ ایک رومی آدمی آپ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ میں آپ کے لئے منبر بنائے دیتا ہوں جس پر کھڑے ہو کر آپ خطبہ دیا کریں، چنانچہ آپ کے لئے وہ منبر بنا دیا گیا جو آج تم دیکھتے ہو۔ راوی نے کہا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس منبر پر خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو وہ تنا اس طرح رونے لگا جیسے اونٹنی کا بچہ باریک آواز سے روتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور اس تنے کے پاس تشریف لے گئے، اسے چمٹا لیا تو وہ چپ ہو گیا، آپ نے حکم دیا کہ گڑھا کھود کر اسے دفن کر دیا جائے۔

38

Sunan Darmi #38

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الصَّعْقُ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ: لَمَّا أَنْ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ جَعَلَ "يُسْنِدُ ظَهْرَهُ إِلَى خَشَبَةٍ وَيُحَدِّثُ النَّاسَ"، فَكَثُرُوا حَوْلَهُ، فَأَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُسْمِعَهُمْ، فَقَالَ:"ابْنُوا لِي شَيْئًا أَرْتَفِعُ عَلَيْهِ"، قَالُوا: كَيْفَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟، قَالَ:"عَرِيشٌ كَعَرِيشِ مُوسَى"، فَلَمَّا أَنْ بَنَوْا لَهُ، قَالَ الْحَسَنُ: حَنَّتْ وَاللَّهِ الْخَشَبَةُ، قَالَ الْحَسَنُ: سُبْحَانَ اللَّهِ! هَلْ تُبْتَغَى قُلُوبُ قَوْمٍ سَمِعُوا؟ قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: يَعْنِي هَذَا.

اردو ترجمہ · Urdu

صَعِقْ نے بیان کیا کہ میں نے حسن بصری رحمہ اللہ کو کہتے سنا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو اپنی پشت (مبارک) لکڑی سے لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے، جب لوگوں کی کثرت ہوئی تو آپ نے سوچا کہ سب آپ کی آواز سنیں، چنانچہ آپ نے حکم دیا کہ ”کوئی ایسی چیز بناؤ جس کے اوپر میں کھڑا ہو جاؤں“، عرض کیا اے اللہ کے نبی! کیسی چیز بنائیں؟ فرمایا: ”موسی علیہ السلام کا سا چھپر بناؤ“، جب وہ عریش بن گیا تو حسن کا کہنا ہے اللہ کی قسم وہ لکڑی رو پڑی۔ حسن رحمہ اللہ نے یہ بھی کہا: سبحان الله ایسی قوم کے دلوں کو پایا جا سکتا ہے جنہوں نے اسے سنا۔ ابومحمد امام دارمی نے کہا یعنی اس آواز کو سنا۔

39

Sunan Darmi #39

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: يَخْطُبُ إِلَى جِذْعٍ قَبْلَ أَنْ يَتَّخِذَ الْمِنْبَرَ، فَلَمَّا اتَّخَذَ الْمِنْبَرَ وَتَحَوَّلَ إِلَيْهِ، حَنَّ الْجِذْعُ، فَاحْتَضَنَهُ، فَسَكَنَ"، وَقَالَ: "لَوْ لَمْ أَحْتَضِنْهُ، لَحَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ"، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ،.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر بنائے جانے سے پہلے ایک تنے کا سہارا لے کر خطبہ دیا کرتے تھے، پھر جب منبر بن گیا اور آپ اس کی طرف متوجہ ہوئے تو وہ تنا رونے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چمٹا لیا تو وہ خاموش ہو گیا، فرمایا: ”میں اگر اسے چمٹاتا نہیں تو یہ قیامت تک روتا رہتا۔“

40

Sunan Darmi #40

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، بِمِثْلِهِ،.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی روایت مروی ہے۔

41

Sunan Darmi #41

Zaeef

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: حَنَّتِ الْخَشَبَةُ الَّتِي كَانَ يَقُومُ عِنْدَهَا،"فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهَا، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا"، فَسَكَنَتْ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ”تنا“ جس کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے تھے، رو پڑا پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے، اپنا دست مبارک اس پر رکھا تو وہ خاموش ہو گیا۔

42

Sunan Darmi #42

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: يَقُومُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَيُسْنِدُ ظَهْرَهُ إِلَى جِذْعٍ مَنْصُوبٍ فِي الْمَسْجِدِ فَيَخْطُبُ النَّاسَ، فَجَاءَهُ رُومِيٌّ، فَقَالَ: أَلَا أَصْنَعُ لَكَ شَيْئًا تَقْعُدُ عَلَيْهِ وَكَأَنَّكَ قَائِمٌ؟ فَصَنَعَ لَهُ مِنْبَرًا لَهُ دَرَجَتَانِ، وَيَقْعُدُ عَلَى الثَّالِثَةِ، فَلَمَّا قَعَدَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ الْمِنْبَرِ، خَارَ الْجِذْعُ كَخُوَارِ الثَّوْرِ حَتَّى ارْتَجَّ الْمَسْجِدُ حُزْنًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمِنْبَرِ، فَالْتَزَمَهُ وَهُوَ يَخُورُ، فَلَمَّا الْتَزَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَكَنَ، ثُمَّ قَالَ:"أَمَا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ لَمْ أَلْتَزِمْهُ، لَمَا زَالَ هَكَذَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ حُزْنًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدُفِنَ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنی پشت مسجد میں رکھے ایک تنے سے ٹکاتے تھے، ایک رومی آپ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ میں آپ کے لئے ایسی چیز بنا دیتا ہوں جس پر آپ بیٹھے بھی ہوں تو ایسا لگے کہ کھڑے ہیں، چنانچہ اس نے منبر بنایا جس کی دو سیڑھیوں پر آپ کھڑے ہوتے اور تیسری پر بیٹھتے تھے، جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تشریف فرما ہوئے تو وہ تنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غم میں بیل کی طرح ڈکرانے لگا اور مسجد گونجنے لگی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس گئے اسے چمٹا لیا تو وہ خاموش ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر میں اسے چمٹاتا نہیں تو یہ اللہ کے رسول کے فراق میں قیامت تک اسی طرح روتا رہتا“، پھر رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا اور اس تنے کو دفن کر دیا گیا۔