Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 1 · Chapter 54

مقدمہ

54. فتویٰ دینے کے بعد اس سے رجوع کرنے کا بیان

4 hadiths in this chapter

664

Sunan Darmi #664

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَالَ: كَانَ إِبْرَاهِيمُ، يَقُولُ: يَقُومُ عَنْ يَسَارِهِ، فَحَدَّثْتُهُ عَن سُمَيْعٍ الزَّيَّاتِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "أَقَامَهُ عَنْ يَمِينِهِ"، فَأَخَذَ بِهِ.

اردو ترجمہ · Urdu

اعمش سے مروی ہے، ابراہیم نے کہا: (دوسرا شخص) امام کے بائیں کھڑا ہو گا، میں نے انہیں بتایا سمیع الزیات کے طریق سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (نماز میں) اپنے دائیں جانب کھڑا کیا، اور پھر انہوں نے (ابراہیم نے) اسی کو اپنا مسلک بنا لیا۔

665

Sunan Darmi #665

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَقَّارِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: نَشَدَ عُمَرُ النَّاسَ: أَسَمِعَ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ مِنْكُمْ فِي الْجَنِينِ؟ فَقَامَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، فَقَالَ: قَضَى فِيهِ عَبْدًا أَوْ أَمَةً، فَنَشَدَ النَّاسَ أَيْضًا: فَقَامَ الْمَقْضِيُّ لَهُ، فَقَالَ:"قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِي بِهِ عَبْدًا أَوْ أَمَةً"فَنَشَدَ النَّاسَ أَيْضًا: فَقَامَ الْمَقْضِيُّ عَلَيْهِ، فَقَالَ: قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"عَلَيَّ غُرَّةً عَبْدًا أَوْ أَمَةً"، فَقُلْتُ: أَتَقْضِي عَلَيَّ فِيهِ فِيمَا لَا أَكَلَ، وَلَا شَرِبَ، وَلَا اسْتَهَلَّ، وَلَا نَطَقَ؟ أَنْ تُطِلَّهُ فَهُوَ أَحَقُّ مَا يُطَلُّ"فَهَمَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ بِشَيْءٍ مَعَهُ"، فَقَالَ: "أَشِعْرٌ؟"، فَقَالَ عُمَرُ: لَوْلَا مَا بَلَغَنِي مِنْ قَضَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَجَعَلْتُهُ دِيَةً بَيْنَ دِيَتَيْنِ.

اردو ترجمہ · Urdu

عقار بن مغیرہ بن شعبہ نے روایت کیا اپنے والد سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے پوچھا: تم میں سے کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنین کے بارے میں سنا؟ پس سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں غلام یا لونڈی (دیت میں) دینے کا فیصلہ کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھر لوگوں سے پوچھا، تو جس کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا تھا وہ کھڑا ہوا اور اس نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنین کے بدلے میں میرے لئے ایک غلام یا لونڈی کا فیصلہ دیا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھر لوگوں سے پوچھا، تو جس پر یہ فیصلہ صادر فرمایا تھا (مقضی علیہ) نے کھڑے ہو کر عرض کیا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اوپر جنین کے گرنے پر ایک غلام یا کنیز کا فیصلہ فرمایا، تو میں نے عرض کیا: کیا آپ میرے اوپر ایسے جنین کی دیت کا فیصلہ فرماتے ہیں جس نے نہ کھایا، نہ پیا، نہ رویا، نہ چلایا، یعنی نہ ولادت کے وقت آواز نکالی، نہ بولا، اگر آپ اس کو چھوڑ دیں کہ یہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ اس کا دم معاف کیا جائے، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی چیز کے ساتھ اس کی طرف جھکے اور فرمایا شعر کہتے ہو؟ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ مجھے معلوم نہ ہو جاتا تو میں دو دیتوں کو ایک ہی قرار دے دیتا۔

666

Sunan Darmi #666

Sahih

(حديث مقطوع) أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ: كَانَ سَلَّامٌ يَذْكُرُ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: "إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَعْرِفَ خَطَأَ مُعَلِّمِكَ، فَجَالِسْ غَيْرَهُ".

اردو ترجمہ · Urdu

ایوب نے فرمایا: اگر تم اپنے استاذ کی غلطی جاننا چاہو تو ان کے علاوہ کسی دوسرے کی مجالست اختیار کرو۔

667

Sunan Darmi #667

Sahih

(حديث مقطوع) أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، قَالَ: "تَذَاكَرْنَا بِمَكَّةَ الرَّجُلَ يَمُوتُ، فَقُلْتُ: عِدَّتُهَا مِنْ يَوْمِ يَأْتِيهَا الْخَبَرُ، لِقَوْلِ الْحَسَنِ، وَقَتَادَةَ، وَأَصْحَابِنَا، قَالَ: فَلَقِيَنِي طَلْقُ بْنُ حَبِيبٍ الْعَنَزِيُّ، فَقَالَ: إِنَّكَ عَلَيَّ كَرِيمٌ، وَإِنَّكَ مِنْ أَهْلِ بَلَدٍ الْعَيْنُ إِلَيْهِمْ سَرِيعَةٌ، وَإِنِّي لَسْتُ آمَنُ عَلَيْكَ، قَالَ: وَإِنَّكَ قُلْتَ قَوْلًا هَا هُنَا خِلَافَ قَوْلِ أَهْلِ الْبَلَدِ وَلَسْتُ آمَنُ، فَقُلْتُ: وَفِي ذَا اخْتِلَافٌ؟، قَالَ: نَعَمْ، عِدَّتُهَا مِنْ يَوْمِ يَمُوتُ، فَلَقِيتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: عِدَّتُهَا مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ، وَسَأَلْتُ مُجَاهِدًا، فَقَالَ: عِدَّتُهَا مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ، وَسَأَلْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ، فَقَالَ: مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ، وَسَأَلْتُ أَبَا قِلَابَةَ، فَقَالَ: مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ، وَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ، فَقَالَ: مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي نَافِعٌ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ، وسَمِعْت عِكْرِمَةَ، يَقُولُ: مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ، قَالَ: وَقَالَ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ: مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ، قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ، قَالَ حَمَّادٌ: وَسَمِعْتُ لَيْثًا حَدَّثَ، عَنْ الْحَكَمِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ، قَالَ: وَقَالَ عَلِيٌّ: مِنْ يَوْمِ يَأْتِيهَا الْخَبَرُ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَقُولُ: مِنْ يَوْمِ تُوُفِّيَ".

اردو ترجمہ · Urdu

ایوب نے بیان کیا کہ ہم نے (عدت کا) تذکرہ کیا کہ ایک آدمی مکہ میں مرتا ہے، میں نے کہا: جس دن اس کی خبر ملے گی اسی دن سے عدت شمار ہو گی، جیسا کہ حسن قتادہ اور ہمارے دیگر اصحاب کا قول ہے۔ ایوب نے کہا: مجھ سے طلق بن حبیب نے ملاقات کی اور کہا: آپ میرے لئے بہت معزز ہیں، اور آپ ایسے شہر میں ہیں جہاں نظر زیادہ لگتی ہے، اور میں آپ کو محفوظ نہیں سمجھتا، نیز طلق نے کہا: آپ نے اس شہر کے رہنے والوں کے خلاف فتویٰ دیا ہے۔ اس لئے بھی آپ کو محفوظ نہیں سمجھتا، میں نے کہا: کیا اس مسئلے میں اختلاف ہے؟ طلق نے کہا: جی ہاں، اس عورت کی عدت جس دن اس کا شوہر مرا ہے اسی دن سے شمار ہو گی، ایوب نے کہا: میں سعید بن جبیر سے ملا اور ان سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے بھی کہا: جس دن وفات ہوئی اسی دن سے عدت شمار ہو گی۔ پھر میں نے مجاہد سے پوچھا تو انہوں نے بھی کہا: «عدتها» جس دن اس کی وفات ہوئی، پھر عطاء بن ابی رباح سے میں نے پوچھا، انہوں نے بھی کہا: جس دن وفات پائی، اور ابوقلابہ سے پوچھا، انہوں نے بھی کہا: وفات کے دن سے عدت شمار ہو گی۔ محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے پوچھا، انہوں نے بھی کہا: وفات کے دن سے شمار ہو گی۔ ایوب نے کہا: مجھ سے نافع نے بیان کیا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی یہی کہا کہ وفات کے دن سے عدت شمار ہو گی، اور میں نے عکرمہ کو بھی کہتے سنا «من يوم توفي» کہا، اور جابر بن زید نے کہا: «من يوم توفي» اور کہا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی یہی کہتے تھے کہ جس دن وفات پائی ہے۔ حماد نے کہا: میں نے لیث (ابن ابی سلیم) کو سنا، حکم سے بیان کرتے تھے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «من يوم توفي» ۔ ایوب نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (۱) جس دن خبر ملے اس دن سے عدت شمار ہو گی، (۲) امام دارمی عبد الله بن عبد الرحمن نے کہا: میری رائے ہے جس دن وفات پائی اسی دن سے عدت شمار ہو گی۔