Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 1 · Chapter 47

مقدمہ

47. علم کی طلب میں سفر کرنا اور اس میں مشقت برداشت کرنے کا بیان

10 hadiths in this chapter

581

Sunan Darmi #581

Sahih

(حديث مقطوع) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: "لَقَدْ أَقَمْتُ فِي الْمَدِينَةِ ثَلَاثًا مَا لِي حَاجَةٌ إِلَّا وَقَدْ فَرَغْتُ مِنْهَا، إِلَّا أَنَّ رَجُلًا كَانُوا يَتَوَقَّعُونَهُ، كَانَ يَرْوِي حَدِيثًا، فَأَقَمْتُ حَتَّى قَدِمَ فَسَأَلْتُهُ".

اردو ترجمہ · Urdu

ابوقلابہ نے کہا: میں نے مدینہ (طیبہ) میں تین دن قیام کیا اور تمام ضروریات سے فراغت حاصل کر لی، سوائے ایک آدمی کے (انتظار کے) جس کے آنے کی لوگ توقع رکھتے تھے، جو حدیث بیان کرتے تھے، میں مدینہ میں ٹھہرا رہا یہاں تک کہ وہ آ گئے اور میں نے ان سے مسائل دریافت کئے۔

582

Sunan Darmi #582

Zaeef

(حديث مقطوع) أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بنْ مُسِلمٍ، عَنْ عَبْدَ الرَّحْمَنَ بِنْ يزيدٍ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ بُسْرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: "إِنْ كُنْتُ لَأَرْكَبُ إِلَى مِصْرٍ مِنْ الْأَمْصَارِ فِي الْحَدِيثِ الْوَاحِدِ لِأَسْمَعَهُ".

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر نے کہا: میں نے بسر بن عبیداللہ کو سنا، وہ فرماتے تھے: میں ایک حدیث سننے کے لئے شہر در شہر سفر کرتا ہوں۔

583

Sunan Darmi #583

Sahih

(حديث مقطوع) أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو قَطَنٍ عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي خَلْدَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، قَالَ: "كُنَّا نَسْمَعُ الرِّوَايَةَ بِالْبَصْرَةِ عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَرْضَ حَتَّى رَكِبْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَسَمِعْنَاهَا مِنْ أَفْوَاهِهِمْ".

اردو ترجمہ · Urdu

ابوالعالیہ نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے مروی روایات بصرہ میں سنتے، چین نہ آتا تو مدینے کا سفر کرتے اور ان (صحابہ) کے دہن مبارک سے ان روایات کو سنتے۔

584

Sunan Darmi #584

See Details

(حديث مقطوع) أَخْبَرَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ القُشَيْرِيّ، قَالَ: قَالَ دَاوُدُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قُلْ لِصَاحِبِ الْعِلْمِ يَتَّخِذْ عَصًا مِنْ حَدِيدٍ، وَنَعْلَيْنِ مِنْ حَدِيدٍ، وَيَطْلُبْ الْعِلْمَ، حَتَّى تَنْكَسِرَ الْعَصَا وَتَنْخَرِقَ النَّعْلَانِ".

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن عبدالرحمٰن القشیری نے کہا: نبی داؤد علیہ السلام نے فرمایا: ”صاحب علم سے کہو کہ لوہے کا عصا اور لوہے کے جوتے بنا رکھے، اور علم طلب کرتا رہے یہاں تک کہ لاٹھی ٹوٹ جائے اور جوتے پھٹ جائیں۔“

585

Sunan Darmi #585

Zaeef

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِنْ آلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: "طَلَبْتُ الْعِلْمَ فَلَمْ أَجِدْهُ أَكْثَرَ مِنْهُ فِي الْأَنْصَارِ، فَكُنْتُ آتِي الرَّجُلَ فَأَسْأَلُ عَنْهُ، فَيُقَالُ لِي: نَائِمٌ فَأَتَوَسَّدُ رِدَائِي، ثُمَّ أَضْطَجِعُ حَتَّى يَخْرُجَ إِلَى الظُّهْرِ، فَيَقُولُ: مَتَى كُنْتَ هَا هُنَا يَا ابْنَ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ؟، فَأَقُولُ: مُنْذُ زَمَنٍ طَوِيلٍ، فَيَقُولُ: بِئْسَ مَا صَنَعْتَ، هَلَّا أَعْلَمْتَنِي؟، فَأَقُولُ: أَرَدْتُ أَنْ تَخْرُجَ إِلَيَّ وَقَدْ قَضَيْتَ حَاجَتَكَ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے علم تلاش کیا تو انصار کے پاس سے زیادہ کہیں نہیں پایا، لہٰذا میں آدمی کے پاس جاتا اور اس کے بارے میں پوچھتا، مجھ سے کہا جاتا کہ وہ سوئے ہوئے ہیں، میں اپنی چادر کا تکیہ بناتا اور پھر لیٹ جاتا، جب وہ ظہر کے وقت باہر آتے تو فرماتے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے بیٹے! تم کب سے یہاں ہو؟ میں عرض کرتا: کافی دیر سے بیٹھا ہوں، فرماتے: یہ تم اچھا نہیں کرتے، تم نے مجھے (اپنی آمد کے بارے میں) بتا کیوں نہیں دیا؟ میں عرض کرتا: میں نے چاہا کہ آپ اپنی ضروریات پوری کر کے باہر نکلیں۔

586

Sunan Darmi #586

Hasan

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "وُجِدَ أَكْثَرُ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ هَذَا الْحَيِّ مِنْ الْأَنْصَارِ، وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَآتِي الرَّجُلَ مِنْهُمْ، فَيُقَالُ: هُوَ نَائِمٌ، فَلَوْ شِئْتُ أَنْ يُوقَظَ لِي، فَأَدَعُهُ حَتَّى يَخْرُجَ لِأَسْتَطِيبَ بِذَلِكَ حَدِيثَهُ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیادہ تر احادیث انصار کے اس محلے میں پائیں، قسم اللہ کی میں ان کے آدمی کے پاس جاتا تو کہا جاتا وہ سوئے ہوئے ہیں، اگر میں چاہتا تو میرے لئے انہیں جگا دیا جاتا، لیکن میں انہیں سوتا رہنے دیتا تا آنکہ وہ خود بخود باہر تشریف لائیں اور میں اس طرح ان سے اچھی طرح سے حدیث پڑھوں۔

587

Sunan Darmi #587

Sahih

(حديث مقطوع) أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: "لَوْ رَفَقْتُ بِابْنِ عَبَّاسٍ، لَأَصَبْتُ مِنْهُ عِلْمًا كَثِيرًا".

اردو ترجمہ · Urdu

ابوسلمہ (بن عبدالرحمٰن بن عوف) نے کہا: اگر میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی رفاقت اختیار کی ہوتی تو ان سے بہت سا علم حاصل کر لیتا۔

588

Sunan Darmi #588

Sahih

(حديث مقطوع) أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: "كُنْتُ آتِي بَابَ عُرْوَةَ، فَأَجْلِسُ بِالْبَابِ، وَلَوْ شِئْتُ أَنْ أَدْخُلَ لَدَخَلْتُ، وَلَكِنْ إِجْلَالًا لَهُ".

اردو ترجمہ · Urdu

امام زہری رحمہ اللہ نے کہا: میں عروہ بن الزبیر کے دروازے پر جاتا تو ان کی جلالت شان و توقیر کے سبب وہیں بیٹھ رہتا حالانکہ چاہتا تو (اندر) داخل بھی ہو جاتا۔

589

Sunan Darmi #589

Sahih

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ لِرَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ: يَا فُلَانُ، هَلُمَّ فَلْنَسْأَلْ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّهُمْ الْيَوْمَ كَثِيرٌ، فَقَالَ: وَا عَجَبًا لَكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، أَتَرَى النَّاسَ يَحْتَاجُونَ إِلَيْكَ وَفِي النَّاسِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَرَى؟ فَتَرَكَ ذَلِكَ، وَأَقْبَلْتُ عَلَى الْمَسْأَلَةِ، فَإِنْ كَانَ لَيَبْلُغُنِي الْحَدِيثُ عَنْ الرَّجُلِ فَآتِيهِ، وَهُوَ قَائِلٌ، فَأَتَوَسَّدُ رِدَائِي عَلَى بَابِهِ، فَتَسْفِي الرِّيحُ عَلَى وَجْهِي التُّرَابَ، فَيَخْرُجُ، فَيَرَانِي، فَيَقُولُ: يَا ابْنَ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ، مَا جَاءَ بِكَ؟ أَلَا أَرْسَلْتَ إِلَيَّ فَآتِيَكَ؟، فَأَقُولُ: لَا، أَنَا أَحَقُّ أَنْ آتِيَكَ، فَأَسْأَلُهُ عَنْ الْحَدِيثِ، قَالَ: فَبَقِيَ الرَّجُلُ حَتَّى رَآنِي وَقَدْ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيَّ، فَقَالَ: كَانَ هَذَا الْفَتَى أَعْقَلَ مِنِّي".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو میں نے انصار کے ایک آدمی سے کہا: اے بھائی! آؤ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے استفسار کریں، آج وہ کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ انہوں نے جواب دیا: عباس کے بیٹے! کیسی عجیب بات کہتے ہو؟ کیا تم سوچتے ہو کہ لوگ اتنے سارے اصحاب رسول کی موجودگی میں تمہارے محتاج ہوں گے؟ پس انہوں نے ترک کیا اور میں نے سوال کرنے کی طرف توجہ کی، پس جب مجھے کوئی حدیث پہنچتی تو میں ان (انصاری بھائی) کے پاس جاتا، وہ قیلولہ کرتے ہوتے، ان کے دروازے پر چادر کا تکیہ لگا لیتا، ہوا سے میرے چہرے پر غبار چھا جاتا، وہ باہر آتے مجھے دیکھتے تو فرماتے: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے بیٹے! کیوں آئے؟ کسی کو بھیج دیتے، میں خود حاضر ہو جاتا، میں عرض کرتا: نہیں، میں ہی زیادہ محتاج ہوں کہ آپ کے پاس آؤں، پھر میں ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھتا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: وہ (انصاری صحابی) لمبی مدت تک حیات رہے یہاں تک کہ مجھے دیکھا لوگ میرے پاس جمع ہوتے ہیں، فرمایا: یہ نوجوان مجھ سے زیادہ عقل مند تھا۔

590

Sunan Darmi #590

Sahih

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ،"أَنَّ رَجُلًا مَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحَلَ إِلَى فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَهُوَ بِمِصْرَ، فَقَدِمَ عَلَيْهِ وَهُوَ يَمُدُّ لِنَاقَةٍ لَهُ، فَقَالَ: مَرْحَبًا، قَالَ: أَمَا إِنِّي لَمْ آتِكَ زَائِرًا، وَلَكِنْ سَمِعْتُ أَنَا وَأَنْتَ حَدِيثًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ عِنْدَكَ مِنْهُ عِلْمٌ، قَالَ: كَذَا وَكَذَا".

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن بریدہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص سیدنا فضالہ بن عبيد رضی اللہ عنہ کے پاس گئے جو مصر میں تھے، وہ جب ان کے پاس پہنچے تو سیدنا فضالہ رضی اللہ عنہ اپنی اونٹنی کو پانی پلا رہے تھے، کہا خوش آمدید، اس شخص نے کہا: آپ کی زیارت کے لئے نہیں آیا، ہاں میں نے اور آپ نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی تھی، امید ہے تمہیں یاد ہو گی؟ کہا: وہ کیا ہے؟ کہا: یہ اور یہ حدیث۔