Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 1 · Chapter 39

مقدمہ

39. حدیث کی تفسیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول میں دوسروں کے قول سے بچنے کا بیان

7 hadiths in this chapter

444

Sunan Darmi #444

Sahih

(حديث مقطوع) أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: "لِيُتَّقَى مِنْ تَفْسِيرِ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا يُتَّقَى مِنْ تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ".

اردو ترجمہ · Urdu

معتمر نے اپنے باپ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی تفسیر سے اسی طرح بچنا چاہیے جس طرح قرآن پاک کی تفسیر سے بچا جاتا ہے۔

445

Sunan Darmi #445

Sahih

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: "أَمَا تَخَافُونَ أَنْ تُعَذَّبُوا، أَوْ يُخْسَفَ بِكُمْ أَنْ تَقُولُوا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ، وَقَالَ فُلَانٌ؟".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا تمہیں خوف نہیں آتا کہ تم عذاب دیئے جاؤ یا تمہیں دھنسا دیا جائے یہ کہنے کے عوض: «قال رسول الله وقال فلان» یعنی اللہ کے رسول نے یہ فرمایا اور فلاں نے یہ کہا۔

446

Sunan Darmi #446

Sahih

(حديث مقطوع) أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا الْمُعَافَى، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ الله تَعالَيَ: "إِنَّهُ لَا رَأْيَ لِأَحَدٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَإِنَّمَا رَأْيُ الْأَئِمَّةِ فِيمَا لَمْ يَنْزِلْ فِيهِ كِتَابٌ، وَلَمْ تَمْضِ بِهِ سُنَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا رَأْيَ لِأَحَدٍ فِي سُنَّةٍ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".

اردو ترجمہ · Urdu

امام اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا: عمر بن عبدالعزيز رحمہ اللہ نے تحریر فرمایا کہ اللہ کی کتاب میں کسی کی رائے (قابل قبول) نہیں اور ائمہ کرام کی رائے بھی اس بارے میں قبول ہو گی جس میں کتاب اللہ یا سنت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم میں کچھ نہ ملے، اور جس سنت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جاری کیا اس میں رائے کی گنجائش نہیں۔

447

Sunan Darmi #447

Sahih

(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ الله خَطَبَ، فَقَالَ:"يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَبْعَثْ بَعْدَ نَبِيِّكُمْ نَبِيًّا، وَلَمْ يُنْزِلْ بَعْدَ هَذَا الْكِتَابِ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْهِ كِتَابًا، فَمَا أَحَلَّ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ فَهُوَ حَلَالٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَا حَرَّمَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ فَهُوَ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، أَلَا وَإِنِّي لَسْتُ بِقَاضٍ وَلَكِنِّي مُنَفِّذٌ، وَلَسْتُ بِمُبْتَدِعٍ وَلَكِنِّي مُتَّبِعٌ، وَلَسْتُ بِخَيْرٍ مِنْكُمْ، غَيْرَ أَنِّي أَثْقَلُكُمْ حِمْلًا، أَلَا وَإِنَّهُ لَيْسَ لِأَحَدٍ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ أَنْ يُطَاعَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ، أَلَا هَلْ أَسْمَعْتُ؟".

اردو ترجمہ · Urdu

عبیداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ عمر بن عبدالعزيز رحمہ اللہ نے خطبہ دیا تو فرمایا: لوگو! بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کے بعد کوئی نبی نہیں بھیجا، اور نہ اس کتاب کے بعد جو آپ پر نازل فرمائی، کوئی کتاب نازل کی، پس جو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان میں حلال فرما دیا وہ قیامت تک حلال ہے، اور جو اپنے نبی کی زبان سے حرام فرما دیا وہ قیامت تک حرام ہے، سنو! میں قاضی نہیں بلکہ تنقید کرنے والا ہوں، اور میں بدعت ایجاد کرنے والا بھی نہیں، بلکہ اتباع کرنے والا ہوں، اور تم سے بہتر بھی نہیں ہوں سوائے اس کے کہ میرے اوپر تم سے زیادہ بوجھ (ذمے داری) ہے، اور سنو! اللہ کی مخلوق میں سے کوئی ایسا نہیں جس کی اللہ کی معصیت میں اطاعت کی جائے، سنو! کیا میں نے تمہیں سنا دیا؟

448

Sunan Darmi #448

See Details

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ، قَالَ: كَانَ طَاوُسٌ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ:"اتْرُكْهَا قَالَ: إِنَّمَا نُهِيَ عَنْهَا أَنْ تُتَّخَذُ سُلَّمًا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَإِنَّهُ قَدْ نُهِيَ عَنْ صَلَاةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَلَا أَدْرِي أَتُعَذَّبُ عَلَيْهَا أَمْ تُؤْجَرُ، لِأَنَّ اللَّهَ يَقُولُ: وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلالا مُبِينًا سورة الأحزاب آية 36"، قَالَ سُفْيَانُ:"تُتَّخَذَ سُلَّمًا، يَقُولُ: يُصَلِّي بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ".

اردو ترجمہ · Urdu

ہشام بن حجیر نے کہا: امام طاؤوس رحمہ اللہ نماز عصر کے بعد دو رکعت نماز پڑھا کرتے تھے، چنانچہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: اسے ترک کر دیجئے، امام طاؤوس رحمہ اللہ نے کہا: اس سے اس لئے منع کیا گیا ہے تاکہ یہ سیڑھی نہ بنائی جائے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: بلاشبہ عصر کے بعد کسی بھی نماز سے روکا گیا ہے، اس لئے میں نہیں جانتا کہ تمہیں اس پر عذاب دیا جائے گا یا اجر، اس لئے کہ الله تعالیٰ فرماتا ہے: کسی مومن مرد یا عورت کو الله اور اس کے رسول کے فرمان کے بعد اپنے کسی امر کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا، اور الله اور اس کے رسول کی جو بھی نافرمانی کرے گا، وہ صریح گمراہی میں پڑے گا [الاحزاب: 36/33] ۔ سفیان نے کہا: «تُتَّخَذَ سُلَّمًا» (یعنی) فرماتے ہیں عصر کے بعد سے رات تک نماز پڑھے۔

449

Sunan Darmi #449

Hasan

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنُسْخَةٍ مِنْ التَّوْرَاةِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ نُسْخَةٌ مِنْ التَّوْرَاةِ، فَسَكَتَ، فَجَعَلَ يَقْرَأُ وَوَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ يَتَغَيَّرُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيهِ: ثَكِلَتْكَ الثَّوَاكِلُ، مَا تَرَى مَا بِوَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَنَظَرَ عُمَرُ إِلَى وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ، وَمِنْ غَضَبِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ بَدَا لَكُمْ مُوسَى فَاتَّبَعْتُمُوهُ وَتَرَكْتُمُونِي، لَضَلَلْتُمْ عَنْ سَوَاءِ السَّبِيلِ، وَلَوْ كَانَ حَيًّا وَأَدْرَكَ نُبُوَّتِي لَاتَّبَعَنِي".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس توراۃ کا ایک نسخہ لے کر تشریف لائے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ توریت کا نسخہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور عمر رضی اللہ عنہ اسے پڑھنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک بدلنے لگا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کھونے (گم کرنے) والی مائیں تمہیں کھو دیں (گم کر دیں)، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو دیکھتے نہیں ہو؟ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کی طرف دیکھا تو کہا: میں اللہ کے غضب اور اس کے رسول کے غضب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، ہم اللہ کے رب ہونے اور اسلام کے دین اور محمد کے نبی ہونے سے راضی ہیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، اگر موسیٰ علیہ السلام بھی تمہارے لئے ظاہر ہو جائیں اور تم ان کی اتباع کرو اور مجھے چھوڑ دو تو تم سیدھے راستے سے بھٹک جاؤ گے (گمراہ ہو جاؤ گے) اگر وہ (موسیٰ) زندہ ہوتے اور میری نبوت کو پا لیتے تو وہ بھی میری اتباع کرتے۔“

450

Sunan Darmi #450

Sahih

(حديث مقطوع) حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي رَبَاحٍ شَيْخٌ مِنْ آلِ عُمَرَ، قَالَ: رَأَى سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ رَجُلًا يُصَلِّي بَعْدَ الْعَصْرِ الرَّكْعَتَيْنِ يُكَبِّرُ، فَقَالَ لَهُ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، أَيُعَذِّبُنِي اللَّهُ عَلَى الصَّلَاةِ؟، قَالَ: "لَا، وَلَكِنْ يُعَذِّبُكَ اللَّهُ بِخِلَافِ السُّنَّةِ".

اردو ترجمہ · Urdu

آل عمر کے ایک شخص ابورباح نے کہا: سعید بن المسيب رحمہ اللہ نے عصر کے بعد ایک آدمی کو کثرت سے دو رکعت نماز پڑھتے دیکھا، اس نے دریافت کیا: اے ابومحمد! (سعید بن المسیب کی کنیت) کیا اللہ تعالیٰ نماز پڑھنے پر مجھے عذاب دے گا؟ انہوں نے کہا نہیں (نماز پڑھنے پر تو نہیں) بلکہ سنت کی خلاف ورزی پر اللہ تعالیٰ تمہیں ضرور عذاب دے گا۔