Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 1 · Chapter 29

مقدمہ

29. اس کا بیان کہ علم خشیت اور اللہ کا تقویٰ ہے

19 hadiths in this chapter

295

Sunan Darmi #295

Sahih

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ جُبْيَرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَخَصَ بِبَصَرِهِ إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ قَالَ: "هَذَا أَوَانُ يُخْتَلَسُ الْعِلْمُ مِنْ النَّاسِ، حَتَّى لَا يَقْدِرُوا مِنْهُ عَلَى شَيْءٍ , فَقَالَ زِيَادُ بْنُ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ يُخْتَلَسُ مِنَّا وَقَدْ قَرَأْنَا الْقُرْآنَ؟ فَوَاللَّهِ لَنَقْرَأَنَّهُ، وَلَنُقْرِئَنَّهُ نِسَاءَنَا وَأَبْنَاءَنَا، فَقَالَ: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا زِيَادُ، إِنْ كُنْتُ لَأَعُدُّكَ مِنْ فُقَهَاءِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، هَذِهِ التَّوْرَاةُ وَالْإِنْجِيلُ عِنْدَ الْيَهُودِ، وَالنَّصَارَى، فَمَاذَا يُغْنِي عَنْهُمْ؟"، قَالَ جُبَيْرٌ: فَلَقِيتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قُلْتُ أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ أَخُوكَ أَبُو الدَّرْدَاءِ؟ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي قَالَ، قَالَ: صَدَقَ أَبُو الدَّرْدَاءِ، إِنْ شِئْتَ لَأُحَدِّثَنَّكَ بِأَوَّلِ عِلْمٍ يُرْفَعُ مِنْ النَّاسِ: الْخُشُوعُ يُوشِكُ أَنْ تَدْخُلَ مَسْجِدَ الْجَمَاعَةِ، فَلَا تَرَى فِيهِ رَجُلًا خَاشِعًا.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی، پھر فرمایا: یہ ایسا وقت ہے کہ آدمیوں سے علم چھینا جا رہا ہے یہاں تک کہ اس میں سے کسی چیز پر قادر نہ ہوں گے۔ زیاد بن لبيد انصاری نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم سے کس طرح علم چھینا جائے گا حالانکہ ہم نے قرآن پڑھا ہے اور قسم اللہ کی ہم اس کو ضرور پڑھیں گے اور اپنی عورتوں اور بچوں کو بھی پڑھائیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اے زیاد! تمہیں تمہاری ماں روئے، میں تمہیں مدینہ کے سمجھ داروں میں شمار کرتا تھا، یہ توراة و انجیل یہود و نصاری کے پاس ہے مگر ان کے کیا کام آتی ہے۔“ جبیر نے کہا: میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے ملا اور میں نے کہا: آپ نے اپنے بھائی ابودرداء کی بات سنی؟ اور ان کا قول میں نے ذکر کیا، انہوں نے جواب دیا: ابودرداء نے صحیح کہا۔ اگر تم چاہو تو میں تمہیں بتاؤں کہ علم سے پہلے لوگوں کے پاس سے جو چیز اٹھے گی وہ خشوع ہے، قریب ہے کہ تم مسجد میں داخل ہو گے اور اس میں تمہیں کوئی خشوع والا آدمی دکھائی نہ دے گا۔

296

Sunan Darmi #296

Hasan

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جَمِيلٍ الْكِتَانِيُّ، حَدَّثَنَا مَكْحُولٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِي عَلَى أَدْنَاكُمْ"، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ سورة فاطر آية 28، ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ وَأَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَرَضِيهِ، وَالنُّونَ فِي الْبَحْرِ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يُعَلِّمُونَ النَّاسَ الْخَيْرَ".

اردو ترجمہ · Urdu

مکحول نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تمہارے ادنیٰ پر“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت شریفہ تلاوت فرمائی: «﴿إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ ﴾» [فاطر: 28/35] ”اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے اور زمین و آسمانوں کے سب لوگ حتی کہ سمندر کی مچھلیاں بھی دعائے خیر کرتی ہیں ان کے لئے جو لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دیتے ہیں۔“

297

Sunan Darmi #297

Zaeef

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَسَدٍ أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "لَا يَكُونُ الرَّجُلُ عَالِمًا حَتَّى لَا يَحْسُدَ مَنْ فَوْقَهُ، وَلَا يَحْقِرَ مَنْ دُونَهُ، وَلَا يَبْتَغِيَ بِعِلْمِهِ ثَمَنًا".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کوئی آدمی اس وقت تک عالم نہیں ہو سکتا جب تک کہ اپنے سے اعلیٰ پر حسد نہ کرے اور اپنے سے کم تر کو حقیر نہ سمجھے اور اپنے علم کی قیمت نہ مانگے۔

298

Sunan Darmi #298

Sahih

(حديث مقطوع) أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْأَعْلَى التَّيْمِيَّ، يَقُولُ: "مَنْ أُوتِيَ مِنْ الْعِلْمِ مَا لَا يُبْكِيهِ، لَخَلِيقٌ أَنْ لَا يَكُونَ أُوتِيَ عِلْمًا يَنْفَعُهُ، لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى نَعَتَ الْعُلَمَاءَ، ثُمَّ قَرَأ: إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ إِلَى قَوْلِهِ يَبْكُونَ سورة الإسراء آية 107 - 109".

اردو ترجمہ · Urdu

مسعر سے روایت ہے: میں نے عبدالأعلىٰ التیمی کو کہتے سنا: جس کسی کو ایسا علم دیا گیا جو اسے رلا نہ سکے، اس کے لئے مناسب ہے کہ اسے ایسا علم ہی نہ ملے جو اسے فائدہ دے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے علماء کی تعریف فرمائی ہے، پھر انہوں نے پڑھا: «﴿إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ (إلي قوله تعالٰي) يَبْكُونَ .﴾» [الإسراء: 107/17-109] ”بیشک وہ لوگ جنہیں اس سے قبل علم دیا گیا ہے، ان کے پاس جب بھی اس کی تلاوت کی جاتی ہے، تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے، ہمارے رب کا وعدہ بلاشبہ پورا ہو کر رہنے والا ہے، وہ اپنی ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئے سجدے میں گر پڑتے ہیں۔“

299

Sunan Darmi #299

Zaeef

(حديث مقطوع) أَخْبَرَنَا عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: "لَا تَكُونُ عَالِمًا حَتَّى يَكُونَ فِيكَ ثَلَاثُ خِصَالٍ: لَا تَبْغِي عَلَى مَنْ فَوْقَكَ، وَلَا تَحْقِرُ مَنْ دُونَكَ، وَلَا تَأْخُذُ عَلَى عِلْمِكَ دُنْيَا".

اردو ترجمہ · Urdu

ابوحازم نے کہا: تم اس وقت تک عالم نہیں بن سکتے جب تک کہ تین صفات تمہارے اندر نہ پائی جائیں: جو تم سے اعلیٰ ہیں ان پر ظلم نہ کرو، اپنے سے کم علم کو حقیر نہ سمجھو، اور اپنے علم سے دنیا نہ خریدو۔

300

Sunan Darmi #300

Hasan

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "لَا تَكُونُ عَالِمًا حَتَّى تَكُونَ مُتَعَلِّمًا، وَلَا تَكُونُ بِالْعِلْمِ عَالِمًا حَتَّى تَكُونَ بِهِ عَامِلًا، وَكَفَى بِكَ إِثْمًا أَنْ لَا تَزَالَ مُخَاصِمًا، وَكَفَى بِكَ إِثْمًا أَنْ لَا تَزَالَ مُمَارِيًا، وَكَفَى بِكَ كَاذِبًا أَنْ لَا تَزَالَ مُحَدِّثًا فِي غَيْرِ ذَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم جب تک متعلم نہ ہو عالم نہیں بن سکتے، اور جب تک اس علم کے عامل نہ ہو عالم نہیں ہو سکتے، اورتم کو گناہ کے لئے کافی ہے کہ تم جھگڑالو رہو، تمہارے گناہ کو کافی ہے کہ تم گھمنڈی رہو، اور تمہارے جھوٹا ہونے کے لئے کافی ہے کہ تم اللہ کی ذات کے سوا باتیں بناتے رہو۔

301

Sunan Darmi #301

Sahih

(حديث مقطوع) أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَخِيهِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ الْمِنْقَرِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ يَوْمًا فِي شَيْءٍ، قَالَهُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، لَيْسَ هَكَذَا يَقُولُ الْفُقَهَاءُ، فَقَالَ: "وَيْحَكَ! وَرَأَيْتَ أَنْتَ فَقِيهًا قَطُّ , إِنَّمَا الْفَقِيهُ الزَّاهِدُ فِي الدُّنْيَا، الرَّاغِبُ فِي الْآخِرَةِ، الْبَصِيرُ بِأَمْرِ دِينِهِ، الْمُدَاوِمُ عَلَى عِبَادَةِ رَبِّهِ".

اردو ترجمہ · Urdu

عمران منقری نے کہا کہ میں نے ایک دن حسن رحمہ اللہ سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا جو انہوں نے کہی تھی کہ اے ابوسعید! فقہاء تو اس طرح نہیں کہتے، انہوں نے جواب دیا: تمہاری خرابی ہو، کیا تم نے کبھی کوئی فقیہ دیکھا ہے، فقیہ وہ ہے جو دنیا سے کنارہ کش ہو، آخرت کی طرف رغبت رکھتا ہو، دین کے معاملے میں بصیر ہو، اور اپنے رب کی عبادت پر قائم و دائم ہو۔

302

Sunan Darmi #302

Sahih

(حديث مقطوع) أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْبَجَلِيُّ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قِيلَ لَهُ: مَنْ أَفْقَهُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ؟، قَالَ: "أَتْقَاهُمْ لِرَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ".

اردو ترجمہ · Urdu

سعد بن ابراہیم سے پوچھا گیا: اہل مدینہ میں سب سے بڑا فقیہ کون ہے؟ فرمایا: جو اپنے رب سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔

303

Sunan Darmi #303

Zaeef

(حديث مقطوع) أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: "إِنَّمَا الْفَقِيهُ مَنْ يَخَافُ اللَّهَ تَعَاليَ".

اردو ترجمہ · Urdu

مجاہد نے کہا: سب سے بڑا فقیہ وہ ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔

304

Sunan Darmi #304

Zaeef

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، عَنْ يَعْقُوبَ الْقُمِّيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ يَحْيَى هُوَ ابْنُ عَبَّادٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "إِنَّ الْفَقِيهَ حَقَّ الْفَقِيهِ، مَنْ لَمْ يُقَنِّطْ النَّاسَ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ، وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُمْ فِي مَعَاصِي اللَّهِ، وَلَمْ يُؤَمِّنْهُمْ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ، وَلَمْ يَدَعْ الْقُرْآنَ رَغْبَةً عَنْهُ إِلَى غَيْرِهِ، إِنَّهُ لَا خَيْرَ فِي عِبَادَةٍ لَا عِلْمَ فِيهَا، وَلَا عِلْمٍ لَا فَهْمَ فِيهِ، وَلَا قِرَاءَةٍ لَا تَدَبُّرَ فِيهَا".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: صحیح معنوں میں فقیہ وہ ہے جو لوگوں کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہ کرے، اور انہیں اللہ کی نافرمانی کی اجازت نہ دے، اور اللہ کے عذاب سے انہیں مامون قرار نہ دے، اور قرآن سے بےرغبتی نہ کرے، یقیناً اس عبادت میں کوئی چیز نہیں جس میں علم و بصیرت نہ ہو، اور جس علم میں فہم نہ ہو، وہ علم ہی نہیں، نہ وہ قراءت قراءت ہے جس میں تدبر (سوچ و فکر) نہ ہو۔

305

Sunan Darmi #305

Zaeef

(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: "الْفَقِيهُ حَقُّ الْفَقِيهِ الَّذِي لَا يُقَنِّطُ النَّاسَ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ، وَلَا يُؤَمِّنُهُمْ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ، وَلَا يُرَخِّصُ لَهُمْ فِي مَعَاصِي اللَّهِ، إِنَّهُ لَا خَيْرَ فِي عِبَادَةٍ لَا عِلْمَ فِيهَا، وَلَا خَيْرَ فِي عِلْمٍ لَا فَهْمَ فِيهِ، وَلَا خَيْرَ فِي قِرَاءَةٍ لَا تَدَبُّرَ فِيهَا".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا على رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حقیقی معنوں میں فقیہ وہ ہے جو لوگوں کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہ کرے، اور نہ انہیں اللہ کے عذاب سے مامون قرار دے، اور نہ انہیں اللہ کی نافرمانی کی اجازت دے، جس عبادت میں علم نہ ہو اس میں کوئی بھلائی نہیں، اور جس علم میں فہم نہیں اس میں بھی کوئی بھلائی نہیں، اور جس قرأت میں تدبر نہیں اس میں بھی کوئی خیر نہیں۔

306

Sunan Darmi #306

Sahih

(حديث مقطوع) أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَازِمٍ، حَدَّثَنِي عَمِّي جَرِيرُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ تُبَيْعًا يُحَدِّثُ، عَنْ كَعْبٍ، قَالَ: "إِنِّي لَأَجِدُ نَعْتَ قَوْمٍ يَتَعَلَّمُونَ لِغَيْرِ الْعَمَلِ، وَيَتَفَقَّهُونَ لِغَيْرِ الْعِبَادَةِ، وَيَطْلُبُونَ الدُّنْيَا بِعَمَلِ الْآخِرَةِ، وَيَلْبَسُونَ جُلُودَ الضَّأْنِ، وَقُلُوبُهُمْ أَمَرُّ مِنْ الصَّبْرِ، فَبِي يَغْتَرُّونَ، أَوْ إِيَّايَ يُخَادِعُونَ؟ فَحَلَفْتُ بِي لَأُتِيحَنَّ لَهُمْ فِتْنَةً تَتْرُكُ الْحَلِيمَ فِيهَا حَيْرَانَ".

اردو ترجمہ · Urdu

کعب (الأحبار) نے کہا: پہلی کتب میں ایسی قوم کی صفت پاتا ہوں جو بنا عمل کے لئے تعلیم حاصل کریں گے، اور عبادت کے علاوہ میں فقہ سیکھیں گے، اور اخروی عمل کے بدلے دنیا طلب کریں گے، جو بھیڑ کی کھال پہنیں گے، دل ان کے ایلوے سے زیادہ کڑوے ہوں گے، وہ میرے ذریعے دھوکہ دہی کریں گے اور مجھ ہی کو دھوکہ دیں گے، میں نے اپنی قسم کھائی ہے کہ ان کے لئے ایسا فتنہ برپا کروں گا جس میں حلیم و بردبار بھی حیران ہوں گے۔

307

Sunan Darmi #307

Sahih

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ هَرِمِ بْنِ حَيَّانَ، أَنَّهُ قَالَ:"إِيَّاكُمْ وَالْعَالِمَ الْفَاسِقَ، فَبَلَغَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ وَأَشْفَقَ مِنْهَا، مَا الْعَالِمُ الْفَاسِقُ؟، قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ هَرِمٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ بِهِ إِلَّا الْخَيْرَ: يَكُونُ إِمَامٌ يَتَكَلَّمُ بِالْعِلْمِ، وَيَعْمَلُ بِالْفِسْقِ، فَيُشَبِّهُ عَلَى النَّاسِ، فَيَضِلُّونَ".

اردو ترجمہ · Urdu

ہرم بن حیان نے کہا: فاسق عالم سے بچو، یہ خبر جب سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہیں لکھا اور وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس سے ڈر گئے، پوچھا فاسق عالم سے تمہاری مراد کیا ہے؟ ہرم نے جواب دیا: والله يا امیر المومنین! میری مراد اس سے خیر ہی تھی، کوئی امام ایسا ہوتا ہے کہ علم کی بات تو کرتا ہے لیکن کام فسق و فجور کے کرتا ہے، اور لوگوں کو شبہ میں ڈال دیتا ہے، پس وہ گمراہ ہو جاتے ہیں۔

308

Sunan Darmi #308

See Details

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ إِسْمَاعِيل بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُهَاجِرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: "مَنْ أَرَادَ أَنْ يُكْرَمَ دِينُهُ، فَلَا يَدْخُلْ عَلَى السُّلْطَانِ، وَلَا يَخْلُوَنَّ بِالنِّسْوَانِ، وَلَا يُخَاصِمَنَّ أَصْحَابَ الْأَهْوَاءِ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم میں سے جو اپنے دین کی تعظیم کرنا چاہے وہ سلطان کے پاس نہ جائے، اور عورتوں کے ساتھ خلوت نہ کرے، اور خواہش کے بندوں سے جھگڑا نہ کرے۔

309

Sunan Darmi #309

Sahih

(حديث مقطوع) أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يُونُسَ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ مَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ: "إِيَّاكَ وَالْخُصُومَةَ وَالْجِدَالَ فِي الدِّينِ، وَلَا تُجَادِلَنَّ عَالِمًا، وَلَا جَاهِلًا، أَمَّا الْعَالِمُ، فَإِنَّهُ يَخْزَنُ عَنْكَ عِلْمَهُ، وَلَا يُبَالِي مَا صَنَعْتَ، وَأَمَّا الْجَاهِلُ، فَإِنَّهُ يُخَشِّنُ بِصَدْرِكَ وَلَا يُطِيعُكَ".

اردو ترجمہ · Urdu

یونس (بن عبید) نے کہا کہ میمون بن مہران نے مجھے لکھا: دین میں جنگ و جدال سے بچو، اور عالم و جاہل کسی سے جھگڑا نہ کرو، عالم سے اس لئے نہیں کہ وہ اپنے علم کو تم سے بچا لے گا، اور جو تم نے کیا اس کی پرواہ نہ کرے گا، اور جاہل سے اس لئے جھگڑا نہ کرنا کیونکہ وہ تم پر غضبناک ہو کر تمہاری اطاعت چھوڑ دے گا۔

310

Sunan Darmi #310

See Details

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام لِابْنِهِ: "دَعْ الْمِرَاءِ، فَإِنَّ نَفْعَهُ قَلِيلٌ، وَهُوَ يُهَيِّجُ الْعَدَاوَةَ بَيْنَ الْإِخْوَانِ".

اردو ترجمہ · Urdu

یحییٰ بن ابی کثیر سے مروی ہے کہ سلیمان بن داؤد علیہم السلام نے اپنے بیٹے سے فرمایا: جھگڑا کرنا چھوڑ دو کیونکہ اس سے فائدہ کم ہے، اور یہ بھائیوں کے درمیان عداوت کو ہوا دیتا ہے۔

311

Sunan Darmi #311

Sahih

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، يَقُولُ: "مَنْ جَعَلَ دِينَهُ غَرَضًا لِلْخُصُومَاتِ، أَكْثَرَ التَّنَقُّلَ".

اردو ترجمہ · Urdu

اسماعیل بن ابی حکیم نے کہا: میں نے عمر بن عبدالعزیز کو سنا، وہ فرماتے تھے: جس نے اپنے دین کو جھگڑوں کا نشانہ بنایا (اس کا) تنقل زیادہ ہو گا۔

312

Sunan Darmi #312

See Details

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ: "أَنَّهُ مَنْ تَعَبَّدَ بِغَيْرِ عِلْمٍ، كَانَ مَا يُفْسِدُ أَكْثَرَ مِمَّا يُصْلِحُ، وَمَنْ عَدَّ كَلَامَهُ مِنْ عَمَلِهِ، قَلَّ كَلَامُهُ إِلَّا فِيمَا يَعْنِيهِ، وَمَنْ جَعَلَ دِينَهُ غَرَضًا لِلْخُصُومَاتِ، كَثُرَ تَنَقُّلُهُ".

اردو ترجمہ · Urdu

عمر بن عبدالعزيز رحمہ اللہ نے اہل مدینہ کو لکھا کہ جو شخص بنا علم عبادت کرے (یا عبادت کے لئے علاحدگی اختیار کرے) وہ اصلاح سے زیادہ بگاڑ پھیلائے گا، اور جو اپنے کلام کا عمل سے موازنہ کرے تو اس کا کلام بقدر ضرورت ہو جائے گا، اور جو اپنے دین کو جھگڑوں کا نشانہ بنائے اس کا تنقل زیادہ ہو جائے گا۔

313

Sunan Darmi #313

See Details

(حديث مقطوع) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: سَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ شَيْءٍ مِنْ الْأَهْوَاءِ، فَقَالَ: "عَلَيْكَ بِدِينِ الْأَعْرَابِيِّ، وَالْغُلَامِ فِي الْكُتَّابِ، وَالْهَ عَمَّا سِوَى ذَلِكَ"، قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: كَثُرَ تَنَقُّلُهُ، أَيْ: يَنْتَقِلُ مِنْ رَأْيٍ إِلَى رَأْيٍ.

اردو ترجمہ · Urdu

جعفر بن برقان سے مروی ہے عمر بن عبدالعزيز رحمہ اللہ سے کسی شخص نے خواہشات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: اعرابی اور غلام کے دین کو لازم پکڑو، اور جو اس کے ماسوا ہے اسے بھول جاؤ۔ امام دارمی نے کہا: «كثر تنقله» سے مراد: ایک رائے سے دوسری رائے کی طرف منتقل ہونا ہے۔