Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 1 · Chapter 14

مقدمہ

14. نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان

17 hadiths in this chapter

76

Sunan Darmi #76

Zaeef

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قَالَ الْعَبَّاسُ رِضْوَانُ اللَّهُ عَلَيْهِ: لَأَعْلَمَنَّ مَا بَقَاءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا؟، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَرَاهُمْ قَدْ آذَوْكَ وَآذَاكَ غُبَارُهُمْ، فَلَوِ اتَّخَذْتَ عَرِيشًا تُكَلِّمُهُمْ مِنْهُ؟، فَقَالَ: "لَا أَزَالُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ يَطَئُونَ عَقِبِي، وَيُنَازِعُونِي رِدَائِي حَتَّى يَكُونَ اللَّهُ هُوَ الَّذِي يُرِيحُنِي مِنْهُمْ"، قَالَ: فَعَلِمْتُ أَنَّ بَقَاءَهُ فِينَا قَلِيلٌ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا میں ضرور معلوم کروں گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کب تک حیات رہیں گے؟ چنانچہ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں جانتا ہوں کہ نہ صرف لوگوں نے آپ کو اذیت پہنچائی، بلکہ ان کے غبار تک نے آپ کو اذیت دی، اگر آپ ایک تخت بنا لیں جس سے آپ ان سے گفتگو کر سکیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اب تک موجود ہوں، وہ میری ایڑیاں کچلتے رہیں، مری چادر کھینچتے رہیں، بس اللہ ہی مجھے ان سے راحت دے گا۔“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: بس میں نے سمجھ لیا کہ اب آپ تھوڑے ہی دن ہمارے درمیان حیات رہیں گے۔

77

Sunan Darmi #77

See Details

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَحْجُبُكَ؟، فَقَالَ: "لَا، دَعُوهُمْ يَطَئُونَ عَقِبِي وَأَطَأُ أَعْقَابَهُمْ حَتَّى يُرِيحَنِيَ اللَّهُ مِنْهُمْ".

اردو ترجمہ · Urdu

داود بن علی نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا ہم آپ کے لئے آڑ بنا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، انہیں چھوڑو اور میری ایڑیاں مسلنے دو، میں ان کے قدم روند ڈالوں گا یہاں تک کہ اللہ تعالی مجھے ان سے راحت اور نجات دے دے گا۔“

78

Sunan Darmi #78

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ أُنَيْسِ بْنِ أَبِي يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، وَنَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ عَاصِبًا رَأْسَهُ بِخِرْقَةٍ حَتَّى أَهْوَى نَحْوَ الْمِنْبَرِ، فَاسْتَوَى عَلَيْهِ وَاتَّبَعْنَاهُ، قَالَ:"وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى الْحَوْضِ مِنْ مَقَامِي هَذَا"، ثُمَّ قَالَ:"إِنَّ عَبْدًا عُرِضَتْ عَلَيْهِ الدُّنْيَا وَزِينَتُهَا، فَاخْتَارَ الْآخِرَةَ"، قَالَ: فَلَمْ يَفْطِنْ لَهَا أَحَدٌ غَيْرُ أَبِي بَكْرٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ، فَبَكَى، ثُمَّ قَالَ: بَلْ نَفْدِيكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا وَأَنْفُسِنَا وَأَمْوَالِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: ثُمَّ هَبَطَ فَمَا قَامَ عَلَيْهِ حَتَّى السَّاعَةِ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض الموت میں ہمارے پاس باہر تشریف لائے، آپ کے سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی، آپ منبر تک پہنچے اور اس پر بیٹھ گئے، ہم بھی آپ کے پیچھے ہو لئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں اس مقام سے حوض (کوثر) کا مشاہدہ کر رہا ہوں“، پھر فرمایا: ”ایک بندے پر دنیا اور اس کی زینت پیش کی گئی تو اس نے آخرت کو اختیار کر لیا“، راوی نے کہا: کہ اس بات کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی نہیں سمجھ سکا، چنانچہ ان کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں، وہ رو پڑے اور کہا: اے اللہ کے رسول، ہم آپ پر اپنے ماں باپ جان و مال فدا کر دیں گے۔ راوی نے کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اترے اور پھر وفات تک اس پر کھڑے نہیں ہوئے۔

79

Sunan Darmi #79

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ عُبَيْدٍ مَوْلَى الْحَكَمِ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي مُوَيْهِبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنِّي قَدْ أُمِرْتُ أَنْ أَسْتَغْفِرَ لِأَهْلِ الْبَقِيعِ، فَانْطَلِقْ مَعِي"فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ فَلَمَّا وَقَفَ عَلَيْهِمْ، قَالَ:"السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْمَقَابِرِ، لِيُهْنِكُمْ مَا أَصْبَحْتُمْ فِيهِ مِمَّا أَصْبَحَ فِيهِ النَّاسُ، أَقْبَلَتْ الْفِتَنُ كَقِطْعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يَتْبَعُ آخِرُهَا أَوَّلَهَا: الْآخِرَةُ أَشَرُّ مِنْ الْأُولَى"، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ، فَقَالَ:"يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ إِنِّي قَدْ أُوتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الدُّنْيَا وَالْخُلْدَ فِيهَا، ثُمَّ الْجَنَّةُ، فَخُيِّرْتُ بَيْنَ ذَلِكَ وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّي"، قُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، خُذْ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الدُّنْيَا وَالْخُلْدَ فِيهَا، ثُمَّ الْجَنَّةَ، قَالَ:"لَا وَاللَّهِ يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ لَقَدْ اخْتَرْتُ لِقَاءَ رَبِّي"، ثُمَّ اسْتَغْفَرَ لِأَهْلِ الْبَقِيعِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَبُدِئَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابومویہبہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ ”مجھے حکم دیا گیا ہے بقیع میں مدفون لوگوں کے لئے استغفار کروں، لہٰذا تم میرے ساتھ چلو“، آدھی رات میں میں آپ کے ساتھ نکلا، اور جب آپ ان کی قبروں کے پاس کھڑے ہوئے تو فرمایا: ”اے قبر والو! تمہارے اوپر سلامتی ہو، تم جس حال میں ہو وہ تمہیں مبارک ہو اس کے مقابلے میں جس میں لوگ اب مبتلا ہو گئے ہیں (کاش تمہیں معلوم ہو جائے کہ تمہیں الله تعالی نے کس چیز سے نجات دے دی ہے)۔ فتنے اندھیری رات کے گوشوں کی طرح یکے بعد دیگرے ابل پڑے ہیں، آخری فتنہ پہلے سے زیادہ برا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے، فرمایا: ”ابومویہبہ! مجھے دنیا کے خزانوں کی چابیاں اور دنیا میں ہمیشہ رہنا یا جنت دی گئی اور مجھے دنیا یا اپنے رب سے ملاقات کا اختیار دیا گیا ہے“، میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان دنیا کے خزانے اور اس میں ہمیشگی کو لے لیجئے پھر جنت اختیار فرما لیجئے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، اللہ کی قسم اے ابومویہبہ! نہیں، میں نے اپنے رب کی ملا قات کو اختیار کر لیا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بقیع کے لئے مغفرت کی دعا کی اور لوٹ آئے، تب ہی سے وہ درد شروع ہو گیا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال فرمایا۔

80

Sunan Darmi #80

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ (إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ) دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ، فَقَالَ: "قَدْ نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي"، فَبَكَتْ، فَقَالَ:"لَا تَبْكِي، فَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِي لِحَاقًا بِي"، فَضَحِكَتْ، فَرَآهَا بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَ: يَا فَاطِمَةُ، رَأَيْنَاكِ بَكَيْتِ ثُمَّ ضَحِكْتِ؟، قَالَتْ: إِنَّهُ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ قَدْ نُعِيَتْ إِلَيْهِ نَفْسُهُ فَبَكَيْتُ، فَقَالَ لِي:"لَا تَبْكِي فَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِي لَاحِقٌ بِي", فَضَحِكْتُ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ، وَجَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ: هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً، وَالْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب «﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾» (سورة النصر: 1/110) نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور فرمایا: ”مجھے موت کی خبر دی گئی ہے“، وہ رونے لگیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روؤو نہیں، میرے اہل و عیال میں سب سے پہلے تم ہی مجھ سے ملو گی“، تو وہ خوش ہو گئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ بیویوں نے انہیں دیکھا اور پوچھا: اے فاطمہ! ہم نے تمہیں روتے دیکھا، پھر تم ہنس پڑیں؟ جواب دیا کہ آپ نے مجھے بتایا کہ آپ کو موت کی خبر دی گئی ہے لہٰذا میں رو پڑی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”روؤو نہیں میرے اہل میں تم ہی سب سے پہلے مجھ سے ملو گی“ یہ سن کر میں خوش ہو گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی مدد اور فتح آ گئی، اہل یمن بھی آ گئے“، ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اہل یمن کون ہیں؟ فرمایا: ”وہ نرم دل کے لوگ ہیں اور ایمان تو یمن والوں کا ہے اور حکمت بھی یمانی ہے۔“

81

Sunan Darmi #81

See Details

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: رَجَعَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ جَنَازَةٍ مِنْ الْبَقِيعِ، فَوَجَدَنِي وَأَنَا أَجِدُ صُدَاعًا وَأَنَا أَقُولُ: وَا رَأْسَاهُ!، قَالَ: "بَلْ أَنَا يَا عَائِشَةُ وَا رَأْسَاهُ"، قَالَ:"وَمَا ضَرَّكِ لَوْ مِتِّ قَبْلِي فَغَسَّلْتُكِ وَكَفَّنْتُكِ وَصَلَّيْتُ عَلَيْكِ وَدَفَنْتُكِ؟"، فَقُلْتُ: لَكَأَنّنِي بِكَ وَاللَّهِ لَوْ فَعَلْتُ ذَلِكَ لَرَجَعْتَ إِلَى بَيْتِي فَأَعْرَسْتَ فِيهِ بِبَعْضِ نِسَائِكَ، قَالَتْ:"فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ بُدِئَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ".

اردو ترجمہ · Urdu

روایت کیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم بقیع کے ایک جنازے سے واپس تشریف لائے، مجھے دیکھا کہ سر درد میں مبتلا ہوں اور ہائے رے سر پکار رہی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ میرا سر اے عائشہ! تمہیں کیا پریشانی ہے، اگر تم مجھ سے پہلے فوت ہوئیں تو میں تمہیں غسل دوں، کفن پہناؤں اورتمہاری نماز پڑھوں اور میں تمہیں دفن کروں، میں نے کہا: اگر میں مر جاؤں تو آپ کو کیا، آپ تو میرے گھر میں کسی دوسری بیوی کے ساتھ ہوں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ مرض شروع ہو گیا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی۔

82

Sunan Darmi #82

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُخْتَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ: "صُبُّوا عَلَيَّ سَبْعَ قِرَبٍ مِنْ سَبْعِ آبَارٍ شَتَّى حَتَّى أَخْرُجَ إِلَى النَّاسِ فَأَعْهَدَ إِلَيْهِمْ"، قَالَ: فَأَقْعَدْنَاهُ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ فَصَبَبْنَا عَلَيْهِ الْمَاءَ صَبًّا أَوْ شَنَنَّا عَلَيْهِ شَنًّا، الشَّكُّ مِنْ قِبَلِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، فَوَجَدَ رَاحَةً، فَخَرَجَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَاسْتَغْفَرَ لِلشُّهَدَاءِ مِنْ أَصْحَابِ أُحُدٍ، وَدَعَا لَهُمْ، ثُمَّ قَالَ:"أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ الْأَنْصَارَ عَيْبَتِي الَّتِي أَوَيْتُ إِلَيْهَا، فَأَكْرِمُوا كَرِيمَهُمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ إِلَّا فِي حَدٍّ، أَلَا إِنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِ اللَّهِ قَدْ خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَ اللَّهِ، فَاخْتَارَ مَا عِنْدَ اللَّهِ"، فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ، وَظَنَّ أَنَّهُ يَعْنِي نَفْسَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"عَلَى رِسْلِكَ يَا أَبَا بَكْرٍ، سُدُّوا هَذِهِ الْأَبْوَابَ الشَّوَارِعَ إِلَى الْمَسْجِدِ إِلَّا بَابَ أَبِي بَكْرٍ، فَإِنِّي لَا أَعْلَمُ امْرَءًا أَفْضَلَ عِنْدِي يَدًا فِي الصُّحْبَةِ مِنْ أَبِي بَكْرٍ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الموت میں فرمایا: ”میرے اوپر سات مختلف کنوؤں سے سات مشکیزے پانی ڈالو تاکہ باہر جا کر لوگوں سے عہد لوں“، راوی نے کہا: ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے نہانے کے ٹب میں بٹھایا اور آپ کے اوپر پانی ڈالا۔ محمد بن اسحاق کو شک ہے کہ راوی نے «صب» کہا یا «شن» کہا (دونوں کے معانی ایک ہیں)، آپ کو کچھ راحت ملی تو آپ باہر تشریف لائے، منبر پر چڑھے، الله تعالی کی حمد و ثنا کی، شہدائے احد کے لئے دعائے مغفرت کی، پھر فرمایا: ”أما بعد، انصار میرا وہ گھر ہیں جہاں میں نے پناہ لی، پس تم ان کے شریف کی عزت کرنا اور جو برے ہیں ان سے بھی جہاں تک ہو سکے درگزر کرنا، سنو لوگو! اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے کو دنیا اور جو اللہ تعالی کے پاس ہے اس کے درمیان اختیار دیا گیا تو اس نے جو اللہ کے پاس ہے اسے چن لیا“ (یہ سن کر) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور یقین کر لیا کہ اس سے مراد خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہرو ابوبکر جلدی نہ کرو۔ لوگو! سڑک کی طرف سے مسجد کے سارے دروازے بند کر دینا سوائے باب ابی بکر کے، مجھے یاد نہیں پڑتا کہ ابوبکر سے زیادہ کسی آدمی نے میری صحبت میں اتنا میرے ساتھ احسان کیا ہو۔“

83

Sunan Darmi #83

Hasan

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أُوذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ فِي مَرَضِهِ، فَقَالَ: "مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ"، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ، قَالَ:"هَلْ أَمَرْتُنَّ أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ؟"، فَقُلْتُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ، فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ، فَقَالَ:"أَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَرُبَّ قَائِلٍ مُتَمَنٍّ وَيَأْبَى اللَّهُ وَالْمُؤْمِنُونَ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے مرض الموت میں نماز کی اطلاع دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو نماز پڑھائیں“، پھر آپ پر غشی طاری ہو گئی، پھر جب آپ کو افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ازواج مطہرات سے) فرمایا: ”کیا تم نے ابوبکر سے نماز پڑھانے کے لئے کہا؟“ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں) میں نے عرض کیا: ابوبکر نرم دل کے ہیں کاش آپ عمر کو (امامت کا) حکم دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم صواحب یوسف کی طرح ہو، ابوبکر سے کہو لوگوں کی امامت کرائیں، ورنہ کئی لوگ اس کے خواہش مند ہوں گے اور باتیں کریں گے لیکن اللہ تعالی اور مومن (اس سے) انکار کرتے ہیں۔“

84

Sunan Darmi #84

See Details

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: "تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، فَحُبِسَ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ وَلَيْلَتَهُ وَالْغَدَ حَتَّى دُفِنَ لَيْلَةَ الْأَرْبِعَاءِ، وَقَالُوا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمُتْ، وَلَكِنْ عُرِجَ بِرُوحِهِ كَمَا عُرِجَ بِرُوحِ مُوسَى، فَقَامَ عُمَرُ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمُتْ، وَلَكِنْ عُرِجَ بِرُوحِهِ كَمَا عُرِجَ بِرُوحِ مُوسَى، وَاللَّهِ لَا يَمُوتُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَقْطَعَ أَيْدِيَ أَقْوَامٍ وَأَلْسِنَتَهُمْ، فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يَتَكَلَّمُ حَتَّى أَزْبَدَ شِدْقَاهُ مِمَّا يُوعِدُ وَيَقُولُ، فَقَامَ الْعَبَّاسُ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ، وَإِنَّهُ لَبَشَرٌ وَإِنَّهُ يَأْسَنُ كَمَا يَأْسَنُ الْبَشَرُ، أَيْ قَوْمِ فَادْفِنُوا صَاحِبَكُمْ، فَإِنَّهُ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ أَنْ يُمِيتَهُ إِمَاتَتَيْنِ، أَيُمِيتُ أَحَدَكُمْ إِمَاتَةً وَيُمِيتُهُ إِمَاتَتَيْنِ وَهُوَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ؟، أَيْ قَوْمِ، فَادْفِنُوا صَاحِبَكُمْ، فَإِنْ يَكُ كَمَا تَقُولُونَ فَلَيْسَ بِعَزِيزٍ عَلَى اللَّهِ أَنْ يَبْحَثَ عَنْهُ التُّرَابَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ مَا مَاتَ حَتَّى تَرَكَ السَّبِيلَ نَهْجًا وَاضِحًا، فَأَحَلَّ الْحَلَالَ، وَحَرَّمَ الْحَرَامَ، وَنَكَحَ وَطَلَّقَ، وَحَارَبَ وَسَالَمَ، مَا كَانَ رَاعِي غَنَمٍ يَتَّبِعُ بِهَا صَاحِبُهَا رُءُوسَ الْجِبَالِ يَخْبِطُ عَلَيْهَا الْعِضَاهَ بِمِخْبَطِهِ وَيَمْدُرُ حَوْضَهَا بِيَدِهِ بِأَنْصَبَ وَلَا أَدْأَبَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ فِيكُمْ، أَيْ قَوْمِ فَادْفِنُوا صَاحِبَكُمْ، قَالَ: وَجَعَلَتْ أُمُّ أَيْمَنَ تَبْكِي، فَقِيلَ لَهَا: يَا أُمَّ أَيْمَنَ تَبْكِينَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَتْ: إِنِّي وَاللَّهِ مَا أَبْكِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لا أَكُونَ أَعْلَمُ أَنَّهُ قَدْ ذَهَبَ إِلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ الدُّنْيَا، وَلَكِنِّي أَبْكِي عَلَى خَبَرِ السَّمَاءِ انْقَطَعَ، قَالَ حَمَّادٌ: خَنَقَتِ الْعَبْرَةُ أَيُّوبَ حِينَ بَلَغَ هَا هُنَا".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیر کے روز وفات پائی اور آپ (کا جسد خاکی) پیر کے دن اور رات، منگل کے دن تک رکھا رہا، بدھ کی رات کو آپ کو دفن کیا گیا، (کچھ) لوگوں نے کہا آپ مرے نہیں ہیں آپ کی روح کو (آسمان پر) لے جایا گیا ہے جس طرح موسیٰ علیہ السلام کو لے جایا گیا، چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرے نہیں بلکہ آپ کی روح کو ویسے ہی اوپر لے جایا گیا ہے جیسے موسٰی کی روح کو آسمان پر لے جایا گیا، والله رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان تمام قوموں کے جب تک ہاتھ اور زبانیں کاٹ نہ دیں آپ مر ہی نہیں سکتے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گفتگو کرتے رہے یہاں تک کہ شدت ولولہ سے آپ کے منہ سے جھاگ نکلنے لگے، پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو چکے ہیں، بیشک آپ بشر ہیں اور بوڑھے ہوئے، جس طرح انسان بشر بوڑھا ہوتا ہے، اے لوگو! اپنے صاحب کو دفن کر دو، آپ اللہ تعالی کے نزدیک بڑے مکرم ہیں، آپ کو اللہ تعالی دو بار موت نہیں دے گا، تم سب تو ایک بار مارے جاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو دو بار موت آئے؟ (یہ نہیں ہو سکتا) آپ تو اللہ کے نزدیک بڑے معزز و مکرم ہیں۔ لوگو! اپنے صاحب کو دفن کر دو، اور جیسا کہ تم کہتے ہو (کہ آپ کو موت نہیں آئی) اگر ویسا ہی ہے تو الله تعالی کے لئے کوئی مشکل و دشوار نہیں ہے کہ مٹی خود آپ کو تلاش کر لے۔ قسم اللہ کی! رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت انتقال فرمایا ہے جب کہ آپ سارا راستہ واضح کر چکے، حلال کو حلال اور حرام کو حرام کر دیا، نکاح کیا، طلاق دی، جنگ کی، اور مصالحت بھی کی۔ کوئی بھی (چرواہا) بکریوں کی دیکھ بھال کرنے والا، جو اپنے ریوڑ کو لے کر پہاڑوں کی چوٹیوں پر جا کر ان کے لئے اپنی چھڑی سے درخت سے پتے گرائے، انہیں پانی کے لئے حوض (تالاب) پر لے جائے، تم میں سے ایسا کوئی بھی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ جفاکش اور محنتی تھکنے والا نہ ہو گا، اٹھو لوگو! اپنے صاحب کو دفن کر دو۔ راوی نے کہا: سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا رو پڑی تھیں، پوچھا گیا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر روتی ہو؟کہا: اللہ کی قسم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نہیں رو رہی، کیا مجھے معلوم نہیں کہ آپ ایسی جگہ تشریف لے گئے ہیں جو آپ کے لئے دنیا سے بدرجہا بہتر ہے، مجھے تو رونا اس بات پر آ رہا ہے کہ آسمان سے وحی کا نزول منقطع ہو گیا۔ راوی حدیث حماد کا کہنا ہے کہ ایوب جب اس مقام تک پہنچے تو آنسوؤں سے ان کی آواز رُندھ گئی۔

85

Sunan Darmi #85

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ سَعِيدٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَعِيشُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا أَصَابَ أَحَدَكُمْ مُصِيبَةٌ فَلْيَذْكُرْ مُصِيبَتَهُ بِي فَإِنَّهَا مِنْ أَعْظَمِ الْمَصَائِبِ".

اردو ترجمہ · Urdu

مکحول رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی پریشانی میں مبتلا ہو تو میری مصیبت یاد کر لے جو سارے مصائب سے بڑھ کر تھی۔“

86

Sunan Darmi #86

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا أَصَابَ أَحَدَكُمْ مُصِيبَةٌ، فَلْيَذْكُرْ مُصَابَهُ بِي، فَإِنَّهَا مِنْ أَعْظَمِ الْمَصَائِبِ".

اردو ترجمہ · Urdu

عطاء رحمہ اللہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی پر مصیبت آئے تو وہ میری مصیبت یاد کر لے جو سارے مصائب سے زیادہ شدید تھی۔“

87

Sunan Darmi #87

Sahih

(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: "مَا سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَذْكُرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ إِلَّا بَكَى".

اردو ترجمہ · Urdu

عمر بن محمد نے اپنے والد سے روایت کیا کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے سنا (دیکھا) وہ رو پڑتے تھے۔

88

Sunan Darmi #88

Sahih

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ فَاطِمَةَ، قَالَتْ: يَا أَنَسُ "كَيْفَ طَابَتْ أَنْفُسُكُمْ أَنْ تَحْثُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التُّرَابَ؟، وَقَالَتْ: يَا أَبَتَاهْ، مِنْ رَبِّهِ مَا أَدْنَاهْ، وَا أَبَتَاهْ جَنَّةُ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهْ، وَا أَبَتَاهْ إِلَى جِبْرِيلَ نَنْعَاهْ، وَا أَبَتَاهْ أَجَابَ رَبًّا دَعَاهْ، قَالَ حَمَّادٌ: حِينَ حَدَّثَ ثَابِتٌ بَكَى، وقَالَ ثَابِتٌ: حِينَ حَدَّثَ أَنَسٌ بَكَى".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے انس! تمہارے دلوں نے کیسے گوارہ کر لیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مٹی ڈالو، کہنے لگیں: اے ابا جان! آپ اپنے رب سے کتنے قریب ہیں، ابا جان! جنت الفردوس آپ کا ٹھکانا ہے، اے ابا جان! جبریل کو ہم آپ کی موت کی خبر دیتے ہیں، اے ابا جان! آپ نے اپنے رب کی دعوت قبول فرما لی۔ حماد نے کہا: جب ثابت نے یہ الفاظ بیان کئے، رو پڑے اور ثابت نے کہا: جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے یہ بیان کیا تو رو پڑے تھے۔

89

Sunan Darmi #89

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، وَذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "شَهِدْتُهُ يَوْمَ دَخَلَ الْمَدِينَةَ فَمَا رَأَيْتُ يَوْمًا قَطُّ، كَانَ أَحْسَنَ وَلَا أَضْوَأَ مِنْ يَوْمٍ دَخَلَ عَلَيْنَا فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَشَهِدْتُهُ يَوْمَ مَوْتِهِ، فَمَا رَأَيْتُ يَوْمًا كَانَ أَقْبَحَ، وَلَا أَظْلَمَ مِنْ يَوْمٍ مَاتَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جس وقت آپ مدینہ تشریف لائے میں حاضر تھا، کوئی دن اتنا روشن اس دن سے اچھا نہیں تھا جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے۔ اور میں آپ کی وفات کے دن بھی حاضر تھا، اس دن سے زیادہ برا اور تاریک دن کوئی نہیں دیکھا جس دن میں آپ کی موت واقع ہوئی۔

90

Sunan Darmi #90

Zaeef

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الْجَلِيلِ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ الْأَزْدِيِّ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَجِدُكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَائِمًا عِنْدَ رَبِّكَ وَأَنْتَ مُحْمَارَّةٌ وَجْنَتَاكَ مُسْتَحْيٍ مِنْ رَبِّكَ مِمَّا أَحْدَثَتْ أُمَّتُكَ مِنْ بَعْدِكَ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے پیغمبر! ہم قیامت کے دن آپ کو آپ کے رب کے نزدیک بوجھل سرخ پلکوں کے ساتھ رب سے شرمسار کھڑا پائیں گے ان افعال کی وجہ سے جو آپ کے بعد آپ کی امت ایجاد کر لے گی۔

91

Sunan Darmi #91

See Details

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شُرَيْحٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي قُرَّةَ مَوْلَى أَبِي جَهْلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ هَذِهِ السُّورَةَ لَمَّا أُنْزِلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ {1} وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا {2} سورة النصر آية 1-2، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَيَخْرُجُنَّ مِنْهُ أَفْوَاجًا كَمَا دَخَلُوهُ أَفْوَاجًا".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی الله صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ یہ سورة «﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ٭ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا ﴾» (النصر: 1،2/110) جب نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ”جس طرح فوج در فوج لوگ اس (دین میں) داخل ہوئے ہیں اسی طرح یقیناً فوج در فوج نکل بھی جائیں گے۔“

92

Sunan Darmi #92

See Details

(حديث موقوف) أَخْبَرَنِي أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ الْمِصْرِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ أَبِي أَيُّوبَ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيِّ، عَنْ مَعْرُوفِ بْنِ خَرَّبُوذَ الْمَكِّيِّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، قَالَ: "دَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَهْتَمِ عَلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ مَعَ الْعَامَّةِ فَلَمْ يُفْجَأْ عُمَرُ إِلَّا وَهُوَ بَيْنَ يَدَيْهِ يَتَكَلَّمُ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْخَلْقَ غَنِيًّا عَنْ طَاعَتِهِمْ، آمِنًا لِمَعْصِيَتِهِمْ، وَالنَّاسُ يَوْمَئِذٍ فِي الْمَنَازِلِ وَالرَّأْيِ مُخْتَلِفُونَ، فَالْعَرَبُ بِشَرِّ تِلْكَ الْمَنَازِلِ: أَهْلُ الْحَجَرِ، وَأَهْلُ الْوَبَرِ، وَأَهْلُ الدَّبَرِ، تُجْتَازُ دُونَهُمْ طَيِّبَاتُ الدُّنْيَا وَرَخَاءُ عَيْشِهَا، لَا يَسْأَلُونَ اللَّهَ جَمَاعَةً، وَلَا يَتْلُونَ لَهُ كِتَابًا، مَيِّتُهُمْ فِي النَّارِ، وَحَيُّهُمْ أَعْمَى نَجِسٌ مَعَ مَا لَا يُحْصَى مِنْ الْمَرْغُوبِ عَنْهُ، وَالْمَزْهُودِ فِيهِ، فَلَمَّا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَنْشُرَ عَلَيْهِمْ رَحْمَتَهُ، بَعَثَ إِلَيْهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ، وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، فَلَمْ يَمْنَعْهُمْ ذَلِكَ أَنْ جَرَحُوهُ فِي جِسْمِهِ وَلَقَّبُوهُ فِي اسْمِهِ، وَمَعَهُ كِتَابٌ مِنْ اللَّهِ نَاطِقٌ، لَا يُقُومُ إِلَّا بِأَمْرِهِ، وَلَا يُرْحَلُ إِلَّا بِإِذْنِهِ، فَلَمَّا أُمِرَ بِالْعَزْمَةِ، وَحُمِلَ عَلَى الْجِهَادِ، انْبَسَطَ لِأَمْرِ اللَّهِ لَوْثُهُ، فَأَفْلَجَ اللَّهُ حُجَّتَهُ، وَأَجَازَ كَلِمَتَهُ، وَأَظْهَرَ دَعْوَتَهُ، وَفَارَقَ الدُّنْيَا تَقِيًّا نَقِيًّا، ثُمَّ قَامَ بَعْدَهُ أَبُو بَكْرٍ فَسَلَكَ سُنَّتَهُ، وَأَخَذَ سَبِيلَهُ، وَارْتَدَّتْ الْعَرَبُ أَوْ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْهُمْ، فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ مِنْهُمْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الَّذِي كَانَ قَابِلًا، انْتَزَعَ السُّيُوفَ مِنْ أَغْمَادِهَا، وَأَوْقَدَ النِّيرَانَ فِي شُعُلِهَا، ثُمَّ نَكِبَ بِأَهْلِ الْحَقِّ أَهْلَ الْبَاطِلِ، فَلَمْ يَبْرَحْ يُقَطِّعُ أَوْصَالَهُمْ، وَيَسْقِي الْأَرْضَ دِمَاءَهُمْ، حَتَّى أَدْخَلَهُمْ فِي الَّذِي خَرَجُوا مِنْهُ، وَقَرَّرَهُمْ بِالَّذِي نَفَرُوا عَنْهُ، وَقَدْ كَانَ أَصَابَ مِنْ مَالِ اللَّهِ بَكْرًا، يَرْتَوِي عَلَيْهِ، وَحَبَشِيَّةً أَرْضَعَتْ وَلَدًا لَهُ، فَرَأَى ذَلِكَ عِنْدَ مَوْتِهِ غُصَّةً فِي حَلْقِهِ، فَأَدَّى ذَلِكَ إِلَى الْخَلِيفَةِ مِنْ بَعْدِهِ، وَفَارَقَ الدُّنْيَا تَقِيًّا نَقِيًّا عَلَى مِنْهَاجِ صَاحِبِهِ، ثُمَّ قَامَ بَعْدَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَمَصَّرَ الْأَمْصَارَ، وَخَلَطَ الشِّدَّةَ بِاللِّينِ، وَحَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ، وَشَمَّرَ عَنْ سَاقَيْهِ وَعَدَّ لِلْأُمُورِ أَقْرَانَهَا، وَلِلْحَرْبِ آلَتَهَا، فَلَمَّا أَصَابَهُ فَتَي الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَمَرَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَسْأَلُ النَّاسَ: هَلْ يُثْبِتُونَ قَاتِلَهُ: فَلَمَّا قِيلَ: فَتَي الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، اسْتَهَلَّ يَحْمَدُ رَبَّهُ أَنْ لَا يَكُونَ أَصَابَهُ ذُو حَقٍّ فِي الْفَيْءِ فَيَحْتَجَّ عَلَيْهِ بِأَنَّهُ إِنَّمَا اسْتَحَلَّ دَمَهُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ حَقِّهِ، وَقَدْ كَانَ أَصَابَ مِنْ مَالِ اللَّهِ بِضْعَةً وَثَمَانِينَ أَلْفًا، فَكَسَرَ لَهَا رِبَاعَهُ وَكَرِهَ بِهَا كَفَالَةَ أَوْلَادِهِ، فَأَدَّاهَا إِلَى الْخَلِيفَةِ مِنْ بَعْدِهِ، وَفَارَقَ الدُّنْيَا تَقِيًّا نَقِيًّا عَلَى مِنْهَاجِ صَاحِبَيْهِ، ثُمَّ إِنَّكَ يَا عُمَرُ بُنَيُّ الدُّنْيَا وَلَّدَتْكَ مُلُوكُهَا، وَأَلْقَمَتْكَ ثَدْيَيْهَا، وَنَبَتَّ فِيهَا تَلْتَمِسُهَا مَظَانَّهَا، فَلَمَّا وُلِيتَهَا أَلْقَيْتَهَا حَيْثُ أَلْقَاهَا اللَّهُ، هَجَرْتَهَا وَجَفَوْتَهَا، وَقَذِرْتَهَا إِلَّا مَا تَزَوَّدْتَ مِنْهَا، فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَلَا بِكَ حَوْبَتَنَا وَكَشَفَ بِكَ كُرْبَتَنَا، فَامْضِ وَلَا تَلْتَفِتْ، فَإِنَّهُ لَا يَعِزُّ عَلَى الْحَقِّ شَيْءٌ، وَلَا يَذِلُّ عَلَى الْبَاطِلِ شَيْءٌ، أَقُولُ قَوْلِي هَذَا، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ لِي وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ"، قَالَ أَبُو أَيُّوبَ: فَكَانَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، يَقُولُ فِي الشَّيْءِ: قَالَ لِيَ ابْنُ الْأَهْتَمِ: امْضِ وَلَا تَلْتَفِتْ.

اردو ترجمہ · Urdu

خالد بن معدان نے کہا کہ عبداللہ بن الاہتم عام لوگوں کے ساتھ عمر بن عبدالعزیز کے پاس داخل ہوئے۔ اچانک عمر بن عبدالعزیز نے انہیں گفتگو کرتے ہوئے اپنے سامنے دیکھا، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی اور امابعد کے بعد کہا: اللہ تعالی نے مخلوق کو پیدا فرمایا ان کی اطاعت سے مستغنی ہو کر اور ان کی نافرمانی سے مامون ہو کر، اس وقت لوگ اپنے گھر اور رائے میں مختلف تھے، اور عرب تو ان منازل میں اور بری حالت میں تھے، وہ پتھروں اور صوف (اون) والے اور دیہاتی تھے جن سے دنیا بھر کی اچھی چیزیں کترا کر نکل جاتی تھیں، نہ وہ اللہ تعالی سے مل جل کر دعا کرتے اور نہ اس کی کوئی کتاب تلاوت کرتے، ان میں سے مرنے والا جہنمی اور زندہ رہنے والا اندها و گندا تھا اور برائیوں کا کوئی حساب نہ تھا، پھر جب اللہ تعالی نے اپنی رحمت سے انہیں نوازنے کا ارادہ فرمایا تو انہیں میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا جن پر تمہاری پریشانی بہت گراں گزرتی ہے، وہ تمہاری منفعت کے بڑے ہی حریص و خواہش مند اور ایمان داروں کے ساتھ بڑے ہی شفیق و مہربان ہیں۔ اللہ کا ان پر درود و سلام اور اس کی رحمتیں برکتیں نازل ہوں۔ اس کے باوجود لوگوں نے آپ کو لہولہان کیا اور طرح طرح کے لقب دیئے۔ حالانکہ آپ کے ساتھ اللہ کی طرف سے بولتی ہوئی کتاب تھی، آپ جس کو لے کر کھڑے ہوئے اور اسی کے اذن سے سفر کیا، اور جب آپ کو حق بات کہنے کا حکم ہوا اور جہاد پر ابھارا گیا تو آپ کا رُواں رُواں خوش ہو گیا (امر الٰہی کے سامنے آپ کی قوت و سختی میں جرأت آ گئی)، چنانچہ اللہ تعالی نے آپ کی دلیل کو غالب فرمایا، آپ کے کلمے کو جاری کیا، آپ کی دعوت کو غالب کر دیا، اس طرح آپ دنیا سے پاک صاف رخصت ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کا مشن لے کر اٹھے اور آپ ہی کے نقش قدم پر چلے اور (اس وقت) عرب (کے کچھ قبلے) مرتد ہو گئے اور زکاة دینے سے انکار کر دیا تو انہوں نے صرف وہی چیز قبول کی جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول کیا تھا۔ میانوں سے تلوار نکالی اور آگ بھڑکا دی پھر حق والوں کے ساتھ مل کر باطل پرستوں کی سرکوبی کی اور ان کے جوڑوں کو توڑتے الگ کرتے رہے اور ان کے خون سے زمین کو سیراب کرتے رہے یہاں تک کہ انہیں وہیں واپس ہونے پر مجبور کر دیا جہاں سے وہ نکل بھاگے تھے اور اسی چیز پر واپس لے آئے جس سے وہ بھاگ نکلے تھے (یعنی منکرین زکاة تائب ہو گئے)۔ انہیں الله تعالی کے مال سے جوان اونٹ (یا گائے) ملے جن پر وہ پانی لاتے اور ایک حبشی لونڈی نصیب ہوئی جس نے ان کی اولاد کو دودھ پلایا، وفات سے پہلے اس کی گردن میں ایک گلوبند دیکھا، جس سے وہ بے چین ہو گئے اور وہ آپ کے بعد آنے والے خلیفہ کے سپرد کر دیا اور اپنے ساتھی و دوست (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے منہاج و طریقے پر پاک و صاف دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کے بعد سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ برسر اقتدار آئے اور شہر بسائے، سختی و نرمی کا امتزاج ہوا، آستین و ازار چڑھا کر میدان میں آئے اور تمام امور کے لئے افراد کو تیار کیا، جنگ کے لئے آلات مہیا کئے، اور جب مغیرہ بن شعبہ کے غلام نے انہیں زخمی کر دیا تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ پتہ لگائیں، انہوں نے بتایا کہ آپ کا قاتل مغیرہ بن شعبہ کا غلام ہے، تو الله کا شکر ادا کیا کہ کوئی ایسا صاحب حق ان کا قاتل نہیں جو کہہ سکے کہ غنیمت کے مال میں اس کے ساتھ نا انصافی کی گئی تھی اس کی وجہ سے اس نے قتل کا اقدام کیا، انہیں بھی اللہ کے مال (میں سے) اسّی ہزار سے زیادہ نصیب ملا، اور انہوں نے اللہ کے راستے میں خوب خرچ کیا، اور اپنی اولاد کی کفالت اس مال سے نامناسب سمجھی، اور اپنے بعد آنے والے خلیفہ کے سپرد اس کو کر دیا اور اپنے دونوں ساتھیوں کی طرح پاک و صاف دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کے بعد اے عمر (ابن عبدالعزيز) تم جیسے دنیا دار قسم کے لوگ آئے جس کو دنیا کے بادشاہوں نے جنم دیا اور اپنے سینے سے تمہارا منہ بھر دیا، جس میں تم پلے بڑھے اور اسی بادشاہی کی تلاش میں رہے۔ پھر جب تمہیں اس کی ولایت ملی تو تم نے اسے وہیں پہنچا دیا جہاں تک اللہ نے پہنچایا۔ تم نے اس سے دوری اختیار کی، اس پر ستم ڈھایا اور برا سمجھا سوائے اس چیز کے جو اپنے لئے زاد راہ بنائی۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے تمہارے ذر یعہ ہماری مصیبتیں دور فرمائیں اور تمہارے ذر یعہ ہمارے کرب کو دور کر دیا، اس لئے اپنے کام میں لگے رہیے، ادھر ادھر نہ دیکھئے، حق سے بڑھ کر کوئی چیز اچھی (قابل عزت) نہیں، اور باطل سے بڑھ کر کوئی چیز بری اور ذلیل نہیں۔ میں یہ بات کہتا ہوں اور اپنے تمام مومن مرد وعورتوں کے لئے مغفرت کا طالب ہوں۔ ابوایوب نے کہا: عمر بن عبدالعزیز اس چیز کے بارے میں کہتے تھے: میرے لئے ابن الاہتم نے کہا: «امض ولا تلتفت» چلتے رہئے، ادھر ادھر نہ دیکھئے۔