Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 75 · Chapter 4248

مکاتب کرنے کا بیان۔

مکاتب کو دو صورتوں میں فروخت کرنا جائز ہے : 1 قسط ادا کرنے سے عاجز آجائے 2 مکاتب فروخت کرنے پر راضی ہوجائے

20 hadiths in this chapter

21727

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21727

Sahih

(۲۱۷۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَنْبَأَنَا الشَّافِعِیُّ أَنْبَأَنَا مَالِکٌ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : جَائَ تْ بَرِیرَۃُ فَقَالَتْ إِنِّی کَاتَبْتُ أَہْلِی عَلَی تِسْعِ أَوَاقٍ فِی کُلِّ عَامٍ أُوقِیَّۃٌ فَأَعِینِینِی فَقَالَتْ عَائِشَۃُ إِنْ أَحَبَّ أَہْلُکِ أَنْ أَعُدَّہَا لَہُمْ وَیَکُونَ وَلاَؤُکِ لِی فَعَلْتُ فَذَہَبَتْ بَرِیرَۃُ إِلَی أَہْلِہَا فَقَالَتْ لَہُمْ ذَلِکَ فَأَبَوْا عَلَیْہَا فَجَائَ تْ مِنْ عِنْدِ أَہْلِہَا وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- جَالِسٌ فَقَالَتْ إِنِّی قَدْ عَرَضْتُ عَلَیْہِمْ ذَلِکَ فَأَبَوْا إِلاَّ أَنْ یَکُونَ الْوَلاَئُ لَہُمْ فَسَمِعَ ذَلِکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَسَأَلَہَا فَأَخْبَرَتْہُ عَائِشَۃُ فَقَالَ : خُذِیہَا وَاشْتَرِطِی لَہُمُ الْوَلاَئُ فَإِنَّمَا الْوَلاَئُ لِمَنْ أَعْتَقَ ۔ فَفَعَلَتْ عَائِشَۃُ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی النَّاسِ فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ : مَا بَالُ رِجَالٍ یَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَیْسَتْ فِی کِتَابِ اللَّہِ مَا کَانَ مِنْ شَرْطٍ لَیْسَ فِی کِتَابِ اللَّہِ فَہُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ کَانَ مِائَۃُ شَرْطٍ قَضَائُ اللَّہِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّہِ أَوْثَقُ وَإِنَّمَا الْوَلاَئُ لِمَنْ أَعْتَقَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ وَالْبُخَارِیُّ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ إِذَا رَضِیَ أَہْلُہَا بِالْبَیْعِ وَرَضِیَتِ الْمُکَاتَبَۃُ بِالْبَیْعِ فَإِنَّ ذَلِکَ تَرْکٌ لِلْکِتَابَۃِ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٧٢١) ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : بریرہ آئی اور کہنے لگی : میں نے اپنے مالکوں سے ٩ اوقیہ پر مکاتبت کی ہے اور ہر سال ایک اوقیہ ادا کرنا ہے، آپ میری مدد کریں۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : اگر تیرے گھر والے پسند کریں تو قیمت میں ادا کردیتی ہوں اور ولاء میری ہوگی۔ بریرہ (رض) نے جا کر بات کی تو انھوں نے انکار کردیا۔ پھر وہ حضرت عائشہ (رض) کے پاس آئی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی تشریف فرما تھے وہ کہنے لگی : میں نے ان سے بات کی، لیکن وہ نہیں مانے۔ کہتے ہیں : ولاء میری ہوگی، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سن کر سوال کیا، حضرت عائشہ (رض) نے خبر دی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خرید لو اور ولاء کی شرط رکھو۔ ولاء تو آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔ حضرت عائشہ (رض) نے ایسا ہی کیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھڑے ہو کر اللہ کی حمدوثنا بیان کی، پھر فرمایا : لوگوں کو کیا ہے، کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں موجود نہیں ہیں۔ جو شرط کتاب اللہ میں موجود نہ وہ سو شرطیں جو بھی ہوں باطل ہیں۔ اللہ کی شرائط پورا کرنے کے زیادہحق دا رہے۔ ولاء صرف آزاد کرنے والے کے لیے ہوتی ہے۔

21728

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21728

Sahih

(۲۱۷۲۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَنْبَأَنَا الشَّافِعِیُّ أَنْبَأَنَا مَالِکٌ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَنَّ بَرِیرَۃَ جَائَ تْ تَسْتَعِینُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقَالَتْ عَائِشَۃُ إِنْ أَحَبَّ أَہْلُکِ أَنْ أَصُبَّ لَہُمْ ثَمَنَکِ صَبَّۃً وَاحِدَۃً وَأُعْتِقَکِ فَعَلْتُ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ بَرِیرَۃُ لأَہْلِہَا فَقَالُوا لاَ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ وَلاَؤُکِ لَنَا قَالَ مَالِکٌ قَالَ یَحْیَی فَزَعَمَتْ عَمْرَۃُ أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا ذَکَرَتْ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : لاَ یَمْنَعُکِ ذَلِکَ اشْتَرِیہَا وَأَعْتِقِیہَا فَإِنَّمَا الْوَلائُ لِمَنْ أَعْتَقَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ أَرْسَلَہُ مَالِکٌ فِی أَکْثَرِ الرِّوَایَاتِ عَنْہُ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٧٢٢) عمرہ بنت عبدالرحمن فرماتی ہیں کہ بریرہ (رض) حضرت عائشہ (رض) سے مدد طلب کرنے کے لیے آئی۔ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : اگر تیرے گھر والے پسند کریں تو میں ایک بار ساری قیمت ادا کر کے تجھے آزاد کردیتی ہوں تو بریرہ (رض) نے اپنے گھر والوں سے بات کی۔ انھوں نے کہا : اگر ولاء ہمارے لیے ہوگی تو پھر درست ہے یحییٰ کہتے ہیں : عمرۃ بنت عبدالرحمن کا خیال ہے کہ حضرت عائشہ (رض) نے یہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی چیز رکاوٹ نہ بنے خریدو اور آزاد کرو۔ ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔

21729

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21729

Sahih

(۲۱۷۲۳) وَأَسْنَدَہُ عَنْہُ مُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَۃَ الشَّیْبَانِیُّ الْکُوفِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو سَبْرَۃَ الْقُرَشِیُّ حَدَّثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ بَرِیرَۃَ جَائَ تْہَا لِتَسْتَعِینَہَا فَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٧٢٣) عمرۃ بنت عبدالرحمن حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتی ہیں کہ بریرہ (رض) حضرت عائشہ (رض) سے مدد طلب کرنے کے لیے آئی۔

21730

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21730

Sahih

(۲۱۷۲۴) وَرَوَاہُ الشَّافِعِیُّ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا شَافِعُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَنْبَأَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الطَّحَاوِیُّ حَدَّثَنَا الْمُزَنِیُّ أَنْبَأَنَا الشَّافِعِیُّ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : أَرَدْتُ أَنْ أَشَتَرِیَ بَرِیرَۃَ فَأَعْتِقُہَا فَاشْتَرَطَ عَلَیَّ مَوَالِیہَا أَنْ أَعْتِقَہَا وَیَکُونَ الْوَلائُ لَہُمْ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : اشْتَرِیہَا فَأَعْتِقِیہَا فَإِنَّمَا الْوَلائُ لِمَنْ أَعْتَقَ ۔ ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: مَا بَالُ أَقْوَامٍ یَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَیْسَتْ فِی کِتَابِ اللَّہِ فَمَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَیْسَ فِی کِتَابِ اللَّہِ فَلَیْسَ لَہُ وَإِنِ اشْتَرَطَ مِائَۃَ مَرَّۃٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٧٢٤) عمرہ بنت عبدالرحمن حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتی ہیں کہ وہ فرماتی ہیں کہ میں نے بریرہ (رض) کو خرید کر آزاد کرنے کا ارادہ کیا تو اس کے گھر والوں نے شرط لگا دی کہ آزاد کرو، لیکن ولاء ہمارے لیے ہوگی۔ فرماتی ہیں : میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے تذکرہ کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خرید کر آزاد کرو۔ ولاء آزاد کرنے والے کے لیے ہوتی ہے۔ پھر لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا : لوگوں کو کیا ہے جو ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں ہیں ؟ جس نے ایسی سو شرطیں بھی لگا دیں، جو کتاب اللہ میں نہیں وہ باطل ہیں۔

21731

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21731

Sahih

(۲۱۷۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ أَنْبَأَنَا الشَّافِعِیُّ قَالَ حَدِیثُ یَحْیَی عَنْ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَثْبَتُ مِنْ حَدِیثِ ہِشَامٍ وَأَحْسِبُہُ غَلَطٌ فِی قَوْلِہِ وَاشْتَرِطِی لَہُمُ الْوَلاَئُ وَأَحْسَبُ حَدِیثَ عَمْرَۃَ : أَنَّ عَائِشَۃَ کَانَتْ شَرَطَتْ ذَلِکَ لَہُمْ بِغَیْرِ أَمْرِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَہِیَ تَرَی ذَلِکَ یَجُوزُ فَأَعْلَمَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّہَا إِنْ أَعْتَقَتْہَا فَالْوَلاَئُ لَہَا وَقَالَ لاَ یَمْنَعُکِ عَنْہَا مَا تَقَدَّمَ مِنْ شَرْطِکِ وَلاَ أَرَی أَمَرَہَا تَشْتَرِطُ لَہُمْ مَا لاَ یَجُوزُ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ حَدِیثُ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ حَدِیثٌ ثَابِتٌ فَقَدْ رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ مَوْصُولاً۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٧٢٥) عمرۃ بنت عبدالرحمن کی حدیث ہشام کی حدیث سے زیادہثابت ہے، کیونکہ اس میں یہ جملہ غلط ہے کہ تو ان پر ولاء کی شرط لگا اور عمرہ کی حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بغیر یہ شرط لگائی، یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی جان لیا اگر وہ آزاد کر دیگئی تو ولاء بھی ان کے لیے ہوگی۔ جو شرط سے پہلے ہے ، اس سے تجھ کوئی چیز نہ روکے اور میرا خیال ہے جو انھوں نے شرط رکھی ہے جائز نہیں۔

21732

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21732

Sahih

(۲۱۷۲۶) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَنْبَأَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَنْبَأَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : جَائَ تْ بَرِیرَۃُ إِلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تَسْتَعِینُہَا فِی کِتَابَتِہَا فَقَالَتْ لَہَا إِنْ شَائَ مَوَالِیکِ أَنْ أَصُبَّ لَہُمْ عَنْکِ ثَمَنَکِ صَبَّۃً وَاحِدَۃً وَأُعْتِقَکِ قَالَتْ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ بَرِیرَۃُ لِمَوَالِیہَا فَقَالُوا لاَ إِلاَّ أَنْ تَشْتَرِطَ لَنَا الْوَلائُ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : اشْتَرِیہَا فَإِنَّمَا الْوَلائُ لِمَنْ أَعْتَقَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٧٢٦) عمرہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتی ہیں کہ بریرہ (رض) اپنی کتابت میں مدد طلب کرنے کے لیے حضرت عائشہ (رض) کے پاس آئی، حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : اگر تیرے مالک چاہیں تو ایک ہی مرتبہ پوری قیمت ادا کر کے تجھے آزاد کر دوں۔ بریرہ نے اپنے گھر والوں سے تذکرہ کیا تو انھوں نے کہا کہ ولاء کی شرط کے ساتھ، حضرت عائشہ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے تذکرہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خریدو، ولاء تو آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔

21733

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21733

Sahih

(۲۱۷۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا قَاسِمٌ الْمُطَرِّزُ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ قَالَ سَمِعَتُ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : أَتَتْنِی بَرِیرَۃُ تَسْتَعِینُنِی فِی کِتَابَتِہَا فَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٧٢٧) عمرۃ حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتی ہیں کہ بریرہ اپنی کتابت میں مجھ سے مدد طلب کرنے کے لیے آئی۔

21734

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21734

Sahih

(۲۱۷۲۸) قَالَ وَحَدَّثَنَا قَاسِمٌ الْمُطَرِّزُ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عَمْرَۃَ فَذَکَر نَحْوَہُ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٧٢٨) یحییٰ بن سعید حضرت عمرہ سے ایسے ہی روایت کرتے ہیں۔

21735

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21735

Sahih

(۲۱۷۲۹) قَالَ وَحَدَّثَنَا قَاسِمٌ الْمُطَرِّزُ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ بِنَحْوِہِ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٧٢٩) یحییٰ بن سعید اس طرح بیان کرتے ہیں۔

21736

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21736

Sahih

(۲۱۷۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ أَنْبَأَنَا الشَّافِعِیُّ أَنْبَأَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا أَرَادَتْ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ عَنْ مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَرَادَتْ أَن تَشْتَرِیَ جَارِیَۃً فَتُعْتِقَہَا فَقَالَ أَہْلُہَا نَبِیعُکِہَا عَلَی أَنَّ وَلاَئَ ہَا لَنَا فَذَکَرَتْ ذَلِکَ عَائِشَۃُ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : لاَ یَمْنَعُکِ ذَلِکَ فَإِنَّمَا الْوَلاَئُ لِمَنْ أَعْتَقَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٧٣٠) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے ایک لونڈی کو خرید کر آزاد کرنے کا ارادہ کیا تو اس کے گھر والوں نے کہا کہ ولاء ہمارے نام ہی ہوگی تو حضرت عائشہ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے تذکرہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی چیز تجھے نہ روکے کیونکہ ولاء آزاد کرنے والے کے لیے ہی ہوتی ہے۔

21737

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21737

Sahih

(۲۱۷۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ أَنْبَأَنَا الشَّافِعِیُّ قَالَ أَحْسِبُ حَدِیثَ نَافِعٍ أَثْبَتَہَا کُلَّہَا لأَنَّہُ مُسْنَدٌ وَأَنَّہُ أَشْبَہُ وَکَأَنَّ عَائِشَۃَ فِی حَدِیثِ نَافِعٍ کَانَتْ شَرَطَتْ لَہُمُ الْوَلاَئَ فَأَعْلَمَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّہَا إِنْ أَعْتَقَتْ فَالْوَلاَئُ لَہَا فَإِنْ کَانَ ہَکَذَا فَلَیْسَ أَنَّہَا شَرَطَتْ لَہُمُ الْوَلاَئَ بِأَمْرِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَلَعَلَّ ہِشَامًا أَوْ عُرْوَۃَ حِینَ سَمِعَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ لاَ یَمْنَعُکِ ذَلِکَ رَأَی أَنَّہُ أَمَرَہَا أَنْ تَشْتَرِطَ لَہُمُ الْوَلاَئَ فَلَمْ یَقِفْ مِنْ حَفِظِہِ عَلَی مَا وَقَفَ ابْنُ عُمَرَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَلِمَعْنَی حَدِیثِ ابْنِ عُمَرَ شَوَاہِدُ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٧٣١) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ نافع کی حدیث زیادہ ثابت ہے، کیونکہ یہ مسند ہے، نافع کی حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہ (رض) نے ان کے لیے ولاء کی شرط رکھی تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کہنے پر۔ کیونکہ ولاء تو آزاد کرنے والے کے لیے ہوتی ہے، حالانکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کہنے پر ولاء کی شرط نہ رکھی تھی۔ شاید کہ ہشام یا عروہ نے قول نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہ کوئی چیز تجھے نہ روکے سے سمجھ لیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے ولاء کی شرط رکھی ہے۔ اس کے حافظ کا اتنا اعتبار نہیں جتنا ابن عمر کے۔

21738

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21738

Sahih

(۲۱۷۳۲) مِنْہَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلاَئً أَنْبَأَنَا مُوسَی بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ حَدَّثَنِی سُہَیْلُ بْنُ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: أَرَادَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنْ تَشْتَرِیَ جَارِیَۃً تُعْتِقُہَا فَأَبَی أَہْلُہَا إِلاَّ أَنْ یَکُونَ لَہُمُ الْوَلاَئُ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ: لاَ یَمْنَعُکِ ذَلِکَ فَإِنَّمَا الْوَلاَئُ لِمَنْ أَعْتَقَ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۵۰۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٧٣٢) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے ایک لونڈی کو خرید کر آزاد کرنے کا ارادہ کیا، اس کے گھر والوں نے انکار کردیا، لیکن ولاء ان کی ہو تب راضی ہیں تو حضرت عائشہ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تذکرہ کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی چیز اس لونڈی کو خریدنے سے رکاوٹ نہ بنے؛ کیونکہ ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔

21739

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21739

Sahih

(۲۱۷۳۳) وَمِنْہَا مَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ یُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّہَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِیَ بَرِیرَۃَ لِلْعِتْقِ وَأَنَّہُمُ اشْتَرَطُوا وَلاَئَ ہَا فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : اشْتَرِیہَا وَأَعْتِقِیہَا فَإِنَّمَا الْوَلاَئُ لِمَنْ أَعْتَقَ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَثْنَّی عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٧٣٣) قاسم حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے بریرہ کو آزاد کرنے کے لیے خریدنے کا ارادہ کیا، اس کے گھر والوں نے ولاء کی شرط رکھی۔ حضرت عائشہ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تذکرہ کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خرید کر آزاد کرو، کیونکہ ولاء تو آزاد کرنے والے کے لیے ہوتی ہے۔

21740

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21740

Sahih

(۲۱۷۳۴) وَبِہَذَا الْمَعْنَی رَوَاہُ الزُّہْرِیُّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ أَنَّ عَائِشَۃَ أَخْبَرَتْہُ : أَنَّ بَرِیرَۃَ جَائَ تْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عنہا تَسْتَعِینُہَا فِی کِتَابَتِہَا وَلَمْ تَکُنْ قَضَتْ مِنْ کِتَابَتِہَا شَیْئًا فَقَالَتْ لَہَا عَائِشَۃُ ارْجِعِی إِلَی أَہْلِکِ فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِیَ عَنْکِ کِتَابَتَکِ وَیَکُونَ وَلاَؤُکِ لِی فَعَلْتُ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ بَرِیرَۃُ لأَہْلِہَا فَأَبَوْا وَقَالُوا إِنْ شَائَ تْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَیْکِ فَلْتَفْعَلْ وَیَکُونَ لَنَا وَلاَؤُکِ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ابْتَاعِی وَأَعْتِقِی فَإِنَّمَا الْوَلاَئُ لِمَنْ أَعْتَقَ ۔ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : مَا بَالُ أُنَاسٍ یَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَیْسَتْ فِی کِتَابِ اللَّہِ مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَیْسَ فِی کِتَابِ اللَّہِ فَلَیْسَ لَہُ وَإِنْ شَرَطَہُ مِائَۃَ مَرَّۃٍ شَرَطُ اللَّہِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَعَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْلَمَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ الأَسْوَدُ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا۔ [صحیح۔ متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٧٣٤) عروہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ بریرہ حضرت عائشہ (رض) کے پاس آئی، وہ اپنی کتابت میں مدد طلب کر رہی تھی۔ ابھی اس نے کتابت سے کچھ ادا نہ کیا تھا، حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ۔ اگر پسند کریں تو میں رقم ادا کردیتی ہوں، لیکن ولاء میری ہوگی تو میں ایسا کرتی ہوں بریرہ (رض) نے اپنے گھر والوں کے سامنے تذکرہ کیا تو انھوں نے انکار کردیا اور کہنے لگے : اگر حضرت عائشہ (رض) آپ پر احسان کرنا چاہتی ہیں تو ایسا کرلیں، لیکن ولاء ہمارے لیے ہوگی۔ حضرت عائشہ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے تذکرہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خریدو اور آزاد کرو، ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو فرمایا : لوگوں کو کیا ہے، ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں موجود نہیں۔ جو شرط کتاب اللہ میں نہیں ہے، اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے، اگرچہ وہ سو شرائط بھی ہوں۔ اللہ کی شرائط پورا کرنے کے اعتبار سے زیادہ حق دار ہیں۔

21741

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21741

Sahih

(۲۱۷۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ أَیُّوبَ الْمَتُّوثِیُّ أَنْبَأَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّہَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِیَ بَرِیرَۃَ فَاشْتَرَطُوا عَلَیْہَا الْوَلاَئَ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : اشْتَرِیہَا الْوَلاَئُ لِمَنْ أَعْتَقَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٧٣٥) اسود حضرت عائشہ (رض) سینقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے بریرہ کو خرید کر آزاد کرنا چاہا تو اس کے گھر والوں نے ولاء کی شرط رکھی۔ حضرت عائشہ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے تذکرہ فرمایا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خرید لو۔ ولاء تو آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔

21742

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21742

Sahih

(۲۱۷۳۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ہُوَ ابْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتِ : اشْتَرَیْتُ بَرِیرَۃَ فَاشْتَرَطَ أَہْلُہَا وَلاَئَ ہَا فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : أَعْتِقِیہَا فَإِنَّ الْوَلاَئَ لِمَنْ أَعْطَی الْوَرِقَ ۔ قَالَتْ فَأَعْتَقْتُہَا قَالَتْ فَدَعَاہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَخَیَّرَہَا مِنْ زَوْجِہَا فَقَالَتْ لَوْ أَعْطَانِی کَذَا وَکَذَا مَا ثَبَتُّ عِنْدَہُ فَاخْتَارَتْ نَفْسَہَا وَکَانَ زَوْجُہَا حُرًّا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ دُونَ قَوْلِہِ وَکَانَ زَوْجُہَا حُرًّا وَقَدْ بَیِّنَّا فِی کِتَابِ النِّکَاحِ أَنَّ ذَلِکَ مِنْ قَوْلِ الأَسْوَدِ مَیَّزَہُ أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ مَنْصُورٍ فَجَعَلَہُ مِنْ قَوْلِ الأَسْوَدِ۔ قَالَ الْبُخَارِیُّ قَوْلُ الأَسْوَدِ مُنْقَطِعٌ وَقَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ رَأَیْتُہُ عَبْدًا أَصَحُّ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٧٣٦) اسود حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : میں نے بریرہ کو خرید اس کے گھر والوں نے ولاء کی شرط رکھی، میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے تذکرہ کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آزاد کرو کیونکہ ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔ میں نے اس کو آزاد کردیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو بلوایا اور اس خاوند کے بارے میں اختیار دے دیا، کہنے لگی : وہ مجھے فلاں فلاں چیز دے دے تو میں اس کے پاس نہ رہوں۔ اس نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا اور اس کا خاوند بھی آزاد تھا۔ بخاری کی صحیح روایت عثمان بن ابی شیبہ کی اس قول کے بغیر ہے، ” وَکَانَ زَوْجُہَا حُرًّا “ یہ اسود کا قول ہے۔

21743

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21743

Sahih

(۲۱۷۳۷) قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَرَوَاہُ أَیْمَنُ عَنْ عَائِشَۃَ کَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْن سَخْتُوَیْہِ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَیْمُونٍ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَیْمَنَ حَدَّثَنِی أَیْمَنُ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ البَغْدَادِیُّ الْہَرَوِیُّ بِہَا أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَیْمَنَ الْمَکِّیُّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقُلْتُ یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ إِنِّی کُنْتُ غُلاَمًا لِعُتْبَۃَ بْنِ أَبِی لَہَبٍ وَإِنَّ عُتْبَۃَ مَاتَ وَوَرِثَنِی بَنُوہُ وَأَنَّہُمْ بَاعُونِی مِنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی عَمْرٍو الْمَخْزُومِیُّ فَأَعْتَقَنِی ابْنُ أَبِی عَمْرٍو وَاشْتَرَطُوا وَلاَئِی فَمَوْلَی مَنْ أَنَا؟ وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی نُعَیْمٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی عَائِشَۃَ وَکَانَ لِعُتْبَۃَ بْنِ أَبِی لَہَبٍ فَمَاتَ عُتْبَۃُ فَوَرِثَہُ بَنُوہُ وَاشْتَرَاہُ ابْنُ أَبِی عَمْرٍو فَأَعْتَقَہُ وَاشْتَرَطَ بَنُو عُتْبَۃَ الْوَلاَئَ فَدَخَلَ عَلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہَا فَقَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا دَخَلْتُ عَلَی بَرِیرَۃَ وَہِیَ مُکَاتَبَۃٌ فَقَالَتْ اشْتَرِینِی یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ فَإِنَّ أَہْلِی یَبِیعُونِی فَأَعْتِقِینِی۔ وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی نُعَیْمٍ اشْتَرِینِی فَأَعْتِقِینِی قُلْتُ نَعَمْ قَالَتْ إِنَّ أَہْلِی لاَ یَبِیعُونِی حَتَّی یَشْتَرِطُوا وَلاَئِی فَقَالَتْ لاَ حَاجَۃَ لِی بِکِ فَسَمِعَ ذَلِکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَوْ بَلَغَہُ فَقَالَ مَا شَأْنُ بَرِیرَۃُ فَأَخْبَرَتْہُ وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی نُعَیْمٍ فَذَکَرَ ذَلِکَ لِعَائِشَۃَ فَذَکَرَتْ عَائِشَۃُ مَا قَالَتْ لَہَا فَقَالَ : اشْتَرِیہَا فَأَعْتِقِیہَا وَلْیَشْتَرِطُوا مَا شَائُ وا وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی نُعَیْمٍ فَدَعِیہِمْ فَلْیَشْتَرِطُوا مَا شَائُ وا۔ قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَأَعْتَقْتُہَا وَاشْتَرَطَ أَہْلُہَا الْوَلاَئَ وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی نُعَیْمٍ فَاشْتَرَتْہَا عَائِشَۃُ فَأَعْتَقَتْہَا وَاشْتَرَطَ أَہْلُہَا الْوَلاَئَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : الْوَلاَئُ لِمَنْ أَعْتَقَ وَإِنِ اشْتَرَطُوا مِائَۃَ شَرْطٍ ۔ زَادَ خَلاَّدٌ فِی رِوَایَتِہِ فَأَنْتَ مَوْلَی ابْنِ أَبِی عَمْرٍو۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ وَعَنْ خَلاَّدِ بْنِ یَحْیَی وَہَذِہِ الرِّوَایَۃُ قَرِیبَۃٌ مِنْ رِوَایَۃِ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ وَالْعَدَدُ بِالْحِفْظِ أَوْلَی مِنَ الْوَاحِدِ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٧٣٧) عبدالواحد بن ایمن مکی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ (رض) کے پاس آئی، میں نے کہا : اے ام المومنین ! میں عتبہ بن ابی لہب کا غلام ہوں، عتبہ مرگیا۔ اس کے بیٹے میرے وارث ہیں، انھوں نے مجھے عبداللہ بن ابی عمرو مخزومی کے ہاتھوں فروخت کردیا، اس نے مجھے آزاد کردیا لیکن انھوں نے میری ولاء کی شرط رکھی۔ میں اب کس کا آزاد کردہ ہوں ؟ ابو نعیم کی روایت میں ہے کہ میں حضرت عائشہ (رض) کے پاس آیا اور میں عتبہ بن ابی لہب کا غلام تھا، وہ مرگیا تو اس کے اولاد میری وارث ہوئی تو ابن ابی عمر (رض) نے مجھے خرید لیا اور آزاد کردیا۔ لیکن عتبہ کی اولاد نے ولاء کی شرط رکھی تو اس نے حضرت عائشہ (رض) کو آکر بتایا تو حضرت عائشہ (رض) فرمانے لگیں : میں بریرہ (رض) کے پاس آئی، وہ مکاتبہ تھی۔ وہ کہنے لگیں : اے ام المومنین ! مجھے خرید لیں۔ میرے گھر والے مجھے فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ مجھے آزاد کردیں، میں نے کہا : ہاں۔ کہنے لگی : میرے گھر والے ولاء کی شرط لگا کر فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : مجھے تیری کوئی ضرورت نہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ سنا یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر ملیتو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : بریرہ کی کیا حالت ہے ؟ تو حضرت عائشہ (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دی۔ ابونعیم کی روایت میں ہے کہ اس نے حضرت عائشہ (رض) سے تذکرہ کیا تو حضرت عائشہ (رض) نے وہ بیان کردیا، جو اس نے کہا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آپ اس کو خرید لیں اور آزاد کردیں، وہ جو بھی شرط رکھیں۔ ابونعیم کی روایت میں ہے کہ آپ ان کو بلائیں وہ شرط رکھیں جو چاہیں۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے اس کو آزاد کردیا اور اس کے گھر والوں نے ولاء کی شرط رکھی۔ ابونعیم کی روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ (رض) نے خریدا اور اس کو آزاد کردیا۔ اس کے گھر والوں نے ولاء کی شرط رکھی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔ اگر وہ سو شرطیں بھی لگا لیں۔ خلاد نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ آپ ابن ابی عمرو کے غلام ہیں۔

21744

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21744

Sahih

(۲۱۷۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ إِذَا رَضِیَ أَہْلُہَا بِالْبَیْعِ وَرَضِیَتِ الْمُکَاتَبَۃُ بِالْبَیْعِ فَإِنَّ ذَلِکَ تَرْکٌ لِلْکِتَابَۃِ قَالَ الشَّافِعِیُّ فَقَالَ لِی بَعْضُ النَّاسِ فَمَا مَعْنَی إِبْطَالِ النَّبِیِّ -ﷺ- شَرْطَ عَائِشَۃَ لأَہْلِ بَرِیرَۃَ قُلْتُ إِنْ بَیَّنَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ فِی الْحَدِیثِ نَفْسِہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَدْ أَعْلَمَہُمْ أَنَّ اللَّہَ قَدْ قَضَی أَنَّ الْوَلاَئَ لِمَنْ أَعْتَقَ وَقَالَ {ادْعُوہُمْ لآبَائِہِمْ ہُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّہِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَائَ ہُمْ فَإِخْوَانُکُمْ فِی الدِّینِ وَمَوَالِیکُمْ}[الاحزاب ۵] وَإِنَّہُ نَسَبَہُمْ إِلَی مَوَالِیہِمْ کَمَا نَسَبَہُمْ إِلَی آبَائِہِمْ فَکَمَا لَمْ یَجُزْ أَنْ یُحَوَّلُوا عَنْ آبَائِہِمْ فَکَذَلِکَ لاَ یَجُوزُ أَنْ یُحَوَّلُوا عَنْ مَوَالِیہِمُ الَّذِینَ وَلُوا مِنَّتَہُمْ وَقَالَ اللَّہُ تَعَالَی {وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِی أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیْہِ وَأَنْعَمْتَ عَلَیْہِ أَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ} [الاحزاب ۳۷] وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : الْوَلاَئُ لِمَنْ أَعْتَقَ ۔ وَنَہَی عَنْ بَیْعِ الْوَلاَئِ وَعَنْ ہِبَتِہِ وَرُوِیَ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : الْوَلاَئُ لُحْمَۃٌ کَلُحْمَۃِ النَّسَبِ النَّسَبُ لاَ یُبَاعُ وَلاَ یُوہَبُ ۔ فَلَمَّا بَلَغَہُمْ ہَذَا کَانَ مَنِ اشْتَرَطَ خِلاَفَ مَا قَضَی اللَّہُ وَرَسُولُہُ -ﷺ- عَاصِیًا وَکَانَتْ فِی الْمَعَاصِی حُدُودٌ وَآدَابٌ فَکَانَ مِنْ أَدَبِ الْعَاصِینَ أَنْ یُعَطَّلَ عَلَیْہِمْ شُرُوطُہُمْ لِیَنْتَکِلُوا عَنْ مِثْلِہِ أَوْ یَنْتَکِلَ بِہَا غَیْرُہُمْ وَکَانَ ہَذَا مِنْ أَسْنَی الأَدَبِ وَرَوَی الزَّعْفَرَانِیُّ عَنِ الشَّافِعِیِّ مَعْنَی ہَذَا وَأَبْیَنَ مِنْہُ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٧٣٨) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ جب اس کے گھر والے فروخت کرنے پر راضی ہوگئے اور مکاتبہ فروخت ہونے پر راضی ہوگئی تو مکاتبت ختم۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں نے مجھ سے پوچھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بریرہ کے گھر والوں کی شرط کو باطل قرار دیا اس کا کیا معنیٰ ؟ فرمایا : زیادہ تو اللہ کے رسول ہی جانتے ہیں لیکن حدیث کا فیصلہ ہے کہ ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔ اور فرمایا : { اُدْعُوْھُمْ لِاٰبَآئِھِمْ ھُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْٓا اٰبَآئَ ھُمْ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْکُمْ } [الاحزاب ٥] ان کی نسبت ان کے باپوں کی طرف کرو، یہ اللہ کے ہاں زیادہ انصاف والی بات ہے۔ اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور مولیٰ ہیں۔ ان کی نسبت آزاد کرنے والے کی طرف کی جاتی جیسے ان کی نسبت ان کے باپوں کی طرف ہوتی ہے۔ جس طرح باپ سے نسبت پھیرنا جائز نہیں، اس طرح آزاد کرنے والے والے سے نسبت تبدیل کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ جو ان کی اس نعمت کے والی بنے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :{ وَ اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْٓ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِ اَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ } [الاحزاب ٣٧] ” اور جس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص سے کہا کہ آپ اللہ نے اور آپ نے بھی اس پر انعام و احسان کیا تھا۔ اپنی بیوی کو روکے رکھو۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ولاء آزاد کرنے والے کے لیے ہوتی ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ولاء کو فروخت اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ولاء ایسا رشتہ ہے جیسا نسب کا رشتہ ہوتا ہے تو نسب کو فروخت یا ہبہ نہیں کیا جاتا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے بارے میں خبر ملی۔ جس نے شرط لگائی اس کے خلاف جو اللہ اور رسول کا فیصلہ ہے وہ گناہ گار ہے تو اس کی شرط کو باطل ہی قرار دیا جائے گا جائے گا، تاکہ اس جیسے اور دوسرے اس سے عبرت حاصل کریں۔

21745

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21745

Sahih

(۲۱۷۳۹) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو أَحْمَدَ بْنُ أَبِی الْحَسَنِ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ یَعْنِی ابْنَ أَبِی حَاتِمٍ الرَّازِیَّ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ قَالَ سَمِعْتُ الشَّافِعِیَّ یَقُولُ فِی حَدِیثِ النَّبِیِّ -ﷺ- حَیْثُ قَالَ لَہَا اشْتَرِطِی لَہُمُ الْوَلاَئَ مَعْنَاہُ اشْتَرِطِی عَلَیْہِمُ الْوَلاَئَ قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {أُولَئِکَ لَہُمُ اللَّعْنَۃُ} یَعْنِی عَلَیْہِمُ اللَّعْنَۃُ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَالْجَوَابُ الأَوَّلُ أَصَحُّ وَفِی صِحَّۃِ ہَذِہِ اللَّفْظَۃِ نَظَرٌ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٧٣٩) حرملہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام شافعی (رح) سے سنا، وہ اس قول کے بارے میں فرماتے ہیں کہ تو ان کے لیے ولاء کی شرط رکھ، اس کا معنی ہے کہ تو ان کے خلاف ولاء کی شرط رکھ۔ یہی لوگ ہیں کہ ان پر اللہ کی لعنت ہے۔

21746

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21746

Zaeef

(۲۱۷۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ : کَانَ یَکْرَہُ بَیْعَ الْمُکَاتَبِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٧٤٠) عطاء حضرت ابن مسعود (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ مکاتبہ کی بیع کو ناپسند فرماتے تھے۔