Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 75 · Chapter 4227

مکاتب کرنے کا بیان۔

جو کہتا ہے کہ مکاتب آزادنہ ہوگا جب تک وہ قیمت ادا نہ کر دے

4 hadiths in this chapter

21630

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21630

Zaeef

(۲۱۶۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی بِہَمَذَانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَیْمَانَ وَعَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ : کَاتَبْتُ أَہْلِی عَلَی أَنْ أَغْرِسَ لَہُمْ خَمْسَمِائَۃِ فَسِیلَۃٍ فَإِذَا عَلِقَتْ فَأَنَا حُرٌّ فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : اغْرِسْ وَاشْتَرِطْ لَہُمْ فَإِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَغْرِسَ فَآذِنِّی فَآذَنْتُہُ فَجَائَ فَجَعَلَ یَغْرِسُ إِلاَّ وَاحِدَۃً غَرَسْتُہَا بِیَدِی فَعَلِقْنَ جَمِیعًا إِلاَّ الْوَاحِدَۃَ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٦٢٤) ابو عثمان سلمان سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے آقاؤں سے مکاتبت کی کہ میں پانچ سو درخت لگا کر دوں گا۔ جب وہ پھل دینے لگیں گے تو میں آزاد ہوجاؤں گا۔ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور میں نے اس بات کا تذکرہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : درخت لگاؤ اور شرط رکھ لو لیکن جب درخت لگانے کا ارادہ ہو مجھے اطلاع دے دینا۔ میں نے آپ کو اطلاع دی تو آپ ایک درخت کے علاوہ تمام درخت اپنے ہاتھ سے لگائے۔ تمام درختوں نے پھل دینا شروع کردیا سوائے ایک کے۔

21631

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21631

Sahih

(۲۱۶۲۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَنْبَأَنَا مُوسَی بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ عَنِ الْحُسَیْنِ بْنِ وَاقِدٍ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ سَلْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِینَۃَ أَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بِہَدِیَّۃٍ عَلَی طَبَقٍ فَوَضَعَہَا بَیْنَ یَدَیْہِ فَقَالَ مَا ہَذَا یَا سَلْمَانُ قَالَ صَدَقَۃٌ عَلَیْکَ وَعَلَی أَصْحَابِکَ قَالَ إِنِّی لاَ آکُلُ الصَّدَقَۃَ فَرَفَعَہَا ثُمَّ جَائَ ہُ مِنَ الْغَدِ بِمِثْلِہَا فَوَضَعَہَا بَیْنَ یَدَیْہِ فَقَالَ مَا ہَذَا قَالَ ہَدِیَّۃٌ لَکَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لأَصْحَابِہِ : کُلُوا ۔ قَالَ : لِمَنْ أَنْتَ؟ ۔ قَالَ لِقَوْمٍ قَالَ فَاطْلُبْ إِلَیْہِمْ أَنْ یُکَاتِبُوکَ قَالَ فَکَاتَبُونِی عَلَی کَذَا وَکَذَا نَخْلَۃً أَغْرِسُہَا لَہُمْ وَیَقُومُ عَلَیْہَا سَلْمَانُ حَتَّی تُطْعِمَ قَالَ فَفَعَلُوا قَالَ فَجَائَ النَّبِیُّ -ﷺ- فَغَرَسَ النَّخْلَ کُلَّہُ إِلاَّ نَخْلَۃً وَاحِدَۃً غَرَسَہَا عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَطْعَمَ نَخْلُہُ مِنْ سَنَتِہِ إِلاَّ تِلْکَ النَّخْلَۃَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ غَرَسَہَا؟ ۔ قَالُوا : عُمَرُ فَغَرَسَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ یَدِہِ فَحَمَلَتْ مِنْ عَامِہَا۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٦٢٥) عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سلمان جب مدینہ آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ایک پلیٹ کے اندر تحفہ رکھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : سلمان ! یہ کیا ہے ؟ کہنے لگے : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کے لیے صدقہ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں صدقہ نہیں کھاتا تو انھوں نے اٹھا لیا۔ دوسرے دن پھر اسی طرح پلیٹ میں کچھ رکھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ تو کہنے لگے : یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تحفہ ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ سے فرمایا : کھاؤ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تو کون ہے ؟ کہنے لگے کہ قوم کا غلام۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان سے مکاتبت طلب کرلو۔ کہتے ہیں : انھوں نے مجھ سے مکاتبت کرلی کہ اتنی اتنی کھجوریں لگا کر دوں اور پھل آنے تک سلمان ان کی حفاظت کرے۔ انھوں نے یہ کام کرلیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک کھجور کے علاوہ تمام کھجوریں لگا دیں ۔ ایک کھجور حضرت عمر (رض) نے لگائی۔ سال کے اندر تمام کھجوروں نے پھل دیا۔ سوائے اس کھجور کے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : یہ کس نے لگائی تھی تو انھوں نے کیا کہ عمر (رض) نے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے بھی اپنے ہاتھ سے لگایا تو اسی سال اس نے بھی پھل دیا۔

21632

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21632

Sahih

(۲۱۶۲۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ الْحِیرِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِیدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ حَدَّثَنِی سَلْمَانُ الْفَارِسِیُّ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ فِی قِصَّۃِ سَبَبِ إِسْلاَمِہِ وَفِیہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : کَاتِبْ یَا سَلْمَانُ ۔ فَکَاتَبْتُ صَاحِبِی عَلَی ثَلاَثِمِائَۃِ نَخْلَۃٍ أُحْیِیہَا وَأَرْبَعِینَ أُوقِیَّۃٍ وَأَعَانَنِی أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِالنَّخْلِ ثَلاَثِینَ وَدِیَّۃً وَعِشْرِینَ وَدِیَّۃً وَعَشْرًا کُلُّ رَجُلٍ مِنْہُمْ عَلَی قَدْرِ مَا عِنْدَہُ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی الْحَفْرِ قَالَ وَخَرَجَ مَعِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَتَّی جَائَ ہَا فَکُنَّا نَحْمِلُ إِلَیْہِ الْوَدِیَّ وَیَضَعُہُ بِیَدِہِ وَیُسَوِّی عَلَیْہَا فَوَالَّذِی بَعَثَہُ بِالْحَقِّ مَا مَاتَتْ مِنْہَا وَدِیَّۃٌ وَاحِدَۃٌ وَبَقِیَتْ عَلَیَّ الدَّرَاہِمُ فَأَتَاہُ رَجُلٌ مِنْ بَعْضِ الْمَعَادِنِ بِمِثْلِ الْبَیْضَۃِ مِنَ الذَّہَبِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَیْنَ الْفَارِسِیُّ الْمُسْلِمُ الْمُکَاتَبُ ۔ فَدُعِیتُ لَہُ فَقَالَ : خُذْ ہَذِہِ یَا سَلْمَانُ فَأَدِّ مَا عَلَیْکَ ۔ فَقُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ : وَأَیْنَ تَقَعُ ہَذِہِ مِمَّا عَلَیَّ قَالَ : فَإِنَّ اللَّہَ سَیُؤَدِّی بِہَا عَنْکَ فَوَالَّذِی نَفْسُ سَلْمَانَ بِیَدِہِ لَوَزَنْتُ لَہُم مِنْہَا أَرْبَعِینَ أُوقِیَّۃً فَأَدَّیْتُہَا إِلَیْہِمْ ۔ وَعَتَقَ سَلْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی الرِّوَایَۃِ الأُولَی زِیَادَۃٌ فِی عَدَدِ الْفَسِیلاَتِ وَفِیہَا اشْتِرَاطُ الْحُرِّیَّۃِ وَأَنَّ وَاحِدَۃً مِنْہَا لَمْ تُعَلَّقْ وَہِیَ مَا لَمْ یَغْرِسْہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَفِی الرِّوَایَۃِ الثَّالِثَۃِ نُقْصَانٌ عَنْ عَدَدِ الْفَسِیلاَتِ وَزِیَادَۃُ الأَرْبَعِینَ أُوقِیَّۃً وَفِی کِلْتَیْہِمَا مَعَ الرِّوَایَۃِ الثَّانِیَۃِ أَنَّ ذَلِکَ کَانَ بِشَرْطِ الْعُلُوقِ أَوِ الإِطْعَامِ وَکَأَنَّ الْعَقْدَ کَانَ مَعَ الْکُفَّارِ وَکَأَنَّ الْقَصْدَ مِنْہُ حُصُولُ الْعِتَاقِ فَأَذِنَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی اشْتِرَاطِہِ بِقَوْلِہِ اشْتَرِطْ لَہُمْ لِکَوْنِہِ شَرْطًا صَحِیحًا فِی حُصُولِ الْعِتَاقِ بِہِ وَإِنْ کَانَ عَقْدُ الْکِتَابَۃِ یَفْسُدُ بِہِ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٦٢٦) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ سلمان فارسی (رض) نے اپنے اسلام قبول کرنے کا قصہ ذکر کیا۔ اس میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے سلمان ! مکاتبت کرلو۔ میں نے اپنے مالکوں سے تین سو کھجوروں کے درختوں کو آباد کرنے اور چالیس اوقیہ ادا کرنے پر مکاتبت کرلی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے کسی نے ٣٠ کسی نے ٢٠، کسی نے ١٠ اپنی طاقت کے مطابق مجھے عطا کیں۔ دوسری حدیث میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے ساتھ نکلے اور ہم کھجور کے چھوٹے پودوں کو اٹھائے ہوئے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پودے کو ہاتھ میں لیتے اور زمین میں برابر گاڑھ دیتے۔ اللہ کی قسم ! ایک پودا بھی ضائع نہیں ہوا۔ باقی میرے اوپر درہم رہ گئے تو ایک آدمی انڈے کے برابر سونا لے کر آیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ فارسی مسلمان مکاتب کہاں ہے ؟ مجھے بلایا گیا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سلمان لے لو اور اپنا قرض ادا کرو۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! یہ میرا قرض کہاں سے ادا کرے گا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ممکن ہے کہ یہ تیرا قرض ادا کر دے۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں سلمان کی جان ہے، میں نے ان کو ٤٠ اوقیوں کا وزن کر کے دے دیا اور سلمان آزاد ہوگیا۔ شیخ فرماتے ہیں : پہلی روایت میں درختوں کی تعداد زیادہ اور آزادی کی شرط دی اور ان میں سے ایک درخت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہیں لگایا تھا اور تیری روایت میں درختوں کی تعداد کم اور ٤٠ اوقیوں کی زیادتی اور دوسری روایت میں درختوں کے پھل دینے کی شرط۔ یہ کفار سے معاہدہ آزادی کا معاہدہ تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس طرح کی شرط لگانے کی اجازت دی۔

21633

Sunan Al Kubra Bayhaqi #21633

Zaeef

(۲۱۶۲۷) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ أَنْبَأَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِی صَغِیرَۃَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ صُوحَانَ عَنْ سَلْمَانَ فِی قِصَّۃِ إِسْلاَمِہِ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : لِمَنْ أَنْتَ؟ ۔ قُلْتُ : لامْرَأَۃٍ مِنَ الأَنْصَارِ جَعَلَتْنِی فِی حَائِطٍ لَہَا قَالَ یَا أَبَا بَکْرٍ قَالَ لَبَّیْکَ قَالَ : اشْتَرِہِ ۔ قَالَ : فَاشْتَرَانِی أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَعْتَقَنِی وَہَذَا یُخَالِفُ الرِّوَایَاتِ قَبْلَہُ۔ وَقَدْ یَجُوزُ أَنْ یَکُونَ عِتَاقُہُ لَمْ یَحْصُلْ بِأَنْ لَمْ یُعَلِّقْ مِنَ الْفَسِیلاَت ِوَاحِدَۃً حَتَّی أَعَادَ النَّبِیُّ -ﷺ- غَرْسَہَا فَحَمَلَتْ مِنْ عَامِہَا فَاشْتَرَاہُ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِیمَا بَیْنَ ذَلِکَ وَأَعْتَقَہُ وَیُحْتَمَلُ غَیْرُہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ وَفِی ثُبُوتِ بَعْضِ ہَذِہِ الرِّوَایَاتِ نَظَرٌ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢١٦٢٧) زید بن صوحان حضرت سلمان کے اسلام کے قصہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تو کس کا غلام ہے ؟ میں نے کہا : انصاری عورت کا جس نے اپنے باغ میں میری ڈیوٹی لگائی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوبکر (رض) ! عرض کیا : اللہ کے رسول حاضر۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو خریدو۔ حضرت ابوبکر (رض) نے مجھے خرید کر آزاد کردیا۔ نوٹ : یہ روایت پہلی روایات کے مخالف ہے، ممکن ہے ایک درخت کے پھل نہ دینے کی وجہ سے ان کو آزادی نہ ملی ہو تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اپنے ہاتھ سے دوبارہ لگا دیا تو اس عرصہ کے درمیان ابوبکر (رض) نے ان کو خریدا ہو۔