Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 68 · Chapter 4066

قاضی کے اداب کا بیان

جو کہتا ہے کہ قاضی اپنے علم کے مطابق فیصلہ نہ کرے

8 hadiths in this chapter

20508

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20508

Sahih

(۲۰۵۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّکُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَیَّ وَلَعَلَّ بَعْضَکُمْ أَنْ یَکْونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِہِ مِنْ بَعْضٍ فَأَقْضِیَ نَحْوَ مَا أَسْمَعُ فَمَنْ قَضَیْتُ لَہُ بِحَقِّ أَخِیہِ شَیْئًا فَلاَ یَأْخُذْہُ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَہُ قِطْعَۃً مِنَ النَّارِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْلَمَۃَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ۔ وَہَذَا فِیمَا لَمْ یَقَعْ لَہُ بِہِ عِلْمٌ مِنْ قَبْلُ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٥٠٢) ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں بھی انسان ہوں تم اپنے جھگڑے لے کر میرے پاس آتے ہو۔ لیکن بعض اپنے دلائل کے اعتبار سے دوسرے پر غلبہ پا لیتا ہے۔ میں سماعت کے مطابق فیصلہ کردیتا ہوں۔ کسی کے حق کا فیصلہ میں کر دوں تو وہ وصول نہ کرے بلکہسمجھی کہ میں اس کو جہنم کا ایک ٹکڑا دے رہا ہوں۔

20509

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20509

Sahih

(۲۰۵۰۳) فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی (ح) وَأَخْبَرَنِی أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ أَنْبَأَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ زَیْنَبَ بِنْتَ أَبِی سَلَمَۃَ وَأُمَّہَا أُمَّ سَلَمَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- أَخْبَرَتْہُ أَنَّ أُمَّہَا أُمَّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : سَمِعَ النَّبِیُّ -ﷺ- جَلَبَۃَ خِصَامٍ عِنْدَ بَابِہِ فَخَرَجَ إِلَیْہِمْ فَقَالَ : إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّہُ یَأْتِینِی الْخَصْمُ وَلَعَلَّ بَعْضَہُمْ أَنْ یَکُونَ أَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ فَأَقْضِیَ لَہُ بِذَلِکَ وَأَحْسِبُ أَنَّہُ صَادِقٌ فَمَنْ قَضَیْتُ لَہُ بِحَقِّ مُسْلِمٍ فَإِنَّمَا ہُوَ قِطْعَۃٌ مِنَ النَّارِ فَلْیَأْخُذْہَا أَوْ لِیَدَعْہَا ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٥٠٣) ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دروازے کے سامنے جھگڑا کرنے والوں کی آوازیں سنیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی طرف نکلی اور فرمایا : میں انسان ہوں۔ میرے پاس جھگڑا لے کر آتے ہو۔ شاید بعض زیادہ چرب زبان ہو۔ میں اس کو سچا خیال کرتے ہوئے اس کے لیے فیصلہ کر دوں ۔ لہٰذاجس کے لیے میں فیصلہ کردوں تو یہ جہنم کا ایک ٹکڑا ہے چاہے وصول کرلے یا چھوڑ دے۔

20510

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20510

Sahih

(۲۰۵۰۴) أَخْبَرَنَا الْفَقِیہُ أَبُو الْقَاسِمِ عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ الْفَامِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ کِنْدَۃَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ الْحَضْرَمِیُّ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ ہَذَا قَدْ غَلَبَنِی عَلَی أَرْضِی قَدْ کَانَتْ لأَبِی فَقَالَ الْکِنْدِیُّ ہِیَ أَرْضِی فِی یَدِی أَزْرَعُہَا لَیْسَ لَہُ فِیہَا حَقٌّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِلْحَضْرَمِیِّ : أَلَکَ بَیِّنَۃٌ؟ ۔ قَالَ : لاَ۔ قَالَ : فَلَکَ یَمِینُہُ ۔ قَالَ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ إِنَّہُ لَیْسَ یُبَالِی مَا حَلَفَ عَلَیْہِ لَیْسَ یَتَوَرَّعُ عَنْ شَیْئٍ قَالَ لَیْسَ لَکَ إِلاَّ ذَلِکَ قَالَ فَانْطَلَقَ بِہِ لِیُحْلِفَہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لَمَّا أَدْبَرَ : أَمَا لَئِنْ حَلَفَ عَلَی مَالٍ لِیَأْخُذَہُ ظُلْمًا فَلَیَلْقَیَنَّ اللَّہَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَہُوَ عَنْہُ مُعْرِضٌ ۔ ہَکَذَا وَجَدْتُہُ فِی کِتَابِی وَکَذَلِکَ وَجَدْتُہُ فِی کِتَابِ مُسْلِمٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَزُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ عَنْ أَبِی عَوَانَۃَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ عَلْقَمَۃَ۔ وَرَوَاہُ عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ أَبِی الْحُنَیْنِ وَأَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْکَجِّیُّ وَغَیْرُہُمْ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ فَقَالُوا فِی الْحَدِیثِ : لَیْسَ لَکَ مِنْہُ إِلاَّ ذَلِکَ ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ وَغَیْرُہُ عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ : لَیْسَ لَکَ مِنْہُ إِلاَّ ذَلِکَ ۔ وَہَذَا لاَ یَنْفِی الْحُکْمَ بِالْعِلْمِ وَإِنَّمَا یَنْفِی أَنْ یَکُونَ لَہُ مِنْ جِہَۃِ الْمُدَّعَی عَلَیْہِ شَیْء ٌ غَیْرَ الیَمِینِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٥٠٤) علقمہ بن وائل اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں ایک آدمی حضر موت سے اور دوسرا کندہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، حضرمی کہنے لگا : اس نے میری زمین پر قبضہ کرلیا ہے جو میرے باپ کی تھی۔ کندی نے کہا : یہ زمین میری ہے میں کھیتی باڑی کرتا ہوں اس کا کوئی حق نہیں ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرمی سے کہا : کیا تیرے پاس کوئی دلیل ہے ؟ اس نے کہا : نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرے ذمہ قسم ہے تو کندی کہنے لگا : اے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس کو قسم اٹھانے سے کوئی چیز مانع نہیں۔ آپ نے فرمایا : تیرے لیے صرف قسم ہے تو حضرمی قسم اٹھانے کے لیے آگے بڑھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب وہ واپس ہوا کہ اگر قسم کے ذریعہ کسی کا مال ہڑپ کرلے تو جب قیامت کے دن اللہ سے ملاقات کرے گا وہ اس سے اعراض کرنے والا ہوگا۔ (ب) ابو ولید کی حدیث میں ہے کہ تیرے لیے صرف یہی ہے۔ (ج) ابوالاحوص کی حدیث میں بھی اسی طرح ہے۔

20511

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20511

Zaeef

(۲۰۵۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الأَصْبَہَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیقُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لَوْ وَجَدْتُ رَجُلاً عَلَی حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّہِ لَمْ أَحُدَّہُ أَنَا وَلَمْ أَدْعُ لَہُ أَحَدًا حَتَّی یَکُونَ مَعِی غَیْرِی۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٥٠٥) زہری (رح) فرماتے ہیں کہ ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : اگر میں کسی آدمی کو اللہ کی حدود میں سے کسی حد میں پا لوں۔ نہ تو میں اس پر حد لگاؤں گا نہ ہی چھوڑوں گا جب تک میرے ساتھ کوئی اور نہ ہو۔

20512

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20512

Zaeef

(۲۰۵۰۶) قَالَ وَحَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ عَنْ عِکْرِمَۃَ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ : أَرَأَیْتَ لَوْ رَأَیْتَ رَجُلاً قَتَلَ أَوْ سَرَقَ أَوْ زَنَی۔ قَالَ : أَرَی شَہَادَتَکَ شَہَادَۃَ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ۔ قَالَ : أَصَبْتَ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٥٠٦) عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے عبدالرحمن بن عوف سے فرمایا : اگر میں کسی کو دیکھوں کہ اس نے قتل یا چوری یا زنا کیا ہے ؟ فرمانے لگے : آپ کی گواہی عام مسلمانوں کی طرح ہے، فرمایا : تو نے درست کہا۔

20513

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20513

Zaeef

(۲۰۵۰۷) قَالَ وَحَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لاَ أَکُونُ أَنَا أَوَّلَ الأَرْبَعَۃِ۔[ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٥٠٧) جعفر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا : میں ابتدائی چار میں سے نہ ہوں۔

20514

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20514

Sahih

(۲۰۵۰۸) قَالَ وَحَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنِی ابْنُ شُبْرُمَۃَ قَالَ سَأَلْتُ الشَّعْبِیَّ عَنْ رَجُلٍ کَانَتْ عِنْدَہُ شَہَادَۃٌ فَجُعِلَ قَاضِیًا فَقَالَ أُتِیَ شُرَیْحٌ فِی ذَلِکَ فَقَالَ ائْتِ الأَمِیرَ وَأَنَا أَشْہَدُ لَکَ۔ وَہَذِہِ الآثَارُ مُنْقَطِعَۃٌ غَیْرَ أَثَرِ شُرَیْحٍ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٥٠٨) ابن شبرمہ فرماتے ہیں کہ میں نے شعبی سے ایک آدمی کے بارے میں سوال کیا وہ گواہ تھا۔ اس کو قاضی بنادیا گیا۔ قاضی شریح کو لایا گیا تو وہ اس کے بارے میں کہنے لگے : امیر کو لاؤ میں گواہی دے دوں گا۔

20515

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20515

Sahih

(۲۰۵۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَنْبَأَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَنْبَأَنَا مِسْعَرٌ عَنْ أَبِی حَصِینٍ قَالَ قَالَ شُرَیْحٌ : الْقَضَائُ جَمْرٌ فَارْفَعِ الْجَمْرَ عَنْکَ بِعُودَیْنِ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٥٠٩) ابوحصین فرماتے ہیں کہ قاضی شریح نے کہا کہ قضا ایک کوئلہ ہے اس کو دو لکڑیوں کے ذریعہ اپنے سے دور ہٹاو۔