Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 68 · Chapter 4057

قاضی کے اداب کا بیان

جھگڑا کرنے والے سے ہدیہ قبول نہ کیا جائے گا

5 hadiths in this chapter

20479

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20479

Sahih

(۲۰۴۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ أَنْبَأَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِی حُمَیْدٍ الأَنْصَارِیِّ ثُمَّ السَّاعِدِیِّ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- اسْتَعْمَلَ عَامِلاً عَلَی الصَّدَقَۃِ فَجَائَ ہُ الْعَامِلُ حِینَ فَرَغَ مِنْ عَمَلِہِ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَذَا الَّذِی لَکُمْ وَہَذَا الَّذِی أُہْدِیَ لِی فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَہَلاَّ قَعَدْتَ فِی بَیْتِ أَبِیکَ وَأُمِّکَ فَنَظَرْتَ أَیُہْدَی لَکَ أَمْ لاَ ثُمَّ قَامَ النَّبِیُّ -ﷺ- عَشِیَّۃً عَلَی الْمِنْبَرِ بَعْدَ الصَّلاَۃِ فَتَشَہَّدَ وَأَثْنَی عَلَی اللَّہِ بِمَا ہُوَ أَہْلُہُ ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ الْعَامِلِ نَسْتَعْمِلُہُ فَیَأْتِینَا فَیَقُولُ ہَذَا مِنْ عَمَلِکُمْ وَہَذَا الَّذِی أُہْدِیَ لِی فَہَلاَّ قَعَدَ فِی بَیْتِ أَبِیہِ وَأُمِّہِ فَنَظَرَ ہَلْ یُہْدَی لَہُ أَمْ لاَ وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لاَ یَقْبَلُ أَحَدٌ مِنْکُمْ مِنْہَا شَیْئًا إِلاَّ جَائَ بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَحْمِلُہُ عَلَی عُنُقِہِ إِنْ کَانَ بَعِیرًا جَائَ بِہِ لَہُ رُغَاء ٌ وَإِنْ کَانَتْ بَقَرَۃً جَائَ بِہَا وَلَہَا خُوَارٌ وَإِنْ کَانَتْ شَاۃً جَائَ بِہَا تَیْعَرُ فَقَدْ بَلَّغْتُ ۔ قَالَ أَبُو حُمَیْدٍ ثُمَّ رَفَعَ النَّبِیُّ -ﷺ- یَدَیْہِ حَتَّی إِنَّنَالَنَنْظُرُ إِلَی عُفْرَۃِ إِبْطَیْہِ۔ [صحیح۔ متفق علیہ] قَالَ أَبُو حُمَیْدٍ قَدْ سَمِعَ ذَلِکَ مَعِی مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ فَسَلُوہُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٤٧٣) ابوحمید ساعدی فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو صدقہ پر عامل بنایا۔ جب وہ اپنے کام سے فارغ ہو کر آیا تو اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ آپ کے لیے ہے۔ یہ مجھے تحفہ ملا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اپنی ماں یا باپ کے گھر میں رہتا تو کیا تجھے تحفہ دیا جاتا ؟ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عشاء کی نماز کے بعد منبر پر بیٹھے اور اللہ کی حمدوثنا فرمائی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عاملوں کو کیا ہے کہ وہ ہمارے پاس آکر کہتے ہیں : یہ تمہارا اور یہ ہمارے تحفے ہیں۔ وہ اپنے ماں، باپ کے گھر رہتا، پھر دیکھتا اس کو تحفے ملتے ہیں یا نہیں۔ اللہ کی قسم ! جس نے اس طرح کوئی چیز قبول کی وہ اس کو اپنی گردن پر قیامت کے دن لائے گا۔ اگر اونٹ ہے تو اس کو لے کر آئے گا اور اس کے لیے بلبلانے کی آواز ہوگی۔ اگر گائے ہے اس کو لے کر آئے گا اس کے آواز ہوگی۔ اگر بکری ہے اس کو لے کر آئے گا اور اس کے لیے آواز ہوگی۔ میں نے پہنچا دیا۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ اٹھائے تو بغلوں کی سفیدی نظر آرہی تھی۔ یہ بات میرے ساتھ زید بن ثابت نے بھی سنی۔

20480

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20480

Zaeef

(۲۰۴۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ وَدَاوُدُ بْنُ رُشَیْدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِی حُمَیْدٍ السَّاعِدِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ہَدَایَا الأُمَرَائِ غُلُولٌ ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٤٧٤) ابوحمید ساعدی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : امراء کے ہدیے خیانت ہیں۔

20481

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20481

Sahih

(۲۰۴۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِیِّ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ عَنْ قَیْسٍ عَنْ عَدِیِّ بْنِ عُمَیْرَۃَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ مَنْ عَمِلَ لَنَا عَلَی عَمَلٍ فَکَتَمَنَا مِخْیَطًا فَہُو یَأْتِی بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ کَأَنِّی أُرَاہُ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ اقْبَلْ عَنِّی عَمَلَکَ قَالَ وَمَا لَکَ قَالَ سَمِعْتُکَ تَقُولُ الَّذِی قُلْتَ قَالَ وَأَنَا أَقُولُہُ الآنَ مَنِ اسْتَعْمَلْنَاہُ عَلَی عَمَلٍ فَلْیَجِئْ بِقَلِیلِہِ وَکَثِیرِہِ فَمَا أُوتِیَ مِنْہُ أَخَذَ وَمَا نُہِیَ عَنْہُ انْتَہَی أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۸۳۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٤٧٥) عدی بن عمیر فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا : اے لوگو ! جس نے ہمارا کوئی کام کیا۔ اس نے ایک سوئی بھی چھپائی تو وہ قیامت کے دن لے کر آئے گا۔ ایک انصاری آدمی نے کہا گویا کہ میں تو اس کو دیکھ رہا ہوں۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اپنا کام قبول کیجیے۔ آپ نے پوچھا : تجھے کیا ہے ؟ اس نے کہا : میں نے آپ سے یہ بات سنی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ بات اب بھی کہتا ہوں، جو عامل بنے وہ تھوڑا زیادہ سب کچھ لے کر آئے، جو دیا جائے وہ لے لے، جس سے منع کردیا جائے رک جائے۔

20482

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20482

Zaeef

(۲۰۴۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو أُمَیَّۃَ الطَّرْسُوسِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا أَبُو زِیَادٍ الْفُقَیْمِیُّ حَدَّثَنِی أَبُو حَرِیزٍ : أَنَّ رَجُلاً کَانَ یُہْدِی إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کُلَّ سَنَۃٍ فَخِذَ جَزُورٍ قَالَ فَجَائَ یُخَاصِمُ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ اقْضِ بَیْنَنَا قَضَائً فَصْلاً کَمَا تُفْصَلُ الْفَخِذُ مِنَ الْجَزُورِ قَالَ فَکَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی عُمَّالِہِ لاَ تَقْبَلُوا الْہَدْیَ فَإِنَّہَا رِشْوَۃٌ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٤٧٦) ابوحریر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر (رض) کو ہر سال اونٹ کی ران تحفہ میں دیتا۔ وہ جھگڑا لے کر حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس آیا۔ اس نے کہا : اے امیرالمومنین ! ہمارے درمیان فیصلہ کیجیے، جیسے اونٹ کی ران اونٹ سے جدا ہوتی ہے تو حضرت عمر (رض) نے اپنے عمال کی طرف لکھا کہ ہدیہ قبول نہ کرو؛ کیونکہ رشوت ہے۔

20483

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20483

Zaeef

(۲۰۴۷۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَصْبُغَ بْنِ الْفَرَجِ الْمِصْرِیُّ أَنْبَأَنَا أَبِی أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا مَالِکٌ قَالَ : أَہْدَی رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَکَانَ مِنْ عُمَّالِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ نُمْرُقَتَیْنِ لاِمْرَأَۃِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَدَخَلَ عُمَرُ فَرَآہُمَا فَقَالَ مِنْ أَیْنَ لَکَ ہَاتَیْنِ اشْتَرَیْتِہِمَا أَخْبِرِینِی وَلاَ تَکْذِبِینِی قَالَتْ بَعَثَ بِہِمَا إِلَیَّ فُلاَنٌ فَقَالَ قَاتَلَ اللَّہُ فُلاَنًا إِذَا أَرَادَ حَاجَۃً فَلَمْ یَسْتَطِعْہَا مِنْ قِبَلِی أَتَانِی مِنْ قِبَلِ أَہْلِی فَاجْتَبَذَہُمَا اجْتِبَاذًا شَدِیدًا مِنْ تَحْتِ مَنْ کَانَ عَلَیْہِمَا جَالِسًا فَخَرَجَ یَحْمِلُہُمَا فَتَبِعَتْہُ جَارِیَتُہَا فَقَالَتْ إِنَّ صُوفَہُمَا لَنَا فَفَتَقَہُمَا وَطَرَحَ إِلَیْہَا الصُّوفَ وَخَرَجَ بِہِمَا فَأَعْطَی إِحْدَاہُمَا امْرَأَۃً مِنَ الْمُہَاجِرَاتِ وَأَعْطَی الأُخْرَی امْرَأَۃً مِنَ الأَنْصَارِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٤٧٧) امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کو تحفہ دیا۔ وہ حضرت عمر (رض) کے عمال میں سے تھا۔ حضرت عمر (رض) کی بیوی کو دو قالین تحفہ میں دیں۔ حضرت عمر (رض) داخل ہوئے تو دیکھا۔ پوچھا : کیا یہ قالین تو نے بازار سے خریدیں۔ مجھے خبر دو جھوٹ نہ بولنا۔ اس نے کہا : مجھے فلاں نے دیے ہیں۔ فرمایا : فلاں کو اللہ ہلاک کرے جب وہ کسی کام کا ارادہ کرے اور میری جانب سے وہ اس کام کی استطاعت نہ رکھے تو وہ میرے گھر والوں کی جانب سے آتا ہے۔ پھر آپ نے اپنے نیچے سے سختی سے کھینچ کر نکال دیں جس پر آپبیٹھے ہوئے تھے۔ وہ نکلا تاکہ ان دونوں کو اٹھاسکے، اس کی لونڈی نے اس کا پیچھا کیا۔ کہنے لگی : ان کی روئی ہماری ہے، اس نے ان دونوں کو پھاڑا۔ اس کی طرف روئی پھینکی، وہ ان کو لے کر نکل گیا۔ اس نے ایک مہاجرین کی عورت کو اور دوسری انصار کی عورت کو دے دی۔