Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 68 · Chapter 4052

قاضی کے اداب کا بیان

عدالت میں دو جھگڑا کرنے والوں کے درمیان انصاف کرنا، ان کی بات غور سے سننا اور جب دونوں کے دلائل ختم ہوجائیں تو پھر ان پر احسن انداز سے متوجہ ہونا

11 hadiths in this chapter

20461

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20461

Sahih

(۲۰۴۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : النَّاسُ کَالإِبِلِ الْمِائَۃِ لاَ یَجِدُ الرَّجُلُ فِیہَا رَاحِلَۃً ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَعَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ وَہَذَا الْحَدِیثُ قَدْ یَتَأَوَّلُ عَلَی أَنَّ النَّاسَ فِی أَحْکَامِ الدِّینِ سَوَاء ٌ لاَ فَضْلَ فِیہَا لِشَرِیفٍ عَلَی مَشْرُوفٍ وَلاَ لِرَفِیعٍ مِنْہُمْ عَلَی وَضِیعٍ کَالإِبِلِ الْمِائَۃِ لاَ تَکُونُ فِیہَا رَاحِلَۃً وَہِیَ الذَّلُولُ الَّتِی تُرْحَلُ وَتُرْکَبُ وَجَائَ تْ فَاعِلَۃً بِمَعْنَی مَفْعُولَۃٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٤٥٥) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگ سو اونٹوں کی طرح ہوں گے کہ آدمی ان میں سواری کے قابل کسی کو بھی نہیں پائے گا۔ (ب) دینی احکام میں سارے برابر ہیں کسی کو کسی پر ترجیح نہیں ہے۔

20462

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20462

Sahih

(۲۰۴۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِیعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ : قَضَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّ الْخَصْمَیْنِ یَقْعُدَانِ بَیْنَ یَدَیِ الْحَاکِمِ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٤٥٦) عبداللہ بن زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو جھگڑا کرنے والوں کے درمیان فیصلہ کیا کہ وہ دونوں حاکم کے سامنیبیٹھیں۔

20463

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20463

Zaeef

(۲۰۴۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ أَبُو خَیْثَمَۃَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ کَثِیرٍ حَدَّثَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : مَنِ ابْتُلِی بِالْقَضَائِ بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ فَلْیَعْدِلْ بَیْنَہُمْ فِی لَحْظِہِ وَإِشَارَتِہِ وَمَقْعَدِہِ ۔ رَوَاہُ زَیْدُ بْنُ أَبِی الزَّرْقَائِ عَنْ عَبَّادٍ عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ الْعَنْزِیِّ بِإِسْنَادِہِ وَقَالَ : فِی إِشَارَتِہِ وَلَحْظِہِ وَکَلاَمِہِ ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٤٥٧) ام سلمہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کو مسلمانوں کا عہدہ قضاملا۔ وہ اپنی مسند، اشارہ اور نگاہ کے ساتھ عدل کرے۔ (ب) عبداللہ عنزی اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ اپنے اشارہ، نظر اور کلام کے ساتھ انصاف کرے۔

20464

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20464

Zaeef

(۲۰۴۵۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بْکَرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَیْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْمَحَامِلِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ أَبِی بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ عَنْ عَبَّادِ بْنِ کَثِیرٍ عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنِ ابْتُلِیَ بِالْقَضَائِ بَیْنَ النَّاسِ فَلْیَعْدِلْ بَیْنَہُمْ فِی لَحْظِہِ وَإِشَارَتِہِ وَمَقْعَدِہِ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٤٥٨) ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو لوگوں کے درمیان عہدہ قضا سے آزمایا گیا۔ تو وہ ان کے درمیان اپنی مسند، اشارہ اور نگاہ سے انصاف کرے۔

20465

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20465

Zaeef

(۲۰۴۵۹) وَبِہِ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنِ ابْتُلِیَ بِالْقَضَائِ بَیْنَ النَّاسِ فَلاَ یَرْفَعَنَّ صَوْتَہُ عَلَی أَحَدِ الْخَصْمَیْنِ مَا لاَ یَرْفَعُ عَلَی الآخَرِ ۔ ہَذَا إِسْنَادٌ فِیہِ ضَعْفٌ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٤٥٩) ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو لوگوں کے درمیان قاضی بنا اسے چاہیے کہ وہ اپنی نظر، اشارہ اور مسند کے ساتھ انصاف کرے۔

20466

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20466

Sahih

(۲۰۴۶۰) وَالاِعْتِمَادُ عَلَی مَا حَدَّثَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ إِمْلاَئً وَقِرَائَ ۃً أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ الرَّبِیعِ الْمَکِّیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ إِدْرِیسَ الأَوْدِیِّ قَالَ أَخْرَجَ إِلَیْنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی بُرْدَۃَ کِتَابًا وَقَالَ ہَذَا کِتَابُ عُمَرَ إِلَی أَبِی مُوسَی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الْقَضَائَ فَرِیضَۃٌ مُحْکَمَۃٌ وَسُنَّۃٌ مُتَّبَعَۃٌ افْہَمْ إِذَا أُدْلِیَ إِلَیْکَ فَإِنَّہُ لاَ یَنْفَعُ کَلِمَۃُ حَقٍّ لاَ نَفَاذَ لَہُ آسِ بَیْنَ النَّاسِ فِی وَجْہِکَ وَمَجْلِسِکَ وَعَدْلِکَ حَتَّی لاَ یَطْمَعَ شَرِیفٌ فِی حَیْفِکَ وَلاَ یَخَافُ ضَعِیفٌ مِنْ جَوْرِکَ۔ [صحیح۔ تقدم برقم ۲۰۲۸۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٤٦٠) ادریس اودی فرماتے ہیں کہ سعید بن ابی بردہ نے ایک خط نکالا اور کہا : یہ خط حضرت عمر (رض) کی جانب سے ابوموسیٰ (رض) کے نام ہے، حمدوثنا کے بعد ! قضاکا انتہائی اہم عہدہ ہے اور ایسا طریقہ جس کی پیروی کی جائے۔ سمجھ ! جب کیس پیش کیا جائے تو حق بات کے نفاذ میں کسر نہ چھوڑیں۔ لوگوں کو اپنے سامنے اپنی مجلس میں برابر رکھنا تاکہ شریف آدمی آپ کی نرمی سے لالچ نہ کر بیٹھے اور کمزور آپ کے ظلم سے خوف محسوس نہ کرے۔

20467

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20467

Zaeef

(۲۰۴۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ رُومَانَ قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ إِلَی أَبِی مُوسَی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّ النَّاسَ یُؤَدُّونَ إِلَی الإِمَامِ مَا أَدَّی الإِمَامُ إِلَی اللَّہِ وَإِنَّ الإِمَامَ إِذَا رَتَعَ رَتَعَتِ الرَّعِیَّۃُ وَإِنَّہُ یُوشِکُ أَنْ یَکُونَ لِلنَّاسِ نَفْرَۃٌ عَنْ سُلْطَانِہِمْ وَإِنِّی أَعُوذُ بِاللَّہِ أَنْ یُدْرِکَنِی وَإِیَّاکُمْ ضَغَائِنُ مَحْمُولَۃٌ وَأَہْوَاء ٌ مُتَّبَعَۃٌ وَدُنْیَا مُؤْثَرَۃٌ فَأَقِیمُوا الْحَقَّ وَلَوْ سَاعَۃً مِنْ نَہَارٍ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٤٦١) یزید بن رومان فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ابوموسیٰ (رض) کو خط لکھا کہ لوگ امام کے حقوق ادا کرتے رہیں گے۔ جب تک امام اللہ کے حقوق ادا کرے گا۔ امام جب خوشحال زندگی بسر کرے گا تو رعایا بھی ایسی ہی زندگی بسر کریں گے۔ قریب ہے کہ لوگ اپنے بادشاہوں سے متنفر ہوجائیں۔ میں اللہ سے پناہ چاہتا ہوں کہ یہ وقت مجھے پالے اور تم کینہ سے بچو۔ ایسی خواہشات سیبچو جن کی پیروی کی جائے اور دنیا کو ترجیح دی جائے۔ حق کو قائم کرو چاہے دن کی ایک گھڑی ہی کیوں نہ ہو۔

20468

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20468

Zaeef

(۲۰۴۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ وَأَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ أَبِی رَوَاحَۃَ یَزِیدَ بْنِ أَیْہَمَ قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی النَّاسِ اجْعَلُوا النَّاسَ عِنْدَکُمْ فِی الْحَقِّ سَوَائً قَرِیبَہُمْ کَبَعِیدِہِمْ وَبَعِیدَہُمْ کَقَرِیبِہِمْ وَإِیَّاکُمْ وَالرِّشَا وَالْحُکْمَ بِالْہَوَی وَأَنْ تَأْخُذُوا النَّاسَ عِنْدَ الْغَضَبِ فَقُومُوا بِالْحَقِّ وَلَوْ سَاعَۃً مِنْ نَہَارٍ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٤٦٢) ابورواحہ یزید بن ایہم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے لوگوں کو خط لکھا۔ تمام لوگوں کو حق میں برابر رکھو۔ ان کا قریبی دور والے کی مانند ہے اور دور والا قریب والے کی مانند ہے۔ رشوت سے بچو، خواہشات کے موافق فیصلہ سے بچو۔ غصہ کے وقت لوگوں کو چھوڑ دو ۔ حق کو قائم کرو، اگرچہ دن کی ایک گھڑی ہی کیوں نہ ہو۔

20469

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20469

Zaeef

(۲۰۴۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ الْقُرَشِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ حَدَّثَنَا سَیَّارٌ حَدَّثَنَا الشَّعْبِیُّ قَالَ : کَانَ بَیْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَبَیْنَ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا تَدَارِی فِی شَیْئٍ وَادَّعَی أُبَیٌّ عَلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَأَنْکَرَ ذَلِکَ فَجَعَلاَ بَیْنَہُمَا زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَأَتَیَاہُ فِی مَنْزِلِہِ فَلَمَّا دَخَلاَ عَلَیْہِ قَالَ لَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَتَیْنَاکَ لِتَحْکُمَ بَیْنَنَا وَفِی بَیْتِہِ یُؤْتَی الْحَکَمُ فَوَسَّعَ لَہُ زَیْدٌ عَنْ صَدْرِ فِرَاشِہِ فَقَالَ ہَا ہُنَا یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَقَدْ جُرْتَ فِی الْفُتْیَا وَلَکِنْ أَجْلِسُ مَعَ خَصْمِی فَجَلَسَا بَیْنَ یَدَیْہِ فَادَّعَی أُبَیٌّ وَأَنْکَرَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَقَالَ زَیْدٌ لأُبَیٍّ أَعْفِ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ مِنَ الْیَمِینِ وَمَا کُنْتُ لأَسْأَلَہَا لأَحَدٍ غَیْرِہِ فَحَلَفَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ثُمَّ أَقْسَمَ لاَ یُدْرِکُ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ الْقَضَائَ حَتَّی یَکُونَ عُمَرُ وَرَجُلٌ مِنْ عُرْضِ الْمُسْلِمِینَ عِنْدَہُ سَوَاء ٌ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٤٦٣) شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) اور ابی بن کعب (رح) کے درمیان کچھ مسئلہ تھا، حضرت ابی نے حضرت عمر کے خلاف دعویٰ کردیا، انھوں نے انکار کردیا، وہ دونوں اپنا جھگڑا لے کر زید بن ثابت کے پاس ان کے گھر آئے۔ جب وہ دونوں ان کے پاس گئے۔ حضرت عمر (رض) نے کہا : ہم آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ آپ ہمارے درمیان فیصلہ کریں اور ان کے گھر حاکم آئے تو زید نے ان کے لیے بستر سیدھا کردیا اور کہا : اے امیرالمومنین ! یہاں تشریف رکھو، حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : تو نے فتویٰ میں جرأت کی ہے۔ میں اپنے جھگڑا کرنے والے ساتھیوں میں بیٹھوں گا۔ وہ ان کے سامنے بیٹھ گئے۔ ابی نے دعویٰ کیا حضرت عمر (رض) نے انکار کردیا تو حضرت زید نے ابی سے کہا : امیرالمومنین کو معاف کر دو ۔ میں کسی ایک سے بھی اس کے بارے میں سوال نہ کروں گا۔ حضرت عمر (رض) نے قسم اٹھائی۔ پھر اس نے تقسیم کردیا تو زید بن ثابت کو فیصلہ سمجھ نہ آیا۔ یہاں تک کہ حضرت عمر (رض) اور مسلمانوں کا عام آدمی دونوں اس کے نزدیک برابر ہوجائیں ۔

20470

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20470

Sahih

(۲۰۴۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو سَعِیدٍ ابْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ تَمِیمِ بْنِ سَلَمَۃَ قَالَ : جَائَ ابْنُ أَبِی عُصَیْفِیرٍ إِلَی شُرَیْحٍ یُخَاصِمُ رَجُلاً فَجَلَسَ مَعَہُ عَلَی الطِّنْفِسَۃِ فَقَالَ لَہُ قُمْ فَاجْلِسْ مَعَ خَصْمِکَ فَإِنَّ مَجْلِسَکَ یُرِیبُہُ فَغَضِبَ ابْنُ أَبِی عُصَیْفِیرٍ فَقَالَ لَہُ شُرَیْحٌ قُمْ فَاجْلِسْ مَعَ خَصْمِکَ إِنِّی لاَ أَدَعُ النُّصْرَۃَ وَأَنَا عَلَیْہَا لَقَادِرٌ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٤٦٤) تمیم بن سلمہ فرماتے ہیں کہ ابن ابی عصیفیر قاضی شریح کے پاس جھگڑا لے کر آئے۔ وہ ان کے ساتھ چٹائی پر بیٹھ گئے۔ اس نے کہا : کھڑے ہوجاؤ، اپنے جھگڑا کرنے والے ساتھ بیٹھو۔ آپ کا یہاں بیٹھنا شک میں ڈالتا ہے۔ ابن ابی عصفیر کو غصہ آیا تو قاضی شریح کہنے لگے : کھڑے ہوجاؤ، اپنے جھگڑا کرنے والے کے ساتھ بیٹھو۔ میں مدد کو نہ چھوڑوں گا کہ میں اس پر قادر ہوں۔

20471

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20471

Zaeef

(۲۰۴۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْخَزَّازُ حَدَّثَنَا أَسِیْدُ بْنُ زَیْدٍ الْجَمَّالُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شَمْرٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَنْبَأَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ الْخُرَاسَانِیِّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ بْنِ أَبِی ہَارُونَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شَمْرٍ عَنْ جَابِرٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : خَرَجَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی السُّوقِ فَإِذَا ہُوَ بِنَصْرَانِیٍّ یَبِیعُ دِرْعًا قَالَ فَعَرَفَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ الدِّرْعَ فَقَالَ : ہَذِہِ دِرْعِی بَیْنِی وَبَیْنَکَ قَاضِی الْمُسْلِمِینَ۔ قَالَ : وَکَانَ قَاضِیَ الْمُسْلِمِینَ شُرَیْحٌ کَانَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ اسْتَقْضَاہُ قَالَ فَلَمَّا رَأَی شُرَیْحٌ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ قَامَ مِنْ مَجْلِسِ الْقَضَائِ وَأَجْلَسَ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی مَجْلِسِہِ وَجَلَسَ شُرَیْحٌ قُدَّامَہُ إِلَی جَنْبِ النَّصْرَانِیِّ فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَمَّا یَا شُرَیْحُ لَوْ کَانَ خَصْمِی مُسْلِمًا لَقَعَدْتُ مَعَہُ مَجْلِسَ الْخَصْمِ وَلَکِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : لاَ تُصَافِحُوہُمْ وَلاَ تَبْدَئُ وہُمْ بِالسَّلاَمِ وَلاَ تَعُودُوا مَرْضَاہُمْ وَلاَ تُصَلُّوا عَلَیْہِمْ وَألْجِئُوہُمْ إِلَی مَضَایِقِ الطُّرُقِ وَصَغِّرُوہُمْ کَمَا صَغَّرَہُمُ اللَّہُ ۔ اقْضِ بَیْنِی وَبَیْنَہُ یَا شُرَیْحُ فَقَالَ شُرَیْحٌ تَقُولُ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ قَالَ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ہَذِہِ دِرْعِی ذَہَبَتْ مِنِّی مُنْذُ زَمَانٍ قَالَ فَقَالَ شُرَیْحٌ مَا تَقُولُ یَا نَصْرَانِیُّ قَالَ فَقَالَ النَّصْرَانِیُّ : مَا أُکَذِّبُ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ الدِّرْعُ ہِیَ دِرْعِی قَالَ فَقَالَ شُرَیْحٌ مَا أَرَی أَنْ تُخْرَجَ مِنْ یَدِہِ فَہَلْ مِنْ بَیِّنَۃٍ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ صَدَقَ شُرَیْحٌ قَالَ فَقَالَ النَّصْرَانِیُّ أَمَّا أَنَا أَشْہَدُ أَنَّ ہَذِہِ أَحْکَامُ الأَنْبِیَائِ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ یَجِیئُ إِلَی قَاضِیہِ وَقَاضِیہِ یَقْضِی عَلَیْہِ ہِیَ وَاللَّہِ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ دِرْعُکَ ابْتَعْتُکَ مِنَ الْجَیْشِ وَقَدْ زَالَتْ عَنْ جَمَلِکَ الأَوْرَقِ فَأَخَذْتُہَا فَإِنِّی أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ قَالَ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَمَّا إِذَا أَسْلَمْتَ فَہِیَ لَکَ وَحَمَلَہُ عَلَی فَرَسٍ عَتِیقٍ قَالَ فَقَالَ الشَّعْبِیُّ : لَقَدْ رَأَیْتُہُ یُقَاتِلُ الْمُشْرِکِینَ۔ ہَذَا لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی زَکَرِیَّا وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ عَبْدَانَ قَالَ : یَا شُرَیْحُ لَوْلاَ أَنَّ خَصْمِی نَصْرَانِیٌّ لَجَثَیْتُ بَیْنَ یَدَیْکَ وَقَالَ فِی آخِرِہِ قَالَ فَوَہَبَہَا عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَہُ وَفَرَضَ لَہُ أَلْفَیْنِ وَأُصِیبَ مَعَہُ یَوْمَ صِفِّینَ وَالْبَاقِی بِمَعْنَاہُ وَرُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ أَیْضًا ضَعِیفٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ۔ [ضعیف جداً]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٤٦٥) شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) بازار گئے، ایک نصرانیذرع فروخت کررہا تھا۔ حضرت علی (رض) نے اپنی ذرع پہچان لی اور کہا : یہ میری ذرع ہے۔ حضرت علی (رض) نے فیصلہ کا تقاضا کیا۔ جب شریح نے امیرالمومنین کو دیکھاتو اپنی مجلسِ قضاء سے کھڑے ہوگئے اور اپنی جگہ حضرت علی (رض) کو بیٹھا دیا اور قاضی شریح ان کے سامنے نصرانی کے ایک پہلو میں بیٹھ گئے تو حضرت علی (رض) کہنے لگے : اے شریح ! اگر میرا جھگڑا کرنے والا مسلمان ہوتا تو میں جھگڑا کرنے والے کی جگہ رہتا، لیکن میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان سے مصافحہ، سلام کی ابتدا، مریض کی تیمارداری نہ کرو۔ نماز جنازہ نہ پڑھو، ان کو تنگ راستوں کی طرف مجبور کر دو ۔ ان کی تذلیل کرو جیسے اللہ نے ان کو ذلیل کیا ہے۔ میرے اور اس کے درمیان فیصلہ کیجیے اے شریح ! شریح کہنے لگے : اے امیرالمومنین ! بات کرو۔ حضرت علی (رض) کہنے لگے : یہ میری ذرع چند دن پہلے گم ہوگئی۔ قاضی شریح کہتے ہیں : اے نصرانی ! تم کیا کہتے ہو ؟ نصرانی نے کہا : میں امیرالمومنین کی تکذیب نہیں کرتا، لیکنذرع میری ہے۔ قاضی شریح نے کہا، میں اس کے ہاتھ سے نکالنا نہیں چاہتا کیا آپ کے پاس دلیل ہے ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا : شریح نے سچ کہا۔ نصرانی کہنے لگا : یہ انبیاء کے احکام ہیں کہ امیرالمومنین اپنے قاضی کے پاس اور قاضی اس کے خلاف فیصلہ کر دے۔ اے امیرالمومنین ! یہ ذرع آپ کی ہے۔ میں نے لشکر سے خریدی۔ آپ کے خاکستری رنگ کے اونٹ سے گری تھی، میں نے پکڑ لی۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : جب تم مسلمان ہوگئے، اب یہ آپ کی۔ اس کو سواری کے لیے گھوڑا بھی دیا۔ شعبی فرماتے ہیں کہ میں نے اس کو مشرکین سے جہاد کرتے دیکھا ہے۔ (ب) ابن عبدان کہتے ہیں : اے قاضی شریح ! اگر میرا جھگڑا کرنے والا نصرانی نہ ہوتا تو میں آپ کے سامنے بیٹھتا۔ آخر میں ہے، یہ ذرع حضرت علی (رض) نے اس کو ہبہ کردی۔ دو ہزار وظیفہ مقرر کردیا۔ یہ جنگِ صفین کے دن شہید ہوئے۔