Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 68 · Chapter 4040

قاضی کے اداب کا بیان

قاضی کا قاضی یا امیر کو اور امیر کا قاضی کو خط لکھنے کا بیان

3 hadiths in this chapter

20416

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20416

Sahih

(۲۰۴۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِیلُ بْنُ نُجَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ حَدَّثَنِی أَبُو لَیْلَی بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَہْلٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ أَبِی حَثْمَۃَ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ رِجَالٌ مِنْ کُبَرَائِ قَوْمِہِ فَذَکَرَ حَدِیثَ الْقَسَامَۃِ وَفِیہِ قَالَ : فَکَتَبَ إِلَیْہِمْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی ذَلِکَ فَکَتَبُوا إِنَّہُ وَاللَّہِ مَا قَتَلْنَاہُ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ کَمَا مَضَی۔ (ت) وَرُوِّینَا عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُکَیْمٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَتَبَ إِلَی أَرْضِ جُہَیْنَۃَ۔ وَرُوِّینَا فِی حَدِیثِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَتَبَ إِلَی أَہْلِ الْیَمَنِ بِکِتَابٍ فِیہِ الْفَرَائِضُ وَالسُّنَنُ وَالدِّیَاتُ وَبَعَثَ بِہِ مَعَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فَقُرِئَتْ عَلَی أَہْلِ الْیَمَنِ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٤١٠) سہل بن ابی حثمہ فرماتے ہیں کہ ان کی قوم کے بڑے لوگوں نے خبر دی۔ اس نے حدیثِقسامت ذکر کی۔ اس میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی طرف خط لکھا۔ اس میں لکھا کہ اللہ کی قسم ! ہم نے اس کو قتل نہیں کیا۔ (ب) عبداللہ بنعکیم فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارض جھینہ کی طرف لکھا۔ (ج) عمرو بن حزم بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل یمن کی طرف خط لکھا ۔ اس میں فرائض، سنن اور دیات کے بارے میں لکھا اور اہل یمن پر یہ خط پڑھا گیا۔

20417

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20417

Sahih

(۲۰۴۱۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَوْذَبٍ الْوَاسِطِیُّ حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنِی أَبِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِی ثُمَامَۃُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَنَسٍ : أَنَّ أَنَسًا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَدَّثَہُ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَتَبَ ہَذَا الْکِتَابَ لَمَّا وَجَّہَہُ إِلَی الْبَحْرَیْنِ بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ ہَذِہِ فَرَائِضُ الصَّدَقَۃِ الَّتِی فَرَضَہَا اللَّہُ عَلَی الْمُسْلِمِینَ الَّتِی أَمَرَ اللَّہُ بِہَا رَسُولَہُ -ﷺ- فَمَنْ سُئِلَہَا مِنَ الْمُسْلِمِینَ عَلَی وَجْہِہَا فَلْیُعْطِہَا وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَہَا فَلاَ یُعْطِ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الأَنْصَارِیِّ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٤١١) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ ابوبکر صدیق (رض) نے خط لکھا، جب وہ بحرین گئے ” بسم اللہ الرحمن الرحیم ‘ یہ زکوۃ ہے جو اللہ نے لوگوں پر فرض قرار دی ہے، جس کا اللہ نے اپنے رسول کو حکم دیا ہے، جو مسلمانوں سے اس کا تقاضا کرے اس کو دیا جائے لیکن کوئی اس سے زائد کا مطالبہ کرے اس کو نہ دیا جائے۔ “

20418

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20418

Zaeef

(۲۰۴۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو یَعْلَی الْمَوْصِلِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو خَیْثَمَۃَ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ : أَنَّ عُتْبَۃَ بْنَ فَرْقَدٍ بَعَثَ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَعَہُ وَمَعَ غُلاَمٍ لِعُتْبَۃَ مِنْ أَذْرَبِیجَانَ بِخَبِیصٍ جَیِّدٍ صَنَعَہُ فِی السَّلاَلِی عَلَیْہَا اللُّبُودُ فَلَمَّا انْتَہَی إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَشَفَ عُمَرُ عَنِ الْخَبِیصِ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَیَشْبَعُ الْمُسْلِمُونَ فِی رِحَالِہِمْ مِنْ ہَذَا؟ فَقَالَ الرَّسُولُ اللَّہُمَّ لاَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لاَ أُرِیدُ۔ وَکَتَبَ إِلَی عُتْبَۃَ : أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّہُ لَیْسَ مِنْ کَدِّکَ وَلاَ مِنْ کَدِّ أَبِیکَ وَلاَ مِنْ کَدِّ أُمِّکَ فَأَشْبِعْ مَنْ قِبَلَکَ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فِی رِحَالِہِمْ مِمَّا تَشْبَعُ مِنْہُ فِی رَحْلِکَ ثُمَّ قَالَ ائْتَزِرُوا وَارْتَدُوا وَانْتَعِلُوا وَأَلْقُوا السَّرَاوِیلاَتِ وَالْخِفَافَ وَارْمُوا الأَغْرَاضَ وَأَلْقُوا الرُّکُبَ وَانْزُوا نَزْوًا وَعَلَیْکُمْ بِالْمَعَدِّیَّۃِ وَالْعَرَبِیَّۃِ وَذَرُوا التَّنَعُمَ وَزِیَّ الْعَجَمِ وَإِیَّاکُمْ وَلُبْسَ الْحَرِیرِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَہَانَا عَنْ لُبْسِ الْحَرِیرِ إِلاَّ ہَکَذَا وَوَضَعَ إِصْبَعَیْہِ السَّبَّابَۃَ وَالْوُسْطَی۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی خَیْثَمَۃَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مُخْتَصَرًا کَمَا مَضَی۔

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٤١٢) ابوعثمان فرماتے ہیں کہ عتبہ بن فرقد نے اپنے غلام کے ساتھ عمدہ قسم کی مٹھائی حضرت عمر (رض) کے پاس روانہ کی۔ وہ سلالی نامی جگہ پر بنائی گئی تھی۔ اس کے سر پر بہترین ٹوپی تھی۔ جب وہ حضرت عمر (رض) کے پاس آیا تو انھوں نے مٹھائی کو کھولا۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : کیا مسلمان اپنے گھروں میں اس سے سیر ہوتے ہیں ؟ قاصد نے نفی میں جواب دیا۔ حضرت عمر (رض) کہنے لگے : میں یہ نہیں چاہتا اور عتبہ کو خط لکھا۔ یہ تیری، تیرے باپ یا تیری ماں کی کمائی نہیں ہے۔ اس سے سیر ہو جو مسلمان اپنے گھر میں استعمال کر کے سیر ہوتے ہیں۔ پھر فرمایا : ازار بند باندھو، جوتے پہنو، چادر پہنو، شلواریں اور موزے اتار دو ۔ تیر پھینکو۔ زین کو چھوڑ دو اور کود کر سوار ہو۔ اور تم عربی زمین کو لازم پکڑو اور نعمتوں اور عجمیوں کی مشابہت کو چھوڑ دو اور ریشم پہننے سے بچو؛ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ریشم پہننے سے منع کیا تھا۔ صرف دو انگلی درمیانی اور شہادت والی انگلی کے برابر جائز۔