Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 68 · Chapter 4039

قاضی کے اداب کا بیان

قاضی اور امیر کے لیے مناسب نہیں کہ وہ ذمی کاتب مقرر کرے اور نہ ہی ذمی کو مسلمان سے زیادہ فضیلت والے عہدہ پر رکھے حضرت عائشہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں مشرک سے ہرگز مدد حاصل نہ کروں گا۔

3 hadiths in this chapter

20413

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20413

Zaeef

(۲۰۴۰۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُونُسَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی الزِّنَادِ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ قَالَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ : أَمَرَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَتَعَلَّمْتُ لَہُ کِتَابَ یَہُودَ وَقَالَ : إِنِّی وَاللَّہِ مَا آمَنُ یَہُودَ عَلَی کِتَابِی ۔ فَتَعَلَّمْتُہُ فَلَمْ یَمُرَّ بِی نِصْفُ شَہْرٍ۔ وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ إِلاَّ نِصْفُ شَہْرٍ حَتَّی حَذَقْتُہُ قَالَ أَبِی فَکُنْتُ أَکْتُبُ لَہُ إِذَا کَتَبَ وَأَقْرَأُ لَہُ إِذَا کُتِبَ إِلَیْہِ۔ [ضعیف۔ برقم ۶/ ۱۲۱۹۵]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٤٠٧) زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حکم دیا کہ میں یہود کی کتابت سیکھوں اور فرمایا : اللہ کی قسم ! میں یہود سے کتابت کے معاملہ میں امن میں نہیں ہوں۔ میں نے نصف مہینہ میں کتابت سیکھ لی۔ ابوداؤد فرماتے ہیں : میں نصف مہینہ میں ماہر ہوگیا۔ میرے والدنے کہا : میں آپ کے لیے لکھتا، جب خط لکھنا ہوتا۔ جب خط آتا تو پڑھتا۔

20414

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20414

Zaeef

(۲۰۴۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ أَبِی الْحُنَیْنِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنِ الأَزْہَرِ بْنِ رَاشِدٍ قَالَ : کَانَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُحَدِّثُ أَصْحَابَہُ فَإِذَا حَدَّثَہُمْ بِحَدِیثٍ لاَ یَدْرُونَ مَا ہُوَ أَتَوُا الْحَسَنَ فَفَسَّرَ لَہُمْ فَحَدَّثَہُمْ ذَاتَ یَوْمٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ تَسْتَضِیئُوا بِنَارِ الْمُشْرِکِینَ وَلاَ تَنْقُشُوا فِی خَوَاتِیمِکُمْ عَرَبِیًّا ۔ فَأَتَوُا الْحَسَنَ فَقَالُوا إِنَّ أَنَسًا حَدَّثَنَا الْیَوْمَ بِحَدِیثٍ لاَ نَدْرِی مَا ہُوَ قَالَ وَمَا حَدَّثَکُمْ فَذَکَرُوہُ قَالَ نَعَمْ أَمَّا قَوْلُہُ : لاَ تَنْقُشُوا فِی خَوَاتِیمِکُمْ عَرَبِیًّا ۔ فَإِنَّہُ یَقُولُ لاَ تَنْقُشُوا فِی خَوَاتِیمِکُمْ مُحَمَّدًا وَأَمَّا قَوْلُہُ : لاَ تَسْتَضِیئُوا بِنَارِ الْمُشْرِکِینَ ۔ فَإِنَّہُ یَقُولُ لاَ تَسْتَشِیرُوا الْمُشْرِکِینَ فِی شَیْئٍ مِنْ أُمُورِکُمْ وَتَصْدِیقُ ذَلِکَ فِی کِتَابِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَ تَتَّخِذُوا بِطَانَۃً مِنْ دُونِکُمْ لاَ یَأْلُونَکُمْ خَبَالاً} [آل عمران ۱۱۸] ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٤٠٨) ازہر بن راشد فرماتے ہیں کہ انس بن مالک (رض) اپنے شاگردوں کو احادیث بیان کرتے، لیکن ان کو سمجھ نہ آتی، وہ حضرت حسن کے پاس آکر اس کی تفسیر معلوم کرتے۔ انس بن مالک نے ان کو ایک حدیث بیان کی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اپنے معاملات میں مشرکین سے مشورہ نہ کیا کرو اور نہ ہی اپنی انگوٹھی کا نقش محمد بناؤ۔ حضرت انس بن مالک (رض) کے شاگرد حضرت حسن کے پاس آئے تو انھوں نے یہ تفسیر بیان کی۔ اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں ہے۔ { یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَۃً مِّنْ دُوْنِکُمْ لَا یَاْلُوْنَکُمْ خَبَالًا } [آل عمران ١١٨]” اے ایمان والو ! اپنے علاوہ کسی کو دوست نہ بناؤ۔ وہ تمہارے ساتھ بخل میں کمی نہ کریں گے۔

20415

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20415

Sahih

(۲۰۴۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِیدٍ إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِیُّ إِمْلاَئً أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو عَلِیٍّ الْوَشَّائُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ أَنْبَأَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ عِیَاضَ الأَشْعَرِیَّ : أَنَّ أَبَا مُوسَی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَفَدَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَمَعَہُ کَاتِبٌ نَصْرَانِیٌّ فَأَعْجَبَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَا رَأَی مِنْ حِفْظِہِ فَقَالَ : قُلْ لِکَاتِبِکَ یَقْرَأُ لَنَا کِتَابًا۔ قَالَ : إِنَّہُ نَصْرَانِیٌّ لاَ یَدْخُلُ الْمَسْجِدَ۔ فَانْتَہَرَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہَمَّ بِہِ وَقَالَ : لاَ تُکْرِمُوہُمْ إِذْ أَہَانَہُمُ اللَّہُ وَلاَ تُدْنُوہُمْ إِذْ أَقْصَاہُمُ اللَّہُ وَلاَ تَأْتَمِنُوہُمْ إِذْ خَوَّنَہُمُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ۔ وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَیْدُ بْنُ أَبِی ہَاشِمٍ الْعَلَوِیُّ وَأَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ النَّجَّارِ الْمُقْرِئُ بِالْکُوفَۃِ قَالاَ أَنْبَأَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ عَنْ أَسْبَاطٍ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ عِیَاضٍ الأَشْعَرِیِّ عَنْ أَبِی مُوسَی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَمَرَہُ أَنْ یَرْفَعَ إِلَیْہِ مَا أَخَذَ وَمَا أَعْطَی فِی أَدِیمٍ وَاحِدٍ وَکَانَ لأَبِی مُوسَی کَاتِبٌ نَصْرَانِیٌّ یَرْفَعُ إِلَیْہِ ذَلِکَ فَعَجِبَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَقَالَ إِنَّ ہَذَا لَحَافِظٌ وَقَالَ إِنَّ لَنَا کِتَابًا فِی الْمَسْجِدِ وَکَانَ جَائَ مِنَ الشَّامِ فَادْعُہُ فَلْیَقْرَأْ قَالَ أَبُو مُوسَی : إِنَّہُ لاَ یَسْتَطِیعُ أَنْ یَدْخُلَ الْمَسْجِدَ۔ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَجُنُبٌ ہُوَ؟ قَالَ لاَ بَلْ نَصْرَانِیٌّ قَالَ فَانْتَہَرَنِی وَضَرَبَ فَخِذِی وَقَالَ أَخْرِجْہُ وَقَرَأَ {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَ تَتَّخِذُوا الْیَہُودَ وَالنَّصَارَی أَوْلِیَائَ بَعْضُہُمْ أَوْلِیَائُ بَعْضٍ وَمَنْ یَتَوَلَّہُمْ مِنْکُمْ فَإِنَّہُ مِنْہُمْ إِنَّ اللَّہَ لاَ یَہْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ} [المائدۃ ۵۱] قَالَ أَبُو مُوسَی وَاللَّہِ مَا تَوَلَّیْتُہُ إِنَّمَا کَانَ یَکْتُبُ قَالَ أَمَا وَجَدْتَ فِی أَہْلِ الإِسْلاَمِ مَنْ یَکْتُبُ لَکَ لاَ تُدْنِہِمْ إِذْ أَقْصَاہُمُ اللَّہُ وَلاَ تَأْمَنُہُمْ إِذْ أَخَانَہُمُ اللَّہُ وَلاَ تُعِزَّہُمْ بَعْدَ إِذْ أَذَلَّہُمُ اللَّہُ فَأَخْرَجَہُ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٤٠٩) عیاض اشعری فرماتے ہیں کہ ابو موسیٰ اشعری وفد کے ساتھ حضرت عمر بن خطاب کے پاس آئے۔ ان کے ساتھ ایک نصرانی کاتب تھا۔ حضرت عمر (رض) کو وہ بہت پسند آیا۔ جب اس کے حافظے کو دیکھا۔ انھوں نے کہا کہ اپنے کاتب سے کہو کہ وہ ہمارا خط پڑھے۔ ابوموسیٰ (رض) نے فرمایا : وہ عیسائی ہے مسجد میں داخل نہیں ہوتا۔ حضرت عمر (رض) نے اس کو ڈانٹ اور تکلیف دینے کا ارادہ کیا اور فرمایا : جب اللہ نے ان کی تذلیل کی ہے، تم ان کو عزت نہ دو ۔ تم ان کو قریب نہ کرو جب اللہ نے ان کو دور رکھا ہے اور تم ان کو امین نہ بناؤ جب اللہ نے ان کو بےایمان رکھا ہے۔ (ب) ابو موسیٰ اشعری (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ان کو حکم دیا کہ وہ ان کے پاس چمڑے کا ٹکڑا لے کر آئیں۔ ابو موسیٰ کا کاتب نصرانی تھا۔ وہ اس کو لے کر آیا۔ حضرت عمر (رض) کو اچھا لگا۔ ابو موسیٰ نے کہا : یہ حافظ ہے، حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ہمارا ایک خط شام سے آیا ہے اس کو بلاؤ کہ وہ پڑھے۔ ابو موسیٰ اشعری کہنے لگے : وہ مسجد داخل ہونے کی طاقت نہیں رکھتا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : کیا وہ جنبی ہے ؟ ابو موسیٰ کہنے لگے : نہیں بلکہ وہ نصرانی ہے۔ ابوموسیٰ کہتے ہیں : انھوں نے مجھے ڈانٹا اور میری ران پر مارا اور فرمایا : اس کو نکال دو اور پڑھا : { یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَھُوْدَ وَ النَّصٰرٰٓی اَوْلِیَآئَ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ وَ مَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْھُمْ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ ۔ } [المائدۃ ٥١] ” اے ایمان والو ! تم یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ، وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ جس نے تم میں سے ان سے دوستی کی وہ انہی میں سے ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتے۔ “ ابوموسیٰ (رض) فرماتے ہیں : میں نے ان سے دوستی نہیں کی، وہ صرف کاتب ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اہل اسلام سے کوئی کاتب آپ کو نہیں ملا۔ آپ ان کو قریب نہ کریں، جب اللہ نے ان کو دور رکھا ہے۔ آپ ان کو امین نہ بنائیں جب اللہ نے ان کو بےایمان رکھا ہے۔ آپ ان کو عزت نہ دیں، جب اللہ نے ان کو ذلیل کیا ہے تو اس کو نکال دیا کیا۔