Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 68 · Chapter 4037

قاضی کے اداب کا بیان

کاتب رکھنے کا بیان

5 hadiths in this chapter

20407

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20407

Zaeef

(۲۰۴۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرَّفَّائُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عَمْرِو بْنِ مَالِکٍ النُّکَرِیُّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی الْجَوْزَائِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی قَوْلِہِ تَعَالَی {یَوْمَ نَطْوِی السَّمَائَ کَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْکُتُبِ} [الأنبیاء ۱۰۴] قَالَ : کَانَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- کَاتِبٌ یُدْعَی السِّجِلَّ۔ [منکر]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٤٠١) ابن عباس (رض) اللہ کے اس قول : { یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآئَ کَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْکُتُبِ } [الأنبیاء ١٠٤] ” جس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ لیں گے جس طرح کتاب کے اوراق کو لپیٹ لیا جاتا ہے۔ “ کے متعلق فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کاتب تھا جس کو سجل کہا جاتا تھا۔

20408

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20408

Zaeef

(۲۰۴۰۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَنْبَأَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَیْسٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ کَعْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِی الْجَوْزَائِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : السِّجِلُّ کَاتِبٌ کَانَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ-۔[منکر۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢٠٢) ابو جوزاء سیدنا ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ سجل نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کاتب تھا۔

20409

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20409

Zaeef

(۲۰۴۰۳) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَیْہَقِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ الْمَاجِشُونُ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِی عَوْنٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : أَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- کِتَابُ رَجُلٍ فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ الأَرْقَمِ أَجِبْ عَنِّی فَکَتَبَ جَوَابَہُ ثُمَّ قَرَأَہُ عَلَیْہِ فَقَالَ : أَصَبْتَ وَأَحْسَنْتَ اللَّہُمَّ وَفِّقْہُ ۔ فَلَمَّا وَلِیَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یُشَاوِرُہُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٤٠٣) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک آدمی کا خط آیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبداللہ بن ارقم کو حکم دیا : میری جانب سے جواب دو ۔ اس نے جواب لکھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پڑھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے درست لکھا اور اچھا کیا۔ اے اللہ ! اس کو توفیق دے۔ جب حضرت عمر (رض) خلیفہ بنے تو وہ ان سے مشورہ لیا کرتے تھے۔

20410

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20410

Sahih

(۲۰۴۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّہِ بْنِ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ اللَّہِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ الْغَلاَبِیُّ حَدَّثَنَا یَعْلَی حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ قَالَ قُلْتُ لِشَقِیقٍ : مَنْ کَانَ کَاتِبَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-؟ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَرْقَمَ وَقَدْ أَتَانَا کِتَابُ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِالْقَادِسِیَّۃِ وَفِی أَسْفَلِہِ وَکَتَبَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَرْقَمَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٤٠٤) اعمش فرماتے ہیں کہ میں نے شقیق سے کہا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کاتب کون تھا ؟ فرمایا : عبداللہ بن ارقم۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کا خط ہمارے پاس قادسیہ میں آیا، اس کے نیچے لکھا ہوا تھا :” عبداللہ بن ارقم “۔

20411

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20411

Zaeef

(۲۰۴۰۵) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ حُمَیْدٍ حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- اسْتَکْتَبَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ أَرْقَمَ فَکَانَ یَکْتُبُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَرْقَمَ وَکَانَ یُجِیبُ عَنْہُ الْمُلُوکَ فَبَلَغَ مِنْ أَمَانَتِہِ أَنَّہُ کَانَ یَأْمُرُہُ أَنْ یَکْتُبَ إِلَی بَعْضِ الْمُلُوکِ فَیَکْتُبُ ثُمَّ یَأْمُرُہُ أَنْ یَکْتُبَ وَیَخْتِمَ وَلاَ یَقْرَأَہُ لأَمَانَتِہِ عِنْدَہُ ثُمَّ اسْتَکْتَبَ أَیْضًا زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَکَانَ یَکْتُبُ الْوَحْیَ وَیَکْتُبُ إِلَی الْمُلُوکِ أَیْضًا وَکَانَ إِذَا غَابَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَرْقَمَ وَزَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَاحْتَاجَ أَنْ یَکْتُبَ إِلَی بَعْضِ أُمَرَائِ الأَجْنَادِ وَالْمُلُوکِ أَوْ یَکْتُبَ لإِنْسَانٍ کِتَابًا یُقْطِعُہُ أَمَرَ جَعْفَرًا أَنْ یَکْتُبَ وَقَدْ کَتَبَ لَہُ عُمَرُ وَعُثْمَانُ وَکَانَ زَیْدٌ وَالْمُغِیرَۃُ وَمُعَاوِیَۃُ وَخَالِدُ بْنُ سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ وَغَیْرُہُمْ مِمَّنْ قَدْ سُمِّیَ مِنَ الْعَرَبِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٤٠٥) عبداللہ بن زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبداللہ بن ارقم کو کاتب بنایا۔ عبداللہ بن ارقم خط لکھا کرتے تھے اور وہ بادشاہوں کے جواب بھی دیتے تھے۔ یہ اس کی امانت داری تھی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بعض بادشاہوں کو خط لکھنے کے بارے میں فرماتے تھے۔ پھر وہ لکھتے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو مہر لگانے کا حکم دیتے اور وہ اسے پڑھتے نہ تھے۔ پھر اس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زید بن ثابت (رض) کو بھی کاتب رکھا۔ وہ وحی اور بادشاہوں کو خط لکھتے تھے۔ جبعبداللہبن ارقم اور زید بن ثابت دونوں غائب ہوتیتو حضرت جعفر کو حکم فرماتے کہ وہ لشکروں، بادشاہوں یا کسی بھی انسان کو خط لکھ دیا کریں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے حضرت عمر (رض) ، عثمان ، زید، مغیرہ، معاویہ، خالد بن سعید (رض) اور ان کے علاوہ بھی کئی کاتب تھے جن کے نام لیے گئے ہیں۔