Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 68 · Chapter 4034

قاضی کے اداب کا بیان

جب عدالت ثابت ہو تو جرح قبول نہیں مگر دیکھا جائے گا کہ یہ جرح کس بنیاد پر کی گئی ہے

2 hadiths in this chapter

20398

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20398

Sahih

(۲۰۳۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّہُ قَالَ أَخْبَرَنِی مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِیعِ الأَنْصَارِیُّ أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِکٍ وَہُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- مِمَّنْ شَہِدَ بَدْرًا أَخْبَرَہُ : أَنَّہُ أَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَدْ أَنْکَرْتُ بَصَرِی وَأَنَا أُصَلِّی لِقَوْمِی فَإِذَا کَانَتِ الأَمْطَارُ سَالَ الْوَادِی الَّذِی بَیْنِی وَبَیْنَہُمْ وَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَتِیَ مَسْجِدَہُمْ فَأُصَلِّیَ لَہُمْ وَدِدْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنَّکَ تَأْتِی فَتُصَلِّیَ فِی بَیْتِی فَأَتَّخِذَہُ مُصَلًّی قَالَ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : سَأَفْعَلُ إِنْ شَائَ اللَّہُ ۔ قَالَ عِتْبَانُ : فَغَدَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَأَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حِینَ ارْتَفَعَ النَّہَارُ فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَأَذِنْتُ لَہُ فَلَمْ یَجْلِسْ حَتَّی دَخَلَ الْبَیْتَ فَقَالَ لِی : أَیْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّیَ مِنْ بَیْتِکَ؟ ۔ قَالَ : فَأَشَرْتُ إِلَی نَاحِیَۃٍ مِنَ الْبَیْتِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَکَبَّرَ فَقُمْنَا فَصَفَفْنَا فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ قَالَ وَحَبَسْنَاہُ عَلَی خَزِیرَۃٍ صَنَعْنَاہَا لَہُ قَالَ فَثَابَ فِی الْبَیْتِ رِجَالٌ مِنْ أَہْلِ الدَّارِ ذَوُو عَدَدٍ وَاجْتَمَعُوا فَقَالَ قَائِلٌ مِنْہُمْ أَیْنَ مَالِکُ بْنُ الدُّخْشُنِ فَقَالَ بَعْضُہُمْ ذَلِکَ مُنَافِقٌ لاَ یُحِبُّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ تَقُلْ لَہُ ذَلِکَ أَلاَ تَرَاہُ وَقَدْ قَالَ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ یُرِیدُ بِذَلِکَ وَجْہَ اللَّہِ؟ ۔ قَالَ اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّا نَرَی وَجْہَہُ وَنَصِیحَتَہُ إِلَی الْمُنَافِقِینَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِنَّ اللَّہَ قَدْ حَرَّمَ عَلَی النَّارِ مَنْ قَالَ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ یَبْتَغِی بِذَلِکَ وَجْہَ اللَّہِ۔ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ ثُمَّ سَأَلْتُ الْحُصَیْنَ بْنَ مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِیَّ وَہُوَ أَحَدُ بَنِی سَالِمٍ وَکَانَ مِنْ سَرَاتِہِمْ عَنْ حَدِیثِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِیعِ فَصَدَّقَہُ بِذَلِکَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ فَالنَّبِیُّ -ﷺ- لَمْ یَقْبَلْ قَوْلَ الْوَاقِعِ فِی مَالِکِ بْنِ الدُّخْشُنِ بِأَنَّہُ مُنَافِقٌ حَتَّی تَبَیَّنَ لَہُ مِنْ أَیْنَ یَقُولُ ذَلِکَ ثُمَّ لَمَّا بَیَّنَہُ لَمْ یَرَہُ نِفَاقًا فَرَدَّ عَلَیْہِ قَوْلَہُ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٣٩٢) محمود بن ربیع انصاری (رض) فرماتے ہیں کہ عتبان بن مالک جو بدری صحابی ہیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور عرض کیا : میں نابینا ہوں اور اپنی قوم کا امام ہوں۔ جب بارش ہوتی ہے تو میرے اور ان کے درمیان وادی بہہ پڑتی ہے اور میں مسجد میں نہیں آسکتا کہ ان کو نماز پڑھاؤں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے گھر تشریف لائیں اور نماز پڑھیں، تاکہ میں اس کو اپنی نماز کی جگہ مقرر کرلوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عنقریب میں ایسا کرلوں گا۔ عتبان کہتے ہیں : صبح کے وقت دن کے بلند ہونے کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر صدیق (رض) تشریف لائے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت مانگی، میں نے اجازت دے دی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر میں داخل ہونے کے بعد بیٹھے نہیں بلکہ فرمایا : کہاں پسند کرتے ہو کہ میں نماز پڑھوں۔ کہتے ہیں : میں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے ، ہم نے آپ کے پیچھے صفیں بنالیں، آپ نے دو رکعت نماز پڑھ کر سلام پھیرا۔ ہم نے آپ کے لیے کھانا تیار کیا تھا اس کے لیے روکا۔ گھر کے افراد کو بلایا اور وہ جمع ہوگئے۔ کہنے والے نے کہا : مالک بن دخش کہاں ہے ؟ بعض نے کہا : یہ منافق ہے۔ اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت نہیں کرتا۔ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایسے نہ کہو ، کیا اس نے کلمہ اللہ کی خوشنودی کے لیے نہیں پڑھا ؟ اس نے کہا : اللہ اور رسول بہتر جانتے ہیں۔ کہتے ہیں : ہم تو اس کی خوشنودی اور خیر خواہی منافقین کی طرف دیکھتے ہیں تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے اللہ کی خوشنودی کے لیے کلمہ پڑھا اللہ نے اس پر جہنم کی آگ حرام کردی ہے۔ ابن شہاب زہری فرماتے ہیں : پھر میں نے حصین بن محمد انصاری سے سوال کیا جو بنو سالم کے ایک آدمی ہیں اور ان کے سردار ہیں تو انھوں نے بھی محمود بن ربیع کی حدیث کی تصدیق کی۔ (ب) زہری فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مالک بن دخشن کے بارے میں قول کو قبول نہ کیا کہ وہ منافق ہے، یہاں تک کہ وضاحت ہوگئی کہ کون کہہ رہا ہے، جب اس کے نفاق کی نفی ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا قول رد کردیا۔

20399

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20399

Sahih

(۲۰۳۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَنْبَأَنَا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ مُنِیبٍ حَدَّثَنَا الْفُضَیْلُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ قَالَ : کَانَ یُقَالُ الْعَدْلُ فِی الْمُسْلِمِینَ مَنْ لَمْ یَظْہَرْ مِنْہُ رِیبَۃٌ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَہَذَا عِنْدَنَا فِیمَنْ ثَبَتَتْ عَدَالَتُہُ فَہُوَ عَلَی أَصْلِ الْعَدَالَۃِ مَا لَمْ یَظْہَرْ مِنْہُ رِیبَۃٌ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٣٩٣) ابراہیم فرماتے ہیں کہ مسلمان کو عادل ہی شمار کریں گے جب تک اس میں شک نہ پیدا ہوجائے۔ شیخ فرماتے ہیں : ہمارے نزدیک بھی جب تک عدالت ثابت ہے تو وہ عادل ہی ہے جب تک شک پیدا نہ ہوجائے۔