Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 68 · Chapter 4026

قاضی کے اداب کا بیان

جس نے جہالت کی بنا پر فتویٰ یا فیصلہ کیا، اس کے گناہ کا بیان

10 hadiths in this chapter

20358

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20358

Sahih

(۲۰۳۵۲) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً أَنْبَأَنَا أَبُو سَعِیدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ قَالاَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : إِنَّ اللَّہَ لاَ یَنْزِعُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا یَنْتَزِعُہُ مِنَ النَّاسِ وَلَکِنْ یَقْبِضُ الْعُلَمَائَ حَتَّی إِذَا لَمْ یَتْرُکْ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُئُ وسًا جُہَّالاً فَأَفْتَوْا بِغَیْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا ۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی الْعَبَّاسِ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرُ عَنْ ہِشَامٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٣٥٢) عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے کہ اللہ علم کو قبض نہیں کرتا، بلکہ علماء کو قبض کرلیتا ہے۔ کوئی عالم باقی نہیں رہے گا۔ لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنالیں گے وہ بغیر علم کے فتویٰ دے گے، خود بھی گمراہ ہوں گے دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔

20359

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20359

Zaeef

(۲۰۳۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْبَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ السَّہْمِیُّ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِی نَعِیمَۃَ رَضِیعِ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَرْوَانَ وَکَانَ امْرَأَ صِدْقٍ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ قَالَ عَلَیَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْیَتَبَوَّأْ بَیْتًا فِی جَہَنَّمَ وَمَنْ أَفْتَی بِغَیْرِ عِلْمٍ کَانَ إِثْمُہُ عَلَی مَنْ أَفْتَاہُ وَمَنْ أَشَارَ عَلَی أَخِیہِ بِأَمْرٍ یَعْلَمُ أَنَّ الرُّشْدَ فِی غَیْرِہِ فَقَدْ خَانَہُ ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٣٥٣) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے میرے ذمہ وہ بات لگائی جو میں نے کہی نہیں وہ اپنا گھر جہنم میں بنا لے۔ جس نے بغیر علم کے فتویٰ دیا اس کا گناہ اس پر ہے جس نے اپنے بھائی کو غلط مشورہ دیا، حالانکہ وہ جانتا ہے کہ درست بات کچھ اور ہے اس نے خیانت کی۔

20360

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20360

Sahih

(۲۰۳۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَبْدَوِیُّ الْحَافِظُ وَأَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ قَتَادَۃَ قَالاَ أَنْبَأَنَا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ خَمِیرُوَیْہِ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ الْقُرَشِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِیفَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو ہَاشِمٍ قَالَ لَوْلاَ حَدِیثٌ حَدَّثَنِی ابْنُ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : الْقُضَاۃُ ثَلاَثَۃٌ اثْنَانِ فِی النَّارِ وَوَاحِدٌ فِی الْجَنَّۃِ رَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَقَضَی بِہِ فَہُوَ فِی الْجَنَّۃِ وَرَجُلٌ قَضَی بَیْنَ النَّاسِ بِالْجَہْلِ فَہُوَ فِی النَّارِ وَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَجَارَ فَہُوَ فِی النَّارِ ۔ لَقُلْنَا إِنَّ الْقَاضِیَ إِذَا اجْتَہَدَ فَلَیْسَ عَلَیْہِ شَیْئٌ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : اجْتِہَادُہُ بِغَیْرِ عِلْمٍ لاَ یَہْدِیہِ إِلَی الْحَقِّ إِلاَّ اتِّفَاقًا فَلَمْ یَکُنْ مَأْذُونًا لَہُ فِیہِ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٣٥٤) ابن ابی بریدہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قاضی تین قسم کے ہیں : دو جہنمی اور ایک جنتی ہے 1 حق کو پہچان کر اس کے مطابق فیصلہ کرنے والا یہ جنتی ہے۔ 2 لوگوں کے درمیان جہالت کی بنا پر فیصلہ کرنے والا جہنمی ہے۔ 3 حق کو پہچان کر ظلم کرتا ہے، یہ بھی جہنمی ہے۔ ہم نے کہا : جب قاضی کوشش کرتا ہے تو پھر اس پر کوئی حرج نہیں۔ شیخ فرماتے ہیں : بغیر علم کے اجتہاد حق تک نہیں پہنچاتا، اتفاقی طور پر ممکن ہے لیکن اس میں اس کو اجازت نہیں ہے۔

20361

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20361

Sahih

(۲۰۳۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَیُّوبَ الطُّوسِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ الْبَجَلِیُّ حَدَّثَنَا شَرِیکُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : الْقُضَاۃُ ثَلاَثَۃٌ قَاضِیَانِ فِی النَّارِ وَقَاضٍ فِی الْجَنَّۃِ قَاضٍ قَضَی بِغَیْرِ الْحَقِّ وَہُوَ یَعْلَمُ فَذَاکَ فِی النَّارِ وَقَاضٍ قَضَی وَہُوَ لاَ یَعْلَمُ فَأَہْلَکَ حُقُوقَ النَّاسِ فَذَاکَ فِی النَّارِ وَقَاضٍ قَضَی بِالْحَقِّ فَذَاکَ فِی الْجَنَّۃِ ۔ [صحیح۔ تقدم]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٣٥٥) ابن ابی برید اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قاضی تین قسم کے ہیں، دو قاضی جہنم میں ایک جنت میں جائے گا :1 جان بوجھ کر ناحق فیصلہ کرنے والا جہنمی ہے 2 جہالت کی بنا پر غلط فیصلہ کرتا ہے، لوگوں کے حقوق ادا نہیں کرتا یہ بھی جہنمی ہے۔ 3 درست فیصلہ کرنے والا جنتی ہے۔

20362

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20362

Sahih

(۲۰۳۵۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ عَنْ شَرِیکٍ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ۔ [صحیح۔ تقدم]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٣٥٦) ۔ ایضا

20363

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20363

Sahih

(۲۰۳۵۷) حَدَّثَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا أَبُو طَاہِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : الْقُضَاۃُ ثَلاَثَۃٌ فَاثْنَانِ فِی النَّارِ وَوَاحِدٌ فِی الْجَنَّۃِ فَأَمَّا اللَّذَانِ فِی النَّارِ فَرَجُلٌ جَارَ عَنِ الْحَقِّ مُتَعَمِّدًا وَرَجُلٌ اجْتَہَدَ رَأْیَہُ فَأَخْطَأَ وَأَمَّا الَّذِی فِی الْجَنَّۃِ فَرَجُلٌ اجْتَہَدَ رَأْیَہُ فِی الْحَقِّ فَأَصَابَ ۔ قَالَ فَقُلْتُ لأَبِی الْعَالِیَۃِ مَا بَالُ ہَذَا الَّذِی اجْتَہَدَ رَأْیَہُ فِی الْحَقِّ فَأَخْطَأَ قَالَ لَوْ شَائَ لَمْ یَجْلِسْ یَقْضِی وَہُوَ لاَ یُحْسِنُ یَقْضِی۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ تَفْسِیرَ أَبِی الْعَالِیَۃِ عَلَی مَنْ لَمْ یُحْسِنْ یَقْضِی دَلِیلٌ عَلَی أَنَّ الْخَبَرَ وَرَدَ فِیمَنِ اجْتَہَدَ رَأْیَہُ وَہُوَ مِنْ غَیْرِ أَہْلِ الاِجْتِہَادِ فَإِنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ الاِجْتِہَادِ فَأَخْطَأَ فِیمَا یَسُوغُ فِیہِ الاِجْتِہَادُ رُفِعَ عَنْہُ خَطَؤُہُ إِنْ شَائَ اللَّہُ بِحُکْمِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی حَدِیثِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَذَلِکَ یَرِدُ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٣٥٧) حضرت ابوالعالیہ سیدنا حضرت علی (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا : قاضی کی تین قسمیں ہیں، دو قسم کے جہنم میں اور ایک قاضی جنت میں جائے گا 1 جان بوجھ کر حق سے اعراض کرنے والا اور 2 اجتہاد میں غلطی کرنے والا یہ دونوں جہنمی 3 حق میں اجتہاد کی سعی کرنے والا جنتی ہے۔ راوی فرماتے ہیں کہ میں نے ابوالعالیہ سے کہا : اس کا کیا قصور جو حق کے لیے کوشش کرتا ہے لیکن غلطی کرجاتا ہے ؟ فرمایا : اگر وہ چاہے تو فیصلہ کے لیے نہ بیٹھے ، کیونکہ وہ اچھا فیصلہ نہیں کر پاتا۔ شیخ فرماتے ہیں : ابوالعالیہ کی دلیل کا تقاضا ہے کہ جو اہل اجتہاد میں سے نہیں لیکن پھر بھی اجتہاد کی کوشش کرتا ہے، لیکن وہ جو اہل اجتہاد میں سے ہو پھر غلطی کر گیا اس کو معافی مل جائے گی، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے ذریعے جیسے عمرو بن عاص اور ابوہریرہ (رض) کی احادیث میں منقول ہے۔

20364

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20364

Zaeef

(۲۰۳۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ وَہُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّ الرَّأْیَ إِنَّمَا کَانَ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مُصِیبًا لأَنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ کَانَ یُرِیہُ إِنَّمَا ہُوَ مِنَّا الظَّنُّ وَالتَّکَلُّفُ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَإِنَّمَا أَرَادَ بِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ الرَّأْیَ الَّذِی لاَ یَکُونُ مُشَبَّہًا بِأَصْلٍ وَفِی مَعْنَاہُ وَرَدَ مَا رُوِیَ عَنْہُ وَعَنْ غَیْرِہِ فِی ذَمِّ الرَّأْی فَقَدْ رُوِّینَا عَنْ أَکْثَرِہِمُ اجْتِہَادَ الرَّأْی فِی غَیْرِ مَوْضِعِ النَّصِّ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٣٥٨) ابن شہاب زہری فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) منبر پر فرما رہے تھے : اے لوگو ! درست رائے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تھی؛ کیونکہ یہ اللہ رب العزت کی جانب سے تھی۔ ہماری جانب سے گمان اور تکلف ہی ہے۔ شیخ فرماتے ہیں : یہاں ان کی مراد یہ ہے کہ رائے اصل کے مشابہہ نہیں ہوتی۔ جب نص موجود نہ ہو تو اجتہاد کیا جاتا ہے۔

20365

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20365

Sahih

(۲۰۳۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ أَنْبَأَنَا عُقْبَۃُ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنِی إِسْمَاعِیلُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : وَیْلٌ لِدَیَّانِ مَنْ فِی الأَرْضِ مِنْ دَیَّانِ مَنْ فِی السَّمَائِ یَوْمَ یَلْقَوْنَہُ إِلاَّ مَنْ أَمَّ الْعَدْلَ وَقَضَی بِالْحَقِّ وَلَمْ یَقْضِ عَلَی ہَوًی وَلاَ عَلَی قَرَابَۃٍ وَلاَ عَلَی رَغَبٍ وَلاَ عَلَی رَہَبٍ وَجَعَلَ کِتَابَ اللَّہِ مَرْآۃً بَیْنَ عَیْنَیْہِ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٣٥٩) عبدالرحمن بن غنم سیدنا عمر بن خطاب سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا : زمین کے قاضیوں کے لیے ہلاکت ہے اس ذات کی جانب سے جو آسمانوں میں ہے، قیامت کے دن حساب لینے والی صرف عدل کرنے والے محفوظ رہیں گے۔ ، جنہوں نے حق کا فیصلہ کیا اور خواہش، قرب تداری، طمع اور ڈر کو اڑے نہ آنے دیا اور کتاب اللہ کو اپنے سامنے شیشے کی طرح رکھا۔

20366

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20366

Sahih

(۲۰۳۶۰) حَدَّثَنَا أَبُوالْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عَلِیٍّ الْخُسْرَوْجِرْدِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ حَدَّثَنَا أَبُوأَحْمَدَ الْغِطْرِیفِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُوخَلِیفَۃَ أَنْبَأَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ عَنْ شُعْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو حَصِینٍ عَنْ أَبِی عَبْدِالرَّحْمَنِ السُّلَمِیِّ: أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَتَی عَلَی قَاضٍ فَقَالَ لَہُ ہَلْ تَعْلَمُ النَّاسِخَ مِنَ الْمَنْسُوخِ؟ قَالَ: لاَ۔ قَالَ: ہَلَکْتَ وَأَہْلَکْتَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٣٦٠) ابو عبدالرحمن سلمی فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) ایک قاضی کے پاس آئے اور پوچھا : ناسخ و منسوخ کو جانتے ہو ؟ اس نے کہا : نہیں تو فرمانے لگے : تو خود بھی ہلاک ہوا اور دوسروں کو بھی ہلاک کیا۔

20367

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20367

Sahih

(۲۰۳۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ رَحِمَہُ اللَّہُ أَنَّہُ قَالَ : لاَ یَنْبَغِی لِلرَّجُلِ أَنْ یَکُونَ قَاضِیًا حَتَّی یَکُونَ فِیہِ خَمْسُ خِصَالٍ فَإِنْ أَخْطَأَتْہُ وَاحِدَۃٌ کَانَتْ فِیہِ وَصْمَۃٌ وَإِنْ أَخْطَأَتْہُ اثْنَتَانِ کَانَتْ فِیہِ وَصْمَتَانِ حَتَّی یَکُونَ عَالِمًا بِمَا کَانَ قَبْلَہُ مُسْتَشِیرًا لِذِی الرَّأْیِ ذَا نَزَاہَۃٍ عَنِ الطَّمَعِ حَلِیمًا عَنِ الْخَصْمِ مُحْتَمِلاً لِلاَّئِمَۃِ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٣٦١) عمرو بن عامر فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز (رح) نے فرمایا : پانچ خوبیوں کے بغیر انسان کے لیے قاضی بننا درست نہیں۔ اگر ایک خوبی نہ ہو تو ایک عیب ہے، اگر دو خوبیاں نہ ہوں تو دو عیب ہیں۔ اپنے پہلے والوں کے بارے میں جانتا ہو۔ عقل مندوں سے مشورہ لیتا ہو۔ لالچ سے دور رہتا ہو۔ جھگڑے میں بردباری کا مظاہرہ کرے اور ائمہ سے درگزر کرنے والا ہو۔