Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 68 · Chapter 4016

قاضی کے اداب کا بیان

قاضی یا مفتی اپنے دور کے لوگوں کی تقلید نہ کرے، فیصلہ یا فتوی کے اندراستحسان سے کام نہ لے اللہ فرماتے ہیں : { فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ } [النساء ٦٦

1 hadith in this chapter

20348

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20348

Zaeef

(۲۰۳۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِیُّ الْحِمْصِیُّ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ حَفْصٍ کُوفِیٌّ أَنْبَأَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ وَابْنُ فُضَیْلٍ وَأَسْبَاطٌ وَغَیْرُہُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ الشَّیْبَانِیِّ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ شُرَیْحٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَتَبَ إِلَیْہِ إِذَا جَائَ کَ أَمْرٌ فِی کِتَابِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ فَاقْضِ بِہِ وَلاَ یَلْفِتَنَّکَ عَنْہُ الرِّجَالُ فَإِنْ أَتَاکَ مَا لَیْسَ فِی کِتَابِ اللَّہِ فَانْظُرْ سُنَّۃَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَاقْضِ بِہَا فَإِنْ جَائَ کَ مَا لَیْسَ فِی کِتَابِ اللَّہِ وَلَمْ یَکُنْ فِیہِ سُنَّۃٌ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَانْظُرْ مَا اجْتَمَعَ عَلَیْہِ النَّاسُ فَخُذْ بِہِ فَإِنْ جَائَ کَ مَا لَیْسَ فِی کِتَابِ اللَّہِ وَلَمْ یَکُنْ فِیہِ سُنَّۃٌ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَلَمْ یَتَکَلَّمْ فِیہِ أَحَدٌ قَبْلَکَ فَاخْتَرْ أَیَّ الأَمْرَیْنِ شِئْتَ إِنْ شِئْتَ أَنْ تَجْتَہِدَ بِرَأْیِکَ ثُمَّ تَقَدَّمَ فَتَقَدَّمْ وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَأَخَّرَ فَتَأَخَّرْ وَلاَ أَرَی التَّأَخُّرَ إِلاَّ خَیْرًا لَکَ۔ رَوَاہُ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ الشَّیْبَانِیِّ بِمَعْنَاہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٣٤٢) شعبی قاضی شریح سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب (رض) نے اس کو خط لکھا۔ جب کسی معاملہ کا حکم قرآن میں موجود ہو تو اس کے مطابق فیصلہ کرنا۔ لوگ آپ کو اس سے ہٹا نہ سکیں۔ اگر قرآن میں موجود نہ ہو تو سنت رسول میں دیکھو اگر پالو تو اس کے مطابق فیصلہ کر دو ۔ اگر قرآن وسنت میں موجود نہ ہو تو جس پر لوگوں کا اجماع ہو اس کے مطابق فیصلہ کر دو ۔ اگر قرآن وسنت اور لوگوں کی رائے بھی موجود نہ ہو تو جس معاملہ کو پسند کرو۔ اگر آپ چاہیں تو اپنی رائے سے اجتہاد کریں، پھر چاہے فوراً عمل کرلیں یا موخر کردیں۔ لیکن موخر کرنا زیادہ بہتر ہے۔