Sunan Al Kubra Bayhaqi #20318
(۲۰۳۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ الأَنْصَارِیُّ وَأَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ حَدَّثَنَا سَیَّارٌ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : لَمَّا بَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ شُرَیْحًا عَلَی قَضَائِ الْکُوفَۃِ قَالَ انْظُرْ مَا تَبَیَّنَ لَکَ فِی کِتَابِ اللَّہِ فَلاَ تَسْأَلَنَّ عَنْہُ أَحَدًا وَمَا لَمْ یَتَبَیَّنْ لَکَ فِی کِتَابِ اللَّہِ فَاتَّبِعْ فِیہِ السُّنَّۃَ وَمَا لَمْ یَتَبَیَّنْ لَکَ فِی السُّنَّۃِ فَاجْتَہِدْ فِیہِ رَأْیَکَ۔ [صحیح]
اردو ترجمہ · Urdu
(٢٠٣١٢) شعبی فرماتے ہیں کہ جب عمر بن خطاب نے شریح کو کوفہ کا قاضی مقرر کیا تو نصیحت کی کہ جو کتاب اللہ سے مسئلہ واضح ہو کسی سے مشورہ طلب نہ کرنا۔ جو کتاب اللہ سے واضح نہ ہو تو سنت کی پیروی کرنا، جو سنت میں واضح نہ ہو تو اپنے رائے سے اجتہاد کرنا۔