Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 68 · Chapter 4001

قاضی کے اداب کا بیان

غصی کی حالت میں جب حق کی موافقت ہو تو قاضی فیصلہ کرے

2 hadiths in this chapter

20292

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20292

Sahih

(۲۰۲۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّیُّ فَرَّقَہُمَا قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا لَیْثُ بْنُ سَعْدٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی ہُوَ ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ أَنَّہُ حَدَّثَہُ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ الزُّبَیْرِ حَدَّثَہُ : أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَیْرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی شِرَاجِ الْحَرَّۃِ الَّتِی یَسْقُونَ بِہَا النَّخْلَ۔ فَقَالَ الأَنْصَارِیُّ سَرِّحِ الْمَائَ یَمُرُّ فَأَبَی عَلَیْہِ فَاخْتَصَمُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِلزُّبَیْرِ : اسْقِ یَا زُبَیْرُ ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَی جَارِکَ ۔ فَغَضِبَ الأَنْصَارِیُّ فَقَالَ : أَنْ کَانَ ابْنُ عَمَّتِکَ فَتَلَوَّنَ وَجْہُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ قَالَ : یَا زُبَیْرُ اسْقِ ثُمَّ احْبِسِ الْمَائَ حَتَّی یَرْجِعَ إِلَی الْجَدْرِ قَالَ فَقَالَ الزُّبَیْرُ : وَاللَّہِ إِنِّی لأَحْسَبُ ہَذِہِ الآیَۃَ نَزَلَتْ فِی ذَلِکَ {فَلاَ وَرَبِّکَ لاَ یُؤْمِنُونَ حَتَّی یُحَکِّمُوکَ فِیمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ} [النساء ۶۵] الآیَۃَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ کُلُّہُمْ عَنِ اللَّیْثِ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢٨٦) عبداللہ بن زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ ایک انصاری نے زبیر کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھجوروں کو پانی دینے کے متعلق جھگڑا کیا۔ انصاری نے کہا : پانی چھوڑ دو ۔ زبیر نے انکار کردیا۔ وہ جھگڑا لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے زبیر ! پانی کھجوروں کو دینے کے بعد اپنے ہمسائے کو دے دینا۔ انصاری کو غصہ آگیا۔ کہنے لگا : یہ آپ کے چچا کا بیٹا ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا۔ پھر آپ نے فرمایا : اے زبیر ! پانی پلاؤ اور پھر روکے رکھو یہاں تک کہ منڈیروں تک پہنچ جائے اور زبیر فرماتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ یہ آیت اس کے بارے میں نازل ہوئی۔ { فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَاشَجَرَ بَیْنَھُمْ } [النساء ٦٥] ” اللہ کی قسم ! وہ مومن نہیں ہوسکتے یہاں تک وہ اپنے جھگڑوں میں آپ کو فیصل نہ مان لیں۔

20293

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20293

Sahih

(۲۰۲۸۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ : خَاصَمَ الزُّبَیْرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فِی شَرْجٍ مِنَ الْحَرَّۃِ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : اسْقِ یَا زُبَیْرُ ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَائَ إِلَی جَارِکَ۔ فَقَالَ الأَنْصَارِیُّ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنْ کَانَ ابْنُ عَمَّتِکَ فَتَلَوَّنَ وَجْہُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ قَالَ: اسْقِ یَا زُبَیْرُ ثُمَّ احْبِسِ الْمَائَ حَتَّی یَرْجِعَ الْمَائُ إِلَی الْجَدْرِ ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَی جَارِکَ۔ قَالَ وَاسْتَوَعَبَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِلزُّبَیْرِ حَقَّہُ فِی صَرِیحِ الْحُکْمِ حِینَ أَحْفَظَہُ الأَنْصَارِیُّ قَالَ وَقَدْ کَانَ أَشَارَ عَلَیْہِمَا قَبْلَ ذَلِکَ بِأَمْرٍ کَانَ لَہُمَا فِیہِ سَعَۃٌ۔ قَالَ الزُّبَیْرُ فَمَا أَحْسَبُ ہَذِہِ الآیَۃَ نَزَلَتْ إِلاَّ فِی ذَلِکَ {فَلاَ وَرَبِّکَ لاَ یُؤْمِنُونَ حَتَّی یُحَکِّمُوکَ فِیمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ} [النساء ۶۵] قَالَ فَسَمِعْتُ غَیْرَ الزُّہْرِیِّ یَقُولُ نَظَرْنَا فِی قَوْلِ النَّبِیِّ -ﷺ- : ثُمَّ احْبِسِ الْمَائَ حَتَّی یَرْجِعَ إِلَی الْجَدْرِ ۔ فَکَانَ ذَلِکَ إِلَی الْکَعْبَیْنِ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُبَارَکِ مُخْتَصَرًا۔ [صحیح۔ متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢٨٧) عروہ بن زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ آدمی نے حضرت زبیر سے حرہ کے نالہ کے پانی کے بارے میں جھگڑا کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے زبیر ! پانی پلاؤ باقی اپنے ہمسائے کے لیے چھوڑ دو ۔ انصاری کہنے لگا : یہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے، اس لیے ! آپ کا چہرہ متغیر ہوگیا۔ پھر فرمایا : اے زبیر ! پانی پلاؤ اور روکے رکھو، یہاں تک کہ منڈیروں تک جا پہنچے۔ پھر اپنے ہمسائے کی طرف چھوڑو تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زبیر کو اس کا پورا حق دیا۔ جب انصاری نے اعتراض کیا، حالانکہ اس سے پہلے آپ نے وسعت والا معاملہ کیا تھا۔ زبیر فرماتے ہیں کہ یہ آیت اسکیبارے میں نازل ہوئی : { فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَاشَجَرَ بَیْنَھُمْ } [النساء ٦٥] ” اللہ کی قسم ! وہ ایماندار نہیں ہوسکتے، جب تک آپ کو اپنے فیصلوں میں فیصل نہ مان لیں۔ “ کہتے ہیں کہ میں نے زہری کے علاوہ دوسروں سے سنا کہ ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قول میں دیکھا کہ پانی روک یہاں تک کہ وہ منڈیروں تک پہنچ جائے، یہ ٹخنوں تک تھا۔