Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 68 · Chapter 3996

قاضی کے اداب کا بیان

قضاء کے وقت کے علاوہ میں دربان رکھنے کی رخصت اور جب رش کا خوف ہو تب بھی دربان رکھنے کی رخصت ہے

3 hadiths in this chapter

20265

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20265

Sahih

(۲۰۲۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَنْبَأَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَنْبَأَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی ثَوْرٍ وَعَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی قِصَّۃِ الْمَرْأَتَیْنِ اللَّتَیْنِ تَظَاہَرَتَا قَالَ : فَجِئْتُ الْمَشْرُبَۃَ الَّتِی فِیہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْتُ لِغُلاَمٍ لَہُ أَسْوَدَ اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ الْغُلاَمُ فَکَلَّمَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ رَجَعَ إِلَیَّ فَقَالَ کَلَّمْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَذَکَرْتُکَ لَہَ فَصَمَتَ فَرَجَعْتُ فَجَلَسْتُ مَعَ الرَّہْطِ الَّذِینَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ ثُمَّ غَلَبَنِی مَا أَجِدُ فَجِئْتُ الْغُلاَمَ فَقُلْتُ لَہُ اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَدَخَلَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَیَّ فَقَالَ قَدْ ذَکَرْتُکَ لَہُ فَصَمَتَ قَالَ فَلَمَّا وَلَّیْتُ مُنْصَرِفًا إِذَا الْغُلاَمُ یَدْعُونِی فَقَالَ قَدْ أَذِنَ لَکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَدَخَلْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ فَإِذَا ہُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَی رِمَالِ حَصِیرٍ لَیْسَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ فِرَاشٌ قَدْ أَثَّرَ الرِّمَالُ بِجَنْبِہِ مُتَّکِئٌ عَلَی وِسَادَۃٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُہَا اللِّیْفُ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢٥٩) عبداللہ بن عباس (رض) حضرت عمر (رض) سے ان دو عورتوں کے قصی کے بارے میں جنہوں نے ظہار کیا تھا، فرماتے ہیں کہ میں اس بالاخانے پر آیا، جہاں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے۔ میں نے آپ کے غلام اسود سیکہا : حضرت عمر (رض) کے لیے اجازت مانگوں، غلام داخل ہوا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات کی۔ پھر واپس میری طرف پلٹا۔ اس نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے آپ کا تذکرہ کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے، میں واپس آکر اس گروہ کے پاس بیٹھ گیا، جو منبر کے پاس تھے۔ پھر میری ضرورت غالب آئی تو دوبارہ غلام سے کہا : عمر کے لیے اجازت طلب کرو۔ غلام داخل ہوا۔ آپ کے سامنے تذکرہ کیا، آپ خاموش رہے۔ کہتے ہیں : جب میں واپس مڑ کر جانے لگا تو غلام نے پیچھے سے آواز دی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کو اجازت دے دی ہے۔ میں داخل ہوا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھجور کی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ درمیان میں کوئی ستر نہ تھا۔ چٹائی کے نشانات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پہلو پر تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے تھے، جو کھجور کے پتوں سے بھرا ہوا تھا۔

20266

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20266

Sahih

(۲۰۲۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُکَیْرٍ حَدَّثَنِی اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّہُ قَالَ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِیُّ وَکَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ذَکَرَ لِی ذِکْرًا مِنْ حَدِیثِہِ ذَلِکَ فَانْطَلَقْتُ حَتَّی دَخَلْتُ عَلَی مَالِکِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ فَسَأَلْتُہُ عَنْ ذَلِکَ الْحَدِیثِ فَقَالَ لِی مَالِکٌ : بَیْنَا أَنَا جَالِسٌ فِی أَہْلِی حِینَ مَتَعَ النَّہَارُ إِذَا رَسُولُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ أَجِبْ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ فَانْطَلَقْتُ مَعَہُ حَتَّی إِذَا دَخَلْتُ عَلَی عُمَرَ فَإِذَا ہُوَ جَالِسٌ عَلَی رِمَالِ سَرِیرٍ لَیْسَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ فِرَاشٌ مُتَّکِئٌ عَلَی وِسَادَۃٍ مِنْ أَدَمٍ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ ثُمَّ جَلَسْتُ فَقَالَ لِی ہَا ہُنَا یَا مَالِ یَعْنِی یَا مَالِکُ إِنَّہُ قَدْ قَدِمَ أَہْلُ أَبْیَاتٍ مِنْ قَوْمِکَ وَقَدْ أَمَرْتُ لَہُمْ فَأَقْسِمْ بَیْنَہُمْ قَالَ فَقُلْتُ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ لَوْ أَمَرْتَ بِہِ غَیْرِی قَالَ فَاقْبِضْہُ أَیُّہَا الْمَرْئُ قَالَ فَبَیْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَہُ إِذْ جَائَ ہُ حَاجِبُہُ یَرْفَأُ فَقَالَ ہَلْ لَکَ فِی عُثْمَانَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالزُّبَیْرِ وَسَعْدٍ یَسْتَأْذِنُونَ عَلَیْکَ قَالَ نَعَمْ فَأَذِنَ لَہُمْ قَالَ فَدَخَلُوا فَسَلَّمُوا قَالَ ثُمَّ لَبِثَ یَرْفَأُ قَلِیلاً فَقَالَ لِعُمَرَ : ہَلْ لَکَ فِی عَلِیٍّ وَالْعَبَّاسِ قَالَ نَعَمْ ائْذَنْ لَہُمَا فَلَمَّا دَخَلاَ سَلَّمَا وَجَلَسَا فَقَالَ عَبَّاسٌ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ اقْضِ بَیْنِی وَبَیْنَ ہَذَا فَقَالَ الرَّہْطُ عُثْمَانُ وَأَصْحَابُہُ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ اقْضِ بَیْنَہُمَا وَأَرِحْ أَحَدَہُمَا مِنَ الآخَرِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢٦٠) مالک بن اوس بن حدثان نصری فرماتے ہیں کہ محمد بن جبیر بن مطعم نے ایک حدیث ذکر کی۔ میں چلا اور مالک بن اوس بن حدثان پر داخل ہوا۔ میں نے اس حدیث کے متعلق سوال کیا تو مالک نے فرمایا : میں اپنے گھر والوں کے درمیان تھا، جس وقت دن اچھی طرح چڑھ گیا تو اچانک حضرت عمر (رض) کا قاصد آیا، اس نے کہا : امیرالمومنین یاد کر رہے ہیں۔ میں اس کے ساتھ حضرت عمر (رض) کے پاس گیا۔ وہ کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی چادر پائی پر بیٹھے تھے، کوئی اوپر بستر بھی نہ تھا اور چمڑے کا بنا ہوا تکیہ تھا۔ میں سلام کہہ کر بیٹھ گیا۔ فرمانے لگے : اے مالک ! یہاں بیٹھو۔ اور اپنی قوم کے لوگوں میں تقسیم کرو، میں نے ان کو حکم دے دیا ہے ان کے درمیان تقسیم کر دو ۔ میں نے کہا : اے امیرالمومنین ! میرے علاوہ کسی اور کو حکم دے دیں۔ فرمایا : اے انسان ! پکڑ۔ ہم ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ دربان آیا اور حضرت عثمان، عبدالرحمن، زبیر اور سعد کے لیے اجازت طلب کررہا تھا۔ حضرت عمر (رض) نے اجازت دے دی۔ اجازت ملنے کے بعد وہ داخل ہوئے اور سلام کہا : تھوڑی دیر کے بعد دربان دوبارہ آیا۔ حضرت عمر (رض) سے کہا : حضرت علی وعباس (رض) اجازت طلب کرتے ہیں، فرمایا : ان کو اجازت دے دو ۔ دونوں داخل ہوئے اور سلام کہہ کر بیٹھ گئے تو عباس (رض) نے فرمایا : میرے اور اس کے درمیان فیصلہ فرمائیں۔ گروہ کہنے لگا : حضرت عثمان اور ساتھی، اے امیرالمومنین ! ان دونوں کے درمیان فیصلہ کرنا اور ایککو دوسرے سے آرام دینا۔

20267

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20267

Sahih

(۲۰۲۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَنْبَأَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو خَیْثَمَۃَ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ مُغِیرَۃَ قَالَ : کَانَ شُرَیْحٌ یَدْخُلُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ بَیْتًا یَخْلُو فِیہِ لاَ یَدْرِی النَّاسُ مَا یَصْنَعُ فِیہِ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢٦١) مغیرہ فرماتے ہیں کہ قاضی شریح جمعہ کو گھر میں داخل ہوتے۔ وہ گھر میں اکیلے ہوتے۔ لوگوں کو معلوم نہیں تھا۔ وہ کیا کرتے تھے۔