Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 65 · Chapter 3916

مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان

جلب اور جنب گھوڑ دوڑ میں جائز نہیں جنب : کسی کو گھوڑے سمیت اپنے پہلو میں رکھنا تاکہ اگر پہلا گھوڑا تھک جائے تو دوسرے پر سوار ہوجائے۔

4 hadiths in this chapter

19784

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19784

Sahih

(۱۹۷۷۸) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ حُمَیْدٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِیدِ حَدَّثَنَا عَنْبَسَۃُ جَمِیعًا عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : لاَ جَلَبَ وَلاَ جَنَبَ فِی الرِّہَانِ ۔ ہَذَا لَفْظُ حَدِیثِ عَنْبَسَۃَ وَفِی رِوَایَۃِ حُمَیْدٍ : لاَ جَنَبَ وَلاَ جَلَبَ وَلاَ شِغَارَ فِی الإِسْلاَمِ ۔ [صحیح۔ بدون قولہ الرھان]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٧٧٨) عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گھوڑ دوڑ میں جلب (کسی شخص کو اپنے گھوڑے کے پیچھے رکھناتا کہ اسے تیز دوڑنے پر ابھارتا رہے) اور ” جنب “ (کسی کو گھوڑے سمیت اپنے پہلو میں رکھنا تاکہ اگر پہلا گھوڑا تھک جائے تو دوسرے پر سوار ہوجائے) کی اجازت شرط میں نہیں ہے۔ (ب) حمید کی روایت میں ہے کہ جلب اور جنب اور شغار (یعنی وٹہ سٹہ کی شادی) اسلام میں جائز نہیں ہے۔

19785

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19785

Sahih

(۱۹۷۷۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی عَنْ سَعِیدٍ عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ : الْجَلَبُ وَالْجَنَبُ فِی الرِّہَانِ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٧٧٩) قتادہ (رض) فرماتے ہیں کہ گھوڑ دوڑ کی شرط میں جلب (یعنی گھوڑے کو تیز دوڑانے کے لیے کسی کو پیچھے رکھنا) اور جنب (یعنی کسی کو گھوڑے سمیت اپنے ساتھ رکھنا پہلے کے تھک جانے کی صورت میں اس پر سواری کی جاسکے) جائز نہیں ہے۔

19786

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19786

Zaeef

(۱۹۷۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ قَالَ سُئِلَ مَالِکٌ مَا تَفْسِیرُ ذَلِکَ فَقَالَ أَمَّا الْجَلَبُ فَأَنْ یَتَخَلَّفَ الْفَرَسُ فِی السِّبَاقِ فَیُحَرَّکَ وَرَائَ ہُ الشَّیْئُ یُسْتَحَثُّ بِہِ فَیَسْبِقُ فَہَذَا الْجَلَبُ وَأَمَّا الْجَنَبُ فَإِنَّہُ یُجْنَبُ مَعَ الْفَرَسِ الَّذِی یُسَابَقُ بِہِ فَرَسٌ آخَرُ حَتَّی إِذَا دَنَا تَحَوَّلَ رَاکِبُہُ عَلَی الْفَرَسِ الْمَجْنُوبِ فَأَخَذَ السَّبَقَ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٧٨٠) ابن بکیر فرماتے ہیں کہ امام مالک (رح) سے اس کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا : جلب یہ ہے کہ دوڑ میں گھوڑے کو پیچھے رکھنا تاکہ وہ دوسرے کو آگے بڑھنے کے لیے حرکت دے اور جنب یہ ہے کہ دوسرے کے ساتھ ایک گھوڑا رکھنا بوقت ضرورت اس پر سوار ہو کر دوڑ جاری رکھی جاسکے۔

19787

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19787

Zaeef

(۱۹۷۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَنْبَأَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ شَبِیبٍ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ صَدْرَانَ السُّلَمِیَّ یَقُولُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَیْمُونٍ الْمُرَائِیُّ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنِ الْحَسَنِ أَوْ خِلاَسٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ شَکَّ ابْنُ مَیْمُونٍ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ لِعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا عَلِیُّ قَدْ جَعَلْتُ إِلَیْکَ ہَذِہِ السَّبْقَۃَ بَیْنَ النَّاسِ ۔ فَخَرَجَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَدَعَا سُرَاقَۃَ بْنَ مَالِکٍ فَقَالَ یَا سُرَاقَۃُ إِنِّی قَدْ جَعَلْتُ إِلَیْکَ مَا جَعَلَ النَّبِیُّ -ﷺ- فِی عُنُقِی مِنْ ہَذِہِ السَّبْقَۃِ فِی عُنُقِکَ فَإِذَا أَتَیْتَ الْمِیطَارَ - قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالْمِیطَارُ مَرْسَلُہَا مِنَ الْغَایَۃِ - فَصَفَّ الْخَیْلَ ثُمَّ نَادِ ہَلْ مُصْلٍ لِلِجَامِ أَوْ حَامِلٌ لِغُلاَمٍ أَوْ طَارِحٌ لَجُلٍّ فَإِذَا لَمْ یُجِبْکَ أَحَدٌ فَکَبِّرْ ثَلاَثًا ثُمَّ خَلِّہَا عِنْدَ الثَّالِثَۃِ یُسْعِدُ اللَّہُ بِسَبَقِہِ مَنْ شَائَ مِنْ خَلْقِہِ وَکَانَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقْعُدُ عِنْدَ مُنْتَہَی الْغَایَۃِ وَیَخُطُّ خَطًّا یُقِیمُ رَجُلَیْنِ مُتَقَابِلَیْنِ عِنْدَ طَرَفِ الْخَطِّ طَرَفُہُ بَیْنَ إِبْہَامِ أَرْجُلِہِمَا وَتَمُرُّ الْخَیْلُ بَیْنَ الرَّجُلَیْنِ وَیَقُولُ لَہُمَا إِذَا خَرَجَ أَحَدُ الْفَرَسَیْنِ عَلَی صَاحِبِہِ بِطَرَفِ أُذُنَیْہِ أَوْ أُذُنٍ أَوْ عِذَارٍ فَاجْعَلُوا السَّبْقَۃَ لَہُ فَإِنْ شَکَکْتُمَا فَاجْعَلُوا سَبَقَہُمَا نِصْفَیْنِ فَإِذَا قَرَنْتُمُ الشَّیْئَیْنِ فَاجْعَلُوا الْغَایَۃَ مِنْ غَایَۃِ أَصْغَرِ الشَّیْئَیْنِ وَلاَ جَلَبَ وَلاَ جَنَبَ وَلاَ شِغَارَ فِی الإِسْلاَمِ۔ ہَذَا إِسْنَادٌ ضَعِیفٌ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٧٨١) حضرت حسن یا خلاس حضرت علی (رض) سے نقل فرماتے ہیں۔ یہ میمون کو شک ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) سے فرمایا کہ لوگوں کے درمیان دوڑ کا مقابلہ کراؤ۔ حضرت علی (رض) نکلے اور سراقہ کو بلایا اور فرمایا : اے سراقہ ! میں آپ (رض) کے ذمہ داری لگاتا ہوں، جو میری ذمہ داری نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوڑ کے بارے میں لگائی تھی۔ جب آپ دوڑ کی اختتامی حد کو پہنچیں گھوڑوں کی صفیں بنائیں۔ پھر آواز دیں اے لگام کو کسنے والے، بچے کو اٹھانے والے یا ساز کو پھینکنے والے ! جب کوئی ایک بھی جواب نہ دے، پھر تین مرتبہ تکبیر کہنا، پھر تیسری مرتبہ ان کا راستہ چھوڑ دینا۔ پھر اللہ اپنی مخلوق میں سے جس کی اس دوڑ میں مدد فرمائے اور حضرت علی (رض) مسافت کی انتہا پر تشریف رکھتے اور ایک لکیر کھینچ لیتے۔ لکیر کے دونوں طرف دو آدمی کھڑے کردیتے۔ ان کی نگاہ گھوڑوں کے قدموں پر ہوتی اور گھوڑے دونوں آدمیوں کے درمیان سے گزرتے۔ دونوں اشخاص سے فرماتے کہ جب ایک گھوڑا گزرے اور اس کی لگام یا دونوں یا ایک کان اس کے برابر ہوں تو دوڑ کی جیت اس کی ہے۔ اگر تم کو شک پڑجائے تو دونوں میں برابر قرار دیں۔ جب دو اشیاء کو تم ملاؤ تو مسافت کی دو چھوڑی چیزوں میں سے ایک کو حد مقرر کرلو اور دوڑ میں جلب اور جنب نہیں ہوتا اور اسلام میں وٹہ سٹہ بھی نہیں ہوتا۔