Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 65 · Chapter 3915

مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان

گھوڑ دوڑ میں کونسی شرط جائز اور کونسی ناجائز ہے

4 hadiths in this chapter

19780

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19780

Sahih

(۱۹۷۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْہَالٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ زَیْدٍ عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ الْخِرِّیتِ عَنْ أَبِی لَبِیدٍ قَالَ أَرْسَلَ الْحَکَمُ بْنُ أَیُّوبَ الْخَیْلَ یَوْمًا قُلْنَا : لَوْ أَتَیْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ فَأَتَیْنَاہُ فَسَأَلْنَاہُ أَکُنْتُمْ تُرَاہِنُونَ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ نَعَمْ لَقَدْ رَاہَنَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی فَرَسٍ لَہُ یُقَالُ لَہَا سَبْحَۃُ جَائَ تْ سَابِقَۃً فَہَشَّ لِذَلِکَ وَأَعْجَبَہُ۔ وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ وَعَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ زَیْدٍ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٧٧٤) ابولبید فرماتے ہیں کہ حکم بن ایوب نے ایک دن گھوڑا بھیجا۔ ہم نے کہا : اگر ہم انس بن مالک (رض) کے پاس گئے تو ان سے سوال کریں گے۔ ہم نے انس بن مالک (رض) سے سوال کیا : کیا آپ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں گھوڑ دوڑ میں شرط لگاتے تھے ؟ فرمایا : ہاں، بلکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک گھوڑے پر شرط لگائی جس کو سبحۃ کہا جاتا تھا۔ وہ گھوڑا شرط جیت گیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وجہ سے خوش بھی ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اچھا بھی لگا۔

19781

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19781

Zaeef

(۱۹۷۷۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ أَوْ سَعِیدُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ وَاصِلٍ مَوْلَی أَبِی عُیَیْنَۃَ حَدَّثَنِی مُوسَی بْنُ عُبَیْدٍ قَالَ : أَصْبَحْتُ فِی الْحِجْرِ بَعْدَ مَا صَلَّیْنَا الْغَدَاۃَ فَلَمَّا أَسْفَرْنَا إِذَا فِینَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَجَعَلَ یَسْتَقْرِئُنَا رَجُلاً رَجُلاً یَقُولُ أَیْنَ صَلَّیْتَ یَا فُلاَنُ قَالَ یَقُولُ ہَا ہُنَا حَتَّی أَتَی عَلَیَّ فَقَالَ أَیْنَ صَلَّیْتَ یَا ابْنَ عُبَیْدٍ فَقُلْتُ ہَا ہُنَا قَالَ بَخٍ بَخٍ مَا نَعْلَمُ صَلاَۃً أَفْضَلَ عِنْدَ اللَّہِ مِنْ صَلاَۃِ الصُّبْحِ جَمَاعَۃً یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَسَأَلُوہُ فَقَالُوا یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَکُنْتُمْ تُرَاہِنُونَ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ نَعَمْ لَقَدْ رَاہَنَ عَلَی فَرَسٍ لَہُ یُقَالُ لَہَا سَبْحَۃُ فَجَائَ تْ سَابِقَۃً۔ قَالَ إِسْمَاعِیلُ کَانَ سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا بِہَذَا الْحَدِیثِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِکَ حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ أَوْ سَعِیدُ بْنُ زَیْدٍ۔ قَالَ الشَّیْخُ وَرَوَاہُ أَحْمَدُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ مِنْ غَیْرِ شَکٍّ وَرَوَاہُ أَسَدُ بْنُ مُوسَی عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ قَالَ الشَّیْخُ وَہَذَا إِنْ صَحَّ فَإِنَّمَا أَرَادَ إِذَا سَبَقَ أَحَدُ الْفَارِسَیْنِ صَاحِبَہُ فَیَکُونُ السَّبَقُ مِنْہُ دُونَ صَاحِبِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٧٧٥) موسیٰ بن عبید فرماتے ہیں کہ ہم نے فجر کی نماز پڑھ کر صبح حجر میں کی۔ جب خوب روشنی ہوگئی تو دیکھا، وہاں عبداللہ بن عمر بھی موجود تھے۔ وہ ایک ایک آدمی سے پوچھ رہے تھے : تم نے صبح کی نماز کہاں پڑھی ؟ وہ سب سے پوچھ رہے تھے۔ یہاں تک کہ مجھ سے پوچھا : اے ابن عبید ! تم نے نماز کہاں پڑھی۔ میں نے کہا : یہاں۔ وہ خوش ہوئے اور فرمانے لگے کہ ہم نہیں جانتے کہ جمعہ کے دن صبح کی نماز باجماعت ادا کرنے سے زیادہ کوئی فضیلت والی ہو۔ انھوں نے سوال کیا : اے ابوعبدالرحمن ! کیا آپ گھوڑ دوڑ کی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں شرط لگاتے تھے ؟ فرمایا : ہاں، بلکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھوڑے پر شرط لگائی اور آپ نے جیت لی۔ شیخ فرماتے ہیں : جب ایک گھوڑے والا شرط جیت لے تو اس کے لیے ہوگی دوسرے کے لیے نہیں۔

19782

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19782

Sahih

(۱۹۷۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سِمَاکٍ قَالَ سَمِعْتُ عِیَاضَ الأَشْعَرِیَّ قَالَ قَالَ أَبُو عُبَیْدَۃَ : مَنْ یُرَاہِنُنِی؟ قَالَ فَقَالَ شَابٌّ أَنَا إِنْ لَمْ تَغْضَبْ قَالَ فَسَبَقَہُ قَالَ فَرَأَیْتُ عَقِیصَتَیْ أَبِی عُبَیْدَۃَ تَنْقُزَانِ وَہُوَ خَلْفَہُ عَلَی فَرَسٍ عَرَبِیٍّ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٧٧٦) عیاض اشعری فرماتے ہیں کہ ابوعبید کہنے لگے : کون مجھ سے شرط لگائے گا۔ ایک جوان نے کہا : میں اگر آپ غصہ نہ کریں۔ راوی کہتے ہیں : مقابلہ بازی شروع ہوئی۔ میں نے ابوعبید کی دو مینڈھیوں کے درمیان سے جو تیز چلنے کی وجہ سے اڑ رہی تھی دیکھ رہا تھا اور وہ اس کے پیچھے عربی گھوڑے پر سوار تھے۔

19783

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19783

Zaeef

(۱۹۷۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَنْبَأَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ شَاذَانُ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنِ الرُّکَیْنِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَفَعَہُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : الْخَیْلُ ثَلاَثَۃٌ فَرَسٌ لِلرَّحْمَنِ وَفَرَسٌ لِلشَّیْطَانِ وَفَرَسٌ لِلإِنْسَانِ فَأَمَّا فَرَسُ الرَّحْمَنِ فَالَّذِی یُرْتَبَطُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ رَوْثُہُ وَبَوْلُہُ فِی مِیزَانِہِ وَأَمَّا فَرَسُ الشَّیْطَانِ فَالَّذِی یُرَاہَنُ عَلَیْہِ وَأَمَّا فَرَسُ الإِنْسَانِ فَالَّذِی یَرْتَبِطُہَا یَلْتَمِسُ بَطْنَہَا مَخَافَۃَ الْفَقْرِ ۔ وَہَذَا إِنْ ثَبَتَ فَإِنَّمَا أَرَادَ بِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ أَنْ یُخْرِجَا سَبَقَیْنِ مِنْ عِنْدِہِمَا وَلَمْ یُدْخِلاَ بَیْنَہُمَا مُحَلِّلاً فَیَکُونَ قِمَارًا فَلاَ یَجُوزُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٧٧٧) ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ گھوڑے تین قسم کے ہیں : 1 رحمن کے لیے 2 شیطان کے لیے 3 انسان کے لیے۔ وہ گھوڑا جو رحمن کے لیے ہے انسان جس کو اللہ کے راستہ میں باندھتا ہے، اس کا پیشاپ اور لید میزان میں رکھا جائے گا۔ وہ گھوڑا جو شیطان کا ہے جس پر شرط لگائی جائے۔ انسان کا گھوڑا جس کے ذریعہ وہ اپنی روزی تلاش کرتا ہے فقیری کے ڈر سے۔ اگر یہ ثابت ہو تو خدا جانے اس کی مراد یہ ہے کہ اگر دو شرط لگاتے ہیں اور تیسرے کو درمیان میں شامل نہیں کرتے تو تب جائز نہیں ہے۔