Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 65 · Chapter 3911

مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان

کشتی کا بیان

2 hadiths in this chapter

19766

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19766

Sahih

(۱۹۷۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ أَنْبَأَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْہَرَوِیُّ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ جَعْفَرٍ الأَنْصَارِیُّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُعَرِّضُ غِلْمَانَ الأَنْصَارِ فِی کُلِّ عَامٍ فَیُلْحِقُ مَنْ أَدْرَکَ مِنْہُمْ قَالَ وَعُرِضْتُ عَامًا فَأَلْحَقَ غُلاَمًا وَرَدَّنِی فَقُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ لَقَدْ أَلْحَقْتَہُ وَرَدَدْتَنِی وَلَوْ صَارَعْتُہُ لَصَرَعْتُہُ قَالَ : فَصَارِعْہُ ۔ فَصَارَعْتُہُ فَصَرَعْتُہُ فَأَلْحَقَنِی۔ [صحیح۔ تقدم ۹/۱۷۸۱۰]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٧٦٠) سمرہ بن جندب (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ہر سال انصار کے دو بچے پیش کیے جاتے۔ آپ اس کو اپنے ساتھ ملا لیتے جس کو درست پاتے۔ راوی فرماتے ہیں کہ میں بھی ایک سال پیش کیا گیا۔ ایک بچے کو تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ساتھ ملا لیا اور مجھے واپس کردیا۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس کو اپنے ساتھ ملا لیا اور مجھے واپس کردیا۔ اگر میں اس کے ساتھ کشتی میں مقابلہ کروں تو میں اس کو گرا دوں گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کشتی کرو۔ میں نے اس سے کشتی کی تو میں نے اس کو گرا دیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بھی اپنے ساتھ رکھ لیا۔

19767

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19767

Zaeef

(۱۹۷۶۱) وَرَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ فِی الْمَرَاسِیلِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ بِالْبَطْحَائِ فَأَتَی عَلَیْہِ یَزِیدُ بْنُ رُکَانَۃَ أَوْ رُکَانَۃُ بْنُ یَزِیدَ وَمَعَہُ أَعْنُزٌ لَہُ فَقَالَ لَہُ یَا مُحَمَّدُ ہَلْ لَکَ أَنْ تُصَارِعَنِی فَقَالَ : مَا تُسْبِقْنِی ۔ قَالَ شَاۃً مِنْ غَنَمِی فَصَارَعَہُ فَصَرَعَہُ فَأَخَذَ شَاۃً قَالَ رُکَانَۃُ ہَلْ لَکَ فِی الْعُودِ قَالَ : مَا تُسْبِقْنِی؟ قَالَ أُخْرَی ذَکَرَ ذَلِکَ مِرَارًا فَقَالَ یَا مُحَمَّدُ وَاللَّہِ مَا وَضَعَ أَحَدٌ جَنْبِی إِلَی الأَرْضِ وَمَا أَنْتَ الَّذِی تَصْرَعُنِی یَعْنِی فَأَسْلَمَ وَرَدَّ عَلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- غَنَمَہُ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَنْبَأَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ الْفَسَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ اللُّؤْلُؤِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ فَذَکَرَہُ وَہُوَ مُرْسَلٌ جَیِّدٌ وَقَدْ رُوِیَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ مَوْصُولاً إِلاَّ أَنَّہُ ضَعِیفٌ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٧٦١) سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بطحاء نامی جگہ پر تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس یزید بن رکانہ یا رکانہ بن یزید آیا۔ اس کے پاس بکریاں بھی تھیں۔ اس نے کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا آپ میرے ساتھ کشتی کریں گے ؟ آپ نے فرمایا : اگر ہار گئے تو کیا دو گے ؟ کہنے لگا : ایک بکری۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کشتی کی تو اس کو گرا دیا اور ایک بکری لے لی۔ رکانہ کہتا ہے : دوبارہ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر ہار گئے تو کیا دو گے۔ کہتا ہے : دوسری بکری۔ کئی مرتبہ ایسے ہوا۔ کہنے لگا : اے محمد ! میری کمر کسی نے زمین پر نہیں لگائی، یعنی گرا نہیں، لیکن آپ نے تو مجھے گرا دیا۔ وہ مسلمان ہوگیا تو آپ نے اس کی بکریاں واپس کردیں۔