Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 65 · Chapter 3907

مقابلہ بازی اور تیر اندازی کا بیان

تیر اندازی کی رغبت کا بیان قال الشافعی : فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اہل دین کو ابھارا ہے : { وَ اَعِدُّوْا لَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْھِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّ اللّٰہِ وَ عَدُوَّکُمْ } [الأنفال ٦٠] ” ان کے ساتھ مق

16 hadiths in this chapter

19733

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19733

Sahih

(۱۹۷۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : طَلْحَۃُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الصَّقْرِ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الآجُرِّیُّ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنِ أَبِی جَعْفَرٍ أَنْبَأَنَا أَبُو یَعْلَی قَالاَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ أَبِی عَلِیٍّ : ثُمَامَۃَ بْنِ شُفَیٍّ أَنَّہُ سَمِعَ عُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ یَقُولُ {وَأَعِدُّوا لَہُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّۃٍ} أَلاَ إِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْیُ أَلاَ إِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْیُ أَلاَ إِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْیُ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۹۱۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٧٢٧) عقبہ بن عامر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے : { وَ اَعِدُّوْا لَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ } ” ان کے ساتھ مقابلہ کے لیے جس قدر ممکن ہو تیار رکھو۔ “ اس آیت میں ” القوۃ “ سے مراد تیر اندازی ہے۔ آپ نے یہ کلمات تین بار دھرائے۔

19734

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19734

Sahih

(۱۹۷۲۸) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدِ بْنِ یَعْقُوب أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَم أَنْبَأَنَا ابْنُ وَہْب أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِی عَلِیٍّ الْہَمْدَانِیِّ أَنَّہ سَمِع عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ الْجُہَنِیَّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : سَتُفْتَحُ لَکُمْ أَرَضُونَ وَیَکْفِیکُمُ اللَّہُ الْمُؤْنَۃَ فَلاَ یَعْجِزْ أَحَدُکُمْ أَنْ یَلْہُوَ بِأَسْہُمِہِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ عَنِ ابْنِ وَہْب۔ [صحیح۔ مسلم ۱۹۱۸]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٧٢٨) عقبہ بن عامرجہنی (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے : عنقریب علاقے تم فتح کرلو گے اور اللہ تمہاری مشقت سے کافی ہوجائے گا، خبردار ! تمہیں کوئی بھی چیز اپنے تیروں سے غافل نہ کرے۔

19735

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19735

Sahih

(۱۹۷۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ابْنُ مِلْحَانَ حَدَّثَنِی یَحْیَی ہُوَ ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنِی اللَّیْثُ حَدَّثَنِی الْحَارِثُ بْنُ یَعْقُوبَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُمَاسَۃَ أَنَّ فَقِیمَ اللَّخْمِیَّ قَالَ لِعُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ : تَخْتَلِفُ بَیْنَ ہَذَیْنِ الْغَرَضَیْنِ وَأَنْتَ کَبِیرٌ یَشُقُّ عَلَیْکَ ذَلِکَ فَقَالَ عُقْبَۃُ لَوْلاَ کَلاَمٌ سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- لَمْ أُعَانِہِ قَالَ الْحَارِثُ فَقَالَ ابْنُ شُمَاسَۃَ وَمَا ذَاکَ؟ قَالَ : إِنَّہُ مَنْ عَلِمَ الرَّمْیَ ثُمَّ إِنَّہُ تَرَکَہُ فَلَیْسَ مِنَّا أَوْ قَدْ عَصَی ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۹۱۹]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٧٢٩) عبدالرحمن بن ثمامہ سے روایت ہے کہ فقیم لخمی نے عقبہ بن عامر سے کہا : آپ دو مقاصد کے درمیان اختلاف کرتے ہیں، جس کی وجہ سے آپ کو مشکل ہوگی۔ عقبہ فرماتے ہیں : اگر میں نے یہ کلام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نہ سنا ہوتا تو میں ان کی کبھی بھی مدد نہ کرتا۔ حارث کہتے ہیں کہ ابن شماس نے فرمایا : وہ کیا ہے ؟ فرماتے ہیں کہ تیر اندازی جان لینے کے بعد یا سیکھ لینے کے بعد، جس نے اس کو چھوڑ دیا، وہ ہم سے نہیں یا اس نے نافرمانی کی۔

19736

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19736

Sahih

(۱۹۷۳۰) رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ عَنِ اللَّیْثِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ قَالَ الْحَارِثُ فَقُلْتُ لاِبْنِ شُمَاسَۃَ وَمَا ذَاکَ قَالَ إِنَّہُ مَنْ عَلِمَ الرَّمْیَ الَّذِی تَرَکَہُ فَلَیْسَ مِنَّا أَوْ قَدْ عَصَی۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَنْبَأَنَا اللَّیْثُ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٧٣٠) حارث فرماتے ہیں : میں نے ابن شماسہ سے کہا : وہ کیا ہے ؟ فرمایا : جس نے تیر اندازی سیکھی اور چھوڑ دیا اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے یا اس نے نافرمانی کی۔

19737

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19737

Zaeef

(۱۹۷۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدٍ الْبَیْرُوتِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَیْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ یَزِیدَ بْنِ جَابِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَلاَّمٍ : الأَسْوَدُ عَنْ خَالِدِ بْنِ زَیْدٍ قَالَ : کُنْتُ رَجُلاً رَامِیًا أُرَامِی عُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ فَمَرَّ بِی ذَاتَ یَوْمٍ فَقَالَ یَا خَالِدُ اخْرُجْ بِنَا نَرْمِی فَأَبْطَأْتُ عَلَیْہِ فَقَالَ یَا خَالِدُ تَعَالَ أُحَدِّثُکَ مَا حَدَّثَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَوْ أَقُولُ لَکَ کَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ یُدْخِلُ بِالسَّہْمِ الْوَاحِدِ ثَلاَثَۃَ نَفَرٍ الْجَنَّۃَ صَانِعَہُ الَّذِی احْتَسَبَ فِی صَنْعَتِہِ الْخَیْرَ وَمُنْبِلَہُ وَالرَّامِیَ ارْمُوا وَارْکَبُوا وَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ تَرْکَبُوا وَلَیْسَ مِنَ اللَّہْوِ إِلاَّ ثَلاَثَۃٌ تَأْدِیبُ الرَّجُلِ فَرَسَہُ وَمُلاَعَبَتُہُ زَوْجَتَہُ وَرَمْیُہُ بِنَبْلِہِ عَنْ قَوْسِہِ وَمَنْ عَلِمَ الرَّمْیَ ثُمَّ تَرَکَہُ فَہِیَ نِعْمَۃٌ کَفَرَہَا۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ ابْنُ الْمُبَارَکِ وَالْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ وَالْوَلِیدُ بْنُ مَزْیَدٍ عَنِ ابْنِ جَابِرٍ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٧٣١) خالد بن زید فرماتے ہیں کہ میں تیر انداز آدمی تھا۔ میں عقبہ بن عامر کے ساتھ مل کر تیر اندازی کرتا، ایک دن وہ میرے پاس سے گزرے اور فرمایا : اے خالد ! ہمارے ساتھ آو ، ہم تیر اندازی کریں، لیکن میں نے تھوڑی دیر کردی تو فرمایا : خالد جلدی آؤ میں تمہیں وہ بیان کرو جو مجھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرمایا تھا۔ یا میں تجھے وہ بات کہوں جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمائی تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا : ایک تیر کی وجہ سے تین اشخاص جنت میں داخل ہوں گے : 1 تیر بنانے والا جو ثواب کی نیت رکھتا ہے۔ 2 تیر چلانے والا 3 تیر انداز کو تیر پکڑانے والا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیر اندازی کرو، گھڑ سواری کرو۔ گھڑ سواری کی نسبت تیر اندازی مجھے زیادہ پسند ہے۔ تین چیزیں کھیل میں شمار نہیں ہوتیں : 1 اگر کوئی شخص گھوڑے کو سکھاتا ہے۔ 2 اپنی بیوی سے چھیڑ چھاڑ کرتا ہے۔ 3 اپنے تیر کمان سے تیر اندازی کرتا ہے جس نے تیر اندازی سیکھی، پھر اس کو چھوڑ دیا تو اس نے نعمت کی ناشکری۔

19738

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19738

Zaeef

(۱۹۷۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنِ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ یَحْیَی ہُوَ ابْنُ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلاَّمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ الأَزْرَقِ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ الْجُہَنِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- یَقُولُ : إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ لَیُدْخِلُ الثَّلاَثَۃَ بِالسَّہْمِ الْوَاحِدِ الْجَنَّۃَ صَانِعَہُ یَحْتَسِبُ بِصَنْعَتِہِ الْخَیْرَ وَالرَّامِیَ بِہِ وَالْمُمِدَّ بِہِ ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٧٣٢) عقبہ بن عامر جہنی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائیں گے : تیر بنانے والا جو ثواب کی نیت رکھتا ہے، تیر چلانے والا اور اس کا تعاون کرنے والا۔

19739

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19739

Zaeef

(۱۹۷۳۳) وَبِہَذَا الإِسْنَادِ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ الْجُہَنِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ارْمُوا وَارْکَبُوا وَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَیَّ مَنْ أَنْ تَرْکَبُوا وَکُلُّ شَیْئٍ یَلْہُو بِہِ الرَّجُلُ بَاطِلٌ إِلاَّ رَمْیَ الرَّجُلِ بِقَوْسِہِ أَوْ تَأْدِیبَہُ فَرَسَہُ أَوْ مُلاَعَبَتَہُ امْرَأَتَہُ فَإِنَّہُنَّ مِنَ الْحَقِّ وَمَنْ تَرَکَ الرَّمْیَ بَعْدَ مَا عَلِمَہُ فَقَدْ کَفَرَ الَّذِی عَلِمَہُ ۔ کَذَا فِی کِتَابِی ابْنُ یَزِیدَ وَقَالَ غَیْرُہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ زَیْدٍ۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٧٣٣) عقبہ بن عامر جہنی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیر اندازی کرو، گھڑ سواری کرو، تیر اندازی مجھے گھڑ سواری سے زیادہ پسند ہے۔ تمام قسم کی کھیلیں جو آدمی کھیلتا ہے باطل ہیں، لیکن تیراندازی کرنا، گھوڑے کو سدھانا، اپنی بیوی سے چھیڑچھاڑ کرنا یہ درست ہیں۔ تیر اندازی سیکھنے کے بعد چھوڑنا ایسے ہے جیسے اس نے کسی چیز کو جاننے کے بعد کفر کیا۔

19740

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19740

Zaeef

(۱۹۷۳۴) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ عَمْرٍو الْعُکْبُرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الزُّبَیْرِ الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَۃَ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُوَیْمِ بْنِ سَاعِدَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ : أَبْصَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- رَجُلاً مَعَہُ قَوْسٌ فَارِسِیَّۃٌ فَقَالَ اطْرَحْہَا ثُمَّ أَشَارَ إِلَی الْقَوْسِ الْعَرَبِیَّۃِ فَقَالَ بِہَذِہِ وَرِمَاحِ الْقَنَا یُمَکِّنُ اللَّہُ لَکُمْ بِہَا فِی الْبِلاَدِ وَیَنْصُرُکُمْ عَلَی عَدُوِّکُمْ۔ تَفَرَّدَ بِہِ مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَۃَ وَفِیہِ انْقِطَاعٌ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُوَیْمٍ لَیْسَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٧٣٤) عبدالرحمن بن سالم بن عبدالرحمن بن عویم، اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کے ہاتھ میں فارسی کمان دیکھی تو فرمایا : اس کو پھینک دو ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عربی کمان کی طرف اشارہ کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان تیر کمانوں کی وجہ سے اللہ تمہیں ان شہروں پر غلبہ دے گا اور دشمنوں کے خلاف تمہیں مدد فراہم کرے گا۔

19741

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19741

Zaeef

(۱۹۷۳۵) وَقِیلَ فِی ہَذَا الإِسْنَادِ کَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِی حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَالِمِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ عُوَیْمِ بْنِ سَاعِدَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- رَأَی قَوْسًا فَارِسِیًّا فَقَالَ مَلْعُونٌ مَلْعُونٌ مَنْ حَمَلَہَا عَلَیْکُمْ بِہَذِہِ وَأَشَارَ إِلَی الْقَوْسِ الْعَرَبِیَّۃِ وَبِرِمَاحِ الْقَنَا یُمَکِّنُ اللَّہُ لَکُمْ فِی الْبِلاَدِ وَیَنْصُرُکُمْ عَلَی عَدُوِّکُمْ۔ قَالَ الْبُخَارِیُّ عُتْبَۃُ بْنُ عُوَیْمٍ لَمْ یَصِحَّ حَدِیثُہُ۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٧٣٥) عبدالرحمن بن سالم بن عبدالرحمن بن عویم بن ساعدہ۔ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک فارسی کمان دیکھی تو فرمایا : جو اس کو اٹھائے گا ، وہ ملعون ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عربی کمان کو لازم پکڑو۔ اس کی وجہ سے اللہ تمہیں شہروں پر غلبہ دے گا اور تمہارے دشمن کے خلاف مدد کرے گا۔

19742

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19742

Zaeef

(۱۹۷۳۶) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ رَحِمَہُ اللَّہُ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الأَشْعَثُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بُسْرٍ عَنْ أَبِی رَاشِدٍ الْحُبْرَانِیُّ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : عَمَّمَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمَ غَدِیرِ خُمٍّ بِعِمَامَۃٍ سَدَلَہَا خَلْفِی ثُمَّ قَالَ : إِنَّ اللَّہَ أَمَدَّنِی یَوْمَ بَدْرٍ وَحُنَیْنٍ بِمَلاَئِکَۃٍ یَعْتَمُّونَ ہَذِہِ الْعِمَّۃَ وَقَالَ إِنَّ الْعِمَامَۃَ حَاجِزَۃٌ بَیْنَ الْکُفْرِ وَالإِیمَانِ وَرَأَی رَجُلاً یَرْمِی بِقَوْسٍ فَارِسِیَّۃٍ فَقَالَ ارْمِ بِہَا ثُمَّ نَظَرَ إِلَی قَوْسٍ عَرَبِیَّۃٍ فَقَالَ عَلَیْکُمْ بِہَذِہِ وَأَمْثَالِہَا وَرِمَاحِ الْقَنَا فَإِنَّ بِہَذِہِ یُمَکِّنُ اللَّہُ لَکُمْ فِی الْبِلاَدِ وَیُؤَیِّدُکُمْ فِی النَّصْرِ۔ أَشْعَثُ ہُوَ أَبُو الرَّبِیعِ السَّمَّانُ وَلَیْسَ بِالْقَوِیِّ۔ (ت) وَخَالَفَہُ إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ فَرَوَاہُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُسْرٍ ہَذَا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَدِیٍّ الْبَہْرَانِیِّ عَنْ أَخِیہِ عَبْدِ الأَعْلَی عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُنْقَطِعًا۔ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ بُسْرٍ ہَذَا لَیْسَ بِالْقَوِیِّ قَالَہُ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ وَغَیْرُہُ۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٧٣٦) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے غدیر خم کے دن پگڑی پہنائی اور اس کا ایک کنارہ میرے پیچھے کی جانب لٹکا دیا۔ پھر فرمایا : اللہ نے بدر اور حنین کے دن ایسی پگڑی پہنے ہوئے فرشتوں سے میری مدد فرمائی اور فرمایا کہ یہ عمامہ کفر و ایمان کے درمیان رکاوٹ ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو دیکھا، جو فارسی کمان سے تیر اندازی کررہا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیر اندازی کرو۔ پھر آپ نے عربی کمان دیکھی تو فرمایا : اس جیسی یا اس کو لازم پکڑو اور نیزے جس کی وجہ سے اللہ تمہیں شہروں پر غلبہ دیں گے اور تمہارے دشمنوں کے خلاف تمہاری مدد فرمائیں گے۔

19743

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19743

Sahih

(۱۹۷۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِیدٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْبُوشَنْجِیُّ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنُ عَائِشَۃَ قَالَ أَہْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِیثِ إِنَّمَا نُہِیَ عَنِ الْقَوْسِ الْفَارِسِیَّۃِ لأَنَّہَا إِذَا انْقَطَعَ وَتَرُہَا لَمْ یَنْتَفِعْ بِہَا صَاحِبُہَا وَإِنَّ الْقَوْسَ الْعَرَبِیَّۃَ إِذَا انْقَطَعَ وَتَرُہَا کَانَتْ لَہُ عَصًا یَدُبُّ بِہَا قَالَ وَکَانَتْ مَعَہُمْ رِمَاحُ خَشَبٍ فَکَانُوا إِذَا طَعَنُوا بِہَا أَخَذَہَا الْمَطْعُونُ فَکَسَرَہَا فَأَمَرَہُمْ بِرِمَاحِ الْقَنَا لِکَیْ إِذَا طَعَنَ الرَّجُلُ فَأَخَذَہُ الْمَطْعُونُ انْثَنَی وَلَمْ یَنْکَسِرْ وَکَانَتْ تُحْمَلُ مِنَ الْبَحْرَیْنِ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٧٣٧) ابوعبدالرحمن ابن عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب فارسی کمان کی تندی ٹوٹ جائے تو اس کا صاحب اس سے فائدہ نہیں اٹھاسکتا۔ لیکن جب عربی کمان کی تندی ٹوٹ جائے تو وہ اس کے سہارے چلنے کا کام لیتا ہے، ان کے پاس لکڑی کے نیزے ہوتے تھے۔ جب مارا جاتا تو دوسرا پکڑ کر اس کو توڑ دیتا، لیکن آپ نے ایسے نیزوں کا مطالبہ کیا جو دوہرا تو ہوجائے لیکن ٹوٹے نہ۔

19744

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19744

Sahih

(۱۹۷۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمُوَیْہِ الْعَسْکَرِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلاَنِسِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ النَّہْدِیِّ قَالَ : أَتَانَا کِتَابُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَنَحْنُ مَعَ عُتْبَۃَ بْنِ فَرْقَدٍ بِأَذَرْبِیجَانَ أَمَّا بَعْدُ فَاتَّزِرُوا وَانْتَعِلُوا وَارْتَدُوا وَأَلْقُوا الْخِفَافَ وَالسَّرَاوِیلاَتِ وَعَلَیْکُمْ بِلِبَاسِ أَبِیکُمْ إِسْمَاعِیلَ وَإِیَّاکُمْ وَالتَّنَعُّمَ وَزِیَّ الْعَجَمِ وَعَلَیْکُمْ بِالشَّمْسِ فَإِنَّہَا حَمَّامُ الْعَرَبِ وَتَمَعْدَدُوا وَاخْشَوْشَنُوا وَاخْلَوْلَقُوا وَاقْطَعُوا الرُّکَبَ وَانْزُوا عَلَی الْخَیْلِ نَزْوًا وَارْمُوا الأَغْرَاضِ وَامْشُوا مَا بَیْنَہَا۔ وَذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیثِ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٧٣٨) ابوعثمان نہدی فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت عمر (رض) کا خط آیا اور ہم آذربائیجان میں عقبہ بن فرقد کے ساتھ تھے۔ انھوں نے فرمایا : تہبند باندھو، جوتے پہنو، چادر اوڑھ لو، موزے اور شلواریں اتار دو اور اپنے باپ اسماعیل کا لباس پہنو، عیش و عشرت اور عجمیوں کی مشابہت سے بچو، دھوپ کو لازم پکڑو ، کیونکہ یہ عرب کا حمام ہے اور تندرستی کو اختیار کرو، مہذب بن جاؤ اور امید رکھو اور گھوڑی پر خچر کو چھوڑو اور ٹخنوں سے اوپر کپڑا کاٹ ڈالو اور ہدف مقرر کر کے ان کے درمیان چلو۔

19745

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19745

Sahih

(۱۹۷۳۹) وَرُوِّینَا فِی کِتَابِ الْفَرَائِضِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ کَتَبَ إِلَی أَبِی عُبَیْدَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنْ عَلِّمُوا غِلْمَانَکُمُ الْعَوْمَ وَمُقَاتِلَتَکُمُ الرَّمْیَ قَالَ وَکَانُوا یَخْتَلِفُونَ بَیْنَ الأَغْرَاضِ فَجَائَ سَہْمُ غَرْبٍ فَأَصَابَ غُلاَمًا فَقَتَلَ وَذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیثِ أَخْبَرَنَاہُ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُبْحٍ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَیَّاشِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ عَنْ حَکِیمِ بْنِ حَکِیمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَیْفٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ بْنِ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ قَالَ کَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی أَبِی عُبَیْدَۃَ فَذَکَرَہُ۔ [حسن لغیرہ۔ تقدم برقم ۶/ ۱۲۲۰۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٧٣٩) کتاب الفرائض میں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ابو عبیدہ کی طرف خط لکھا کہ بچوں کو کشتی چلانا سیکھاؤ اور جنگجو کو تیر اندازی۔ وہ مختلف اہداف پر نشانہ بازی کر رہے تھے تو ایک اجنبی تیر آیا اور غلام کو لگا جس کی وجہ سے وہ ہلاک ہوگیا۔ (ب) سہل بن حنیف فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ابو عبیدہ کو خط لکھا۔۔۔ اس طرح ذکر کیا۔

19746

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19746

Zaeef

(۱۹۷۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ أَبِی سَعْدٍ الْہَرَوِیِّ قَدِمَ عَلَیْنَا أَنْبَأَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْحَرِیرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ الْبَاغَنْدِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہ بْنُ مَعْبَدٍ الْحَرَّانِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : وَجَبَتْ مَحَبَّتِی عَلَی مَنْ سَعَی بَیْنَ الْغَرَضَیْنِ بِقَوْسِی لاَ بِقَوْسِ کِسْرَی ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٧٤٠) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس بندے کے لیے میری محبت واجب ہوگئی جس نے نشانہ بازی کے لیے کوشش کی۔ میری قوس (یعنی عربی کمان سے) سے ناکہ فارسی قوس سے۔

19747

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19747

Sahih

(۱۹۷۴۱) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فَرْقَدٍ الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ یَحْیَی أَبُو الأَصْبَغِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ یَعْنِی ابْنَ سَلَمَۃَ الْجَزَرِیَّ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحِیمِ عَنْ عَبْدِ الْوَہَّابِ یَعْنِی ابْنَ بُخْتٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ قَالَ : رَأَیْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ وَجَابِرَ بْنَ عُمَیْرٍ الأَنْصَارِیَیِّنِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَرْتَمِیَانِ فَمَلَّ أَحَدُہُمَا فَجَلَسَ فَقَالَ لَہُ صَاحِبُہُ أَجَلَسْتَ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : کُلُّ شَیْئٍ لَیْسَ مِنْ ذِکْرِ اللَّہِ فَہُوَ سَہْوٌ وَلَہْوٌ إِلاَّ أَرْبَعًا مَشْیَ الرَّجُلِ بَیْنَ الْغَرَضَیْنِ وَتَأْدِیبَہُ فَرَسُہُ وَتَعَلُّمَہُ السِّبَاحَۃَ وَمُلاَعَبَتَہُ أَہْلَہُ ۔ تَابَعَہُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْحَنْظَلِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَۃَ الْجَزَرِیِّ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٧٤١) عطاء بن ابی رباح فرماتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ اور جابر بن عمیر دونوں کو دیکھا کہ وہ تیر اندازی کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک تھک کر بیٹھ گیا تو دوسرے نے اپنے ساتھی سے کہا : بیٹھ گئے ہو ؟ کیا آپ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا نہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر وہ چیز جس میں اللہ کا ذکر نہیں وہ کھیل تماشا ہے۔ سوائے چار چیزوں کے : 1 آدمی کا نشانہ بازی کرنا۔ 2 گھوڑے کو سدھانا۔ 3 گھوڑ سواری کرنا 4 اپنی بیوی سے چھیڑ چھاڑ کرنا۔

19748

Sunan Al Kubra Bayhaqi #19748

Sahih

(۱۹۷۴۲) حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّرَّاجِ إِمْلاَئً أَنْبَأَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ الطَّرَائِفِیُّ أَنْبَأَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّہِ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ عَنْ عِیسَی بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی سُلَیْمَانَ مَوْلَی أَبِی رَافِعٍ عَنْ أَبِی رَافِعٍ قَالَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَلِلْوَلَدِ عَلَیْنَا حَقٌّ کَحَقِّنَا عَلَیْہِمْ؟ قَالَ : نَعَمْ حَقُّ الْوَلَدِ عَلَی الْوَالِدِ أَنْ یُعَلِّمَہُ الْکِتَابَۃَ وَالسِّبَاحَۃَ وَالرَّمْیَ وَأَنْ یُوَرِّثَہُ طَیِّبًا ۔ ہَذَا حَدِیثٌ ضَعِیفٌ۔ عِیسَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْہَاشِمِیُّ ہَذَا مِنْ شُیُوخِ بَقِیَّۃَ مُنْکَرُ الْحَدِیثِ ضَعَّفَہُ یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ وَالْبُخَارِیُّ وَغَیْرُہُمَا۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٩٧٤٢) ابورافع فرماتے ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا اولاد کے بھی والدین پر حق ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں اولاد کا حق والدین پر یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو کتابت، تیر اندازی، گھوڑ سواری سکھائے اور اس کو اچھا وارث بنائے۔