Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 62 · Chapter 3708

جزیہ کا بیان

عرب وعجم سے جزیہ وصول کیا جائے گا امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اکیدر دومہ سے جزیہ وصول کیا۔

7 hadiths in this chapter

18647

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18647

Zaeef

(١٨٦٤١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَسْکَرِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ زَکَرِیَّا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ إِلَی أُکَیْدِرِ دُومَۃَ فَأَخَذُوہُ فَأَتَوْہُ بِہِ فَحَقَنَ لَہُ دَمَہُ وَصَالَحَہُ عَلَی الْجِزْیَۃِ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٦٤١) عثمان بن ابی سلیمان فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خالد بن ولید کو اکیدر دومہ کی جانب روانہ کیا تو خالد بن ولید اسے لے کر آئے اور اس کے خون کو نہ بہایا بلکہ اس نے جزیہ پر صلح کی۔

18648

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18648

Zaeef

(١٨٦٤٢) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی یَزِیدُ بْنُ رُومَانَ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ إِلَی أُکَیْدِرِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ رَجُلٌ مِنْ کِنْدَۃَ کَانَ مَلِکًا عَلَی دُومَۃَ وَکَانَ نَصْرَانِیًّا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لِخَالِدٍ : إِنَّکَ سَتَجِدُہُ یَصِیدُ الْبَقَرَ ۔ فَخَرَجَ خَالِدٌ حَتَّی إِذَا کَانَ مِنْ حِصْنِہِ مَنْظَرَ الْعَیْنِ وَفِی لَیْلَۃٍ مُقْمِرَۃٍ صَافِیَۃٍ وَہُوَ عَلَی سَطْحٍ وَمَعَہُ امْرَأَتُہُ فَأَتَتِ الْبَقَرُ تَحُکُّ بِقُرُونِہَا بَابَ الْقَصْرِ فَقَالَتْ لَہُ امْرَأَتُہُ : ہَلْ رَأَیْتَ مِثْلَ ہَذَا قَطُّ ؟ قَالَ : لاَ وَاللَّہِ قَالَتْ : فَمَنْ یَتْرُکُ مِثْلَ ہَذَا قَالَ : لاَ أَحَدٌ فَنَزَلَ فَأَمَرَ بِفَرَسِہِ فَأُسْرِجَ وَرَکِبَ مَعَہُ نَفَرٌ مِنْ أَہْلِ بَیْتِہِ فِیہِمْ أَخٌ لَہُ یُقَالُ لَہُ حَسَّانُ فَخَرَجُوا مَعَہُ بِمَطَارِدِہِمْ فَتَلَقَّتْہُمْ خَیْلُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَخَذَتْہُ وَقَتَلُوا أَخَاہُ حَسَّانَ وَکَانَ عَلَیْہِ قُبَائُ دِیبَاجٍ مُخَوَّصٌ بِالذَّہَبِ فَاسْتَلَبَہُ إِیَّاہُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ فَبَعَثَ بِہِ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَبْلَ قُدُومِہِ عَلَیْہِ ثُمَّ إِنَّ خَالِدًا قَدِمَ بِالأُکَیْدِرِ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَحَقَنَ لَہُ دَمَہُ وَصَالَحَہُ عَلَی الْجِزْیَۃِ وَخَلَّی سَبِیلَہُ فَرَجَعَ إِلَی قَرْیَتِہِ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الْجِزْیَۃَ مِنْ أَہْلِ ذِمَّۃِ الْیَمَنِ وَعَامَّتُہُمْ عَرَبٌ وَمِنْ أَہْلِ نَجْرَانَ وَفِیہِمْ عَرَبٌ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٦٤٢) حضرت عبداللہ بن ابی بکر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خالد بن ولید کو اکیدر بن عبد الملک جو رومہ کا عیسائی بادشاہ اور کندہ کا ایک فرد تھا کی جانب روانہ کیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خالد بن ولید سے فرمایا کہ تو اس کو گائے کا شکار کرتے ہوئے پائے گا۔ جب خالد اس کے قلعہ پر پہنچے تو چاندنی رات میں وہ اپنی بیوی کے ساتھ چھت پر موجود تھا گائے نے آ کر محل کے دروازے کے ساتھ خارش کرنا شروع کردی تو اس کی بیوی نے کہا : کیا آپ نے اس جیسا کبھی دیکھا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں۔ اس کی بیوی نے کہا : اس جیسے کو کون چھوڑے گا ؟ اس نے کہا : کوئی بھی نہیں تو وہ نیچے اترا اور گھوڑے لانے کا حکم دیا۔ پھر وہ اپنے گھر والوں کے درمیان جس میں اس کا بھائی حسان بھی تھا نکلا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک گروہ نے انھیں پکڑ لیا اور اس کے بھائی حسان کو قتل کردیا۔ اس پر ریشمی قباء تھی جس پر سونے کا کام ہوا تھا تو خالد بن ولید نے آپ کے پاس آنے سے پہلے اسے روانہ کردیا۔ پھر خالد بن ولید اکیدر کو لیکر آپ کے پاس آیا۔ آپ نے خون معاف کردیا اور جزیہ پر صلح کرلی اور اسے واپس جانے کی اجازت دے دی۔ شافعی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یمن کے ذمیوں اور عام عرب سے جزیہ وصول کیا اور اہل نجران میں بھی عرب تھے۔

18649

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18649

Sahih

(١٨٦٤٣) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : بَعَثَنِی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی الْیَمَنِ وَأَمَرَنِی أَنْ آخُذَ مِنْ کُلِّ حَالِمٍ دِینَارًا أَوْ عِدْلَہُ مَعَافِرَ ۔ قَالَ یَحْیَی بْنُ آدَمَ : وَإِنَّمَا ہَذِہِ الْجِزْیَۃُ عَلَی أَہْلِ الْیَمَنِ وَہُمْ قَوْمٌ عَرَبٌ لأَنَّہُمْ أَہْلُ کِتَابٍ أَلاَ تَرَی أَنَّہُ قَالَ : لاَ یُفْتَنُ یَہُودِیٌّ عَنْ یَہُودِیَّتِہِ ۔ یَعْنِی فِی رِوَایَتِہِ عَنْ جَرِیرٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الْحَکَمِ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنَّہُ کَتَبَ إِلَی مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ بِذَلِکَ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٦٤٣) معاذ بن جبل (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے یمن بھیجا اور حکم دیا کہ میں ہر بالغ سے ایک دینار یا اس کے برابر معافری کپڑا وصول کروں۔ یحییٰ بن آدم کہتے ہیں کہ یمن والے عرب لوگ تھے ۔ ان سے جزیہ وصول کیا گیا۔ اس لیے کہ وہ اہل کتاب ہیں اور کہا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ ؟ فرماتے ہیں کہ یہودی کی یہودی کے ذریعہ آزمائش نہ کی جائے گی۔

18650

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18650

Zaeef

(١٨٦٤٤) أَخْبَرَنَا أَبُوعَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ حَدَّثَنَا مُصَرِّفُ بْنُ عَمْرٍو الْیَامِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ أَنْبَأَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ الْہَمْدَانِیُّ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِیِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : صَالَحَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَہْلَ نَجْرَانَ عَلَی أَلْفَیْ حُلَّۃٍ ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٦٤٤) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہلنجران سے دو سو سوٹ پر صلح کی۔

18651

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18651

Sahih

(١٨٦٤٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ : قَدْ أَخَذَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الْجِزْیَۃَ مِنْ أُکَیْدِرِ الْغَسَّانِیِّ وَیَرْوُونَ أَنَّہُ صَالَحَ رِجَالاً مِنَ الْعَرَبِ عَلَی الْجِزْیَۃِ فَأَمَّا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَمَنْ بَعْدَہُ مِنَ الْخُلَفَائِ إِلَی الْیَوْمِ فَقَدْ أَخَذُوا الْجِزْیَۃَ مِنْ بَنِی تَغْلِبَ وَتَنُوخَ وَبَہْرَائَ وَخِلْطٍ مِنْ خِلْطِ الْعَرَبِ وَہُمْ إِلَی السَّاعَۃِ مُقِیمُونَ عَلَی النَّصْرَانِیَّۃِ یُضَاعَفُ عَلَیْہِمُ الصَّدَقَۃُ وَذَلِکَ جِزْیَۃٌ وَإِنَّمَا الْجِزْیَۃُ عَلَی الأَدْیَانِ لاَ عَلَی الأَنْسَابِ وَلَوْلاَ أَنْ نَأْثَمَ بِتَمَنِّی بَاطِلٍ وَدِدْنَا أَنَّ الَّذِی قَالَ أَبُو یُوسُفَ کَمَا قَالَ وَأَنْ لاَ یُجْرَی صَغَارٌ عَلَی عَرَبِیٍّ وَلَکِنَّ اللَّہَ أَجَلُّ فِی أَعْیُنِنَا مِنْ أَنْ نُحِبَّ غَیْرَ مَا قَضَی بِہِ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٦٤٥) امام شافعی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اکیدر غسانی سے جزیہ وصول کیا اور صحابہ فرماتے ہیں کہ آپ نے عرب لوگوں سے جزیہ پر صلح کی۔ حضرت عمر بن خطاب (رض) اور ان کے بعد آج تک جتنے خلفاء ہوئے ہیں سب نے بنو تغلب، تنوخ، بہرأاور عرب کے لوگوں سے جزیہ وصول کیا اور قیامت تک وہ عسائیت پر رہیں گے اور ان سے جزیہ دو گناوصول کیا جائے گا اور جزیہ ادیان پر ہوتا ہے نہ کہ نسلوں پر۔ اگر ہم باطل کی تمنا کرنے کی وجہ سے گناہ گار ہوتے تو ہمیں وہ بات پسند ہے جو ابو یوسف نے کہی کہ ذلت کسی عربی پر مسلط نہ کی جائے گی، لیکن ہماری آنکھوں کے سامنے واضح ہے کہ ہم اس کو پسند کرتے ہیں جس کے مطابق فیصلہ نہیں کیا گیا۔

18652

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18652

Zaeef

(١٨٦٤٦) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ الْقُرَشِیُّ حَدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعِیدٍ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَاہُ یَوْمَ الْمَرْجِ یَقُولُ سَمِعْتُ أَبِی یَقُولُ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ لَوْلاَ أَنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ سَیَمْنَعُ الدِّینَ بِنَصَارَی مِنْ رَبِیعَۃَ عَلَی شَاطِئِ الْفُرَاتِ ۔ مَا تَرَکْتُ عَرَبِیًّا إِلاَّ قَتَلْتُہُ أَوْ یُسْلِمَ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٦٤٦) سعید بن عمرو بن سعید نے اپنے والد سے مرج کے دن سنا کہ وہ کہہ رہے تھے : میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اگر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ بات نہ سنی ہوتی کہ اللہ رب العزت ربعیہ کے انصاری سے دین کو فرأت کے کنارے پر روک دیں گے تو میں کسی عربی کو قتل کرنے سے نہ چھوڑتا یا وہ اسلام قبول کرلیتا۔

18653

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18653

Zaeef

(١٨٦٤٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ فِی قِصَّۃِ وُرُودِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ مِنْ جِہَۃِ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ الْحِیرَۃَ وَمُحَاوَرَۃِ ہَانِئِ بْنِ قَبِیصَۃَ إِیَّاہُ فَقَالَ خَالِدٌ : أَدْعُوکُمْ إِلَی الإِسْلاَمِ وَإِلَی أَنْ تَشْہَدُوا أَنَّہُ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ وَتُقِیمُوا الصَّلاَۃَ وَتُؤْتُوا الزَّکَاۃَ وَتُقِرُّوا بِأَحْکَامِ الْمُسْلِمِینَ عَلَی أَنَّ لَکُمْ مِثْلَ مَا لَہُمْ وَعَلَیْکُمْ مِثْلَ مَا عَلَیْہِمْ فَقَالَ ہَانِئٌ : فَإِنْ لَمْ أَشَأْ ذَلِکَ فَمَہْ قَالَ : فَإِنْ أَبَیْتُمْ ذَلِکَ أَدَّیْتُمُ الْجِزْیَۃَ عَنْ یَدٍ قَالَ فَإِنْ أَبَیْنَا ذَلِکَ قَالَ : فَإِنْ أَبَیْتُمْ ذَلِکَ وَطِئْتُکُمْ بِقَوْمٍ الْمَوْتُ أَحَبُّ إِلَیْہِمْ مِنَ الْحَیَاۃِ إِلَیْکُمْ فَقَالَ ہَانِئٌ : أَجِّلْنَا لَیْلَتَنَا ہَذِہِ فَنَنْظُرَ فِی أَمْرِنَا قَالَ : قَدْ فَعَلْتُ فَلَمَّا أَصْبَحَ الْقَوْمُ غَدَا ہَانِئٌ فَقَالَ : إِنَّہُ قَدِ اجْتَمَعَ أَمْرُنَا عَلَی أَنْ نُؤَدِّیَ الْجِزْیَۃَ فَہَلُمَّ فَلأُصَالِحَکَ فَقَالَ لَہُ خَالِدٌ : کَیْفَ وَأَنْتُمْ قَوْمٌ عَرَبٌ تَکُونُ الْجِزْیَۃُ وَالذُّلُّ أَحَبَّ إِلَیْکُمْ مِنَ الْقِتَالِ وَالْعِزِّ فَقَالَ : نَظَرْنَا فِیمَا یُقْتَلُ مِنَّا فَإِذَا ہُمْ لاَ یَرْجِعُونَ وَنَظَرْنَا إِلَی مَا یُؤْخَذُ مِنَّا مِنَ الْمَالِ فَقَلَّمَا نَلْبَثُ حَتَّی یُخْلِفَہُ اللَّہُ لَنَا قَالَ : فَصَالَحَہُمْ خَالِدٌ عَلَی تِسْعِینَ أَلْفًا۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٦٤٧) ابن اسحاق خالد بن ولید کے ابوبکر صدیق (رض) کی جانب سے حیرہشہر میں ورود کے قصہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں اور محاورہ ہانی بن قبیصہ بیان کرتے ہیں کہ خالد بن ولید نے فرمایا : میں تم کو اسلام کی دعوت دیتا ہوں اور اس بات کی کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد بندے اور رسول ہیں اور تم قائم کرو، زکوۃ ادا کرو اور تم پر مسلمانوں والے احکام جاری ہوں گے اور تم پر وہ ذمے داریاں عائد ہوں گی جو ان پر ہیں۔ ہانی نے کہا : اگر ہم اس کو بھی نہ مانیں۔ فرمایا : اگر تم اس بات کو بھی نہیں مانتے تو تم جزیہ ادا کرو۔ اس نے کہا : اگر میں یہ نہ چاہوں۔ فرمایا اگر تم اس بات کو نہیں مانتے تو پھر تمہارا واسطہ ایسی قوم سے پڑے گا جنہیں موت زندگی سے زیادہ محبوب ہے جیسے تمہیں زندگی محبوب ہے۔ ہانی نے کہا : آپ ہمیں ایک رات مہلت دیں۔ ہم اپنے معاملے میں سوچ وبچار کرلیں۔ کہنے لگے : میں آپ کو مہلت دیتا ہوں ۔ جب لوگوں نے صبح کی تو ہانی نے آ کر کہا کہ ہم اس پر متفق ہوئے ہیں کہ ہم جزیہ ادا کیا کریں گے۔ آؤ میں آپ سے صلح کرنا چاہتا ہوں۔ خالد نے کہا : تم عرب لوگ ہو جزیہ اور ذلت کو لڑائی اور عزت پر ترجیح دے رہے ہو۔ اس نے کہا : ہم نے غور وفکر کیا۔ جو ہمارے قتل کیے جائیں گے وہ کبھی واپس نہ لوٹیں گے اور جو ہم سے مال لیا جائے گا تھوڑی مدت کے بعد اللہ رب العزت اور دے دیں گے تو حضرت خالد نے نوے ہزار پر صلح کی۔