Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 62 · Chapter 3707

جزیہ کا بیان

نزول قرآن سے پہلے جو اہل کتاب سے جا ملا

2 hadiths in this chapter

18645

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18645

Zaeef

(١٨٦٣٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی قَوْلِہِ تَعَالَی { لاَ إِکْرَاہَ فِی الدِّینِ } [البقرۃ ٢٥٦] قَالَ : کَانَتِ الْمَرْأَۃُ مِنَ الأَنْصَارِ لاَ تَکَادُ یَعِیشُ لَہَا وَلَدٌ فَتَحْلِفُ لَئِنْ عَاشَ لَہَا وَلَدٌ لَتُہَوِّدَنَّہُ فَلَمَّا أُجْلِیَتْ بَنُو النَّضِیرِ إِذَا فِیہِمْ نَاسٌ مِنْ أَبْنَائِ الأَنْصَارِ فَقَالَتِ الأَنْصَارُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَبْنَاؤُنَا فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { لاَ إِکْرَاہَ فِی الدِّینِ } [البقرۃ ٢٥٦] قَالَ سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ : مَنْ شَائَ لَحِقَ بِہِمْ وَمَنْ شَائَ دَخَلَ فِی الإِسْلاَمِ ۔ أَخْرَجَہُ أَبُو دَاوُدَ فِی السُّنَنِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ شُعْبَۃَ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٦٣٩) سعید بن جبیر (رض) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے اللہ کے اس فرمان : { لاَ إِکْرَاہَ فِی الدِّینِ } [البقرۃ ٢٥٦] کے متعلق فرماتے ہیں کہ ایک عورت کے بچے زندہ نہ رہتے تھے۔ اس نے قسم کھائی اگر اولاد زندہ رہی تو وہ یہودی بن جائے گی۔ جب بنو نضیر کو جلا وطن کیا گیا تو ان میں انصار کی ” اولاد بھی تھی تو انصار نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہمارے بیٹے تو اللہ نے { لاَ إِکْرَاہَ فِی الدِّینِ } [البقرۃ ٢٥٦] دین میں زبردستی نہیں نازل کی سعید بن جبیر (رض) نے کہا : جو چاہے ان کے ساتھ مل جائے جو چاہے اسلام میں داخل ہوجائے۔

18646

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18646

Zaeef

(١٨٦٤٠) وَرَوَاہُ أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ أَبِی بِشْرٍ فَأَرْسَلَہُ ۔ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی { لاَ إِکْرَاہَ فِی الدِّینِ } [البقرۃ ٢٥٦] قَالَ : نَزَلَتْ فِی الأَنْصَارِ قُلْتُ : خَاصَّۃً ۔ قَالَ : خَاصَّۃً کَانَتِ الْمَرْأَۃُ مِنْہُمْ إِذَا کَانَتْ نَزْرَۃً أَوْ مِقْلاَۃً تَنْذِرُ لَئِنْ وَلَدَتْ وَلَدًا لَتَجْعَلَنَّہُ فِی الْیَہُودِ تَلْتَمِسُ بِذَلِکَ طُولَ بَقَائِہِ فَجَائَ الإِسْلاَمُ وَفِیہِمْ مِنْہُمْ فَلَمَّا أُجْلِیَتِ النَّضِیرُ قَالَتِ الأَنْصَارُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَبْنَاؤُنَا وَإِخْوَانُنَا فِیہِمْ فَسَکَتَ عَنْہُمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَنَزَلَتْ { لاَ إِکْرَاہَ فِی الدِّینِ } [البقرۃ ٢٥٦] فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : قَدْ خُیِّرَ أَصْحَابُکُمْ فَإِنِ اخْتَارُوکُمْ فَہُمْ مِنْکُمْ وَإِنِ اخْتَارُوہُمْ فَأَجْلُوہُمْ مَعَہُمْ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٦٤٠) ابو بشر اللہ کے اس فرمان کے بارے میں سعید بن جبیر (رض) سے نقل فرماتے ہیں : { لاَ إِکْرَاہَ فِی الدِّینِ } [البقرۃ ٢٥٦] کہ اسلام میں زبردستی نہیں ہے۔ فرماتے ہیں : یہ انصار کے بارے میں نازل ہوئی۔ میں نے پوچھا : خاص انصار کے متعلق ؟ فرمایا : خاص انصار کے بارے میں۔ ان کی ایک عورت جب نذر مانتی کہ اگر اس نے بچہ جنم دیا تو اس کو یہود کے ساتھ ملا دیگی وہ اس کی لمبی زندگی کی متلاشی تھی۔ جب اسلام آیا تو بعض لوگ اس طرح کے تھے۔ جب بنو نضیر جلا وطن کیے گئے تو انصار نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہمارے بیٹے اور بھائی ان میں موجود ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ { لاَ إِکْرَاہَ فِی الدِّینِ } [البقرۃ ٢٥٦] تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے ان لوگوں کو اختیار دیا گیا ہے اگر ان کے ساتھ رہنا چاہیں تو جلا وطن کر دو ۔ اگر تمہارے پاس رہنا چاہیں تو رہ سکتے ہیں۔