Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3681

سیر کا بیان

اللہ کے راستہ میں مرجانے کی فضلیت کا بیان

6 hadiths in this chapter

18540

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18540

Zaeef

(١٨٥٣٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الإِمَامُ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ الأَنْصَارِیُّ وَأَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ الْحِیرِیُّ وَأَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَارِسِیُّ قَالُوا أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَانَ یَدْخُلُ عَلَی أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُہُ وَکَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ تَحْتَ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ فَدَخَلَ عَلَیْہَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمًا فَأَطْعَمَتْہُ ثُمَّ جَلَسَتْ تَفْلِی رَأْسَہُ فَنَامَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ثُمَّ اسْتَیْقَظَ وَہُوَ یَضْحَکُ قَالَتْ فَقُلْتُ : مَا یُضْحِکُکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ ؟ فَقَالَ : نَاسٌ مِنْ أُمَّتِی عُرِضُوا عَلَیَّ غُزَاۃً فِی سَبِیلِ اللَّہِ یَرْکَبُونَ ثَبَجَ ہَذَا الْبَحْرِ مُلُوکًا عَلَی الأَسِرَّۃِ أَوْ مِثْلَ الْمُلُوکِ عَلَی الأَسِرَّۃِ ۔ یَشُکُّ أَیَّہُمَا قَالَ قَالَتْ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ادْعُ اللَّہَ أَنْ یَجْعَلَنِی مِنْہُمْ فَدَعَا لَہَا ثُمَّ وَضَعَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - رَأْسَہُ فَنَامَ ثُمَّ اسْتَیْقَظَ وَہُوَ یَضْحَکُ قَالَتْ فَقُلْتُ : مَا یُضْحِکُکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : نَاسٌ مِنْ أُمَّتِی عُرِضُوا عَلَیَّ غُزَاۃً فِی سَبِیلِ اللَّہِ ۔ کَمَا قَالَ فِی الأُولَی قَالَتْ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ادْعُ اللَّہَ أَنْ یَجْعَلَنِی مِنْہُمْ قَالَ : أَنْتِ مِنَ الأَوَّلِینَ ۔ فَرَکِبَتِ أُمُّ حَرَامٍ بِنْتُ مِلْحَانَ الْبَحْرَ فِی زَمَنِ مُعَاوِیَۃَ فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِہَا حِینَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ فَہَلَکَتْ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ إِسْمَاعِیلَ وَغَیْرِہِ عَنْ مَالِکٍ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٥٣٤) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ام حرام بنت ملحان کے پاس کھانے کے لیے تشریف لائے اور ام حرام عبادہ بن صامت کے نکاح میں تھیں۔ ایک دن آپ اس کے پاس آئے تو وہ کھانا کھلانے کے بعد سر سے جوئیں نکالنے بیٹھ گئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سونے کے بعد بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ کہتی ہیں : میں نے کہا : آپ کو کس بات نے ہنسادیا ؟ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے فرمایا : میری امت کے لوگ اللہ کے راستہ میں جہاد کرتے ہوئے میرے سامنے پیش کیے گئے۔ وہ سمندر کے درمیان سواری کرتے ہیں، جیسے بادشاہ تختوں پر۔ راوی کہتے ہیں کہ ام حرام نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! دعا کردیں کہ میں بھی ان میں سے ہوجاؤں آپ نے دعا کردی۔ پھر آپ سونے کے بعد بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ فرماتی ہیں : میں نے کہا : آپ کو کسی چیز نے ہنسادیا ؟ فرمایا : میری امت کے لوگ غزوہ کرتے ہوئے میرے سامنے پیش کیے گئے جیسے پہلی مرتبہ تھے۔ انھوں نے دوبارہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دعا کی درخواست کردی کہ اسے ان میں شمار کیا جائے۔ آپ نے فرمایا : تو پہلے لوگوں میں سے ہے۔ معاویہ (رض) کے دور میں ام حرام نے سمندر کا سفر کیا جب سمندر سے نکلی تو چوپائے کی سواری سے گرنے کی وجہ سے وفات پا گئیں۔

18541

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18541

Sahih

(١٨٥٣٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا (ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ ہِشَامٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ حَدَّثَتْنِی أُمُّ حَرَامٍ بِنْتُ مِلْحَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ فِی بَیْتِہَا یَوْمًا ثُمَّ اسْتَیْقَظَ وَہُوَ یَضْحَکُ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا أَضْحَکَکَ ؟ قَالَ : عُرِضَ عَلَیَّ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِی یَرْکَبُونَ ظَہْرَ ہَذَا الْبَحْرِ کَالْمُلُوکِ عَلَی الأَسِرَّۃِ ۔ قُلْتُ : ادْعُ اللَّہَ أَنْ یَجْعَلَنِی مِنْہُمْ فَدَعَا لَہَا ثُمَّ نَامَ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِکَ فَقُلْتُ : ادْعُ اللَّہَ أَنْ یَجْعَلَنِی مِنْہُمْ قَالَ : أَنْتِ مِنَ الأَوَّلِینَ ۔ فَتَزَوَّجَہَا عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ فَغَزَا بِہَا فِی الْبَحْرِ فَلَمَّا رَجَعُوا قُرِّبَتْ لَہَا بَغْلَۃٌ لِتَرْکَبَہَا فَصَرَعَتْہَا فَدَقَّتْ عُنُقَہَا فَمَاتَتْ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی النُّعْمَانِ عَنْ حَمَّادٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ خَلَفِ بْنِ ہِشَامٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٥٣٥) ام حرام بنت ملحان فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک دن انس (رض) کے گھر تشریف فرما تھے تو بیدار ہونے کے بعد مسکرا رہے تھے۔ میں نے پوچھا : آپ کو کسی چیز نے مسکرادیا ہے ؟ فرمایا : میری امت کے لوگ سمندر پر سواری کرتے ہوئے میرے سامنے پیش کیے گئے جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا : دعا کریں اللہ مجھے بھی ان میں شامل کرلے۔ آپ دعا کرکے دوبارہ لیٹ گئے۔ پھر بیدار ہونے کے بعد اس طرح ہی کہا، میں نے دوبارہ دعا کی درخواست کی تو آپ نے فرمایا : تو پہلے لوگوں میں سے ہے تو عبادہ بن صامت نے ان سے نکاح کیا اور سمندری سفر میں لے گئے۔ جب واپس آنے لگے تو خچر سے گرنے کی وجہ کی سے گردن ٹوٹ گئی، یہ ان کی ہلاکت کا سبب بنا۔

18542

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18542

Zaeef

(١٨٥٣٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأُمَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَتِیکٍ أَخِی بَنِی سَلِمَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : مَنْ خَرَجَ مِنْ بَیْتِہِ مُجَاہِدًا فِی سَبِیلِ اللَّہِ ۔ قَالَ ثُمَّ ضَمَّ أَصَابِعَہُ الثَلاَثَ وَأَیْنَ الْمُجَاہِدُونَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ؟ مَنْ خَرَجَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَخَرَّ عَنْ دَابَّتِہِ فَمَاتَ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُہُ عَلَی اللَّہِ وَإِنْ لَدَغَتْہُ دَابَّۃٌ فَمَاتَ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُہُ عَلَی اللَّہِ وَمَنْ مَاتَ حَتْفَ أَنْفِہِ ۔ قَالَ : وَإِنَّہَا لَکَلِمَۃٌ مَا سَمِعْتُہَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعَرَبِ أَوَّلَ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَعْنِی بِحَتْفِ أَنْفِہِ عَلَی فِرَاشِہِ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُہُ عَلَی اللَّہِ وَمَنْ قُتِلَ قَعْصًا فَقَدِ اسْتَوْجَبَ الْجَنَّۃَ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٥٣٦) بنو سلمہ کے محمد بن عبداللہ بن عتیک اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو جہاد فی سبیل اللہ کی نیت گھر سے نکلا۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ نے اپنی تین انگلیاں ملائیں اور فرمایا : اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کہاں ہیں ؟ جو شخص اللہ کے راستہ میں اپنی سواری سے گر کر فوت ہوجائے تو اس کا معاملہ اللہ کے ذمہ ہے اور اگر کسی چیز کے ڈسنے کی وجہ سے فوت ہوجائے تو اس کو مکمل اجر ملے گا اور جو انسان اپنی طبعی موت فوت ہوگیا۔ راوی کہتے ہیں : یہ کلمہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے کسی عرب سے نہ سنا تھا، یعنی جو اپنے بستر پر فوت ہوگیا اس کا اجر بھی اللہ کے ذمہ ہے اور جو انسان موقع پر ہی قتل کردیا گیا اس نے جنت کو واجب کرلیا۔

18543

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18543

Sahih

(١٨٥٣٧) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِیہِ یَرُدُّہُ إِلَی مَکْحُولٍ إِلَی ابْنِ غَنْمٍ الأَشْعَرِیِّ أَنَّ أَبَا مَالِکٍ الأَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ مَنِ انْتَدَبَ خَارِجًا فِی سَبِیلِ اللَّہِ ابْتِغَائَ وَجْہِہِ وَتَصْدِیقَ وَعْدِہِ وَإِیمَانًا بِرِسَالاَتِہِ عَلَی اللَّہِ ضَامِنٌ فَإِمَّا یَتَوَفَّاہُ اللَّہُ فِی الْجَیْشِ بِأَیِّ حَتْفٍ شَائَ فَیُدْخِلُہُ الْجَنَّۃَ وَإِمَّا یَسِیحُ فِی ضَمَانِ اللَّہِ وَإِنْ طَالَتْ غَیْبَتُہُ ثُمَّ یَرُدُّہُ إِلَی أَہْلِہِ سَالِمًا مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ وَغَنِیمَۃٍ ۔ قَالَ : وَمَنْ فَصَلَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَمَاتَ أَوْ قُتِلَ یَعْنِی فَہُوَ شَہِیدٌ أَوْ وَقَصَہُ فَرَسُہُ أَوْ بَعِیرُہُ أَوْ لَدَغَتْہُ ہَامَّۃٌ أَوْ مَاتَ عَلَی فِرَاشِہِ بِأَیِّ حَتْفٍ شَائَ اللَّہُ فَإِنَّہُ شَہِیدٌ وَلَہُ الْجَنَّۃُ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٥٣٧) ابومالک اشعری (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ فرماتے ہیں : جو شخص اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلتا ہے اللہ کی رضا مندی کی تلاش، اس کے وعدے کی تصدیق اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے کی وجہ سے تو اللہ رب العزت اس بندے کا ضامن ہے کہ اللہ اس کو لشکر میں جس طرح بھی موت دے۔ اس کو جنت میں داخل کرلے گا۔ وہ اللہ کی ضمانت میں ہی رہے گا۔ اگرچہ وہ زیادہ دیر غائب رہے۔ پھر اللہ رب العزت اس کو اس کے گھر صحیح سلامت اور اجر وثواب اور مال غنیمت کے ساتھ واپس کرے گا۔ راوی کہتے ہیں : جو اللہ کے راستہ میں فوت ہوجائے یا شہید ہوجائے یا اس کا گھوڑا یا اونٹ گرادے یا کوئی زیریلی چیز ڈس لے یا اپنے بستر پر ہی فوت ہوجائے یہ شہید ہے اور اس کے لیے جنت ہے۔

18544

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18544

Sahih

(١٨٥٣٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا سِمَاکُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْہِرٍ : عَبْدُ الأَعْلَی بْنُ مُسْہِرٍ الْغَسَّانِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی سُلَیْمَانُ بْنُ حَبِیبٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ الْبَاہِلِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : ثَلاَثَۃٌ کُلُّہُمْ ضَامِنٌ عَلَی اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلٌ خَرَجَ غَازِیًا فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَہُوَ ضَامِنٌ عَلَی اللَّہِ حَتَّی یَتَوَفَّاہُ فَیُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ أَوْ یَرُدَّہُ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِیمَۃٍ وَرَجُلٌ رَاحَ إِلَی الْمَسْجِدِ فَہُوَ ضَامِنٌ عَلَی اللَّہِ حَتَّی یَتَوَفَّاہُ فَیُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ أَوْ یَرُدَّہُ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِیمَۃٍ وَرَجُلٌ دَخَلَ بَیْتَہُ بِسَلاَمٍ فَہُوَ ضَامِنٌ عَلَی اللَّہِ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٥٣٨) ابوامامہ باہلی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ تین شخصوں کا اللہ ضامن ہے : ایسا شخص جو جہاد کے لیے نکلتا ہے تو اللہ اس کی ضمانت دیتے ہیں کہ اسے فوت کرکے جنت میں داخل کرلے یا ایسے شخص کو ثواب یا مال غنیمت کے ساتھ واپس کریں اور ایسا شخص جو مسجد جاتا ہے تو اللہ کے ذمے ہے کہ موت کے بعد اس کو جنت میں داخل کرے یا ثواب یا مال غنیمت دے کر واپس کرے۔ اور وہ آدمی جو اپنے گھر میں سلام کہہ کر داخل ہوتا ہے۔ اس کا بھی اللہ ضامن ہے۔

18545

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18545

Zaeef

(١٨٥٣٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ الْبَزَّارُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ یَعْقُوبَ عَنْ قَیْسِ بْنِ رَافِعٍ الْقَیْسِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّہُ مَرَّ بِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ قَاعِدٌ عَلَی بَابِہِ یُشِیرُ بِیَدِہِ کَأَنَّہُ یُحَدِّثُ نَفْسَہُ فَقَالَ لَہُ عَبْدُ اللَّہِ : مَا شَأْنُکَ یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ تُحَدِّثُ نَفْسَکَ قَالَ وَمَا لِی یُرِیدُ عَدُوُّ اللَّہِ أَنْ یُلْہِیَنِی عَنْ کَلاَمٍ سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ تُکَابِدُ دَہْرَکَ الآنَ فِی بَیْتِکَ أَلاَ تَخْرُجَ إِلَی الْمَجْلِسِ فَتُحَدِّثَ وَأَنَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : مَنْ جَاہَدَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ کَانَ ضَامِنًا عَلَی اللَّہِ وَمَنْ جَلَسَ فِی بَیْتِہِ لاَ یَغْتَابُ أَحَدًا بِسُوئٍ کَانَ ضَامِنًا عَلَی اللَّہِ وَمَنْ عَادَ مَرِیضًا کَانَ ضَامِنًا عَلَی اللَّہِ وَمَنَ غَدَا إِلَی الْمَسْجِدِ أَوْ رَاحَ کَانَ ضَامِنًا عَلَی اللَّہِ وَمَنْ دَخَلَ عَلَی إِمَامٍ یُعَزِّرُہُ کَانَ ضَامِنًا عَلَی اللَّہِ ۔ فَیُرِیدُ عَدُوُّ اللَّہِ أَنْ یُخْرِجَنِی مِنْ بَیْتِی إِلَی الْمَجْلِسِ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٥٣٩) حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ وہ معاذ بن جبل (رض) کے پاس سے گزرے۔ وہ اپنے گھر کے دروازے کے سامنے بیٹھے ہاتھوں سے اشارے کر رہے تھے۔ گویا آپ سے باتیں کر رہے ہیں تو عبداللہ نے کہا : اے ابو عبدالرحمن ! اپنے نفس سے باتیں کررہے ہو۔ اس نے کہا کہ اللہ کے دشمن مجھے اس کلام سے غافل کردینا چاہتے ہیں جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہے۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا جو اللہ کے راستہ میں جہاد کے لیے نکلتا ہے، اللہ اس کا ضامن ہے اور جو انسان اپنے گھر میں کسی کی برائی بیان نہیں کرتا، یعنی چغلی نہیں کرتا اللہ اس کا بھی ضامن ہے اور جو بیمار کی تیمارداری کرلے صبح یا شام مسجد کی طرف جائے ان کا بھی اللہ ضامن ہے اور جو شخص امام کی مدد کرتا ہے، اللہ اس کا بھی ضامن ہے۔ اللہ کے دشمن کا ارادہ تھا کہ مجھے میرے گھر سے مجلس کی طرف نکال دیں۔