Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3652

سیر کا بیان

ایسا مسلم انسان جو مسلمانوں کے راز مشرکین کو بتاتا ہے

2 hadiths in this chapter

18440

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18440

Sahih

(١٨٤٣٤) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِیِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ ہَاشِمِ بْنِ حَیَّانَ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْمُرَادِیُّ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی رَافِعٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنَا وَالزُّبَیْرَ وَالْمِقْدَادَ فَقَالَ : انْطَلِقُوا حَتَّی تَأْتُوا رَوْضَۃَ خَاخٍ فَإِنَّ بِہَا ظَعِینَۃً مَعَہَا کِتَابٌ ۔ فَخَرَجْنَا تَعَادَی بِنَا خَیْلُنَا فَإِذَا نَحْنُ بِظَعِینَۃٍ فَقُلْنَا أَخْرِجِی الْکِتَابَ فَقَالَتْ مَا مَعِیَ کِتَابٌ فَقُلْنَا لَہَا لَتُخْرِجِنَّ الْکِتَابَ أَوْ لَنُلْقِیَنَّ الثِّیَابَ فَأَخْرَجَتْہُ مِنْ عِقَاصِہَا فَأَتَیْنَا بِہِ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَإِذَا فِیہِ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِی بَلْتَعَۃَ إِلَی أُنَاسٍ مِنَ الْمُشْرِکِینَ مِمَّنْ بِمَکَّۃَ یُخْبِرُ بِبَعْضِ أَمْرِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : مَا ہَذَا یَا حَاطِبُ ؟ ۔ قَالَ : لاَ تَعْجَلْ عَلَیَّ إِنِّی کُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِی قُرَیْشٍ وَلَمْ أَکُنْ مِنْ أَنْفُسِہَا وَکَانَ مَنْ مَعَکَ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ لَہُمْ قَرَابَاتٌ یَحْمُونَ بِہَا قَرَابَاتِہِمْ وَلَمْ یَکُنْ لِی بِمَکَّۃَ قَرَابَۃٌ فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِی ذَلِکَ أَنْ أَتَّخِذَ عِنْدَہُمْ یَدًا وَاللَّہِ مَا فَعَلْتُہُ شَکًّا فِی دِینِی وَلاَ رِضًا بِالْکُفْرِ بَعْدَ الإِسْلاَمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّہُ قَدْ صَدَقَ ۔ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ دَعْنِی أَضْرِبُ عُنُقَ ہَذَا الْمُنَافِقِ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّہُ قَدْ شَہِدَ بَدْرًا وَمَا یُدْرِیکَ لَعَلَّ اللَّہُ اطَّلَعَ عَلَی أَہْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ ۔ وَنَزَلَتْ { یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَ تَتَّخِذُوا عَدُوِّی وَعَدُوَّکُمْ أَوْلِیَائَ تُلْقُونَ إِلَیْہِمْ بِالْمَوَدَّۃِ } [الممتحنۃ ١] أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ جَمَاعَۃٍ عَنْ سُفْیَانَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٤٣٤) عبید اللہ بن ابی رافع کہتے ہیں : میں نے حضرت علی (رض) سے سنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے، زبیر (رض) اور مقداد کو روانہ کیا اور فرمایا کہ تم روضہ خاخ نامی جگہ جاؤ وہاں ایک عورت ہوگی جس کے پاس ایک خط ہے۔ ہم نے اپنے گھوڑے بھگائے وہاں پہنچے تو ایک عورت تھی۔ ہم نے خط مانگا تو وہ کہنے لگی میرے پاس خط نہیں ہے۔ ہم نے کہا : خط نکالو وگرنہ تجھے تنگی کردیں گے تو اس نے اپنی مینڈھیوں سے خط نکال کر دے دیا۔ ہم اسے لیکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے۔ اس میں تھا کہ یہ حاطب بن ابی بلتعہ کی جانب سے مشرکین مکہ کی طرف ہے۔ جس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعض خبریں دی گئی تھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اے حاطب ! یہ کیا ہے ؟ اس نے کہا : آپ جلدی نہ کریں، میں باہر سے آ کر مہاجرین میں ان کی وہاں رشتہ داریاں ہیں تو وہ لوگ اپنے رشتے داروں کی حفاظت کرتے ہیں۔ میری مکہ میں میرا کوئی قریبی نہیں ہے تو میں نے چاہا۔ اس کی جگہ میں ان پر کوئی احسان کر دوں۔ اللہ کی قسم ! میں نے دین کے بارے میں شک کرتے ہوئے اور نہ ہی اسلام کے بعد کفر کو پسند کرنے کی وجہ سے ایسا کیا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے سچ کہا ہے۔ حضرت عمر (رض) کہنے لگے : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے اجازت دیں، میں اس منافق کی گردن اتار دوں تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ بدری ہے کیا آپ کو معلوم نہیں اللہ رب العزت نے بدر والوں کو دیکھتے ہوئے فرمایا تھا کہ جو تم چاہو عمل کرو، میں نے تمہیں معاف کردیا ہے اور یہ آیت نازل ہوئی : { یاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوْا عَدُوِّی وَعَدُوَّکُمْ اَوْلِیَآئَ تُلْقُوْنَ اِلَیْہِمْ بِالْمَوَدَّۃ } [الممتحنۃ ١] اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو تم اپنے اور میرے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ تم ان کی جانب محبت کے پیغام بھیجتے ہو۔

18441

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18441

Sahih

(١٨٤٣٥) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ حُصَیْنٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیِّ وَحَیَّانَ بْنِ عَطِیَّۃَ السُّلَمِیِّ : أَنَّہُمَا کَانَا یَتَنَازَعَانِ فِی عَلِیٍّ وَعُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَکَانَ حَیَّانُ یُحِبُّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَکَانَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ یُحِبُّ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَمِعْتُہُ یُحَدِّثُ یَعْنِی عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ کَتَبَ حَاطِبُ بْنُ أَبِی بَلْتَعَۃَ إِلَی مَکَّۃَ أَنَّ مُحَمَّدًا یُرِیدُ أَنْ یَغْزُوَکُمْ بِأَصْحَابِہِ فَخُذُوا حِذْرَکُمْ وَدَفَعَ کِتَابَہُ إِلَی امْرَأَۃٍ یُقَالُ لَہَا سَارَۃُ فَجَعَلَتْہُ فِی إِزَارِہَا فِی ذُؤَابَۃٍ مِنْ ذَوَائِبِہَا فَانْطَلَقَتْ فَأَطْلَعَ اللَّہُ رَسُولَہُ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی ذَلِکَ قَالَ عَلِیٌّ فَبَعَثَنِی وَمَعِی الزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّامِ وَأَبُو مَرْثَدٍ الْغَنَوِیُّ وَکُلُّنَا فَارِسٌ قَالَ : انْطَلِقُوا فَإِنَّکُمْ سَتَلْقَوْنَہَا بِرَوْضَۃِ کَذَا وَکَذَا فَفَتِّشُوہَا فَإِنَّ مَعَہَا کِتَابًا إِلَی أَہْلِ مَکَّۃَ مِنْ حَاطِبٍ ۔ فَانْطَلَقْنَا فَوَافَقْنَاہَا فَقُلْنَا ہَاتِی الْکِتَابَ الَّذِی مَعَکِ إِلَی أَہْلِ مَکَّۃَ فَقَالَتْ مَا مَعِیَ کِتَابٌ قَالَ قُلْتُ مَا کَذَبْتُ وَلاَ کُذِّبْتُ لَتُخْرِجِنَّہُ أَوْ لأُجَرِّدَنَّکِ فَلَمَّا عَرَفَتْ أَنِّی فَاعِلٌ أَخْرَجَتِ الْکِتَابَ فَأَخَذْنَاہُ فَانْطَلَقْنَا بِہِ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَفَتَحَہُ فَقَرَأَہُ فَإِذَا فِیہِ : مِنْ حَاطِبٍ إِلَی أَہْلِ مَکَّۃَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ مُحَمَّدًا یُرِیدُکُمْ فَخُذُوا حِذْرَکُمْ وَتَأَہَّبُوا أَوْ کَمَا قَالَ فَلَمَّا قَرَأَ الْکِتَابَ أَرْسَلَ إِلَی حَاطِبٍ فَقَالَ لَہُ : أَکَتَبْتَ ہَذَا الْکِتَابَ ؟ ۔ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ : فَمَا حَمَلَکَ عَلَی ذَلِکَ ؟ ۔ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَمَّا وَاللَّہِ مَا کَفَرْتُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَإِنِّی لِمُؤْمِنٌ بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ وَمَا حَمَلَنِی عَلَی مَا صَنَعْتُ مِنْ کِتَابِی إِلَی أَہْلِ مَکَّۃَ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَکُنْ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِکَ إِلاَّ وَلَہُ ہُنَاکَ بِمَکَّۃَ مَنْ یَدْفَعُ عَنْ أَہْلِہِ وَمَالِہِ وَلَمْ یَکُنْ لِی ہُنَاکَ أَحَدٌ یَدْفَعُ عَنْ أَہْلِی وَمَالِی فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَّخِذَ عِنْدَ الْقَوْمِ یَدًا وَإِنِّی لأَعْلَمُ أَنَّ اللَّہَ سَیُظْہِرُ رَسُولَہُ عَلَیْہِمْ قَالَ فَصَدَّقَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَقَبِلَ قَوْلَہُ قَالَ فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ دَعْنِی فَأَضْرِبَ عُنُقَہُ فَإِنَّہُ قَدْ خَانَ اللَّہَ وَالْمُؤْمِنِینَ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : یَا عُمَرُ إِنَّہُ مِنْ أَہْلِ بَدْرٍ وَمَا یُدْرِیکَ لَعَلَّ اللَّہَ اطَّلَعَ عَلَیْہِمْ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ ہُشَیْمٍ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ إِدْرِیسَ وَغَیْرِہِ عَنْ حُصَیْنٍ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَقَدْ رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنَّہُ قَالَ : تَجَافَوْا لِذَوِی الْہَیْئَاتِ ۔ وَقِیلَ فِی الْحَدِیثِ : مَا لَمْ یَکُنْ حَدًّا ۔ فَإِذَا کَانَ ہَذَا مِنَ الرَّجُلِ ذِی الْہَیْئَۃِ وَقِیلَ بِجَہَالَۃٍ کَمَا کَانَ ہَذَا مِنْ حَاطِبٍ بِجَہَالَۃٍ وَکَانَ غَیْرُ مُتَّہَمٍ أَحْبَبْتُ أَنْ یَتَجَافَی لَہُ وَإِذَا کَانَ مِنْ غَیْرِ ذِی الْہَیْئَۃِ کَانَ لِلإِمَامِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ تَعْزِیرُہُ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٤٣٥) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ حاطب بن ابی بلتعہ نے مکہ والوں کو خط لکھا کہ محمد تم پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔ اپنا دفاع کرو اور یہ خط دے کر سائرہ نامی عورت کو روانہ کردیا تو اس نے خط کو میڈھیوں کے اندر چھپالیا۔ وہ چل پڑی۔ ادھر اللہ رب العزت نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطلاع دے دی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے علی (رض) ، زبیر بن عوام (رض) اور ابومرثدغنوی (رض) ۔ تمام شاہسواروں کو بھیج دیا اور فرمایا کہ تم فلاں جگہ ایک عورت کو ملو گے۔ اس کی تلاشی لینا۔ اس کے پاس حاطب کی جانب سے مکہ والوں کے نام ایک خط ہے۔ کہتے ہیں : ہم چلے اسی جگہ ہم نے عورت کو پایا۔ ہم نے کہا :۔ مکہ والوں کے نام خط ہے۔ وہ نکال دے۔ اس نے کہا : میرے پاس کوئی خط نہیں۔ کہتے ہیں : میں نے کہا : نہ تو میں جھوٹ بولتا ہوں اور نہ میں تکذیب کرتا ہوں تو خط نکال دے یا میں تیرے کپڑے اتار دوں گا۔ جب اس نے جان لیا کہ یہ ایسا ہی کریں گے۔ تو اس نے خط نکال دیا تو ہم لیکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھول کر پڑھا تو اس میں تھا کہ حاطب کی جانب سے مکہ والوں کی طرف کہ محمد تم پر حملہ کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تم اپنے دفاع کی تیاری کرو۔ جب آ نے خط پڑھا تو حاطب کو بلایا۔ آپ نے جو چھا : تو نے یہ خط لکھا ؟ اس نے کہا : ہاں۔ پوچھا : تجھے کس چیز نے اس پر ابھارا تو حاطب نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اسلام لانے کے بعد میں نے کفر نہیں کیا۔ میں اللہ اور رسول پر ایمان رکھتا ہوں۔ میں نے خط حرف اس لیے لکھا کہ مکہ میں میرے اہل و مال کا دفاع کرنے والا کوئی نہیں، جس طرح دوسرے صحابہ کے مکہ میں موجود ہیں۔ میں صرف ان لوگوں پر احسان کرنا چاہتا تھا اور مجھے اس بات کا بھی یقین ہے کہ اللہ آپ کے رسول کو غالبہ دیں گے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی تصدیق کی اور عذر قبول کرلیا۔ راوی کہتے کہ حضرت عمر (رض) نے ان کے قتل کی اجازت طلب کی۔ کیونکہ اس نے اللہ ورسول سے خیانت کی تھی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمر ! یہ بدری ہے۔ آپ کہ کیا معلوم کہ اللہ نے ان پر جھانک لیا اور فرمایا : جو تمہارا دل چاہے عمل کرو میں نے تمہیں معاف کردیا ہے۔ (ب) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے کہ تم معزز لوگوں سے حدوں کو دور کرو۔ حدیث میں کہا گیا ہے کہ یہ حد نہ تھی اور جب یہ شخص معزز لوگوں سے ہو اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جہالت کی وجہ سے حد نہ لگائی جائے جیسے حاطب بن ابی بلتعہ سے بھول ہوئی۔