Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3650

سیر کا بیان

قیدی کے لیے جائز نہیں یا جس شخص کو قتل یا لڑائی کی صف میں لایا جائے کہ وہ اپنے مال میں تصرف کرے

2 hadiths in this chapter

18436

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18436

Zaeef

(١٨٤٣٠) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا بَعْضُ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ الزُّہْرِیِّ : أَنَّ مُسْرِفًا قَدَّمَ یَزِیدَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَمْعَۃَ یَوْمَ الْحَرَّۃِ لِیَضْرِبَ عُنُقَہُ فَطَلَّقَ امْرَأَتَہُ وَلَمْ یَدْخُلْ بِہَا فَسَأَلُوا أَہْلَ الْعِلْمِ فَقَالُوا لَہَا نِصْفُ الصَّدَاقِ وَلاَ مِیرَاثَ لَہَا۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٤٣٠) زہری (رض) فرماتے ہیں کہ مسرف نے یزید بن عبداللہ کو حرہ کے دن قتل کے لیے پیش کیا۔ اس نے اپنی غیر مدخول بھا عورت کو طلاق دے دی۔ انھوں نے اہل علم سے پوچھا تو فرماتے ہیں : اس کو آدھا حق مہر ملے گا اور وراثت نہ ملے گی۔

18437

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18437

Zaeef

(١٨٤٣١) وَبِإِسْنَادِہِ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عَامَّۃَ صَدَقَاتِ الزُّبَیْرِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ تَصَدَّقَ بِہَا وَفَعَلَ أُمُورًا وَہُوَ وَاقِفٌ عَلَی ظَہْرِ فَرَسِہِ یَوْمَ الْجَمَلِ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَرُوِیَ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ رَحِمَہُ اللَّہُ وَابْنِ الْمُسَیَّبِ رَحِمَہُ اللَّہُ أَنَّہُمَا قَالاَ : إِذَا کَانَ الرَّجُلُ عَلَی ظَہْرِ فَرَسِہِ یُقَاتِلُ فَمَا صَنَعَ فَہُوَ جَائِزٌ۔ وَرُوِیَ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ رَحِمَہُ اللَّہُ : عَطِیَّۃُ الْحُبْلَی جَائِزَۃٌ حَتَّی تَجْلِسَ بَیْنَ الْقَوَابِلِ ۔ وَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَابْنُ الْمُسَیَّبِ : عَطِیَّۃُ الْحَامِلِ جَائِزَۃٌ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَبِہَذَا کُلُّہُ نَقُولُ ۔ قَالَ الشَّیْخُ حَدِیثُ الزُّبَیْرِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَدْ رُوِّینَاہُ فِی کِتَابِ الْوَصَایَا بِطُولِہِ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٤٣١) ہشام اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ زبیر (رض) کے عام صدقات جو وہ صدقہ کرتے اور بعض کام وہ گھوڑے پر سوار ہو کر سر انجام دیا کرتے تھے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : عمر بن عبد العزیز اور سعیدبن مسیب (رض) دونوں گھوڑے پر سوار ہو کر قتال کرتے۔ جو بھی کیا جائے جائز ہے۔ عمر بن عبد العزیز فرماتے ہیں کہ حاملہ کا عطیہ جائز ہے یہاں تک کہ وہ بچہ جنم دینے کے لیے بیٹھ جائے۔ قاسم بن محمد اور سعید بن مسیب (رض) فرماتے ہیں کہ حاملہ کا عطیہ دینا جائز ہے۔