Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3649

سیر کا بیان

قیدی کے عوض فدیہ لینا یا اس کو اپنی قید میں واپس لانا امام شافعی (رض) فرماتے ہیں کہ اوزاعی سے منقول ہے کہ وہ قیدیوں کو واپس لاتے تھے، اگرچہ وہ ان کو مال بھی دے دے۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حدیبیہ کے مقام پر اس شرط پر صلح کی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے آنے والے انسان کو واپس کردیں گے

3 hadiths in this chapter

18433

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18433

Sahih

(١٨٤٢٧) قَالَ الشَّیْخُ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ فَذَکَرَ حَدِیثَ صُلْحِ الْحُدَیْبِیَۃِ وَذَکَرَ فِیہِ قِصَّۃَ أَبِی جَنْدَلٍ وَأَبِی بَصِیرٍ بِنَحْوٍ مِنْ ہَذَا وَأَتَمَّ مِنْہُ ۔ قَالَ الشَّیْخُ : وَإِنَّمَا رَدَّ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَبَا جَنْدَلٍ إِلَیْہِمْ لأَنَّہُ کَانَ لاَ یُخَافُ عَلَیْہِ فِی الرَّدِّ لِمَکَانَ أَبِیہِ وَکَذَلِکَ أَشَارَ عَلَی أَبِی بَصِیرٍ بِالرُّجُوعِ إِلَیْہِمْ فِی الاِبْتِدَائِ لِذَلِکَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ وَسَیَرِدُ کَلاَمُ الشَّافِعِیِّ إِنْ شَائَ اللَّہُ عَلَیْہِ فِی کِتَابِ الْجِزْیَۃِ ۔ [صحیح۔ بخاری ٢٨٣٤٢]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٤٢٧) مسور بن مخرمہ (رض) اور مسروق بن حکم (رض) نے حدیبیہ کی صلح حدیث ذکر کی۔ اس میں ابو جندل (رض) ، اور ابو بصیر (رض) کا واقع ذکر کیا اور وہ اس سے زیادہ مکمل بھی ہے۔ شیخ فرماتے ہیں : ابو جندل (رض) کو صرف اس لیے واپس فرمایا کہ مرتد ہونے کا خطرہ نہ تھا اور اس طرح ابتداء میں ابو بصیر (رض) کو واپس کردیا تھا۔

18434

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18434

Sahih

(١٨٤٢٨) وَفِی مِثْلِ ہَذَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِی حَامِدٍ الْمُقْرِئُ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی وَأَبُو صَادِقٍ الْعَطَّارُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ الأَشَجِّ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی رَافِعٍ حَدَّثَہُ أَنَّ أَبَا رَافِعٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَخْبَرَہُ : أَنَّہُ أَقْبَلَ بِکِتَابٍ مِنْ قُرَیْشٍ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ فَلَمَّا رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أُلْقِیَ فِی قَلْبِیَ الإِسْلاَمُ فَقُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی وَاللَّہِ لاَ أَرْجِعُ إِلَیْہِمْ أَبَدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنِّی لاَ أَخِیسُ بِالْعَہْدٌ وَلاَ أَحْبِسُ الْبُرُدَ وَلَکِنِ ارْجِعْ فَإِنْ کَانَ فِی قَلْبِکَ الَّذِی فِی قَلْبِکَ الآنَ فَارْجِعْ ۔ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَیْہِمْ ثُمَّ أَقْبَلْتُ إِلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَسْلَمْتُ قَالَ بُکَیْرُ وَأَخْبَرَنِی أَنَّ أَبَا رَافِعٍ کَانَ قِبْطِیًّا۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٤٢٨) ابو رافع (رض) فرماتے ہیں کہ قریش کا خط نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ راوی کہتے ہیں : جب میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام پختہ ہوگیا۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں واپس نہ جاؤں گا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں عہد کو نہیں توڑتا اور نہ ہی قاصد کو روکتا ہوں۔ جاؤ اگر آپ کے دل میں یہی بات ہے تو واپس پلٹ آنا۔ کہتے ہیں : میں واپس چلا گیا اور واپس آ کر مسلمان ہوگیا اور ابو رافع (رض) قبطی آدمی تھا۔

18435

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18435

Sahih

(١٨٤٢٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ وَقَدْ سَمِعْتُہُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ جُمَیْعٍ حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَیْلِ حَدَّثَنَا حُذَیْفَۃُ بْنُ الْیَمَانِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : مَا مَنَعَنِی أَنْ أَشْہَدَ بَدْرًا إِلاَّ أَنِّی خَرَجْتُ أَنَا وَأَبِی : حُسَیْلٌ قَالَ فَأَخَذَنَا کُفَّارُ قُرَیْشٍ فَقَالُوا إِنَّکُمْ تُرِیدُونَ مُحَمَّدًا فَقُلْنَا مَا نُرِیدُہُ مَا نُرِیدُ إِلاَّ الْمَدِینَۃَ فَأَخَذُوا عَلَیْنَا عَہْدَ اللَّہِ وَمِیثَاقَہُ لَنَنْصَرِفَنَّ إِلَی الْمَدِینَۃِ وَلاَ نُقَاتِلُ مَعَہُ فَأَتَیْنَا النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَخْبَرْنَاہُ الْخَبَرَ فَقَالَ : انْصَرِفَا نَفِی لَہُمْ بِعَہْدِہِمْ وَنَسْتَعِینُ بِاللَّہِ عَلَیْہِمْ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرٍ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَہَذَا لأَنَّہُ لَمْ یُؤَدِّ انْصِرَافُہُمَا إِلَی تَرْکِ فَرْضٍ إِذْ لَمْ یَکُنْ خُرُوجُہُمَا وَاجِبًا عَلَیْہِمَا وَلاَ إِلَی ارْتِکَابِ مَحْظُورٍ وَالْعَوْدُ إِلَیْہِمْ وَالإِقَامَۃُ بَیْنَ أَظْہُرِہِمْ مِمَّا لاَ یَجُوزُ إِذَا کَانَ یَخَافُ الْفِتْنَۃَ عَلَی نَفْسِہِ فِی الْعَوْدِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٧٨٧]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٤٢٩) حذیفہ بن یمان (رض) فرماتے ہیں کہ میں بدر میں حاضر نہ ہوا، اس وجہ سے کہ میں اور میرے والد حیل نامی جگہ گئے تو کفار قریش نے پکڑ لیا۔ انھوں نے کہا : تم مکہ کا ارادہ رکھتے ہو۔ ہم نے نفی میں جواب دیا کہ ہم مدینہ جانا چاہتے ہیں تو انھوں نے ہم سے وعدہ لیا کہ وہ مدینہ جائیں گے لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ملکر لڑائی نہ کریں گے۔ ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آ کر بتایا۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم مدینہ جاؤ ہم وعدہ کی پاسداری کریں گے اور ان کے خلاف اللہ سے مدد طلب کریں گے۔ شیخ فرماتے ہیں : قرض کے ترک کی وجہ سے وہ واپس نہیں ہوئے۔ جب ان پر نکلنا بھی فرض نہ تھا اور نہ ہی انھوں نے حرام کا ارتکاب کیا۔ قیام وقعود میں ان کے لیے فتنہ کا ڈر تھا۔