Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3636

سیر کا بیان

مقابلہ کی دعوت دینے کا بیان امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : مقابلہ کی دعوت دینے میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ بدر کے دن عبیدہ، حمزہ اور حضرت علی (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے مبارزہ کیا۔

10 hadiths in this chapter

18347

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18347

Sahih

(١٨٣٤١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَۃَ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ أَبِی ہَاشِمٍ عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُقْسِمُ قَسَمًا أَنَّ ہَذِہِ الآیَۃَ { ہَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِی رَبِّہِمْ } [الحج ١٩] نَزَلَتْ فِی الَّذِینَ بَرَزُوا یَوْمَ بَدْرٍ حَمْزَۃَ وَعَلِیٍّ وَعُبَیْدَۃَ بْنِ الْحَارِثِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ وَعُتْبَۃَ وَشَیْبَۃَ ابْنَیْ رَبِیعَۃَ وَالْوَلِیدِ بْنِ عُتْبَۃَ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ زُرَارَۃَ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ یَعْقُوبَ الدَّوْرَقِیِّ عَنْ ہُشَیْمٍ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٣٤١) قیس بن عباد فرماتے ہیں کہ میں نے ابو ذر (رض) سے سنا، وہ قسم اٹھا کر کہتے تھے کہ یہ آیت { ھٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّھِمْ } [الحج ١٩] ” یہ دو شخص جن سے انھوں نے اللہ کے بارے میں جھگڑا کیا۔ “ یہ ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے بدر کے دن مقابلہ کیا۔ حمزہ، علی، عبیدہ بن حارث اور عتبہ و شیبہ یہ دونوں ربیعہ کے بیٹے ہیں اور ولید بن عتبہ۔

18348

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18348

Sahih

(١٨٣٤٢) وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنْ أَبِی ہَاشِمٍ زَادَ فِیہِ اخْتَصَمُوا فِی الْحَجِّ یَوْمَ بَدْرٍ ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْکَرِیمِ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی ہَاشِمٍ فَذَکَرَہُ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٣٤٢) ثوری ابو ہاشم سے نقل فرماتے ہیں : اس میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ بدر کے دن انھوں نے حج کے بارے میں جھگڑا کیا۔

18349

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18349

Zaeef

(١٨٣٤٣) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ ابْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَۃَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی قِصَّۃِ بَدْرٍ قَالَ : فَبَرَزَ عُتْبَۃُ وَأَخُوہُ وَابْنُہُ الْوَلِیدُ حَمِیَّۃً فَقَالَ : مَنْ یُبَارِزُ ؟ فَخَرَجَ مِنَ الأَنْصَارِ شَبَبَۃٌ فَقَالَ عُتْبَۃُ : لاَ نُرِیدُ ہَؤُلاَئِ وَلَکِنْ یُبَارِزُنَا مِنْ بَنِی عَمِّنَا مِنْ بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : قُمْ یَا عَلِیُّ قُمْ یَا حَمْزَۃُ قُمْ یَا عُبَیْدَۃُ بْنَ الْحَارِثِ ۔ فَقَتَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ عُتْبَۃَ وَشَیْبَۃَ ابْنَیْ رَبِیعَۃَ وَالْوَلِیدَ بْنَ عُتْبَۃَ وَجُرِحَ عُبَیْدَۃُ بْنُ الْحَارِثِ فَقَتَلْنَا مِنْہُمْ سَبْعِینَ وَأَسَرْنَا سَبْعِینَ ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٣٤٣) حارثہ، حضرت علی (رض) سے بدر کے قصہ کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ عتبہ اور اس کے بھائی اور اس کے بیٹے ولید نے غیرت سے مقابلہ کی دعوت دی کہ کون مقابلہ کرے گا۔ انصاری جوان مقابلہ میں آئے۔ عتبہ نے کہا : ان کا ہم نے قصد نہیں کیا، بلکہ ہمارے مقابلہ میں ہمارے چچا کے بیٹے یعنی بنو عبدالمطلب آئیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے علی، حمزہ، عبیدہ بن حارث (رض) ! کھڑے ہو جاؤ۔ اللہ رب العزت نے عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ کو ہلاک کر ڈالا اور عبیدہ بن حارث زخمی ہوئے ستر کافر ہم نے قتل کیے اور ستر ہی قیدی بنائے۔

18350

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18350

Zaeef

(١٨٣٤٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی یَزِیدُ بْنُ رُومَانَ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ (ح) وَحَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ وَعَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ وَغَیْرُہُمْ مِنْ عُلَمَائِنَا فَذَکَرُوا قِصَّۃَ بَدْرٍ وَفِیہَا : ثُمَّ خَرَجَ عُتْبَۃُ بْنُ رَبِیعَۃَ وَشَیْبَۃُ بْنُ رَبِیعَۃَ وَالْوَلِیدُ بْنُ عُتْبَۃَ فَدَعَوْا إِلَی الْبِرَازِ فَخَرَجَ إِلَیْہِمْ فِتْیَۃٌ مِنَ الأَنْصَارِ ثَلاَثَۃٌ فَقَالُوا : مِمَّنْ أَنْتُمْ ؟ قَالُوا : رَہْطٌ مِنَ الأَنْصَارِ قَالُوا مَا بِنَا إِلَیْکُمْ حَاجَۃٌ ثُمَّ نَادَی مُنَادِیہِمْ یَا مُحَمَّدُ أَخْرِجْ إِلَیْنَا أَکْفَائَ نَا مِنْ قَوْمِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : قُمْ یَا حَمْزَۃُ قُمْ یَا عَلِیُّ قُمْ یَا عُبَیْدَۃُ ۔ فَلَمَّا قَامُوا وَدَنَوْا مِنْہُمْ قَالُوا : مَنْ أَنْتُمْ ؟ قَالَ حَمْزَۃُ : أَنَا حَمْزَۃُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَقَالَ عَلِیٌّ : أَنَا عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ ۔ وَقَالَ عُبَیْدَۃُ : أَنَا عُبَیْدَۃُ بْنُ الْحَارِثِ ۔ فَقَالُوا : نَعَمْ أَکْفَائٌ کِرَامٌ۔ فَبَارَزَ عُبَیْدَۃُ عُتْبَۃَ فَاخْتَلَفَا ضَرْبَتَیْنِ کِلاَہُمَا أَثْبَتَ صَاحِبَہُ وَبَارَزَ حَمْزَۃُ شَیْبَۃَ فَقَتَلَہُ مَکَانَہُ وَبَارَزَ عَلِیٌّ الْوَلِیدَ فَقَتَلَہُ مَکَانَہُ ثُمَّ کَرَّا عَلَی عُتْبَۃَ فَذَفَّفَا عَلَیْہِ وَاحْتَمَلاَ صَاحِبَہُمَا فَحَازُوہُ إِلَی الرَّحْلِ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَبَارَزَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ مَرْحَبًا یَوْمَ خَیْبَرَ بِأَمْرِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَبَارَزَ یَوْمَئِذٍ الزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّام رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَاسِرًا۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٣٤٤) عبداللہ بن ابی بکر اور ان کے علاوہ دوسرے بدر کے قصے کا ذکر کرتے ہیں اور اس میں ہے کہ عتبہ بن ربیعہ، شیبہ ربیعہ، ولید بن عتبہ نکلے اور مقابلہ کی دعوت دی تو تین انصاری جوان ان کے مقابلہ میں آئے۔ انھوں نے پوچھا : تم کون ہو ؟ انھوں نے کہا : انصاری لوگ۔ وہ کہنے لگے : ہمیں تمہاری کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر آواز دینے والے نے آواز دی : اے محمد ! ہماری طرف ہمارے برابر کے لوگ نکالو ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے حمزہ، علی اور عبیدہ کھڑے ہو جاؤ۔ جب وہ ان کے قریب گئے تو انھوں نے پوچھا : تم کون ہو ؟ حمزہ (رض) نے کہا : میں حمزہ بن عبدالمطلب ہوں اور حضرت علی (رض) نے فرمایا : میں علی بن ابی طالب ہوں۔ عبیدہ کہنے لگے : میں عبیدہ بن حارث ہوں۔ انھوں نے کہا : برابر کے معزز لوگ ہیں۔ حضرت عبیدہ نے عتبہ کا مقابلہ کیا ان کے درمیان دو واروں کا تبادلہ ہوا۔ دونوں ثابت قدم رہے اور حضرت حمزہ (رض) نے شیبہ کا مقابلہ کیا۔ اسی جگہ ہی اسے قتل کر ڈالا اور حضرت علی (رض) نے ولید کا مقابلہ کیا۔ اسے بھی قتل کر ڈالا۔ پھر دونوں عتبہ پر پلٹے اور اس کا کام تمام کردیا اور اپنے ساتھی کو اٹھا کر خیمے میں لے گئے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ محمد بن مسلمہ (رض) نے خیبر کے دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کی وجہ سے مرحب کا مقابلہ کیا اور زبیر بن عوام (رض) نے یاسر کا۔

18351

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18351

Sahih

(١٨٣٤٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَہْلٍ أَحَدُ بَنِی حَارِثَۃَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : خَرَجَ مَرْحَبٌ الْیَہُودِیُّ مِنْ حِصْنِ خَیْبَرَ قَدْ جَمَعَ سِلاَحَہُ وَہُوَ یَرْتَجِزُ وَیَقُولُ : مَنْ یُبَارِزُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَنْ لِہَذَا ؟ ۔ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ : أَنَا لَہُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنَا وَاللَّہِ الْمَوْتُورُ الثَّائِرُ قَتَلُوا أَخِی بِالأَمْسِ ۔ قَالَ : قُمْ إِلَیْہِ اللَّہُمَّ أَعِنْہُ عَلَیْہِ ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی کَیْفِیَّۃِ قِتَالِہِمَا قَالَ : وَضَرَبَہُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ حَتَّی قَتَلَہُ ۔ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ ثُمَّ خَرَجَ یَاسِرٌ فَبَرَزَ لَہُ الزُّبَیْرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَتْ صَفِیَّۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا لَمَّا خَرَجَ إِلَیْہِ الزُّبَیْرُ یَا رَسُولَ اللَّہِ یَقْتُلُ ابْنِی۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : بَلْ ابْنُکِ یَقْتُلُہُ إِنْ شَائَ اللَّہُ ۔ فَخَرَجَ الزُّبَیْرُ وَہُوَ یَرْتَجِزُ ثُمَّ الْتَقَیَا فَقَتَلَہُ الزُّبَیْرُ قَالَ وَکَانَ ذَکَرَ أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ہُوَ قَتَلَ یَاسِرًا کَذَا فِی ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَۃَ ہُوَ قَتَلَ مَرْحَبًا۔ [حسن۔ تقدم برقم ١٨١٠٨]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٣٤٥) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ خیبر کے قلعہ سے مرحب یہودی اپنے اسلحہ سے لیس ہو کر اشعار پڑھتے ہوئے نکلا۔ وہ کہہ رہا تھا : کون میرا مقابلہ کرے گا ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کون اس کے مقابلے میں آئے گا ؟ محمد بن مسلمہ (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم میں اس کو موت کے گھاٹ اتاروں گا۔ کیونکہ انھوں نے کل میرے بھائی کو قتل کیا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کھڑے ہو جاؤ اور دعا دی۔ اے اللہ ! اس کی مدد فرما۔ ان دونوں کے لڑائی کی کیفیت کو اس نے حدیث میں ذکر کیا، کہتے ہیں کہ محمد بن مسلمہ (رض) نے اس کو قتل کردیا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں : پھر یاسر نکلا تو حضرت زبیر نے اس کا مقابلہ کیا۔ جب زبیر نکلے تو صفیہ (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میرا بیٹا قتل کرلے گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر اللہ نے چاہا تو تیرا بیٹا ہی اس کو قتل کرے گا۔ پھر زبیر رجزیہ اشعار پڑھتے ہوئے نکلے۔ پھر ان دونوں کی لڑائی ہوئی تو زبیر نے اس کو قتل کردیا۔ راوی کہتے ہیں : اس طرح اس نے ذکر کیا کہ حضرت علی (رض) نے یاسر کو قتل کیا اور محمد بن مسلمہ (رض) نے مرحب کو قتل کیا۔

18352

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18352

Sahih

(١٨٣٤٦) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنِی إِیَاسُ بْنُ سَلَمَۃَ بْنِ الأَکْوَعِ قَالَ حَدَّثَنِی أَبِی قَالَ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ قَالَ : فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَدْعُوہُ وَہُوَ أَرْمَدُ فَقَالَ : لأُعْطِیَنَّ الرَّایَۃَ الْیَوْمَ رَجُلاً یُحِبُّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَیُحِبُّہُ اللَّہُ وَرَسُولُہُ ۔ قَالَ : فَجِئْتُ بِہِ أَقُودُہُ قَالَ فَبَصَقَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی عَیْنَیْہِ فَبَرَأَ فَأَعْطَاہُ الرَّایَۃَ قَالَ فَبَرَزَ مَرْحَبٌ وَہُوَ یَقُولُ قَدْ عَلِمَتْ خَیْبَرُ أَنِّی مَرْحَبُ شَاکِی السِّلاَحِ بَطَلٌ مُجَرِّبُ إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَہَّبُ قَالَ : فَبَرَزَ لَہُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ یَقُولُ : أَنَا الَّذِی سَمَّتْنِی أُمِّی حَیْدَرَہْ کَلَیْثِ غَابَاتٍ کَرِیہِ الْمَنْظَرَہْ أُوفِیہُمُ بِالصَّاعِ کَیْلَ السَّنْدَرَہْ فَضَرَبَ مَرْحَبًا فَفَلَقَ رَأْسَہُ فَقَتَلَہُ وَکَانَ الْفَتْحُ ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ عَمَّارٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٣٤٦) ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ آئے۔ ایک لمبی حدیث ذکر کی۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو بلایا : ان کی آنکھیں خراب تھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آج میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ مجھے لایا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری آنکھوں میں لعاب دہن ڈالا۔ میں تندرست ہوگیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جھنڈا مجھے دے دیا۔ تو مرحب نے رجزیہ اشعار پڑھتے ہوئے مقابلہ کی دعوت دی۔ اس نے کہا : خیبر جانتا ہے میں مرحب ہوں۔ اسلحے سے لیس اور تجربہ کار بہادر ہوں۔ جب جنگیں بھڑک کر سامنے آجاتی ہیں۔ حضرت علی (رض) اس کے مقابلہ میں یہ کہتے ہوئے آئے : میں وہ ہوں جس کی ماں نے اس کا نام حیدر رکھا ہے۔ جو جنگل کے شیر کی طرح خوفناک ہے اور صرف دھاڑنے سے ہی بھرپور قتل کرنے والا ہے۔ تو حضرت علی نے پہلے ہی وار میں مرحب کا سر تلوار سے پھاڑ ڈالا اور قتل کردیا۔ یہ فتح تھی۔

18353

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18353

Sahih

(١٨٣٤٧) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ : الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْغَضَائِرِیُّ بِبَغْدَادَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ الْمُسَیَّبِ بْنِ مُسْلِمٍ الأَزْدِیِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ فَذَکَرَ الْقِصَّۃَ فِی خَیْبَرَ وَذَکَرَ خُرُوجَ مَرْحَبٍ وَرَجَزَہُ وَقَوْلَ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِمَعْنَاہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : أَکِیلُہُمْ بِالصَّاعِ کَیْلَ السِّنْدَرَہْ قَالَ : فَاخْتَلَفَا ضَرْبَتَیْنِ فَبَدَرَہُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَضَرَبَہُ فَقَدَّ الْحَجَرَ وَالْمِغْفَرَ وَرَأْسَہُ وَوَقَعَ فِی الأَضْرَاسِ وَأَخَذَ الْمَدِینَۃَ ۔ [حسن ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٣٤٧) عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے خیبر اور مرحب کا رجزیہ اشعار پڑھتے ہوئے نکلنے کا تذکرہ کیا اور حضرت علی (رض) کی بات بھی اس کے ہم معنیٰ ہے مگر حضرت علی (رض) کا قول دوسرے الفاظ میں نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا : میں تمہیں بہت زیادہ قتل کرنے والا ہوں۔ راوی کہتے ہیں : ان میں دو واروں کا تبادلہ ہوا تو حضرت علی (رض) نے تلوار ماری، جس نے پتھر، ٹوپ اور سر کو پھاڑ ڈالا اور داڑھوں تک جا پہنچی۔

18354

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18354

Sahih

(١٨٣٤٨) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : یَحْیَی بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ الْعُکْلِیُّ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ وَاقِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ خَیْبَرَ فَذَکَرَ بَعْضَ الْقِصَّۃِ قَالَ ثُمَّ دَعَا بِاللِّوَائِ فَدَعَا عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ یَشْتَکِی عَیْنَیْہِ فَمَسَحَہُمَا ثُمَّ دَفَعَ إِلَیْہِ اللِّوَائَ فَفُتِحَ لَہُ فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ بُرَیْدَۃَ یَقُولُ حَدَّثَنِی أَبِی أَنَّہُ کَانَ صَاحِبُ مَرْحَبٍ ۔ [حسن ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٣٤٨) عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں : جب خیبر کا دن ہوا، اس نے قصے کا بعض حصہ ذکر کیا۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جھنڈا منگوایا اور حضرت علی (رض) کو بلوایا۔ ان کی آنکھیں خراب تھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر ہاتھ پھیرا۔ پھر حضرت علی (رض) کو جھنڈا دیا، جن کے ہاتھ پر فتح ہوئی۔ عبداللہ بن بریدہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے بیان کیا کہ وہ مرحب کا ساتھی تھا۔

18355

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18355

Zaeef

(١٨٣٤٩) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا السَّاجِیُّ وَبَدْرُ بْنُ الْہَیْثَمِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ حُسَیْنٍ الأَشْقَرُ حَدَّثَنَا أَبِی عَنْ أَبِی قَابُوسَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : جِئْتُ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِرَأْسِ مَرْحَبٍ ۔ وَرَوَاہُ صَالِحُ بْنُ أَحْمَدَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ حُسَیْنِ بْنِ حَسَنٍ الأَشْقَرِ بِمَعْنَاہُ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَبَارَزَ یَوْمَ الْخَنْدَقِ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ وُدٍّ ۔ [ضعیف جدًا ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٣٤٩) ابو قابوس اپنے وال سے اور وہ اپنے دادا سے جو حضرت علی (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مرحب کا سر لے کر آیا۔ قال الشافعی : خندق کے دن حضرت علی (رض) نے عمرو بن عبد ود کا مقابلہ کیا۔

18356

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18356

Zaeef

(١٨٣٥٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : خَرَجَ یَعْنِی یَوْمَ الْخَنْدَقِ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ وُدٍّ فَنَادَی : مَنْ یُبَارِزُ ؟ فَقَامَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ مُقَنَّعٌ فِی الْحَدِیدِ فَقَالَ : أَنَا لَہَا یَا نَبِیَّ اللَّہِ ۔ فَقَالَ : إِنَّہُ عَمْرٌو اجْلِسْ ۔ وَنَادَی عَمْرٌو : أَلاَ رَجُلٌ وَہُوَ یُؤَنِّبُہُمْ وَیَقُولُ : أَیْنَ جَنَّتُکُمُ الَّتِی تَزْعُمُونَ أَنَّہُ مَنْ قُتِلَ مِنْکُمْ دَخَلَہَا أَفَلاَ یَبْرُزُ إِلَیَّ رَجُلٌ؟ فَقَامَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : أَنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ ۔ فَقَالَ : اجْلِسْ ۔ ثُمَّ نَادَی الثَّالِثَۃَ وَذَکَرَ شِعْرًا فَقَامَ عَلِیٌّ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنَا۔ فَقَالَ : إِنَّہُ عَمْرٌو ۔ قَالَ : وَإِنْ کَانَ عَمْرًا فَأَذِنَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَمَشَی إِلَیْہِ حَتَّی أَتَاہُ وَذَکَرَ شِعْرًا فَقَالَ لَہُ عَمْرٌو : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَنَا عَلِیٌّ۔ قَالَ : ابْنُ عَبْدِ مَنَافٍ ؟ فَقَالَ : أَنَا عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ ۔ فَقَالَ : غَیْرُکُ یَا ابْنَ أَخِی مِنْ أَعْمَامِکَ مَنْ ہُوَ أَسَنُّ مِنْکَ فَإِنِّی أَکْرَہُ أَنْ أُہْرِیقَ دَمَکَ ۔ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لَکِنِّی وَاللَّہِ مَا أَکْرَہُ أَنْ أُہْرِیقَ دَمَکَ فَغَضِبَ فَنَزَلَ وَسَلَّ سَیْفَہُ کَأَنَّہُ شُعْلَۃُ نَارٍ ثُمَّ أَقْبَلَ نَحْوَ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مُغْضَبًا وَاسْتَقْبَلَہُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِدَرَقَتِہِ فَضَرَبَہُ عَمْرٌو فِی الدَّرَقَۃِ فَقَدَّہَا وَأَثْبَتَ فِیہَا السَّیْفَ وَأَصَابَ رَأْسَہُ بِشَجَّۃٍ وَضَرَبَہُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی حَبْلِ الْعَاتِقِ فَسَقَطَ وَثَارَ الْعَجَاجُ وَسَمِعَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - التَّکْبِیرَ فَعَرَفَ أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَدْ قَتَلَہُ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٣٥٠) ابن اسحاق کہتے ہیں : خندق کے دن عمرو بن عبد ود نکلا۔ اس نے مقابلہ کی دعوت دی تو حضرت علی (رض) لوہے میں چھٹے ہوئے تھے، کہنے لگے : اے اللہ کے نبی ! میں اس کا مقابلہ کرتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عمرو ہے بیٹھ جاؤ۔ عمرو نے پھر آواز دی۔ کیا کوئی مرد نہیں ہے۔ وہ ان کو متنبہ کررہا تھا اور کہہ رہا تھا : تمہاری جنت کہاں ہے جس کا تم گمان کرتے ہو ؟ جو تم میں سے قتل کیا گیا وہ اس میں داخل ہوجائے گا۔ کیا کوئی شخص میرا مقابلہ نہیں کرے گا ؟ حضرت علی (رض) کھڑے ہوئے اور کہا : اے اللہ کے رسول ! میں مقابلہ کرتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیٹھ جاؤ۔ پھر تیسری مرتبہ اس نے آواز دی اور اشعار پڑھے تو حضرت علی (رض) کھڑے ہوئے : اے اللہ کے رسول ! میں مقابلہ کرتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عمرو ہے۔ کہنے لگے : اگرچہ عمرو ہی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو اجازت دے دی تو وہ چل کر اس کے پاس گئے اور اشعار پڑھے۔ عمرو نے پوچھا : تو کون ہے ؟ کہتے ہیں : میں علی ہوں۔ اس نے کہا : ابن عبد مناف ؟ کہا : میں علی بن ابی طالب ہوں۔ اس نے کہا : اے بھتیجے ! کیا تیرے چچاؤں میں سے تیرے علاوہ کوئی بڑی عمر کا نہیں ہے۔ کیونکہ میں تیرا خون بہانا ناپسند کرتا ہوں۔ حضرت علی (رض) کہنے لگے : لیکن اللہ کی قسم ! میں تجھے قتل کرنے میں کراہت محسوس نہیں کرتا۔ وہ غصے سے نیچے اتر پڑا اور اپنی تلوار کو سونتا گویا کہ وہ آگ کا شعلہ ہے۔ پھر حضرت علی (رض) کی جانب غصے کی حالت میں آیا اور حضرت علی (رض) نے اس کا سامنا اپنی ڈھال کے ذریعے کیا۔ عمرو نے ڈھال پر تلوار ماری تو تلوار نے ڈھال کو توڑ ڈالا اور حضرت علی (رض) کا سر بھی زخمی ہوا اور حضرت علی (رض) نے اس کے کندھے پر تلوار ماری، وہ گرپڑا اور اس کی چیخ بلند ہوئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تکبیر کی آواز سنی تو پہچان گئے کہ حضرت علی (رض) نے اس کو قتل کردیا۔