Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3633

سیر کا بیان

مشرک کو قیدی فروخت کرنے کا بیان

6 hadiths in this chapter

18334

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18334

Sahih

(١٨٣٢٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : سَبَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - نِسَائَ بَنِی قُرَیْظَۃَ وَذَرَارِیَّہُمْ وَبَاعَہُمْ مِنَ الْمُشْرِکِینَ فَاشْتَرَی أَبُو الشَّحْمِ الْیَہُودِیُّ أَہْلَ بَیْتٍ عَجُوزًا وَوَلَدِہَا مِنَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِمَا بَقِیَ مِنَ السَّبْیِ أَثَلاَثًا ثُلُثَا إِلَی تِہَامَۃَ وَثُلُثًا إِلَی نَجْدٍ وَثُلُثًا إِلَی طَرِیقِ الشَّامِ فَبِیعُوا بِالْخَیْلِ وَالسِّلاَحِ وَالإِبِلِ وَالْمَالِ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٣٢٨) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو قریظہ کی عورتیں اور ان کی اولاد کو قیدی بنایا اور مشرکین کو فروخت کردیا۔ ابو شحم یہودی نے ایک بوڑھیا اور اس کے بچے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خریدے اور باقی قیدیوں کو تین حصوں میں تقسیم کردیا۔ دو ثلث تہامہ، ایک ثلث نجد اور ایک ثلث شام کی جانب روانہ کردیا اور فرمایا کہ گھوڑوں، اسلحہ، اونٹ اور مال کے بدلے فروخت کر دو ۔

18335

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18335

Zaeef

(١٨٣٢٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ فِی قِصَّۃِ قُرَیْظَۃَ قَالَ : ثُمَّ بَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - سَعْدَ بْنَ زَیْدٍ أَخَا بَنِی عَبْدِ الأَشْہَلِ بِسَبَایَا بَنِی قُرَیْظَۃَ إِلَی نَجْدٍ فَابْتَاعَ لَہُ بِہِمْ خَیْلاً وَسِلاَحًا۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَکَذَلِکَ النِّسَائُ الْبَوَالِغُ قَدِ اسْتَوْہَبَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - جَارِیَۃً بَالِغًا مِنْ أَصْحَابِہِ فَفَدَی بِہَا رَجُلَیْنِ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٣٢٩) ابن اسحاق قریظہ کے قصہ میں بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سعد بن زید جو بنو عبداشہل کے بھائی ہیں بنو قریظہ کے قیدی دے کر نجد کی جانب روانہ کیا کہ ان کے عوض گھوڑے اور اسلحہ خریدو۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کو ایک بالغ لونڈی عطا کی جو انھوں نے دو آدمیوں کے عوض فدیہ میں دی۔

18336

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18336

Sahih

(١٨٣٣٠) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الأَسْفَاطِیُّ یَعْنِی الْعَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ حَدَّثَنِی إِیَاسُ بْنُ سَلَمَۃَ بْنِ الأَکْوَعِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَأَمَّرَہُ عَلَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَغَزَوْنَا فَزَارَۃَ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْمَائِ أَمَرَنَا أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَعَرَّسْنَا فَلَمَّا صَلَّیْنَا الصُّبْحَ أَمَرَنَا أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَشَنَنَّا الْغَارَۃَ فَنَزَلْنَا عَلَی الْمَائِ قَالَ سَلَمَۃُ فَنَظَرْتُ إِلَی عُنُقٍ مِنَ النَّاسِ فِیہِمُ الذُّرِّیَّۃُ وَالنِّسَائُ فَخَشِیتُ أَنْ یَسْبِقُونِی إِلَی الْجَبَلِ فَأَخَذْتُ آثَارَہُمْ فَرَمَیْتُ بِسَہْمٍ بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ الْجَبَلِ فَقَامُوا فَجِئْتُ أَسُوقُہُمْ إِلَی أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَفِیہِمُ امْرَأَۃٌ مِنْ بَنِی فَزَارَۃَ عَلَیْہَا قِشْعٌ مِنْ أَدَمٍ وَمَعَہَا ابْنَۃٌ لَہَا مِنْ أَحْسَنِ الْعَرَبِ فَنَفَّلَنِی أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ابْنَتَہَا فَمَا کَشَفْتُ لَہَا ثَوْبًا حَتَّی قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ وَلَمْ أَکْشِفْ لَہَا ثَوْبًا وَلَقِیَنِی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی السُّوقِ فَقَالَ : یَا سَلَمَۃُ ہَبْ لِی الْمَرْأَۃَ ۔ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ لَقَدْ أَعْجَبَتْنِی وَمَا کَشَفْتُ لَہَا ثَوْبًا فَسَکَتَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَتَرَکَنِی حَتَّی إِذَا کَانَ مِنَ الْغَدِ لَقِیَنِی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی السُّوقِ فَقَالَ لِی : یَا سَلَمَۃُ ہَبْ لِی الْمَرْأَۃَ لِلَّہِ أَبُوکَ ۔ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ لَقَدْ أَعْجَبَتْنِی وَاللَّہِ مَا کَشَفْتُ لَہَا ثَوْبًا وَہِیَ لَکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ ۔ قَالَ : فَبَعَثَ بِہَا إِلَی أَہْلِ مَکَّۃَ فَفَدَی بِہَا رِجَالاً مِنَ الْمُسْلِمِینَ بِأَیْدِیہِمْ ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ عُمَرَ بْنِ یُونُسَ عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ عَمَّارٍ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : أَرَأَیْتَ صِلَۃَ أَہْلِ الْحَرْبِ بِالْمَالِ وَإِطْعَامَہُمُ الطَّعَامَ أَلَیْسَ بِأَقْوَی لَہُمْ فِی کَثِیرٍ مِنَ الْحَالاَتِ مِنْ بَیْعِ عَبْدٍ أَوْ عَبْدَیْنِ مِنْہُمْ فَقَدْ أَذِنَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لأَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَقَالَتْ : إِنَّ أُمِّی أَتَتْنِی وَہِیَ رَاغِبَۃٌ فِی عَہْدِ قُرَیْشٍ أَفَأَصِلُہَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٢٥٥]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٣٣٠) ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم اپنے امیر حضرت ابوبکر (رض) کے ساتھ نکلے۔ ہم نے فزارہ سے غزوہ کیا۔ جب ہم ان کے پانی کے قریب پہنچے تو ہم نے ابوبکر (رض) کے حکم سے پڑاؤ کیا۔ جب صبح کی نماز پڑھی تو ابوبکر (رض) نے حملے کا حکم دے دیا۔ ہم پانی پر آئے۔ سلمہ کہتے ہیں : میں نے ایک اونچی جگہ پر لوگوں کو دیکھا، جن میں بچے اور عورتیں تھیں۔ میں ڈرا کہ کہیں وہ مجھ سے پہلے پہاڑ پر نہ چڑھ جائیں تو میں ان کے پیچھے چلا۔ ان کے اور پہاڑ کے درمیان تیر پھینکا تھا وہ کھڑے ہوگئے۔ میں ان کو حضرت ابوبکر (رض) کے پاس لے آیا۔ ان میں بنو فزارہ کی ایک عورت تھی جس پر چمڑے کا لباس تھا اور اس کے ساتھ عرب کی حسین ترین بیٹی بھی تھی تو ابوبکر (رض) نے اس کی بیٹی مجھے زائد دے دی۔ میں نے اس کے کپڑے کو مدینہ آنے تک نہ کھولا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے بازار میں ملے۔ فرمایا : اے سلمہ ! عورت مجھے حبہ کر دو ۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! وہ مجھے اچھی لگتی ہے اور میں نے اس کا کپڑا بھی نہیں اٹھایا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے اور مجھے چھوڑ کر چلے گئے اور دوسرے دن صبح پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے بازار میں ملے اور کہا : اے سلمہ عورت ! مجھے ہبہ کر دو ۔ اللہ کے لیے تیرے باپ کی خوبی ہے۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے اچھی لگتی ہے۔ اور اللہ کی قسم میں نے ابھی تک اس کا کپڑا نہیں اٹھایا۔ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ہے۔ راوی کہتے ہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ والوں کی طرف اس کو روانہ کردیا اور اس کے عوض بہت سارے مسلمان ان کے ہاتھوں سے آزاد کروائے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں آپ کا کیا خیال ہے کہ لڑائی والے مال یا کھانے سے صلہ رحمی زیادہ قوی نہیں بعض حالات میں جبکہ ایک یا دو غلام ان سے فروخت کردیے جائیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسماء بنت ابی بکر کو اجازت دی تھی، جب اس نے کہا کہ میری والدہ میرے پاس آئی ہے اور یہ مشرکہ ہے۔ کیا میں اس سے صلہ رحمی کروں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں۔

18337

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18337

Sahih

(١٨٣٣١) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أُمِّہِ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَتْ : أَتَتْنِی أُمِّی رَاغِبَۃٌ فِی عَہْدِ قُرَیْشٍ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَصْلُہَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ۔ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ کَمَا مَضَی۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَأَذِنَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَکَسَا ذَا قَرَابَۃٍ لَہُ مُشْرِکًا بِمَکَّۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٣٣١) اسماء بنت ابی بکر (رض) فرماتی ہیں کہ میری والدہ قریش کے دین میں رغبت رکھتی ہے۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس سے صلہ رحمی کے بارے میں سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں صلہ رحمی کرو۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو اجازت دی کہ وہ اپنے مشرک قرابت داروں کو کپڑے پہنا دیں مکہ میں۔

18338

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18338

Sahih

(١٨٣٣٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَأَی حُلَّۃَ سِیَرَائَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ لَوِ اشْتَرَیْتَ ہَذِہِ فَتَلْبَسَہَا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَلِلْوُفُودِ إِذَا قَدِمُوا عَلَیْکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّمَا یَلْبَسُ ہَذِہِ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَہُ فِی الآخِرَۃِ ۔ ثُمَّ جَائَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْہَا حُلَلٌ فَأَعْطَی عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْہَا حُلَّۃً فَقَالَ عُمَرُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ کَسَوْتَنِیہَا وَقَدْ قُلْتَ فِی حُلَّۃِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنِّی لَمْ أَکْسُکَہَا لِتَلْبَسَہَا ۔ فَکَسَاہَا عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَخًا لَہُ مُشْرِکًا بِمَکَّۃَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ قَالَ اللَّہُ تَعَالَی { وَیُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَی حُبِّہِ مِسْکِینًا وَیَتِیمًا وَأَسِیرًا } [الانسان ٨] [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٣٣٢) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے مسجد کے دروازے کے پاس دھاری دار حلہ دیکھا تو کہا : اے اللہ کے رسول ! اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو خرید کر جمعہ اور وفود کے لیے پہن لیا کریں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو وہ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حلے آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حلہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کو دے دیا۔ تو حضرت عمر (رض) نے کہا اے اللہ کے رسول ! آپ نے مجھے حلہ پہنا دیا ہے حالانکہ عطارد کے حلہ کے بارے میں آپ نے فرمایا تھا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے تجھے پہننے کے لیے نہیں دیا تو حضرت عمر (رض) نے اپنے مشرک بھائی کو دے دیا جو مکہ میں تھا۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : { وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّیَتِیْمًا وَّاَسِیْرًا ۔ } [الانسان ٨]” وہ اللہ کی محبت کی بنا پر مسکینوں، یتیموں، قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔ “

18339

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18339

Sahih

(١٨٣٣٣) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِیَادٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّی عَنِ الْحَسَنِ فِی قَوْلِہِ { وَیُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَی حُبِّہِ مِسْکِینًا وَیَتِیمًا وَأَسِیرًا } [الانسان ٨] قَالَ : کَانُوا مِنْ أَہْلِ الشِّرْکِ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٣٣٣) حضرت حسن اس قول کے بارے میں فرماتے ہیں کہ { وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّیَتِیْمًا وَّاَسِیْرًا ۔ } [الانسان ٨] ” وہ اللہ کی محبت کی وجہ سے مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلانے ہیں مراد مشرکوں کو۔ “