Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3621

سیر کا بیان

حربی کافر امان میں داخل ہوجائے اور اس کا مال دار الحرب میں ہو پھر وہ دار الحرب میں مسلمان ہوجائے امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ سعید کے دو بیٹے مسلمان ہوگئے، حالانکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنو قریظہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھے تو اسلام قبول کرنے نے ان کی جان، مال اور زمین کو مح

3 hadiths in this chapter

18268

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18268

Sahih

(١٨٢٦٢) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ یَہُودَ بَنِی النَّضِیرِ وَقُرَیْظَۃَ حَارَبُوا رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَجْلَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَنِی النَّضِیرِ وَأَقَرَّ قُرَیْظَۃَ وَمَنَّ عَلَیْہِمْ حَتَّی حَارَبَتِ قُرَیْظَۃُ بَعْدَ ذَلِکَ فَقَتَلَ رِجَالَہُمْ وَقَسَمَ نِسَائَ ہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ وَأَوْلاَدَہُمْ بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ إِلاَّ بَعْضَہُمْ لَحِقُوا بِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَآمَنَہُمْ وَأَسْلَمُوا۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٢٦٢) نافع حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو نضیر، بنو قریظہ کے یہودیوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جنگ کی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو نضیر کو جلا وطن کردیا جبکہ بنو قریظہ کو برقرار رکھا اور ان پر احسان کیا لیکن بعد میں بنو قریظہ نے آپ سے لڑائی کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے مردوں کو قتل کیا اور ان کی عورتیں، مال اور اولاد کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم فرما دیا۔ لیکن جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مل گئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو پناہ بھی دی تو انھوں نے اسلام قبول کرلیا۔

18269

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18269

Zaeef

(١٨٢٦٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ عَنْ شَیْخٍ مِنْ بَنِی قُرَیْظَۃَ أَنَّہُ قَالَ : ہَلْ تَدْرِی عَمَّ کَانَ إِسْلاَمُ ثَعْلَبَۃَ وَأَسِیدِ ابْنَیْ سَعْیَۃَ وَأَسَدِ بْنِ عُبَیْدٍ نَفَرٍ مِنْ ہَدَلٍ لَمْ یَکُونُوا مِنْ بَنِی قُرَیْظَۃَ وَلاَ نَضِیرٍ کَانُوا فَوْقَ ذَلِکَ فَقُلْتُ لاَ قَالَ فَإِنَّہُ قَدِمَ عَلَیْنَا رَجُلٌ مِنَ الشَّامِ مِنْ یَہُودَ یُقَالُ لَہُ ابْنُ الْہَیَّبَانِ فَأَقَامَ عِنْدَنَا وَاللَّہِ مَا رَأَیْنَا رَجُلاً قَطُّ لاَ یُصَلِّی الْخَمْسَ خَیْرًا مِنْہُ فَقَدِمَ عَلَیْنَا قَبْلَ مَبْعَثِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِسِنِینَ فَکُنَّا إِذَا أُقْحِطْنَا وَقَلَّ عَلَیْنَا الْمَطَرُ نَقُولُ لَہُ یَا ابْنَ الْہَیَّبَانِ اخْرُجْ فَاسْتَسْقِ لَنَا فَیَقُولُ لاَ وَاللَّہِ حَتَّی تُقَدِّمُوا أَمَامَ مَخْرَجِکُمْ صَدَقَۃً فَنَقُولُ کَمْ نُقَدِّمُ فَیَقُولُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ مُدَّیْنِ مِنْ شَعِیرٍ ثُمَّ یَخْرُجُ إِلَی ظَاہِرَۃِ حَرَّتِنَا وَنَحْنُ مَعَہُ فَیَسْتَسْقِی فَوَاللَّہِ مَا یَقُومُ مِنْ مَجْلِسِہِ حَتَّی تَمُرَّ الشِّعَابُ قَدْ فَعَلَ ذَلِکَ غَیْرَ مَرَّۃٍ وَلاَ مَرَّتَیْنِ وَلاَ ثَلاَثَۃِ فَحَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ فَاجْتَمَعْنَا إِلَیْہِ فَقَالَ یَا مَعْشَرَ یَہُودَ مَا تَرَوْنَہُ أَخْرَجَنِی مِنْ أَرْضِ الْخَمْرِ وَالْخَمِیرِ إِلَی أَرْضِ الْبُؤْسِ وَالْجُوعِ فَقُلْنَا أَنْتَ أَعْلَمُ فَقَالَ إِنَّہُ إِنَّمَا أَخْرَجَنِی أَتَوَقَّعُ خُرُوجَ نَبِیٍّ قَدْ أَظَلَّ زَمَانُہُ ہَذِہِ الْبِلاَدُ مُہَاجَرُہُ فَأَتَّبِعُہُ فَلاَ تُسْبَقُنَّ إِلَیْہِ إِذَا خَرَجَ یَا مَعْشَرَ یَہُودَ فَإِنَّہُ یَسْفِکُ الدِّمَائَ وَیَسْبِی الذَّرَارِیَّ وَالنِّسَائَ مِمَّنْ خَالَفَہُ فَلاَ یَمْنَعُکُمْ ذَلِکَ مِنْہُ ثُمَّ مَاتَ فَلَمَّا کَانَتْ تِلْکَ اللَّیْلَۃُ الَّتِی افْتُتِحَتْ فِیہَا قُرَیْظَۃُ قَالَ أُولَئِکَ الْفِتْیَۃُ الثَّلاَثَۃُ وَکَانُوا شَبَابًا أَحْدَاثًا یَا مَعْشَرَ یَہُودَ لَلَّذِی کَانَ ذَکَرَ لَکُمُ ابْنُ الْہَیَّبَانِ قَالُوا مَا ہُوَ قَالُوا بَلَی وَاللَّہِ إِنَّہُ لَہُوَ یَا مَعْشَرَ یَہُودَ إِنَّہُ وَاللَّہِ لَہُوَ لِصِفَتِہِ ثُمَّ نَزَلُوا فَأَسْلَمُوا وَخَلَّوْا أَمْوَالَہُمْ وَأَوْلاَدَہُمْ وَأَہَالِیہِمْ قَالَ وَکَانَتْ أَمْوَالُہُمْ فِی الْحِصْنِ مَعَ الْمُشْرِکِینَ فَلَمَّا فُتِحَ رُدَّ ذَلِکَ عَلَیْہِمْ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٢٦٣) عاصم بن عمر بن قتادہ بنو قریظہ کے ایک شیخ سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے کہا : کیا آپ کو معلوم ہے کہ ثعلبہ، اسید جو سعید کے بیٹے تھے اور اسد بن عبید جو بنو ہزل سے تھا بنو نضیر اور بنو قریظہ سے نہ تھا بلکہ ان کے اعلیٰ لوگوں میں سے تھا۔ انھوں نے اسلام قبول کرلیا ؟ میں نے کہا : نہیں انھوں نے فرمایا بلکہ ہمارے پاس شام سے یہود کا ایک شخص آیا، اسے ابن ہیبان کہا جاتا تھا۔ اس نے ہمارے پاس قیام کیا۔ اللہ کی قسم ! ہم نے اس جیسا شخص کوئی نہیں دیکھا۔ اس سے بہتر پانچ نمازیں کوئی نہ پڑھتا تھا۔ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے دو سال پہلے آیا، جب قحط سالی یا بارش کم ہوئی۔ ہم کہتے : اے ابن ہیبان ! چلو ہمارے لیے بارش کی دعا کرو۔ وہ کہتا کہ نہیں پہلے صدقہ کرو پھر دعا کے لیے چلتے ہیں۔ ہم پوچھتے کتنا صدقہ کریں ؟ وہ کہتا کہ ایک صاع کھجور یا دو مد جو۔ پھر وہ پتھریلی زمین کی طرف نکلتا ہے۔ ہم بھی ساتھ ہوتے اور وہ بارش کی دعا کرتا۔ اللہ کی قسم ! ہم اپنی جگہ سے نہ ہٹتے کہ بادل آجاتے۔ یہ کام اس نے کئی مرتبہ کیا۔ اس کی موت کا وقت آگیا تو ہم اس کے پاس جمع ہوگئے۔ اس نے کہا : اے یہود کا گروہ ! تمہارا اس کے بارے میں کیا خیال ہے کہ ایک نبی آئے گا جس کی حکومت ان شہروں تک اور یہ اس کی ہجرت گاہ بھی ہے۔ میں اس کی پیروی کروں گا جب اس کا ظہور ہو اور تم اس کے مد مقابل نہ آنا۔ کیونکہ وہ اپنے مخالفوں کا خون بہائے گا۔ بچوں اور عورتوں کو قیدی بنائے گا تو اس کے ماننے سے کوئی چیز رکاوٹ نہ بنے۔ پھر وہ فوت ہوگیا۔ جس رات بنو قریظہ مغلوب کردیے گئے۔ اس وقت یہ تینوں جوان تھے۔ انھوں نے کہا : اے یہود کا گروہ ! ابن ہیبان نے تمہیں کچھ کہا تھا ؟ انھوں نے کہا : وہ کیا ؟ انھوں نے کہا : یہ وہی ہے یہی صفات اس نے بیان کی تھیں۔ آپ نے ان کے مال، اولاد اور گھر والے دے دیے۔ ان کے مال قلعہ میں مشرکین کے پاس تھے جب فتح ہوئی تو ان کو واپس کردیے۔

18270

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18270

Zaeef

(١٨٢٦٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَبُو حَفْصٍ حَدَّثَنَا الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا أَبَانُ قَالَ عُمَرُ وَہُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ قَالَ حَدَّثَنِی عُثْمَانُ بْنُ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ صَخْرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - غَزَا ثَقِیفًا فَلَمَّا أَنْ سَمِعَ ذَلِکَ صَخْرٌ رَکِبَ فِی خَیْلٍ یُمِدُّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَوَجَدَ نَبِیَّ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَدِ انْصَرَفَ وَلَمْ یَفْتَحْ فَجَعَلَ صَخْرٌ حِینَئِذٍ عَہْدَ اللَّہِ وَذِمَّتَہُ أَنْ لاَ یُفَارِقَ ہَذَا الْقَصْرَ حَتَّی یَنْزِلُوا عَلَی حُکْمِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَلَمْ یُفَارِقْہُمْ حَتَّی نَزَلُوا عَلَی حُکْمِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَکَتَبَ إِلَیْہِ صَخْرٌ : أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ ثَقِیفًا قَدْ نَزَلُوا عَلَی حُکْمِکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ وَأَنَا مُقْبِلٌ إِلَیْہِمْ وَہُمْ فِی خَیْلٍ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِالصَّلاَۃِ جَامِعَۃً فَدَعَا لأَحْمَسَ عَشْرَ دَعَوَاتٍ اللَّہُمَّ بَارِکْ لأَحْمَسَ فِی خَیْلِہَا وَرِجَالِہَا وَأَتَاہُ الْقَوْمُ فَتَکَلَّمَ الْمُغِیرَۃُ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ صَخْرًا أَخَذَ عَمَّتِی وَدَخَلَتْ فِیمَا دَخَلَ فِیہِ الْمُسْلِمُونَ فَدَعَاہُ فَقَالَ : یَا صَخْرُ إِنَّ الْقَوْمَ إِذَا أَسْلَمُوا أَحْرَزُوا دِمَائَ ہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ فَادْفَعْ إِلَی الْمُغِیرَۃِ عَمَّتَہُ ۔ فَدَفَعَہَا إِلَیْہِ وَسَأَلَ نَبِیَّ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَائً لِبَنِی سُلَیْمٍ قَدْ ہَرَبُوا عَنِ الإِسْلاَمِ وَتَرَکُوا ذَاکَ الْمَائَ فَقَالَ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ أَنْزِلْنِیہِ أَنَا وَقَوْمِی قَالَ : نَعَمْ ۔ فَأَنْزَلَہُ وَأَسْلَمَ یَعْنِی السُّلَمِیِّینَ فَأَتَوْا صَخْرًا فَسَأَلُوہُ أَنْ یَدْفَعَ إِلَیْہِمُ الْمَائَ فَأَبَی فَأَتَوْا نَبِیَّ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالُوا : یَا نَبِیَّ اللَّہِ أَسْلَمْنَا وَأَتَیْنَا صَخْرًا لِیَدْفَعَ إِلَیْنَا مَائَ نَا فَأَبَی عَلَیْنَا فَدَعَاہُ فَقَالَ : یَا صَخْرُ إِنَّ الْقَوْمَ إِذَا أَسْلَمُوا أَحْرَزُوا أَمْوَالَہُمْ وَدِمَائَ ہُمْ فَادْفَعْ إِلَی الْقَوْمِ مَائَ ہُمْ ۔ قَالَ : نَعَمْ یَا نَبِیَّ اللَّہِ فَرَأَیْتُ وَجْہَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَتَغَیَّرُ عِنْدَ ذَلِکَ حُمْرَۃً حَیَائً مِنْ أَخْذِہِ الْجَارِیَۃَ وَأَخْذِہِ الْمَائَ ۔ قَالَ الشَّیْخُ : الاِسْتِدْلاَلُ وَقَعَ بِقَوْلِہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّ الْقَوْمَ إِذَا أَسْلَمُوا أَحْرَزُوا أَمْوَالَہُمْ وَدِمَائَ ہُمْ ۔ فَأَمَّا اسْتِرْدَادُ الْمَائِ عَنْ صَخْرٍ بَعْدَ مَا مَلَکَہُ بِتَمْلِیکِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِیَّاہُ فَإِنَّہُ یُشْبِہُ أَنْ یَکُونَ بِاسْتِطَابَۃِ نَفْسِہِ وَلِذَلِکَ کَانَ یَظْہَرُ فِی وَجْہِہِ أَثَرَ الْحَیَائِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ وَعَمَّۃُ الْمُغِیرَۃِ فَإِنْ کَانَتْ أَسْلَمَتْ بَعْدَ الأَخْذِ فَکَأَنَّہُ رَأَی إِسْلاَمَہَا قَبْلَ الْقِسْمَۃِ یُحْرِزُ مَالَہَا وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ إِسْلاَمُہَا قَبْلَ الأَخْذِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ وَصَخْرٌ ہَذَا ہُوَ ابْنُ الْعَیِّلَۃِ قَالَہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ عَنْ أَبَانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی حَازِمٍ عَنْ صَخْرِ بْنِ الْعَیِّلَۃِ لَمْ یَقُلْ عَنْ أَبِیہِ وَرُوِیَ فِی قِصَّۃِ رِعْیَۃَ السُّحَیْمِیِّ مَا دَلَّ عَلَیْہِ ظَاہِرُ قِصَّۃِ عَمَّۃِ الْمُغِیرَۃِ فَإِنَّہُ أَسْلَمَ ثُمَّ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَہْلِی وَمَالِی۔ قَالَ : أَمَّا مَالُکَ فَقَدْ قُسِمَ بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ وَأَمَّا أَہْلُکَ فَانْظُرْ مْنْ قَدَرْتَ عَلَیْہِ مِنْہُمْ ۔ قَالَ : فَرُدَّ عَلَیْہِ ابْنُہُ وَیُحْتَمَلُ أَنَّہُ اسْتَطَابَ أَنْفُسَ أَہْلِ الْغَنِیمَۃِ کَمَا فَعَلَ فِی سَبْیِ ہَوَازِنَ وَعَوَّضَ أَہْلَ الْخُمُسِ مِنْ نَصِیبِہِمْ وَاللَّہُ أَعْلَمُ وَإِسْنَادُ الْحَدِیثَیْنِ غَیْرُ قَوِیٍّ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٢٦٤) عثمان بن ابی حازم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا صخر سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو ثقیف سے غزوہ کیا صخر کو پتہ چلا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدد کے لیے اپنے گھوڑے پر آیا۔ اس نے دیکھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بغیر فتح کے واپس ہوئے ہیں تو صخر نے کہا : وہ اتنی دیر نہ جائے گا جب تک یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم پر نہ اتر آئیں۔ بالآخر وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم پر اتر پڑے تو صخر نے لکھا : حمد و ثنا کے بعد ! اے اللہ کے رسول ! وہ آپ کے حکم پر اتر پڑے ہیں اور آپ کے پاس ایک قافلہ کی صورت میں آ رہے ہیں۔ آپ نے حکم فرمایا : صلوۃ جامعۃ، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل احمس کے لیے دس دعائیں فرمائیں۔ اے اللہ ! اہل احمس کے سواروں اور پیادوں میں برکت دے۔ لوگ آئے تو مغیرہ نے بات کی کہ اے اللہ کے رسول ! صخر نے میری پھوپھی کو پکڑ لیا ہے وہ بھی لوگوں کے ساتھ مسلمان ہوگئی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صخر کو بلایا اور فرمایا : اے صخر جب لوگ مسلمان ہوجاتے ہیں تو اپنے مال، خون محفوظ کرلیتے ہیں تو مغیرہ کو ان کی پھوپھی واپس کر دو ۔ صخر نے واپس کردی اور کہا : بنو سلیم کے پانیوں کے متعلق سوال کیا جو اسلام سے بھاگ گئے اور پانی چھوڑ گئے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے اور میری قوم کو وہ عطا کردیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : درست ہے۔ وہ وہاں چلے گئے تو پھر بنو سلیم والے مسلمان ہو کر آگئے۔ تو صخر سے اپنے پانی کا مطالبہ کیا تو اس نے انکار کردیا تو وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے کہ اے اللہ کے رسول ! ہم نے اسلام قبول کرلیا اور ہم نے صغر سے مطالبہ کیا کہ وہ ہمارے پانی واپس کردیں۔ لیکن اس نے انکار کردیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صخر کو بلایا اور فرمایا : اے صخر ! جب لوگ مسلمان ہوجاتے ہیں تو اپنے مال، خون محفوظ کرلیتے ہیں۔ آپ ان کے پانی واپس کردیں۔ اس نے کہا : اے اللہ کے نبی ! درست ہے۔ میں نے رسول اللہ کے چہرے کو دیکھا کہ وہ حیا کی وجہ سرخ ہو رہا تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے لونڈی اور پانی واپس لیے تھے۔ شیخ فرماتے ہیں : اس قول سے استدلال کیا ہے کہ لوگ جب مسلمان ہوجاتے ہیں تو اپنے مال، خون محفوظ کرلیتے ہیں صخر سے پانی واپس لینا یہ بھی اس کے مشابہ ہے کہ وہ اپنے دل کی خوشی سے واپس کریں۔ یہی وجہ تھی کہ حیاء کی وجہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ متغیر ہوگیا اور مغیرہ کی پھوپھی نے پکڑے جانے کے بعد اسلام قبول کیا لیکن تقسیم سے پہلے وہ اپنے مال کا مالک بن گیا اور یہ بھی احتمال ہے کہ پکڑے جانے سے پہلے ہی اس نے اسلام قبول کرلیا۔ رعیہ حیمی کا قصہ ہے کہ جب وہ مسلمان ہوا تو اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میرے اہل و عیال اور مال ؟ آپ نے فرمایا : تیرا مال تو مسلمانوں کے درمیان تقسیم ہوچکا اور اپنے اہل کو دیکھو جس پر آپ کو قدرت ہو تو اس کا بیٹا واپس کردیا گیا۔ ممکن ہے غنیمت وصول کرنے والوں نے اپنی خوشی سے واپس کیا ہو۔