Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3593

سیر کا بیان

جنگجو عورت کو قتل کیا جائے گا

6 hadiths in this chapter

18110

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18110

Sahih

(١٨١٠٤) اسْتِدْلاَلاً بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْمُرَقِّعِ بْنِ صَیْفِیٍّ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ جَدِّہِ رَبَاحِ بْنِ رَبِیعٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی غَزْوَۃٍ فَرَأَی النَّاسَ مُجْتَمِعِینَ عَلَی شَیْئٍ فَبَعَثَ رَجُلاً فَقَالَ : انْظُرْ عَلَی مَا اجْتَمَعَ ہَؤُلاَئِ ؟ ۔ فَجَائَ فَقَالَ : عَلَی امْرَأَۃٍ قَتِیلٍ فَقَالَ : مَا کَانَتْ ہَذِہِ لِتُقَاتِلَ ۔ قَالَ وَعَلَی الْمُقَدِّمَۃِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ فَبَعَثَ رَجُلاً فَقَالَ : قُلْ لِخَالِدٍ لاَ تَقْتُلَنَّ امْرَأَۃً وَلاَ عَسِیفًا ۔ [حسن ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٠٤) رباح بن ربیع (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو کسی چیز پر اکٹھے ہوتے دیکھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو بھیجا کہ دیکھو لوگ کس چیز پر جمع ہیں ؟ اس نے آ کر بتایا کہ ایک مقتولہ عورت پر جمع ہیں۔ اس نے کہا : یہ لڑائی کا ارادہ رکھتی تھی۔ راوی کہتے ہیں کہ مقدمہ پر حضرت خالد بن ولید تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی کو بھیجا اور فرمایا : خالد سے کہو کہ کسی عورت اور مزدور کو قتل نہ کرو۔

18111

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18111

Zaeef

(١٨١٠٥) وَفِیمَا رَوَی أَبُو دَاوُدَ فِی الْمَرَاسِیلِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ عَنْ وُہَیْبٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ عِکْرِمَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - رَأَی امْرَأَۃً مَقْتُولَۃً بِالطَّائِفِ فَقَالَ : أَلَمْ أَنْہَ عَنْ قَتْلِ النِّسَائِ ؟ مَنْ صَاحِبُ ہَذِہِ الْمَرْأَۃِ الْمَقْتُولَۃِ ؟ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ أَرْدَفْتُہَا فَأَرَادَتْ أَنْ تَصْرَعَنِی فَتَقْتُلَنِی فَأَمَرَ بِہَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ تُوَارَی۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٠٥) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طائف میں ایک مقتولہ عورت دیکھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا میں نے عورتوں کے قتل سے منع نہیں کیا ؟ اس مقتولہ عورت کو کس نے قتل کیا ہے ؟ ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں نے قتل کیا ہے میں نے اس کو اپنے پیچھے سوار کیا تھا۔ اس نے مجھے گرا کر قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو دفن کردینے کا حکم فرمایا۔

18112

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18112

Zaeef

(١٨١٠٦) وَعَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ عَنْ وُہَیْبٍ وَعَن سَعِیدِ بْنِ مَنْصُورٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ کِلاَہُمَا عَنْ أَیُّوبَ عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ : لَمَّا حَاصَرَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَہْلَ الطَّائِفِ أَشْرَفَتِ امْرَأَۃٌ فَکَشَفْتْ قُبُلَہَا فَقَالَتْ : ہَا دُونَکُمْ فَارْمُوا۔ فَرَمَاہَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فَمَا أَخْطَأ ذَلِکَ مِنْہَا۔ وَفِی حَدِیثِ وُہَیْبٍ فَمَا أَخْطَأَہَا أَنْ قَتَلُوہَا فَأَمَرَ بِہَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ تُوَارَی۔ أَخْبَرَنَا بِہِمَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ الْفَسَوِیُّ الدَّاوُدِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ اللُّؤْلُؤِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَیْنِ ۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٠٦) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طائف والوں کا محاصرہ کیا تو اوپر سے ایک عورت نے جھانک کر کہا : (اس کا پردہ کھل گیا) تم ان پر تیر اندازی کرو تو ایک مسلمان نے تیر مارا جس کا نشانہ خطا نہ گیا۔ وہیب کی حدیث میں ہے کہ انھوں نے اس کو قتل کرنے میں غلطی نہ کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو دفن کردینے کا حکم فرمایا۔

18113

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18113

Sahih

(١٨١٠٧) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : مَا قَتَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - امْرَأَۃً مِنْ بَنِی قُرَیْظَۃَ إِلاَّ امْرَأَۃً وَاحِدَۃً وَاللَّہِ إِنَّہَا لَعِنْدِی تَضْحَکُ ظَہْرًا لِبَطْنٍ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَیَقْتُلُ رِجَالَہُمْ بِالسُّوقِ إِذْ ہَتَفَ ہَاتِفٌ بِاسْمِہَا أَیْنَ فُلاَنَۃُ ؟ فَقَالَتْ : أَنَا وَاللَّہِ ۔ فَقُلْتُ : وَیْلَکِ مَا لَکِ ؟ فَقَالَتْ : أُقْتَلُ وَاللَّہِ ؟ قُلْتُ : وَلِمَ ؟ قَالَتْ : لِحَدَثٍ أَحْدَثْتُہُ فَانْطُلِقَ بِہَا فَضُرِبَتْ عُنُقُہَا فَمَا أَنْسَی عَجَبًا مِنْہَا طِیبَۃَ نَفْسِہَا وَکَثْرَۃَ ضَحِکِہَا وَقَدْ عَرَفَتْ أَنَّہَا تُقْتَلُ ۔ ذَکَرَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی رِوَایَۃِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَغْدَادِیِّ عَنْہُ عَنْ أَصْحَابِہِ أَنَّہَا کَانَتْ دَلَّتْ عَلَی مَحْمُودِ بْنِ مَسْلَمَۃَ دَلَّتْ عَلَیْہِ رَحًا فَقَتَلَتْہُ فَقُتِلَتْ بِذَلِکَ قَالَ وَقَدْ یُحْتَمَلُ أَنْ تَکُونَ أَسْلَمَتْ وَارْتَدَّتْ وَلَحِقَتْ بِقَوْمِہَا فَقَتَلَہَا لِذَلِکَ وَیُحْتَمَلُ غَیْرُ ذَلِکَ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَلَمْ یَصِحَّ الْخَبَرُ لأَیِّ مَعْنًی قَتَلَہَا وَقَدْ قِیلَ إِنَّ مَحْمُودَ بْنَ مَسْلَمَۃَ قُتِلَ بِخَیْبَرَ وَلَمْ یُقْتَلْ یَوْمَ بَنِی قُرَیْظَۃَ ۔ [حسن ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٠٧) عروہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو قریظہ کی صرف ایک عورت قتل کی۔ اللہ کی قسم ! وہ میرے پاس خوب ہنس رہی تھی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے مردوں کو قتل کر رہے تھے۔ اچانک آواز دینے والے نے اس کا نام لے کر آواز دی : فلاں عورت کہاں ہے ؟ اس نے کہا : میں ہوں۔ میں نے کہا : تجھے کیا ہے ؟ اس نے کہا اللہ کی قسم ! میں قتل کردی جاؤں گی۔ میں نے پوچھا : کیوں ؟ اس نے کہا : ایسے کام کی وجہ سے جس کا میں سبب بنی، اس کو لے جا کر گردن اتار دی گئی۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں : میں اس عجیب واقعہ کو نہیں بھولی کہ وہ اتنی خوش اور ہنس رہی تھی حالانکہ اسے معلوم تھا کہ وہ قتل کردی جائے گی۔ (ب) ابو عبدالرحمن بغدادی اپنے صحابہ سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ ایسی عورت تھی جس نے محمود بن مسلمہ پر چکی گرا کر قتل کردیا تھا جس کے عوض اس کو قتل کیا گیا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اسلام لانے کے بعد مرتد ہو کر اپنی قوم سے جا ملی، اس وجہ سے قتل کیا گیا اس کے علاوہ بھی احتمال ہیں۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : کوئی حدیث صحیح نہیں کہ کس وجہ سے اس عورت کو قتل کیا گیا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ محمود بن مسلمہ خیبر میں قتل کیے گئے۔ وہ بنو قریظہ کے دن قتل نہ ہوئے۔

18114

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18114

Sahih

(١٨١٠٨) وَاحْتَجَّ بِمَتْنِ الْحَدِیثِ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَہْلٍ أَحَدُ بَنِی حَارِثَۃَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : خَرَجَ مَرْحَبٌ الْیَہُودِیُّ مِنْ حِصْنِ خَیْبَرَ قَدْ جَمَعَ سِلاَحَہُ وَہُوَ یَرْتَجِزُ وَیَقُولُ مَنْ یُبَارِزُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَنْ لِہَذَا ؟ ۔ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ : أَنَا لَہُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنَا وَاللَّہِ الْمَوْتُورُ الثَّائِرُ قَتَلُوا أَخِی بِالأَمْسِ ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَالْمَنْقُولُ عِنْدَنَا فِی قِصَّۃِ ہَذِہِ الْمَرْأَۃِ مَا۔ [حسن ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٠٨) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ خیبر کے قلعہ سے مرحب یہودی نکلا۔ اس نے اپنا اسلحہ پہن رکھا تھا اور رجزیہ اشعار پڑھ رہا تھا : اور کہہ رہا تھا کون میرا مقابلہ کرے گا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کون اس کے مدمقابل آئے گا ؟ تو محمد بن مسلمہ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں۔ انھوں نے کل میرے بھائی کو قتل کیا ہے۔ شیخ فرماتے ہیں : ہمارے نزدیک یہ اس عورت کے قصہ کے بارے میں منقول ہے۔

18115

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18115

Zaeef

(١٨١٠٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : مَخْلَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الدَّقَّاقُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَرِیرٍ فِیمَا حَدَّثَہُمْ مُحَمَّدُ بْنُ حُمَیْدٍ عَنْ سَلَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ وَالْحَارِثِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ الْوَاقِدِیِّ أَنَّہُمْ قَالُوا : إِنَّ خَلاَّدَ بْنَ سُوَیْدِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ الْخَزْرَجِیَّ دَلَّتْ عَلَیْہِ فُلاَنَۃُ امْرَأَۃٌ مِنْ بَنِی قُرَیْظَۃَ رَحًا فَشَدَخَتْ رَأْسَہُ فَذُکِرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : لَہُ أَجْرٌ شَہِیدَیْنِ ۔ فَقَتَلَہَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِیمَا ذَکَرَ وَکَانَ خَلاَّدُ بْنُ سُوَیْدٍ قَدْ شَہِدَ بَدْرًا وَأُحُدًا وَالْخَنْدَقَ وَبَنِی قُرَیْظَۃَ ۔ وَہَذَا مِنْ قَوْلِ ابْنِ إِسْحَاقَ وَالْوَاقِدِیِّ مُنْقَطِعٌ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٠٩) محمد بن سعد واقدی سے نقل فرماتے ہیں کہ خلاد بن سوید بن ثعلبہ خزرجی پر بنو قریظہ کی عورت نے چکی گرا کر اس کا سر کچل دیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے تذکرہ ہوا تو فرمایا : اس کے لیے دو شہیدوں کا اجر ہے۔ پھر اس کے عوض رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عورت کو قتل کیا تھا اور خلاد بن سوید بدر، احد، خندق اور بنو قریظہ کے موقع پر حاضر ہوئے۔