Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3591

سیر کا بیان

عورتوں، بچوں کا قتل رات کے وقت اور حملہ کے موقع پر بغیر کسی ارادہ کے اور رات کے موقع پر قتل کے بارے میں کیا وارد ہوا ہے

11 hadiths in this chapter

18097

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18097

Zaeef

(١٨٠٩١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ أَخْبَرَنِی الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یُسْأَلُ عَنْ أَہْلِ الدَّارِ مِنَ الْمُشْرِکِینَ یُبَیَّتُونَ فَیُصَابُ مِنْ نِسَائِہِمْ وَذَرَارِیِّہِمْ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : ہُمْ مِنْہُمْ ۔ وَزَادَ عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ : ہُمْ مِنْ آبَائِہِمْ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ وَفِی رِوَایَتِہِمَا وَرُبَّمَا قَالَ سُفْیَانُ فِی الْحَدِیثِ : ہُمْ مِنْ آبَائِہِمْ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَغَیْرِہِ کُلُّہُمْ عَنْ سُفْیَانَ ۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٠٩١) صعب بن جثامہ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سنا، آپ سے کسی علاقہ کے ان مشرکوں کے بارے میں پوچھا جن کی عورتیں اور بچے مارے جاتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ انھیں میں سے ہیں۔ (ب) عمرو بن دینار زہری سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اپنے آباء سے ہیں۔ (ج) سفیان حدیث میں کہتے ہیں کہ وہ اپنے آباء سے ہیں۔

18098

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18098

Zaeef

(١٨٠٩٢) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ وَأَبُو زَکَرِیَّا وَأَبُو بَکْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ عَنْ سُفْیَانَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنِ ابْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ عَمِّہِ أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لَمَّا بَعَثَ إِلَی ابْنِ أَبِی الْحُقَیْقِ نَہَی عَنْ قَتْلِ النِّسَائِ وَالْوِلْدَانِ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ ۔ زَادَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ فِی رِوَایَتِہِ قَالَ الشَّافِعِیُّ فَکَانَ سُفْیَانُ یَذْہَبُ إِلَی أَنَّ قَوْلَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : ہُمْ مِنْہُمْ ۔ إِبَاحَۃٌ لِقَتْلِہِمْ وَأَنَّ حَدِیثَ ابْنِ أَبِی الْحُقَیْقِ نَاسِخٌ لَہُ قَالَ وَکَانَ الزُّہْرِیُّ إِذَا حَدَّثَ بِحَدِیثِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَۃَ أَتْبَعَہُ حَدِیثَ ابْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَحَدِیثُ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَۃَ کَانَ فِی عُمْرَۃِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَإِنْ کَانَ فِی عُمْرَتِہِ الأُولَی فَقَدْ قُتِلَ ابْنُ أَبِی الْحُقَیْقِ قَبْلَہَا وَقِیلَ فِی سَنَتِہَا وَإِنْ کَانَ فِی عُمْرَتِہِ الآخِرَۃِ فَہُوَ بَعْدَ أَمْرِ ابْنِ أَبِی الْحُقَیْقِ غَیْرَ شَکٍّ وَاللَّہُ أَعْلَمُ قَالَ وَلَمْ نَعْلَمُہُ رَخَّصَ فِی قَتْلِ النِّسَائِ وَالْوِلْدَانِ ثُمَّ نَہَی عَنْہُ وَمَعْنَی نَہْیِہِ عِنْدَنَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ عَنْ قَتْلِ النِّسَائِ وَالْوِلْدَانِ أَنْ یُقْصَدَ قَصْدُہُمْ بِقَتْلٍ وَہُمْ یُعْرَفُونَ مُمَیَّزِینَ مِمَّنْ أَمَرَ بِقَتْلِہِ مِنْہُمْ قَالَ وَمَعْنَی قَوْلِہِ : ہُمْ مِنْہُمْ ۔ أَنَّہُمْ یَجْمَعُونَ خَصْلَتَیْنِ أَنْ لَیْسَ لَہُمْ حُکْمُ الإِیمَانِ الَّذِی یَمْنَعُ الدَّمَ وَلاَ حُکْمَ دَارِ الإِیمَانِ الَّذِی یَمْنَعُ الْغَارَۃَ عَلَی الدَّارِ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ أَمَّا قَوْلُہُ فِی حَدِیثِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَۃَ أَنَّ ذَلِکَ کَانَ فِی عُمْرَتِہِ ۔ [ضعیف۔ تقدم برقم ١٨٠٨٦]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٠٩٢) ابن کعب بن مالک اپنے چچا سے نقل فرماتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں ابن ابی الحقیق کی طرف روانہ فرمایا تو عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔ (ب) سفیان کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان کہ وہ انھیں میں سے ہیں سے مراد یہ ہے کہ ان کا قتل جائز ہے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : صفب بن جثامہ کی حدیث نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عمرہ کے بارہ میں ہے۔ اگر آپ کا پہلا عمرہ ہے تو ابن ابی الحقیق اس سے قبل قتل ہوچکا تھا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سال میں اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا آخری عمرہ ہے تو یہ ابن ابی الحقیق کے بعد کی بات ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ راوی فرماتے ہیں : ہمیں علم نہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رخصت کے بعد قتل سے منع فرمایا۔ عورتوں اور بچوں کا قتل کرنا قصداً ممنوع ہے۔ ہم منہم : 1 وہ اہل ایمان نہیں۔ جس کی وجہ سے خون بہانا ممنوع ہو۔ 2 امن کے حکم پر نہیں جس کی وجہ سے غارت گری منع ہے۔ قال الشیخ : صفب بن جثامہ کی حدیث آپ کے عمرہ کے بارہ میں ہے۔

18099

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18099

Sahih

(١٨٠٩٣) فَإِنَّمَا قَالَ ذَلِکَ اسْتِدْلاَلاً بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْبِسْطَامِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ الْفَارِیَابِیُّ حَدَّثَنَا عَلَیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا الزُّہْرِیُّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : مَرَّ بِی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَأَنَا بِالأَبْوَائِ أَوْ بِوَدَّانَ فَأَہْدَیْتُ إِلَیْہِ لَحْمَ حِمَارِ وَحْشٍ فَرَدَّہُ عَلَیَّ فَلَمَّا رَأَی الْکَرَاہَۃَ فِی وَجْہِی قَالَ : إِنَّہُ لَیْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَیْکَ وَلَکِنَّا حُرُمٌ ۔ قَالَ : وَسُئِلَ عَنْ ذَرَارِیِّ الْمُشْرِکِینَ فَیُبَیَّتُونَ فَیُصَابُ مِنْ نِسَائِہِمْ وَذَرَارِیِّہِمْ فَقَالَ : ہُمْ مِنْہُمْ ۔ قَالَ وَسَمِعْتُہُ یَقُولُ : لاَ حِمَی إِلاَّ لِلَّہِ وَلِرَسُولِہِ ۔ قَالَ عَلِیٌّ فَرَدَّدَہُ سُفْیَانُ فِی ہَذَا الْمَجْلِسِ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ قَالَ حَفِظْتُہُ غَیْرَ مَرَّۃٍ سَمِعْتُہُ وَکَانَ إِذَا حَدَّثَ بِہَذَا الْحَدِیثِ قَالَ وَأَخْبَرَنِی ابْنُ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ عَمِّہِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَمَّا بَعَثَ إِلَی ابْنِ أَبِی الْحُقَیْقِ نَہَی عَنْ قَتْلِ النِّسَائِ وَالْوِلْدَانِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٠٩٣) صعب بن جثامہ فرماتے ہیں کہ میں ابواء یا ودان نامی جگہ پر تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے قریب سے گزرے تو میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نیل گائے کا گوشت تحفہ میں دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے واپس کردیا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے چہرے پر کراہت کے آثار دیکھے تو فرمایا : ہم نے کسی وجہ سے واپس نہیں کیا لیکن یہ ہمارے اوپر حرام ہے۔ فرماتے ہیں : مشرکین کی اولاد کے بارے پوچھا گیا کہ جب شب خون کے وقت ان کی عورتیں اور بچے مارے جائیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ بھی انہی میں سے ہیں۔ کہتے ہیں : میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا کہ چراگاہ صرف اللہ اور رسول کی ہے۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ سفیان نے مجلس کے دوران دو مرتبہ یہ بات کہی۔ سفیان جب اس حدیث کو بیان فرماتے تو کہتے تھے کہ ابن کعب بن مالک اپنے چچا سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آپ نے انھیں ابن ابی الحقیق کی طرف بھیجا تو عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا۔

18100

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18100

Zaeef

(١٨٠٩٤) وَأَمَّا تَارِیخُ قَتْلِ ابْنِ أَبِی الْحُقَیْقِ وَتَارِیخُ عُمْرَتِہِ فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ہُوَ ابْنُ یَسَارٍ قَالَ : فَلَمَّا انْقَضَی أَمْرُ الْخَنْدَقِ وَأَمْرُ بَنِی قُرَیْظَۃَ وَکَانَ أَبُو رَافِعٍ سَلاَمُ بْنُ أَبِی الْحُقَیْقِ مِمَّنْ کَانَ حَزَّبَ الأَحْزَابَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - اسْتَأْذَنَتِ الْخَزْرَجُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی قَتْلِ سَلاَّمِ بْنِ أَبِی الْحُقَیْقِ وَکَانَ بِخَیْبَرَ فَأَذِنَ لَہُمْ فِیہِ قَالَ ثُمَّ غَزَا بَنِی الْمُصْطَلِقِ فِی شَعْبَانَ سَنَۃَ سِتٍّ ثُمَّ خَرَجَ فِی ذِی الْقَعْدَۃِ مُعْتَمِرًا عَامَ الْحُدَیْبِیَۃِ ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : ثُمَّ کَانَتْ عُمْرَتُہُ الَّتِی تُسَمَّی عُمْرَۃَ الْقَضَائِ ثُمَّ عُمْرَۃُ الْجِعْرَانَۃِ ثُمَّ عُمْرَتُہُ فِی سَنَۃِ حَجَّتِہِ کُلُّہُنَّ بَعْدَ ذَلِکَ وَقُتِلَ ابْنُ أَبِی الْحُقَیْقِ کَانَ قَبْلَہُنَّ فَکَیْفَ یَکُونُ نَہْیُہُ فِی قِصَّۃِ ابْنِ أَبِی الْحُقَیْقِ عَنْ قَتْلِ النِّسَائِ وَالْوِلْدَانِ نَاسِخًا لِحَدِیثِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَۃَ الَّذِی کَانَ بَعْدَہُ وَزَعَمُوا أَنَّہُ ہَاجَرَ إِلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَمَاتَ فِی خِلاَفَۃِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَإِنْ کَانَ سَمَاعُہُ الْحَدِیثَ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَعْدَ مَا ہَاجَرَ فَیَکُونُ ذَلِکَ أَیْضًا بَعْدَ قِصَّۃِ ابْنِ أَبِی الْحُقَیْقِ فَإِنَّ فِی حَدِیثِ الْہُدْنَۃِ مَا دَلَّ عَلَی أَنَّہُ أَوَّلُ مَا الْتَقَی بِالنَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَیَکُونُ وَجْہُ الْحَدِیثَیْنِ مَا أَشَارَ إِلَیْہِ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ مِنَ اخْتِلاَفِ الْحَالَیْنِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٠٩٤) محمد بن اسحاق بن یسار فرماتے ہیں کہ جب خندق اور بنو قریظہ کا معاملہ ختم ہوا تو ابو رافع سلام بن ابی الحقیق جس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف لشکر ترتیب دئیے تھے۔ خزرج والوں نے سلام بن ابی الحقیق کے قتل کی اجازت مانگی۔ یہ اس وقت خیبر میں تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت دے دی۔ پھر شعبان ٦ ہجری میں بنو مصطلق ہوا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حدیبیہ کے سال عمرہ ادا فرمایا۔ شیخ فرماتے ہیں : اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا عمرۃ القضاء تھا پھر جعرانہ والا پھر وہ عمرہ جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج کے ساتھ کیا اور ابن ابی الحقیق اس سے پہلے قتل ہوچکا تھا۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ آپ کا ابن ابی الحقیق کے قصہ میں عورتوں و بچوں کے قتل سے منع فرمانا اور صعب بن جثامہ کی حدیث کو منسوخ کرنا جو اس کے بعد ہے اور ان کا گمان ہے کہ اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہجرت کی اور ابوبکر (رض) کی خلافت میں وفات پائی۔ اگر ہجرت کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے تب بھی ابن ابی الحقیق کے قصہ کے بعد کی بات ہے اور جنگ بندی کے بعد سب سے پہلے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ملے۔

18101

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18101

Sahih

(١٨٠٩٥) وَاحْتَجَّ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی جَوَازِ التَّبْیِیتِ أَیْضًا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ حَبِیبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَوْنٍ أَنَّ نَافِعًا کَتَبَ إِلَیْہِ یُخْبِرُہُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَخْبَرَہُ : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَغَارَ عَلَی بَنِی الْمُصْطَلِقِ وَہُمْ غَارُّونَ فِی نَعَمِہِمْ بِالْمُرَیْسِیعِ فَقَتَلَ الْمُقَاتِلَۃَ وَسَبَی الذُّرِّیَّۃَ ۔ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عَوْنٍ کَمَا مَضَی۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٠٩٥) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو مصطلق پر شب خون مارا اور مریسیع نامی جگہ پر ان کے چوپاؤں پر حملہ کیا تو جنگجو افراد کو قتل کردیا اور بچوں کو قیدی بنا لیا۔

18102

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18102

Sahih

(١٨٠٩٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَأَبُو عَامِرٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا إِیَاسُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : أَمَّرَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَیْنَا أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَغَزَوْنَا نَاسًا مِنَ الْمُشْرِکِینَ فَبَیَّتْنَاہُمْ نَقْتُلُہُمْ وَکَانَ شِعَارُنَا تِلْکَ اللَّیْلَۃِ أَمِتْ أَمِتْ ۔ قَالَ سَلَمَۃُ : فَقَتَلْتُ بِیَدِی تِلْکَ اللَّیْلَۃَ سَبْعَۃً أَہْلَ أَبْیَاتٍ مِنَ الْمُشْرِکِینَ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٠٩٦) ایاس بن سلمہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین کے خلاف ایک غزوہ میں ابوبکر (رض) کو ہمارا امیر مقرر فرمایا۔ ہر رات کے وقت حملہ کر کے ان کو قتل کرتے تھے اور اس رات ہماری علامت آیت اَمِتْ اَمِتْ تھی۔ سلمہ کہتے ہیں : اس رات میں نے مشرکین کے سات شعراء اپنے ہاتھ سے قتل کیے۔

18103

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18103

Sahih

(١٨٠٩٧) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ فِیمَا قَرَأَ عَلَی مَالِکٍ عَنْ حُمَیْدٍ الطَّوِیلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - خَرَجَ إِلَی خَیْبَرَ فَجَائَ ہَا لَیْلاً وَکَانَ إِذَا جَائَ قَوْمًا بِلَیْلٍ لاَ یُغِیرُ عَلَیْہِمْ حَتَّی یُصْبِحَ فَلَمَّا أَصْبَحَ خَرَجَتْ یَہُودُ بِمَسَاحِیہِمْ وَمَکَاتِلِہِمْ فَلَمَّا رَأَوْہُ قَالُوا مُحَمَّدٌ وَاللَّہِ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِیسُ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : اللَّہُ أَکْبَرُ خَرِبَتْ خَیْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَۃِ قَوْمٍ فَسَائَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِینَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٠٩٧) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خیبر آئے تو رات کے وقت پہنچے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بھی کسی قوم کے پاس رات کے وقت آتے تو صبح سے پہلے حملہ نہیں فرماتے تھے۔ جب صبح ہوئی تو یہودی اپنے زرعی سازو سامان کے ساتھ نکلے۔ جب انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لشکر کو دیکھا تو کہنے لگے : اللہ کی قسم ! محمد اور اس کا لشکر۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ بہت بڑا ہے، خیبر ہلاک ہوگیا، یعنی وہاں کے رہنے والے۔ جب ہم کسی قوم کے پاس صبح کے وقت آتے ہیں تو ڈرائے گئے کی صبح بری ہوتی ہے۔

18104

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18104

Sahih

(١٨٠٩٨) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : سَارَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی خَیْبَرَ فَانْتَہَی إِلَیْہَا لَیْلاً وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِذَا طَرَقَ قَوْمًا لَمْ یُغِرْ عَلَیْہِمْ حَتَّی یُصْبِحَ فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَکَ وَإِنْ لَمْ یَکُونُوا یُصَلُّونَ أَغَارَ عَلَیْہِمْ حِینَ یُصْبِحُ فَلَمَّا أَصْبَحَ رَکِبَ وَرَکِبَ الْمُسْلِمُونَ وَخَرَجَ أَہْلُ الْقَرْیَۃِ وَمَعَہُمْ مَکَاتِلُہُمْ وَمَسَاحِیہِمْ فَلَمَّا رَأَوْا رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالُوا : مُحَمَّدٌ وَالْخَمِیسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : اللَّہُ أَکْبَرُ خَرِبَتْ خَیْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَۃِ قَوْمٍ فَسَائَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِینَ ۔ قَالَ أَنَسٌ : وَإِنِّی لَرِدْفٌ لأَبِی طَلْحَۃَ وَإِنَّ قَدَمِی لَتَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٠٩٨) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خیبر رات کے وقت پہنچے، لیکن جب بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی قوم کے پاس رات کے وقت آتے تو صبح سے پہلے حملہ نہیں فرماتے تھے۔ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اذان کی آواز سنتے تو حملہ سے رک جاتے۔ اگر وہ نماز نہیں پڑھتے تو صبح کے وقت ان پر حملہ کردیتے۔ جب صبح ہوئی تو آپ اور مسلمان سوار ہوئے۔ بستی والے نکلے، ان کے پاس زرعی سازو سامان تھا۔ جب انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تو کہنے لگے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور لشکر۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ اکبر خیبر برباد ہوگیا۔ جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح اچھی نہیں ہوتی۔ انس کہتے ہیں : میں ابوطلحہ کے پیچھے سوار تھا تو میرے پاؤں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاؤں کے ساتھ لگ رہے تھے۔

18105

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18105

Sahih

(١٨٠٩٩) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ فِی رِوَایَۃِ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَانَ لاَ یُغِیرُ حَتَّی یُصْبِحَ لَیْسَ بِتَحْرِیمٍ لِلإِغَارَۃِ لَیْلاً وَلاَ نَہَارًا وَلاَ غَارِّینَ فِی حَالٍ وَاللَّہُ أَعْلَمُ وَلَکِنَّہُ عَلَی أَنْ یَکُونَ یُبْصِرُ مَنْ مَعَہُ کَیْفَ یُغِیرُونَ احْتِیَاطًا مِنْ أَنْ یُؤْتَوْا مِنْ کَمِینٍ أَوْ مِنْ حَیْثُ لاَ یَشْعُرُونَ وَقَدْ یَخْتَلِطُ الْحَرْبُ إِذَا أَغَارُوا لَیْلاً فَیَقْتُلُ بَعْضُ الْمُسْلِمِینَ بَعْضًا قَدْ أَصَابَہُمْ ذَلِکَ فِی قَتْلِ ابْنِ عَتِیکٍ فَقَطَعُوا رِجْلَ أَحَدِہِمْ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَدْ أَمَرَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِالْغَارَۃِ عَلَی غَیْرِ وَاحِدٍ مِنْ یَہُودَ فَقَتَلُوہُ ۔ قَتْلُ أَبِی رَافِعٍ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی الْحُقَیْقِ وَیُقَالُ سَلاَّمُ بْنُ أَبِی الْحُقَیْقِ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٠٩٩) امام شافعی (رح) حضرت انس کی روایت میں فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح سے پہلے حملہ نہ کرتے لیکن حملہ دن و رات کے کسی وقت بھی کرنا جائز ہے حرام نہیں ہے اور حالت غفلت میں بھی حملہ کیا جاسکتا ہے۔ لیکن احتیاط کی غرض سے کبھی حالت غفلت میں بھی حملہ کرتے اور رات کو حملہ اس لیے نہ کرتے کہ کہیں مسلمان ایک دوسرے کو قتل نہ کر بیٹھیں۔ جیسے ابن عقیل کے قتل میں ہوا کہ انھوں نے اپنے ساتھی کی ٹانگ کاٹ ڈالی۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کو کئی یہودیوں پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ جیسے ابو رافع عبداللہ بن ابی الحقیق جس کو سلام بن ابی الحقیق بھی کہا جاتا تھا۔

18106

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18106

Sahih

(١٨١٠٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُوسَی الشَّطَوِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی أَبِی رَافِعٍ الْیَہُودِیِّ وَکَانَ یَسْکُنُ أَرْضَ الْحِجَازِ فَنَدَبَ لَہُ سَرَایَا مِنَ الأَنْصَارِ وَأَمَّرَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَتِیکٍ وَکَانَ أَبُو رَافِعٍ یُؤْذِی النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَیُعِینُ عَلَیْہِ وَکَانَ فِی حِصْنٍ لَہُ بِأَرْضِ الْحِجَازِ فَلَمَّا دَنَوْا مِنْہُ وَقَدْ غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَرَاحَ النَّاسُ بِسَرْحِہِمْ فَقَالَ لَہُمْ عَبْدُ اللَّہِ اجْلِسُوا مَکَانَکُمْ فَإِنِّی مُنْطَلِقٌ فَمُتَطَلِّعٌ الأَبْوَابَ لَعَلِّی أَدْخُلُ فَأَقْتُلُہُ حَتَّی إِذَا دَنَا مِنَ الْبَابِ تَقَنَّعَ بِثَوْبِہِ کَأَنَّہُ یَقْضِی حَاجَۃً وَقَدْ دَخَلَ النَّاسُ فَہَتَفَ بِہِ الْبَوَّابُ فَقَالَ : یَا عَبْدَ اللَّہِ إِنْ کُنْتَ تُرِیدُ أَنْ تَدْخُلَ فَادْخُلْ فَإِنِّی أُرِیدُ أَنْ أُغْلِقَ الْبَابَ قَالَ فَدَخَلْتُ فَلَمَّا دَخَلَ النَّاسُ أَغْلَقَ الْبَابَ ثُمَّ عَلَّقَ الأَقَالِیدَ عَلَی وَتَدٍ قَالَ فَقُمْتُ إِلَی الأَقَالِیدِ فَأَخَذْتُہَا فَفَتَحْتُ الْبَابَ وَکَانَ أَبُو رَافِعٍ یُسْمَرُ عِنْدَہُ فِی عَلاَلٍ لَہُ فَلَمَّا نَزَلَ عَنْہُ أَہْلُ سَمَرِہِ صَعِدْتُ إِلَیْہِ فَجَعَلْتُ کُلَّمَا فَتَحْتُ بَابًا أَغْلَقْتُ عَلَیَّ مِنْ دَاخِلٍ فَقُلْتُ إِنَّ الْقَوْمَ نَذِرُوا بِی لَمْ یَخْلُصُوا إِلَیَّ حَتَّی أَقْتُلَہُ قَالَ فَانْتَہَیْتُ إِلَیْہِ فَإِذَا ہُوَ فِی بَیْتٍ مُظْلِمٍ وَسْطَ عِیَالِہِ لاَ أَدْرِی أَیْنَ ہُوَ مِنَ الْبَیْتِ فَقُلْتُ : أَبَا رَافِعٍ ۔ قَالَ : مَنْ ہَذَا ؟ فَأَہْوِی نَحْوَ الصَّوْتِ فَأَضْرِبُہُ ضَرْبَۃً غَیْرَ طَائِلٍ وَأَنَا دَہِشٌ فَلَمْ أُغْنِ عَنْہُ شَیْئًا وَصَاحَ فَخَرَجْتُ مِنَ الْبَیْتِ فَمَکَثْتُ غَیْرَ بَعِیدٍ ثُمَّ جِئْتُ فَقُلْتُ : مَا ہَذَا الصَّوْتُ یَا أَبَا رَافِعٍ ؟ فَقَالَ : لأُمِّکَ الْوَیْلُ رَجُلٌ فِی الْبَیْتِ ضَرَبَنِی قُبَیْلُ بِالسَّیْفِ قَالَ فَأَضْرِبُہُ ضَرْبَۃً ثَانِیَۃً وَلَمْ أَقْتُلْہُ ثُمَّ وَضَعْتُ ضُبَابَۃَ السَّیْفِ فِی بَطْنِہِ ثُمَّ اتَّکَیْتُ عَلَیْہِ حَتَّی سَمِعْتُہُ أَخَذَ فِی ظَہْرِہِ فَعَرَفْتُ أَنِّی قَدْ قَتَلْتُہُ فَجَعَلْتُ أَفْتَحُ الأَبْوَابَ بَابًا بَابًا حَتَّی انْتَہَیْتُ إِلَی دَرَجَۃٍ فَوَضَعْتُ رِجْلِی وَأَنَا أُرَی أَنِّی قَدِ انْتَہَیْتُ إِلَی الأَرْضِ فَوَقَعْتُ فِی لَیْلَۃٍ مُقْمِرَۃٍ فَانْکَسَرَتْ رِجْلِی فَعَصَبْتُہَا بِعِمَامَتِی ثُمَّ إِنِّی انْطَلَقْتُ حَتَّی جَلَسْتُ عِنْدَ الْبَابِ قُلْتُ وَاللَّہِ لاَ أَخْرُجُ اللَّیْلَۃَ حَتَّی أَعْلَمَ أَنِّی قَدْ قَتَلْتُہُ أَوْ لاَ فَلَمَّا صَاحَ الدِّیکُ قَامَ النَّاعِی عَلَی السُّورِ فَقَالَ : أَنْعِی أَبَا رَافِعٍ تَاجِرَ أَہْلِ الْحِجَازِ ۔ فَانْطَلَقْتُ أَتَعَجَّلُ إِلَی أَصْحَابِی فَقُلْتُ النَّجَائَ قَدْ قَتَلَ اللَّہُ أَبَا رَافِعٍ حَتَّی انْتَہَیْنَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَحَدَّثْتُہُ فَقَالَ : ابْسُطْ رِجْلَکَ ۔ فَبَسَطْتُہَا فَمَسَحَہَا فَکَأَنَّمَا لَمْ أَشْتَکِہَا قَطُّ ۔ [صحیح۔ بخاری ٣٠٢٢-٣٠٢٣-٤٠٣٨-٤٠٤٠]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٠٠) حضرت برائ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو رافع یہودی جو حجاز میں رہائش پذیر تھا۔ اس کے لیے ایک انصاری گروہ کی ذمہ داری لگائی تھی۔ جس کے امیر عبداللہ بن عتیک تھے۔ ابو رافع نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف دیتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف مدد کرتا۔ اس کا قلعہ حجاز میں تھا۔ جب صحابہ کا یہ گروہ اس کے قریب ہوا تو سورج غروب ہونے کو تھا۔ لوگ اپنے مویشی لے کر جا رہے تھے تو عبداللہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا : تم اپنی جگہ ٹھہرو، میں جا کر دروازے کے متعلق معلومات حاصل کرتا ہوں۔ شاید میں داخل ہو کر اسے قتل کرسکوں۔ جب وہ دروازے کے قریب ہوئے تو اپنا کپڑا اس طرح لپیٹ لیا جیسے کوئی قضائے حاجت کرنے والا کرتا ہے۔ لوگ قلعہ میں داخل ہوگئے تو دربان نے آواز لگائی۔ اے اللہ کے بندے ! اگر اندر آنا ہے تو آ جاؤ۔ میں دروازہ بند کرنا چاہتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں کہ میں بھی داخل ہوگیا۔ جب لوگ سارے داخل ہوگئے، اس نے دروازہ بند کردیا اور چابیاں ایک تند پر لٹکا دیں۔ عبداللہ کہتے ہیں : میں نے چابیاں لے کر دروازہ کھول دیا اور ابو رافع کے پاس رات کو قصہ گو موجود ہوتے۔ جب رات کو باتیں کرنے والے آگئے تو میں ابو رافع کی طرف چڑھا۔ میں جب دروازہ کھولتا تو اندر سے دروازہ بند کرلیتا۔ میں نے کہا : میرے قتل کرنے تک لوگ مجھے چھوڑے رکھیں۔ جب میں اس تک پہنچا۔ وہ اندھیرے گھر اور اپنے اہل و عیال کے درمیان میں تھا۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ وہ کس جگہ ہے۔ میں نے کہا : ابو رافع ! اس نے کہا : یہ کون ہے ؟ میں نے آواز کی طرف مائل ہو کر وار کیا لیکن بےفائدہ۔ میں گھبرا گیا۔ مجھے کچھ فائدہ نہ ہوا۔ وہ چیخا میں گھر سے نکل کر زیادہ دور نہ گیا۔ پھر میں آیا، میں نے پوچھا : اے ابو رافع ! یہ آواز کیسی تھی ؟ اس نے کہا : تیری ماں کی ہلاکت ہو، گھر میں کوئی شخص ہے، جو مجھے تلوار سے مار رہا ہے۔ عبداللہ کہتے ہیں : میں نے دوسرا حملہ کیا لیکن میں اسے قتل نہ کرسکا۔ پھر میں نے تلوار کی نوک اس کے پیٹ میں رکھ کر اوپر سے زور دیا تو تلوار کے دوسری طرف نکلنے کی آواز سن لی تو میں نے جان لیا کہ میں نے اسے قتل کردیا ہے۔ پھر میں ایک ایک دروازہ کھولتے کھولتے سیڑھیوں تک آگیا۔ میں نے پاؤں رکھا اور خیال کیا کہ میں زمین تک پہنچ گیا ہوں۔ میں چاندنی رات میں گرپڑا۔ میری ٹانگ ٹوٹ گئی تو میں نے اپنی پگڑی سے باندھ لی۔ پھر میں نکل کر دروازے کے پاس بیٹھ گیا۔ میں نے کہا : اللہ کی قسم ! اتنی دیر نہ جاؤں گا، جب تک معلوم نہ کرلوں کہ میں نے اس کو قتل کردیا ہے یا نہیں۔ جب مرغ نے اذان دی تو دیوار پر ایک موت کی خبر دینے والے نے کہا : میں ابو رافع کی موت کی خبر دیتا ہوں۔ میں جلدی سے اپنے ساتھیوں کے پاس گیا۔ میں نے کہا : اللہ نے ابو رافع کو ہلاک کردیا ہے۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آ کر بیان کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پاؤں پھیلاؤ، میں نے پاؤں پھیلایا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ مبارک پھیرا تو یوں محسوس ہوا کہ مجھے کبھی تکلیف ہوئی ہی نہیں۔

18107

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18107

Zaeef

(١٨١٠١) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی (ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی الْمَنِیعِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی أَبِی رَافِعٍ الْیَہُودِیِّ رِجَالاً مِنَ الأَنْصَارِ وَأَمَّرَ عَلَیْہِمْ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ فُلاَنٍ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِنَحْوِہِ غَیْرَ أَنَّہُ قَالَ : فَإِنِّی مُنْطَلِقٌ فَمُتَلَطِّفٌ لِلْبَوَّابِ وَقَالَ فَدَخَلْتُ فَکَمَنْتُ فَلَمَّا دَخَلَ النَّاسُ أَغْلَقَ الْبَابَ ثُمَّ عَلَّقَ الأَقَالِیدَ عَلَی وَتَدٍ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یُوسُفَ بْنِ مُوسَی عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مُوسَی وَیُذْکَرُ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ أَنَّ ذَلِکَ کَانَ بِخَیْبَرَ وَأَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ أُنَیْسٍ ہُوَ الَّذِی قَتَلَہُ وَفِی حَدِیثٍ آخَرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ أُنَیْسٍ ضَرَبَہُ وَابْنَ عَتِیکٍ ذَفَّفَ عَلَیْہِ ۔ وَفِی الرِّوَایَاتِ کُلِّہَا أَنَّ ابْنَ عَتِیکٍ سَقَطَ فَوُثِئَتْ رِجْلُہُ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٠١) براء فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ابو رافع کی جانب کچھ انصاری لوگ بھیجے اور عبداللہ کو ان کا امیر بنایا اس طرح اس نے حدیث کو ذکر کیا علاوہ اس کے کہ انھوں نے کہا : میں چلتا رہا اور دربان کو چمٹا رہا۔ پھر میں داخل ہوا اور چھپ گیا۔ جب لوگ داخل ہوئے تو اس نے دروازہ بند کردیا اور چابیاں ایک کیل پر لٹکا دیں۔