Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3572

سیر کا بیان

دشمن کے علاقہ میں مال غنیمت تقسیم کرنا

19 hadiths in this chapter

17978

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17978

Sahih

(١٧٩٧٢) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوبَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا سُلَیْمُ بْنُ أَخْضَرَ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ : کَتَبْتُ إِلَی نَافِعٍ أَسْأَلُہُ عَنِ الدُّعَائِ قَبْلَ الْقِتَالِ قَالَ فَکَتَبَ إِنَّمَا کَانَ ذَلِکَ فِی أَوَّلِ الإِسْلاَمِ قَدْ أَغَارَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی بَنِی الْمُصْطَلِقِ وَہُمْ غَارُّونَ وَأَنْعَامُہُمْ تُسْقَی عَلَی الْمَائِ فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَہُمْ وَسَبَی سَبْیَہُمْ وَأَصَابَ یَوْمَئِذٍ قَالَ یَحْیَی أَحْسَبُہُ قَالَ جُوَیْرِیَۃَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَحَدَّثَنِی ہَذَا الْحَدِیثَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَکَانَ فِی ذَلِکَ الْجَیْشِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ] رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩٧٢) ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے نافع سے لڑائی سے پہلے دعا کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے لکھا : یہ ابتداء اسلام میں تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو مصطلق پر شب خون مارا (رات کو حملہ کیا) وہ بھی حملہ کرنے کے لیے تیار تھے ان کے جانوروں کو پانی پلایا جا رہا تھا۔ ان کے لڑائی کے قابل لوگوں کو قتل کردیا گیا اور بچوں کو قیدی بنا لیا گیا اور اس دن جویریہ کو تکلیف لاحق ہوئی تھی۔

17979

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17979

Sahih

(١٧٩٧٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الصُّوفِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوبَ (ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ وَہَذَا حَدِیثُہُ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ رَبِیعَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ عَنِ ابْنِ مُحَیْرِیزَ أَنَّہُ قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو صِرْمَۃَ عَلَی أَبِی سَعِیدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَسَأَلَہُ أَبُو صِرْمَۃَ فَقَالَ : یَا أَبَا سَعِیدٍ ہَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَذْکُرُ الْعَزْلَ ؟ قَالَ : نَعَمْ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - غَزْوَۃَ الْمُصْطَلِقِ فَسَبَیْنَا کَرَائِمَ الْعَرَبِ وَطَالَتْ عَلَیْنَا الْعُزْبَۃُ وَرَغِبْنَا فِی الْفِدَائِ فَأَرَدْنَا أَنْ نَسْتَمْتِعَ وَنَعْزِلَ فَقُلْنَا نَفْعَلُ وَرَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَیْنَ أَظْہُرِنَا فَلاَ نَسْأَلُہُ فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : لاَ عَلَیْکُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا مَا کَتَبَ اللَّہُ خَلْقَ نَسَمَۃً ہِیَ کَائِنَۃٌ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ إِلاَّ سَتَکُونُ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَیُّوبَ وَقُتَیْبَۃَ ۔ وَفِی ہَذَا دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّہُ قَسَمَ بَیْنَہُم غَنَائِمَہُمْ قَبْلَ الرُّجُوعِ إِلَی الْمَدِینَۃِ کَمَا قَالَ الأَوْزَاعِیُّ والشَّافِعِیُّ ۔ قَالَ أَبُو یُوسُفَ : افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِلاَدَ بَنِی الْمُصْطَلِقِ وَظَہَرَ عَلَیْہِمْ فَصَارَتْ بِلاَدُہُمْ دَارَ الإِسْلاَمِ وَبَعَثَ الْوَلِیدَ بْنَ عُقْبَۃَ یَأْخُذُ صَدَقَاتِہِمْ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ] قَالَ الشَّافِعِیُّ مُجِیبًا لَہُ عَنْ ذَلِکَ أَغَارَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَیْہِمْ وَہُمْ غَارُّونَ فِی نَعَمِہِمْ فَقَتَلَہُمْ وَسَبَاہُمْ وَقَسَمَ أَمْوَالَہُمْ وَسَبْیَہُمْ فِی دَارِہِمْ سَنَۃَ خَمْسٍ وَإِنَّمَا أَسْلَمُوا بَعْدَہَا بِزَمَانٍ وَإِنَّمَا بَعَثَ إِلَیْہِمُ الْوَلِیدَ بْنَ عُقْبَۃَ مُصَدِّقًا سَنَۃَ عَشْرٍ وَقَدْ رَجَعَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَنْہُمْ وَدَارُہُمْ دَارُ حَرْبٍ قَالَ الشَّیْخُ أَمَّا قَوْلُہُ أَنَّ ذَلِکَ کَانَ سَنَۃَ خَمْسٍ فَکَذَلِکَ قَالَہُ عُرْوَۃُ وَابْنُ شِہَابٍ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩٧٣) ابو صرمہ نے ابو سعید خدری سے پوچھا : کیا آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عزل کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے ؟ انھوں نے کہا : ہاں ہم غزوہ بنی مصطلق میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔ ہم نے معززین عرب کو قیدی بنایا اور اپنے گھر سے دوری طویل ہو رہی تھی اور ہم چاہتے تھے کہ کچھ مال دے کر فائدہ حاصل کریں اور عزل کریں تو ہم نے کہا : ہم عزل کریں جبکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان میں موجود ہیں اور ہم ان سے سوال نہ کریں۔ ہم نے سوال کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم پر کوئی حرج نہیں اگر نہ کرو جس جان کے پیدا ہونے کا اللہ نے لکھ دیا کہ وہ پیدا ہونے والی ہے قیامت تک وہ پیدا ہو کر رہے گی۔ اس میں دلیل ہے کہ آپ نے مدینہ آنے سے پہلے مال غنیمت کو تقسیم کیا ہے جیسا کہ امام اوزاعی اور امام شافعی ; کا موقف ہے۔ ابو یوسف (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب بنو مصطلق کو فتح کیا اور ان پر غالب ہوئے تو ان کا علاقہ دار السلام میں شامل ہوگیا اور آپ نے ولید بن عقبہ کو ان سے زکوۃ وصول کرنے کے لیے روانہ کیا تھا۔ امام شافعی (رح) نے ابو یوسف کا رد کرتے ہوئے جواب دیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر حملہ کیا جبکہ وہ اپنے جانوروں میں مشغول تھے۔ ان کے قیدیوں کو قتل کیا گیا اور مالوں کو اور قیدیوں کو تقسیم کیا گیا۔ یہ ان کے علاقہ میں پانچ ہجری میں ہوا جبکہ وہ اس کے کافی عرصہ بعد مسلمان ہوئے۔ پھر آپ نے ولید بن عقبہ کو زکوۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا اور یہ دس ہجری کا وقت ہے اور جب آپ ان سے فارغ ہو کر لوٹے تو وہ ابھی دشمن کا علاقہ تھا۔ شیخ (رض) فرماتے ہیں : یہ پانچ ہجری کو ہوا اسی طرح عروہ اور ابن شہاب کہتے ہیں۔

17980

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17980

Sahih

(١٧٩٧٤) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ لَہِیعَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَۃَ (ح) قَالَ وَحَدَّثَنَا یَعْقُوبُ وَحَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَیْحٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ فِی ذِکْرِ مَغَازِی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : ثُمَّ قَاتَلَ بَنِی الْمُصْطَلِقِ وَبَنِی لِحْیَانَ فِی شَعْبَانَ مِنْ سَنَۃِ خَمْسٍ ۔ وَہَذَا أَصَحُّ مِمَّا رُوِیَ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ أَنَّ ذَلِکَ کَانَ سَنَۃَ سِتٍّ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩٧٤) ابن شہاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غزوات کو ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ بنو مصطلق اور بنو لحیان کے غزوات شعبان پانچ ہجری کو ہوئے ہیں۔ یہ ابن اسحاق کی روایت سے زیادہ صحیح ہے جس میں چھ ہجری بتایا گیا ہے۔

17981

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17981

Zaeef

(١٧٩٧٥) وَأَمَّا بَعْثُہُ الْوَلِیدَ مُصَدِّقًا فَفِیمَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ کَامِلٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِیُّ حَدَّثَنِی أَبِی سَعْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَطِیَّۃَ حَدَّثَنِی عَمِّی الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَطِیَّۃَ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ جَدِّی عَطِیَّۃَ بْنِ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَعَثَ الْوَلِیدَ بْنَ عُقْبَۃَ بْنِ أَبِی مُعَیْطٍ إِلَی بَنِی الْمُصْطَلِقِ لِیَأْخُذَ مِنْہُمُ الصَّدَقَاتِ وَإِنَّہُ لَمَّا أَتَاہُمُ الْخَبَرُ فَرِحُوا وَخَرَجُوا لِیَتَلَقَّوْا رَسُولَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَإِنَّہُ لَمَّا حُدِّثَ الْوَلِیدُ أَنَّہُمْ خَرَجُوا یَتَلَقَّوْنَہُ رَجَعَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ بَنِی الْمُصْطَلِقِ قَدْ مَنَعُوا الصَّدَقَۃَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْ ذَلِکَ غَضَبًا شَدِیدًا فَبَیْنَمَا ہُوَ یُحَدِّثُ نَفْسَہُ أَنْ یَغْزُوہُمْ إِذْ أَتَاہُ الْوَفْدُ فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّا حُدِّثْنَا أَنَّ رَسُولَکَ رَجَعَ مِنْ نِصْفِ الطَّرِیقِ وَإِنَّا خَشِینَا أَنْ یَکُونَ إِنَّمَا رَدَّہُ کِتَابٌ جَائَ ہُ مِنْکَ لِغَضَبٍ غَضِبْتَہُ عَلَیْنَا وَإِنَّا نَعُوذُ بِاللَّہِ مِنْ غَضِبِ اللَّہِ وَغَضِبِ رَسُولِہِ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - اسْتَغْشَہُمْ وَہَمَّ بِہِمْ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ عُذْرَہُمْ فِی الْکِتَابِ فَقَالَ { یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنْ جَائَ کُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَیَّنُوا أَنْ تُصِیبُوا قَوْمًا بِجَہَالَۃٍ فَتُصْبِحُوا عَلَی مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِینَ } [الحجرات ٦] ۔ [ضعیف جدًا ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩٧٥) ولید بن عقبہ کے صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجنے کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ولید بن عقبہ بن ابی معیط کو بنو مصطلق کی طرف صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ جب ان کے پاس ان کے آنے کی خبر آتی تو وہ خوش ہوتے اور اس کا استقبال کرنے کے لیے نکلتے۔ تاکہ اللہ کے رسول کے قاصد کا استقبال کریں جب ولید (رض) کو بتایا کہ وہ استقبال کے لیے آتے ہیں تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف لوٹے اور کہا : اے اللہ کے رسول ! انھوں نے زکوۃ کو روک لیا ہے۔ آپ ناراض ہوئے۔ ابھی آپ ان سے لڑائی کا سوچ رہے تھے کہ بنو مصطلق کا وفد آگیا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں پتہ چلا ہے کہ آپ کا قاصد آدھا سفر کر کے واپس چلا گیا ہے۔ ہم ڈرے کہ اس کا لوٹنا آپ کے کسی خط کی وجہ سے کسی غصہ کی وجہ سے جو آپ کو ہم پر آیا ہو اور ہم اللہ اور اس کے رسول کے غصہ سے بچنے کے لیے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے چھپا رہے تھے اور ان پر حملہ کا ارادہ رکھتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کا عذر نازل فرما دیا۔ فرمایا : { یاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ۔۔۔} [الحجرات ٦] ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کرلو۔ ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو لاعلمی کی وجہ سے نقصان پہنچا دو ۔ پھر جو تم نے کیا اس پر پشیمان ہو جاؤ۔ “

17982

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17982

Sahih

(١٧٩٧٦) وَأَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الْوَلِیدَ بْنَ عُقْبَۃَ بْنِ أَبِی مُعَیْطٍ إِلَی بَنِی الْمُصْطَلِقِ لَیُصَدِّقَہُمْ فَتَلَقَّوْہُ بِالْہَدِیَّۃِ فَرَجَعَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ لَہُ إِنَّ بَنِی الْمُصْطَلِقِ قَدْ أَجْمَعُوا لَکَ لِیُقَاتِلُوکَ فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی {إِنْ جَائَ کُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَیَّنُوا } [الحجرات ٦] الآیَۃَ ۔ قَالَ الشَّیْخُ : وَالَّذِی یُسْتَدَلُّ بِہِ عَلَی أَنَّ ذَلِکَ کَانَ بَعْدَ غَزْوَۃِ بَنِی الْمُصْطَلِقِ بِمُدَّۃٍ کَثِیرَۃٍ وَیُشْبِہُ أَنْ یَکُونْ سَنَۃَ عَشْرٍ کَمَا حَفِظَہُ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَنَّ الْوَلِیدَ بْنَ عُقْبَۃَ کَانَ زَمَنَ الْفَتْحِ صَبِیًّا وَذَلِکَ سَنَۃَ ثَمَانٍ وَلاَ یَبْعَثُہُ مُصَدِّقًا إِلاَّ بَعْدَ أَنْ یَصِیرَ رَجُلاً ۔ [حسن ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩٧٦) مجاہد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ولید بن عقبہ بن ابی معیط کو بنو مصطلق کی طرف صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ انھوں نے تحائف لے کر ان کا استقبال کیا تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف لوٹ گئے اور کہا کہ بنو مصطلق نے آپ کے قتل کا ارادہ کیا ہے تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : { یاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنْ جَائَکُمْ فَاسِقٌ بِنَبَاٍِ فَتَبَیَّنُوْا } [الحجرات ٦] ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کرلو “ شیخ نے فرمایا : جس سے دلیل لی گئی کہ یہ غزوہ بنی مصطلق کے کافی عرصہ بعد ہوا ہے اور یہ مدت تقریباً دس سال ہے جیسا کہ امام شافعی (رح) نے ذہن میں رکھا وہ یہ ہے کہ ولید بن عقبہ فتح مکہ کے وقت بچے تھے جبکہ فتح مکہ آٹھ ہجری میں ہوا ہے اور آپ نے اس کو اس وقت بھیجا تھا جب وہ جوان ہوگئے تھے۔

17983

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17983

Zaeef

(١٧٩٧٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ عَنْ أَبِی مُوسَی الْہَمْدَانِیِّ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ عُقْبَۃَ قَالَ : لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَکَّۃَ جَعَلَ أَہْلُ مَکَّۃَ یَأْتُونَہُ بِصِبْیَانِہِمْ فَیَمْسَحُ رُئُ وسَہُمْ وَیَدْعُو لَہُمْ فَجِیئَ بِی إِلَیْہِ وَقَدْ خُلِّقْتُ بِالْخَلُوقِ فَلَمَّا رَآنِی لَمْ یَمَسَّنِی وَلَمْ یَمْنَعْہُ مِنْ ذَلِکَ إِلاَّ الْخَلُوقُ الَّذِی خَلَّقَتْنِی أُمِّی۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩٧٧) ولید بن عقبہ (رض) فرماتے ہیں : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ فتح کیا تو مکہ والے اپنے بچوں کو آپ کے پاس لاتے آپ ان کے سر پر ہاتھ پھیرتے اور ان کے لیے دعا کرتے۔ مجھے بھی لایا گیا میرے سر پر زعفران کی خوشبو لگائی گئی تھی۔ جب آپ نے مجھے دیکھا تو مجھے نہ چھوا۔ آپ نے زعفرانی خوشبو کی وجہ سے مجھے ہاتھ نہ لگایا جو میری ماں نے لگایا تھا۔

17984

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17984

Zaeef

(١٧٩٧٨) وَحَدَّثَنَا بِذَلِکَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا فَیَّاضُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّیُّ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ الْکِلاَبِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ الْہَمْدَانِیِّ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ عُقْبَۃَ قَالَ : لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَکَّۃَ فَذَکَرَہُ بِمَعْنَاہُ ۔ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَقَدْ رُوِیَ أَنَّہُ سَلَحَ یَوْمَئِذٍ فَتَقَذَّرَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَلَمْ یَمَسَّہُ وَلَمْ یَدْعُ لَہُ وَمُنِعَ بَرَکَۃَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لِسَابِقِ عِلْمِ اللَّہِ فِیہِ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩٧٨) ولید بن عقبہ (رض) فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ فتح کیا باقی حدیث پہلی سند والی ہے۔ امام احمد (رح) فرماتے ہیں : یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اس نے ایک دن پاخانہ کیا۔ اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ناپسند کیا۔ پھر اس کو نہ چھوا اور نہ اس کے لیے دعا کی۔ اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی برکت سے منع کیا گیا کیونکہ آپ کو اس کے بارے میں پہلے سے علم تھا۔

17985

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17985

Sahih

(١٧٩٧٩) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکَعْبِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا مُسَدَّدٌ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ الْحَجَبِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ صُہَیْبٍ وَثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - صَلَّی الصُّبْحَ بِغَلَسٍ ثُمَّ رَکِبَ فَقَالَ : اللَّہُ أَکْبَرُ خَرِبَتْ خَیْبَرُ إِنَا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَۃِ قَوْمٍ فَسَائَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِینَ ۔ فَخَرَجُوا یَسْعَوْنَ فِی السِّکَکِ وَہُمْ یَقُولُونَ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِیسُ ۔ قَالَ مُسَدَّدٌ قَالَ حَمَّادٌ : وَالْخَمِیسُ الْجَیْشُ فَظَہَرَ عَلَیْہِمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَتَلَ الْمُقَاتِلَۃَ وَسَبَی الذَّرَارِیَّ فَصَارَتْ صَفِیَّۃُ لِدِحْیَۃَ الْکَلْبِیِّ ثُمَّ صَارَتْ صَفِیَّۃُ لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ثُمَّ تَزَوَّجَہَا وَجَعَلَ صَدَاقَہَا عِتْقَہَا۔ قَالَ عَبْدُ الْعَزِیزِ لِثَابِتٍ : یَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَنْتَ سَأَلْتَ أَنَسًا مَا أَمْہَرَہَا ؟ فَقَالَ : أَمْہَرَہَا نَفْسَہَا۔ فَتَبَسَّمَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩٧٩) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھی۔ پھر آپ سوار ہوئے اور فرمایا : ” اللہ اکبر خیبر برباد ہوگیا۔ جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے لوگوں کی یہ صبح بہت بری ہے۔ “ وہ نکلے گلیوں میں چل رہے تھے اور کہہ رہے تھے : محمد اور اس کا لشکر۔ حماد کہتے ہیں : خمیس لشکر کو کہتے ہیں۔ آپ نے ان پر غلبہ حاصل کیا اور جوانوں کو قتل کیا اور بچوں کو قیدی بنایا۔ صفیہ دحیہ کلبی کے حصہ میں آئی۔ پھر اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حصہ میں دے دیا گیا۔ آپ نے اس سے نکاح کیا اور آزادی کو حق مہر قرار دیا۔ عبدالعزیز نے ثابت سے پوچھا : کیا تو نے انس سے پوچھا تھا کہ آپ نے مہر کیا رکھا تو انھوں نے کہا : آپ نے اس کا مہر اس کے نفس کی آزادی رکھا تھا تو وہ مسکرا دیے۔

17986

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17986

Sahih

(١٧٩٨٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ (ح) قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ ہَاشِمٍ حَدَّثَنَا بَہْزٌ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ عَنْ ثَابِتٍ حَدَّثَنَا أَنَسٌ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : صَارَتْ صَفِیَّۃُ لِدِحْیَۃَ فِی مَقْسَمِہِ وَجَعَلُوا یَمْدَحُونَہَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَیَقُولُونَ مَا رَأَیْنَا فِی السَّبْیِ مِثْلَہَا قَالَ فَبَعَثَ إِلَی دِحْیَۃَ فَأَعْطَاہُ بِہَا مَا أَرَادَ ثُمَّ دَفَعَہَا إِلَی أُمِّی فَقَالَ : أَصْلِحِیہَا ۔ قَالَ ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْ خَیْبَرَ حَتَّی جَعَلَہَا فِی ظَہْرِہِ نَزَلَ ثُمَّ ضَرَبَ عَلَیْہَا الْقُبَّۃَ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ : مَنْ کَانَ عِنْدَہُ فَضْلُ زَادٍ فَلْیَأْتِنَا بِہِ ۔ قَالَ : فَجَعَلَ الرَّجُلُ یَجِیئُ بِفَضْلِ التَّمْرِ وَفَضْلِ السَّوِیقِ وَفَضْلِ السَّمْنِ حَتَّی جَعَلُوا مِنْ ذَلِکَ سَوَادًا حَیْسًا فَجَعَلُوا یَأْکُلُونَ مِنْ ذَلِکَ الْحَیْسِ وَیَشْرَبُونَ مِنْ حِیَاضٍ إِلَی جَنْبِہِمْ مِنْ مَائِ السَّمَائِ قَالَ فَقَالَ أَنَسٌ وَکَانَتْ تِلْکَ وَلِیمَۃَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَیْہَا قَالَ فَانْطَلَقْنَا حَتَّی إِذَا رَأَیْنَا جُدُرَ الْمَدِینَۃِ مَشَیْنَا إِلَیْہَا فَرَفَعْنَا مَطِیَّتَنَا وَرَفَعَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَطِیَّتَہُ قَالَ وَصَفِیَّۃُ خَلْفَہُ قَدْ أَرْدَفَہَا فَعَثَرَتْ مَطِیَّۃُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَصُرِعَ وَصُرِعَتْ قَالَ فَلَیْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ یَنْظُرُ إِلَیْہِ وَلاَ إِلَیْہَا حَتَّی قَامَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَسْتُرُہَا قَالَ فَأَتَیْنَاہُ فَقَالَ : لَمْ نُضَرَّ ۔ قَالَ فَدَخَلْنَا الْمَدِینَۃَ فَخَرَجَ جَوَارِی نِسَائِہِ یَتَرَائَیْنَہَا وَیَشْمَتْنَ بِصَرْعَتِہَا۔ لَفْظُ حَدِیثِ بَہْزِ بْنِ أَسَدٍ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ ہَاشِمٍ ۔ وَفِی ہَذَا دَلاَلَۃٌ عَلَی وُقُوعِ قِسْمَۃِ غَنِیمَۃِ خَیْبَرَ بِخَیْبَرَ قَالَ أَبُو یُوسُفَ إِنَّہَا حِینَ افْتَتَحَہَا صَارَتْ دَارَ إِسْلاَمٍ وَعَامَلَہُمْ عَلَی النَّخْلِ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ : أَمَّا خَیْبَرُ فَمَا عَلِمْتُہُ کَانَ فِیہَا مُسْلِمٌ وَاحِدٌ مَا صَالِحَ إِلاَّ الْیَہُودَ وَہُمْ عَلَی دِینِہِمْ وَمَا حَوْلَ خَیْبَرَ کُلُّہُ دَارُ حَرْبٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩٨٠) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں : تقسیم میں صفیہ دحیہ کلبی (رض) کے حصہ میں آئی۔ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اس کی تعریف کرنے لگے اور وہ کہتے تھے : ہم نے قیدیوں میں اس جیسا نہیں دیکھا۔ آپ نے دحیہ کی طرف قاصد بھیجا اور ان کو صفیہ کے بدلہ میں کچھ دیا اور اس کو میرے مال کی طرف بھیجا اور کہا کہ اس کا معاملہ درست کرو۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خیبر سے نکلے۔ جب وہ پیچھے رہ گیا تو آپ نے پڑواؤ کیا۔ آپ کا خیمہ لگایا گیا۔ جب صبح ہوئی تو آپ نے فرمایا : جس کے پاس زائد مال ہو وہ لائے تو لوگ چیزیں لانا شروع ہوئے۔ کھجوریں ، ستو، گھی لایا گیا۔ جب یہ ایک کھانے کا بڑا ڈھیر بن گیا تو اس میں سے کھانے لگے اور وہ اپنے پہلوں میں جمع پانی سے پینے لگے جو آسمانی بارش سے جمع ہوا تھا۔ یہ اللہ کے رسول کی طرف سے ولیمہ تھا جو صفیہ سے نکاح پر کیا گیا تھا۔ پھر ہم نکلے حتیٰ کہ ہم نے مدینہ کی دیواروں کو دیکھنا شروع کیا۔ ہم ان کی طرف چلے ہم نے اپنی سواریوں کو اٹھایا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اپنی سواری کو اٹھایا اور صفیہ آپ کے پیچھے تھیں۔ آپ اس کو پیچھے بٹھایا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سواری پھسل گئی۔ آپ اور صفیہ گرگئے۔ ہم میں سے کسی نے آپ کی طرف نہیں دیکھا نہ صفیہ کی طرف دیکھا حتی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر پردہ کردیا۔ پھر ہم آپ کے پاس آئے تو آپ نے کہا : ہمیں چوٹ نہیں آئی۔ جب ہم مدینہ میں داخل ہوئے تو آپ کی بیویوں کی ہمسائیاں نکلیں۔ وہ اس کو دیکھنے کی کوشش کر رہی تھیں اور اس کی جلدی پر خوش ہو رہی تھیں۔ اس میں دلیل ہے کہ آپ نے خیبر کی غنیمت کو خیبر ہی میں تقسیم کیا تھا۔ ابو یوسف کہتے ہیں : جب خیبر کو فتح کرلیا گیا تو وہ دارالسلام بن گیا اور آپ نے کجھوروں پر ان کو عامل مقرر کیا تھا۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : مجھے علم نہیں کہ وہاں کوئی ایک بھی مسلمان تھا۔ آپ نے صرف یہود سے مصالحت کی تھی۔ وہ اپنے دین پر قائم ہیں اور خیبر کے ارد گرد علاقہ بھی دشمن کا علاقہ ہے۔

17987

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17987

Sahih

(١٧٩٨١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَبِی عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی نَافِعٌ مَوْلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَانَ عَامَلَ یَہُودَ خَیْبَرَ عَلَی أَنَّا نُخْرِجُہُمْ إِذَا شِئْنَا فَمَنْ کَانَ لَہُ مَالٌ فَلْیَلْحَقْ بِہِ فَإِنِّی مُخْرِجٌ یَہُودَ فَأَخْرَجَہُمْ ۔ [صحیح۔ احمد ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩٨١) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : اے لوگو ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہودیوں سے اس بات پر معاملہ طے کیا کہ ہم جب چاہیں گے ان کو نکال دیں گے۔ جس کا کوئی مال ہو وہ اس کو تابع کرلے۔ میں یہود کو نکال رہا ہوں پھر آپ نے ان کو نکال دیا۔

17988

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17988

Sahih

(١٧٩٨٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ ہَاشِمٍ الْبَغَوِیُّ وَأَبُو یَعْلَی الْمَوْصِلِیُّ وَالْحَسَنُ النَّسَوِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا ہُدْبَۃُ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ کُلُّہُنَّ فِی ذِی الْقَعْدَۃِ إِلاَّ الَّتِی فِی حَجَّتِہِ عُمْرَۃٌ فِی الْحُدَیْبِیَۃِ أَوْ زَمَنَ الْحُدَیْبِیَۃِ فِی ذِی الْقَعْدَۃِ وَعُمْرَۃٌ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ وَعُمْرَۃٌ مِنَ الْجِعْرَانَۃِ حَیْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَیْنٍ فِی ذِی الْقَعْدَۃِ وَعُمْرَۃٌ مَعَ حَجَّتِہِ ۔ ہَذَا حَدِیثُ إِبْرَاہِیمَ وَقَالَ الْحَسَنُ : عُمْرَۃٌ مِنَ الْحُدَیْبِیَۃِ ۔ وَقَالَ أَبُو یَعْلَی : عُمْرَتُہُ مِنَ الْحُدَیْبِیَۃِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہُدْبَۃَ ۔ وَفِی ہَذَا دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّہُ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَیْنٍ بِہَا۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فَأَمَّا مَا احْتَجَّ بِہِ أَبُو یُوسُفَ مِنْ أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَمْ یَقْسِمْ غَنَائِمَ بَدْرٍ حَتَّی وَرَدَ الْمَدِینَۃَ وَمَا ثَبَتَ مِنَ الْحَدِیثِ بِأَنْ قَالَ وَالدَّلِیلُ عَلَی ذَلِکَ أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَسْہَمَ لِعُثْمَانَ وَطَلْحَۃَ وَلَمْ یَشْہَدَا بَدْرًا فَإِنْ کَانَ کَمَا قَالَ فَہُوَ یُخَالِفُ سُنَّۃَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لأَنَّہُ یَزْعُمُ أَنَّہُ لَیْسَ لِلإِمَامِ أَنْ یُعْطِیَ أَحَدًا لَمْ یَشْہَدِ الْوَقْعَۃَ وَلَمْ یَکُنْ مَدَدًا وَلَیْسَ کَمَا قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - غَنَائِمَ بَدْرٍ بِسَبْرٍ شِعْبٍ مِنْ شِعَابِ الصَّفْرَائِ قَرِیبٌ مِنْ بَدْرٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩٨٢) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجۃ الوداع کے عمرہ کے علاوہ چار عمرے کیے باقی سب ذی القعدہ میں تھے ایک عمرہ حدیبیہ میں یا حدیبیہ کی صلح کے موقع پر ذی القعدہ میں ہوا اور ایک عمرہ آئندہ سال اور ایک جعرانہ سے لوٹنے پر جب آپ حنین کی غنیمتیں تقسیم کرنے آئے تھے اور ایک عمرہ آپ نے اپنے حج کے ساتھ کیا تھا۔ یہ ابراہیم کی حدیث ہے جبکہ حسن نے بالضبط عمرۃ من الحدیبیۃ کہا ہے۔ اس میں دلیل ہے کہ آپ نے حنین کے مقام پر ہی غنیمت کا مال بھی تقسیم کیا تھا۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ ابو یوسف نے جو دلیل لی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کا مال غنیمت مدینہ میں پہنچ کر تقسیم کیا اور جو حدیث میں ثابت ہے اس پر دلیل یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عثمان اور طلحہ (رض) کے لیے بدر کا حصہ رکھا جبکہ وہ بدر میں نہیں آئے۔ اگر اسی طرح ہے تو یہ سنت کے مخالف ہے کیونکہ امام یا امیر کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کو غنیمت سے کچھ دے جبکہ وہ اس میں شامل نہ رہا ہو اور وہ مددگار نہ رہا ہو جبکہ یہ اس طرح نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر کی غنیمتیں سبر نامی جگہ پر تقسیم کیں جو صفراء کی گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی ہے اور بدر کے قریب ہے۔

17989

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17989

Zaeef

(١٧٩٨٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : وَمَضَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ مَضِیقٍ یُقَالَ لَہُ الصَّفْرَائُ خَرَجَ مِنْہُ إِلَی کَثِیبٍ یُقَالُ لَہُ سَبْرٌ عَلَی مَسِیرَۃِ لَیْلَۃٍ مِنْ بَدْرٍ أَوْ أَکْثَرَ فَقَسَمَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - النَّفْلَ بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ عَلَی ذَلِکَ الْکَثِیبِ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩٨٣) ابن اسحاق کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چلے۔ جب آپ درے سے نکلے جس کو صفراء کہا جاتا ہے تو آپ اس سے ٹیلے کی طرف نکلے جس کو سبر کہا جاتا ہے۔ یہ بدر سے ایک رات کی مسافت کے برابر دوری پر ہے یا اس بھی زیادہ۔ پھر آپ نے اس ٹیلے کے پاس مال غنیمت کو تقسیم کیا۔

17990

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17990

Zaeef

(١٧٩٨٤) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سُلَیْمَانَ الْجُعْفِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی حُیَیٌّ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - خَرَجَ یَوْمَ بَدْرٍ بِثَلاَثِمِائَۃٍ وَخَمْسَۃَ عَشَرَ مِنَ الْمُقَاتِلَۃِ کَمَا خَرَجَ طَالُوتُ فَدَعَا لَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حِینَ خَرَجَ فَقَالَ : اللَّہُمَّ إِنَّہُمْ حُفَاۃٌ فَاحْمِلْہُمْ اللَّہُمَّ إِنَّہُمْ عُرَاۃٌ فَاکْسُہُمُ اللَّہُمَّ إِنَّہُمْ جِیَاعٌ فَأَشْبِعْہُمْ ۔ فَفَتَحَ اللَّہُ لَہُمْ یَوْمَ بَدْرٍ فَانْقَلَبُوا وَمَا مِنْہُمْ رَجُلٌ إِلاَّ وَقَدْ رَجَعَ بِجَمَلٍ أَوْ جَمَلَیْنِ وَاکْتَسَوْا وَشَبِعُوا۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَکَانَتْ غَنَائِمُ بَدْرٍ کَمَا رَوَی عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ غَنِمَہَا الْمُسْلِمُونَ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الآیَۃُ فِی سُورَۃِ الأَنْفَالِ فَلَمَّا تَشَاحُّوا عَلَیْہَا انْتَزَعَہَا اللَّہُ مِنْ أَیْدِیہِمْ بِقَوْلِہِ { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّہِ وَالرَّسُولِ } [الأنفال ١] الآیَۃَ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩٨٤) حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تین سو پندرہ نفوس کے ساتھ بدر کی طرف نکلے جیسے طالوت نکلا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے دعا کی جب نکلے تو آپ نے کہا : ” اے اللہ ! یہ بغیر سواری کے ننگے پاؤں ہیں۔ اے اللہ ! تو ان کو سوار کر دے۔ اے اللہ ! یہ ننگے بدن ہیں ان کو پہنا۔ اے اللہ ! یہ بھوکے ہیں تو ان کو سیر کر دے۔ اللہ نے ان کو بدر کے دن فتح دی۔ وہ واپس آئے تو ہر آدمی ایک یا دو اونٹ لے کر آیا۔ انھوں نے پہنا اور سیر ہوئے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : عبادہ بن صامت کی روایت کے مطابق بدر کی غنیمتیں جو مسلمانوں کو حاصل ہوئیں۔ یہ سورة انفال کی آیت کے نزول سے پہلے کا واقع ہے۔ جب انھوں اختلاف کیا تو اللہ نے یہ ان سے چھین لیا { یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ } [الأنفال ١] ” وہ تجھ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجیے کہ غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔

17991

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17991

Zaeef

(١٧٩٨٥) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ : الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَیَّاشِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی الأَشْدَقِ عَنْ مَکْحُولٍ عَنْ أَبِی سَلاَّمٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ الْبَاہِلِیِّ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی بَدْرٍ فَلَقِیَ بِہَا الْعَدُوَّ فَلَمَّا ہَزَمَہُمُ اللَّہُ اتَّبَعَتْہُمْ طَائِفَۃٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ یَقْتُلُونَہُمْ وَأَحْدَقَتْ طَائِفَۃٌ بِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَاسْتَوْلَتْ طَائِفَۃٌ عَلَی النَّہْبِ وَالْعَسْکَرِ فَلَمَّا رَجَعَ الَّذِینَ طَلَبُوا الْعَدُوَّ قَالُوا لَنَا النَّفْلُ نَحْنُ طَلَبْنَا الْعَدُوَّ وَبِنَا نَفَاہُمُ اللَّہُ وَہَزَمَہُمْ وَقَالَ الَّذِینَ أَحْدَقُوا بِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ بِہِ مِنَّا بَلْ ہُوَ لَنَا نَحْنُ أَحْدَقْنَا بِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ یَنَالَہُ مِنَ الْعَدُوِّ غِرَّۃٌ وَقَالَ الَّذِینَ اسْتَوْلَوْا عَلَی الْعَسْکَرِ وَالنَّہْبِ مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ بِہِ مِنَّا بَلْ ہُوَ لَنَا نَحْنُ اسْتَوْلَیْنَا عَلَیْہِ وَأَحْرَزْنَاہُ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَی رَسُولِہِ عَلَیْہِ السَّلاَمُ { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّہِ وَالرَّسُولِ } [الأنفال ١] الآیَۃَ فَقَسَمَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَیْنَہُمْ عَنْ فَوَاقٍ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩٨٥) حضرت عبادہ بن صامت (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر کی طرف نکلے۔ دشمن سے آمنا سامنا ہوا۔ جب اللہ نے دشمن کو شکست دے دی تو مسلمان کے ایک لشکر نے دشمن کا پیچھا کیا۔ وہ ان کو قتل کرتا تھا اور ایک دستہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گھیرے میں لیے ہوئے تھا۔ ایک دستہ مال غنیمت اور لشکر پر قبضہ کررہا تھا۔ جب دشمن کا تعاقب کرنے والے لوٹے تو انھوں نے کہا : غنیمت ہمارے لیے ہیں کیونکہ ہم نے دشمن کا تعاقب کیا ہے اور ہمارے ذریعہ اللہ نے ان کو بھگا دیا اور ان کو شکست دی۔ جنہوں نے آپ کو گھیرے میں لے رکھا تھا انھوں نے کہا : تم ہم سے زیادہ حق دار نہیں ہو ؟ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گھیرے رکھا کہ کہیں ان کو دشمن کو نقصان نہ پہنچائے اور جنہوں نے مال غنیمت اور لشکر پر قبضہ کیا انھوں نے کہا : تم ہم سے زیادہ حق دار نہیں۔ ہم نے اس پر قبضہ کیا اور اس کی حفاظت کی ہے تو اللہ تعالیٰ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ آیت نازل کی : { یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ } [الأنفال ١] ” وہ تجھ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجیے کہ غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔ کچھ دیر بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مال غنیمت کو ان میں برابر تقسیم کردیا۔

17992

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17992

Zaeef

(١٧٩٨٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی الأَشْدَقِ عَنْ مَکْحُولٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ الْبَاہِلِیِّ قَالَ : سَأَلَتُ عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ الأَنْفَالِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِمَعْنَاہُ قَالَ فِی آخِرِہِ فَلَمَّا اخْتَلَفْنَا وَسَائَ تْ أَخْلاَقُنَا انْتَزَعَہُ اللَّہُ مِنْ أَیْدِینَا فَجَعَلَہُ إِلَی رَسُولِہِ فَقَسَمَہُ عَلَی النَّاسِ عَنْ بَوَائٍ فَکَانَ فِی ذَلِکَ تَقْوَی اللَّہِ وَطَاعَتُہُ وَطَاعَۃُ رَسُولِہِ وَصَلاَحُ ذَاتِ الْبَیْنِ یَقُولُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّہِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّہَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَیْنِکُمْ } [الأنفال ١] وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الزُّہْرِیَّ یَقُولُ : أُنْزِلَتْ سُورَۃُ الأَنْفَالِ بِأَسْرِہَا فِی أَہْلِ بَدْرٍ ۔ [ضعیف ] قَالَ الشَّافِعِیُّ : فَکَانَتْ لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کُلَّہَا خَالِصًا وَقَسَمَہَا بَیْنَہُمْ وَأَدْخَلَ مَعَہُمْ ثَمَانِیَۃَ نَفَرٍ لَمْ یَشْہَدُوا الْوَقْعَۃَ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ وَالأَنْصَارِ وَقَالَ فِی مَوْضِعٍ آخَرَ سَبْعَۃً أَوْ ثَمَانِیَۃً ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩٨٦) حضرت ابو امامہ باہلی (رض) نے عبادہ بن صامت سے انفال کے بارے میں سوال کیا، اس کے آخر میں ہے کہ جب ہم نے اختلاف کیا اور ہمارا رویہ برا ہوگیا تو اللہ نے ہمارے ہاتھوں سے چھین لیا اور اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف لوٹا دیا۔ آپ نے اس کو لوگوں میں برابر تقسیم کردیا۔ یہ اللہ سے ڈر میں تھا اور اللہ اور رسول کی اطاعت میں لوگوں کے درمیان صلح کا طریقہ تھا۔ اللہ فرماتے ہیں : { یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِکُمْ } [الأنفال ١]” وہ تجھ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دے کہ غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں سو اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو۔ ابن اسحاق کہتے ہیں : میں نے زہری (رض) سے سنا ہے، سورة انفال مکمل بدر والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : غنیمت کا سارا مال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تھا۔ آپ نے اس کو لوگوں میں تقسیم کیا اور اس میں آٹھ ایسے گروہ شامل کیے جو غزوہ میں موجود نہ تھے۔ جن کا تعلق مہاجرین و انصار سے تھا ایک مقام پر سات یا آٹھ کا ذکر ہے۔

17993

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17993

Zaeef

(١٧٩٨٧) أَخْبَرَنَاہُ أَبُوالْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ وَحَسَّانُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ أَبِی الأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ فِی تَسْمِیَۃِ مَنْ شَہِدَ بَدْرًا وَلَمْ یَشْہَدْہَا ثُمَّ ضَرَبَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِسَہْمِہِ فَمِمَّنْ لَمْ یَشْہَدْہَا وَضَرَبَ لَہُ بِسَہْمِہِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ بْنِ أَبِی الْعَاصِ بْنِ أُمَیَّۃَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ تَخَلَّفَ بِالْمَدِینَۃِ عَلَی امْرَأَتِہِ رُقَیَّۃَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَکَانَتْ وَجِعَۃً فَضَرَبَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِسَہْمِہِ قَالَ وَأَجْرِی یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : وَأَجْرُکَ ۔ وَطَلْحَۃُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ کَعْبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ تَیْمِ بْنِ مُرَّۃَ قَالَ کَانَ بِالشَّامِ فَقَدِمَ فَکَلَّمَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَضَرَبَ لَہُ بِسَہْمِہِ قَالَ وَأَجْرِی یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : وَأَجْرُکَ ۔ وَسَعِیدُ بْنُ زَیْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَیْلٍ قَدِمَ مِنَ الشَّامِ بَعْدَ مَا رَجَعَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی الْمَدِینَۃِ فَضَرَبَ لَہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِسَہْمِہِ فَقَالَ وَأَجْرِی یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : وَأَجْرُکَ ۔ فَہَؤُلاَئِ الثَّلاَثَۃِ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ وَأَمَّا مِنَ الأَنْصَارِ فَأَبُو لُبَابَۃَ خَرَجَ زَعَمُوا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی بَدْرٍ فَأَمَّرَہُ عَلَی الْمَدِینَۃِ وَضَرَبَ لَہُ بِسَہْمِہِ مَعَ أَصْحَابِ بَدْرٍ وَالْحَارِثُ بْنُ حَاطِبٍ رَجَعَہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - زَعَمُوا إِلَی الْمَدِینَۃِ وَضَرَبَ لَہُ بِسَہْمِہِ وَخَرَجَ عَاصِمُ بْنُ عَدِیٍّ فَرَدَّہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَضَرَبَ لَہُ بِسَہْمٍ مَعَ أَہْلِ بَدْرٍ وَخَوَّاتُ بْنُ جُبَیْرِ بْنِ النُّعْمَانِ ضَرَبَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِسَہْمِہِ فِی أَصْحَابِ بَدْرٍ وَالْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّۃِ کُسِرَ بِالرَّوْحَائِ فَضَرَبَ لَہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِسَہْمٍ ۔ وَذَکَرَہُمْ أَیْضًا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ وَذَکَرَہُمْ أَیْضًا مُوسَی بْنُ عُقْبَۃَ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَذْکُرِ الْحَارِثَ بْنَ حَاطِبٍ فِی الرَّدِ إِلَی الْمَدِینَۃِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَإِنَّمَا أَعْطَاہُمْ مِنْ مَالِہِ وَإِنَّمَا نَزَلَتْ { وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فَأَنَّ لِلَّہِ خُمُسَہُ وَلِلرَّسُولِ } [الأنفال ٤١] بَعْدَ غَنِیمَۃِ بَدْرٍ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩٨٧) عروہ بن زبیر (رض) جنگ بدر میں جانے اور نہ جانے والوں کا ذکر کرتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ میں حاضر ہونے والوں کے لیے حصہ مقرر کیا اور جو غیر حاضر تھے ان میں سے عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبد شمس کو حصہ دیا۔ وہ اپنی بیوی رقیہ (رض) کی بیماری کی وجہ سے مدینہ میں رہے تھے۔ آپ نے ان کو ان کا حصہ دیا تو انھوں نے کہا کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور میرا ثواب تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرا ثواب بھی اور طلحہ بن عبیداللہ بن عثمان بن عمرو بن کعب یہ شام میں تھے۔ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آ کر بات کی تو آپ ان کو بھی حصہ دیا تو انھوں نے ثواب کا مطالبہ کیا تو آپ نے کہا : تیرا ثواب بھی تجھے ملے گا۔ اور سعید بن زید عن عمرو بن نفیل یہ بھی شام سے آئے جب آپ مدینہ لوٹ چکے تھے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو حصہ دیا اور اجر وثواب کے بارے میں بھی کہا کہ ملے گا۔ یہ تینوں مہاجرین میں سے تھے اور انصار میں سے ابو لبابہ جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بدر کی طرف گئے۔ آپ نے ان کو مدینہ کا امیر بنایا تھا۔ آپ نے ان کو بدر والوں کے ساتھ حصہ دیا اور حارث بن حاطب کو بھی آپ نے مدینہ بھیج دیا تھا۔ اس کو بھی حصہ دیا تھا۔ عاصم بن عدی بھی نکلے تھے مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو واپس کردیا تھا اور ان کو حصہ بھی دیا اور خوات بن جبیر بن نعمان کو بھی بدر والوں کے ساتھ حصہ دیا اور حارث بن صمہ جو کہ روحاء کے مقام پر زخمی ہوگئے تھے۔ آپ نے ان کو بھی حصہ دیا۔ ان سب کا تذکرہ محمد بن اسحاق بن یسار اور موسیٰ بن عقبہ نے بھی کیا ہے مگر حارث بن حاطب کو مدینہ کی طرف واپس بھیجنے کا تذکرہ نہیں کیا۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : آپ نے ان کو اپنے مال سے دیا اور اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : { وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّمَا عَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ } [الأنفال ٤١] ” اور جان لو کہ بیشک تم جو کچھ بھی غنیمت حاصل کرو اس کا پانچواں حصہ اللہ اور رسول کے لیے ہے۔ “ یہ بدر کے بعد کا واقعہ ہے۔

17994

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17994

Sahih

(١٧٩٨٨) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ : الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : سُورَۃُ الأَنْفَالِ ۔ قَالَ : نَزَلَتْ فِی أَہْلِ بَدْرٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ] رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ سُلَیْمَانَ عَنْ ہُشَیْمٍ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ وَأَمَّا مَا احْتُجَّ بِہِ مِنْ وَقْعَۃِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَحْشٍ وَابْنِ الْحَضْرَمِیِّ فَذَلِکَ قَبْلَ بَدْرٍ وَقَبْلَ نُزُولِ الآیَۃِ وَکَانَتْ وَقْعَتُہُمْ فِی آخِرِ یَوْمٍ مِنَ الشَّہْرِ الْحَرَامِ فَتَوَقَّفُوا فِیمَا صَنَعُوا حَتَّی نَزَلَتْ { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیہِ قُلْ قِتَالٌ فِیہِ کَبِیرٌ} [البقرۃ ٢١٧] وَلَیْسَ مِمَّا خَالَفَ فِیہِ الأَوْزَاعِیُّ بِسَبِیلٍ ۔ قَالَ الشَّیْخ قَدْ ذَکَرْنَا قِصَّۃَ ابْنِ جَحْشٍ مِنْ رِوَایَۃِ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩٨٨) حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) سے سورة انفال کے بارے میں بات کی تو انھوں نے فرمایا : یہ بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن جحش اور ابن حضرمی کے واقعہ جو دلیل لی جاتی ہے یہ واقعہ بدر سے پہلے کا ہے اور ان آیات کے نزول سے پہلے کا ہے جبکہ ان کا واقعہ حرمت والے مہینوں کے آخر میں ہوا تو انھوں نے اس میں توقف کیا یہاں تک یہ آیت نازل ہوئی : { یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الشَّھْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْہِ قُلْ قِتَالٌ فِیْہِ کَبِیْرٌ} [البقرۃ ٢١٧] ” یہ تجھ سے حرمت والے مہینے میں لڑنے کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دے کہ اس میں لڑنا بہت بڑا ہے۔ “ اور امام اوزاعی کو اختلاف کرنے کے لیے کوئی راستہ نہیں۔ شیخ فرماتے ہیں کہ ابن جحش کا قصہ جندب بن عبداللہ کی روایت میں ذکر ہوگیا ہے۔

17995

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17995

Zaeef

(١٧٩٨٩) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی یَزِیدُ بْنُ رُومَانَ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَبْدَ اللَّہِ بْنَ جَحْشٍ إِلَی نَخْلَۃَ فَقَالَ لَہُ : کُنْ بِہَا حَتَّی تَأْتِیَنَا بِخَبَرٍ مِنْ أَخْبَارِ قُرَیْشٍ ۔ وَلَمْ یَأْمُرْہُ بِقِتَالٍ وَذَلِکَ فِی الشَّہْرِ الْحَرَامِ وَکَتَبَ لَہُ کِتَابًا قَبْلَ أَنْ یُعْلِمَہُ أَیْنَ یَسِیرُ فَقَالَ : اخْرُجْ أَنْتَ وَأَصْحَابُکَ حَتَّی إِذَا سِرْتَ یَوْمَیْنِ فَافْتَحْ کِتَابَکَ وَانْظُرْ فِیہِ فَمَا أَمَرْتُکَ بِہِ فَامْضِ لَہُ وَلاَ تَسْتَکْرِہَنَّ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِکَ عَلَی الذَّہَابِ مَعَکَ ۔ فَلَمَّا سَارَ یَوْمَیْنِ فَتَحَ الْکِتَابَ فَإِذَا فِیہِ : أَنِ امْضِ حَتَّی تَنْزِلَ نَخْلَۃَ فَتَأْتِیَنَا مِنْ أَخْبَارِ قُرَیْشٍ بِمَا یَصِلُ إِلَیْکَ مِنْہُمْ ۔ فَقَالَ لأَصْحَابِہِ حِینَ قَرَأَ الْکِتَابَ : سَمْعٌ وَطَاعَۃٌ مَنْ کَانَ مِنْکُمْ لَہُ رَغْبَۃٌ فِی الشَّہَادَۃِ فَلْیَنْطَلِقْ مَعِی فَإِنِّی مَاضٍ لأَمْرِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَمَنْ کَرِہَ ذَلِکَ مِنْکُمْ فَلْیَرْجِعْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَدْ نَہَانِی أَنْ أَسْتَکْرِہَ مِنْکُمْ أَحَدًا فَمَضَی مَعَہُ الْقَوْمُ حَتَّی إِذَا کَانَ بِبَحْرَانِ أَضَلَّ سَعْدُ بْنُ أَبِی وَقَّاصٍ وَعُتْبَۃُ بْنُ غَزْوَانَ بَعِیرًا لَہُمَا کَانَا یَعْتَقِبَانِہِ فَتَخَلَّفَا عَلَیْہِ یَطْلُبَانِہِ وَمَضَی الْقَوْمُ حَتَّی نَزَلُوا نَخْلَۃَ فَمَرَّ بِہِمْ عَمْرُو بْنُ الْحَضْرَمِیِّ وَالْحَکَمُ بْنُ کَیْسَانَ وَعُثْمَانُ وَالْمُغِیرَۃُ ابْنَا عَبْدِ اللَّہِ مَعَہُمْ تِجَارَۃٌ قَدِمُوا بِہَا مِنَ الطَّائِفِ أَدَمٌ وَزَبِیبٌ فَلَمَّا رَآہُمُ الْقَوْمُ أَشْرَفَ لَہُمْ وَاقِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ وَکَانَ قَدْ حَلَقَ رَأْسَہُ فَلَمَّا رَأَوْہُ حَلِیقًا قَالُوا عَمَّارٌ لَیْسَ عَلَیْکُمْ مِنْہُمْ بَأْسٌ وَائْتَمَرَ الْقَوْمُ بِہِمْ یَعْنِی أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی آخِرِ یَوْمٍ مِنْ رَجَبٍ فَقَالُوا : لَئِنْ قَتَلْتُمُوہُمْ إِنَّکُمْ لَتَقْتُلُونَہُمْ فِی الشَّہْرِ الْحَرَامِ وَلَئِنْ تَرَکْتُمُوہُمْ لَیَدْخُلُنَّ فِی ہَذِہِ اللَّیْلَۃِ الْحَرَمَ فَلْیَمْتَنِعُنَّ مِنْکُمْ فَأَجْمَعَ الْقَوْمُ عَلَی قَتْلِہِمْ فَرَمَی وَاقِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ التَّمِیمِیُّ عَمْرَو بْنَ الْحَضْرَمِیِّ بِسَہْمٍ فَقَتَلَہُ وَاسْتَأْسَرَ عُثْمَانَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ وَالْحَکَمَ بْنَ کَیْسَانَ وَہَرَبَ الْمُغِیرَۃُ فَأَعْجَزَہُمْ وَاسْتَاقُوا الْعِیرَ فَقَدِمُوا بِہَا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ لَہُمْ : وَاللَّہِ مَا أَمَرْتُکُمْ بِالْقِتَالِ فِی الشَّہْرِ الْحَرَامِ ۔ فَأَوْقَفَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الأَسِیرَیْنِ وَالْعِیرَ فَلَمْ یَأْخُذْ مِنْہَا شَیْئًا فَلَمَّا قَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَا قَالَ أُسْقِطَ فِی أَیْدِیہِمْ وَظَنُّوا أَنْ قَدْ ہَلَکُوا وَعَنَّفَہُمْ إِخْوَانُہُمْ مِنَ الْمُسْلِمِینَ وَقَالَتْ قُرَیْشٌ حِینَ بَلَغَہُمْ أَمْرُ ہَؤُلاَئِ قَدْ سَفَکَ مُحَمَّدٌ الدَّمَ فِی الشَّہْرِ الْحَرَامِ وَأَخَذَ فِیہِ الْمَالَ وَأَسَرَ فِیہِ الرِّجَالَ وَاسْتَحَلَّ الشَّہْرَ الْحَرَامَ فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی فِی ذَلِکَ { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیہِ قُلْ قِتَالٌ فِیہِ کَبِیرٌ وَصَدٌّ عَنْ سَبِیلِ اللَّہِ وَکُفْرٌ بِہِ والْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَہْلِہِ مِنْہُ أَکْبَرُ عِنْدَ اللَّہِ وَالْفِتْنَۃُ أَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ } [البقرۃ ٢١٧] یَقُولُ الْکُفْرُ بِاللَّہِ أَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ فَلَمَّا نَزَلَ ذَلِکَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الْعِیرَ وَفَدَی الأَسِیرَیْنِ فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ أَتَطْمَعُ لَنَا أَنْ تَکُونَ غَزْوَۃً فَأَنْزَلَ اللَّہُ فِیہِمْ {إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَالَّذِینَ ہَاجَرُوا } [البقرۃ ٢١٨] إِلَی قَوْلِہِ { أُولَئِکَ یَرْجُونَ رَحْمَۃَ اللَّہِ } [البقرۃ ٢١٨] إِلَی آخِرِ الآیَۃِ وَکَانُوا ثَمَانِیَۃً وَأَمِیرُہُمُ التَّاسِعُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَحْشٍ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩٨٩) حضرت عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبداللہ بن جحش (رض) کو کھجوروں کے باغ کی طرف بھیجا اور کہا : ” تم وہاں رہو اور قریش کے بارے میں خبر دو ۔ “ آپ نے ان کو قتال کا حکم نہیں دیا تھا اور یہ حرمت والے مہینے کا واقعہ ہے اور ان کو ایک خط دیا اس سے پہلے کہ ان کو بتاتے کہ وہ کہاں جا رہے ہیں اور کہا : ” اپنے ساتھیوں کے ساتھ نکل جاؤ اور دو دن سفر کے بعد اس کو کھولنا اور دیکھنا میں نے تم کو کیا حکم دیا ہے اور اس پر عمل کرنا اور اپنے ساتھیوں کو اپنے ساتھ جانے پر مجبور نہ کرنا۔ “ جب انھوں نے دو دن سفر کرلیا تو خط کو کھولا اس میں تھا ” سفر جاری رکھو حتیٰ کہ کھجور کے باغ میں جاؤ اور جو قریش کے بارے میں تم کو پتہ چلے اس کی ہمیں خبر دو ۔ “ انھوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا سننا اور سن کر اطاعت کرنا ضروری ہے جو شہادت کا متلاشی ہے میرے ساتھ چلے۔ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے چلوں گا جو اس کو ناپسند کرے وہ واپس جاسکتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ کو تمہیں مجبور کرنے سے منع کیا ہے۔ لوگ ان کے ساتھ چلے جب دو دریاؤں کے پاس پہنچے تو سعد بن ابی وقاص اور عتبہ بن غزوان کا اونٹ گم ہوگیا وہ اس کے تعاقب میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ گئے۔ لوگ نکل گئے حتیٰ کہ کھجور کے باغ میں پہنچ گئے تو ان کے پاس سے عمرو بن حضرمی اور حکم بن کیسان عثمان اور مغیرہ گزرے۔ آخری دونوں عبداللہ کے بیٹے تھے۔ ان کے پاس مال تجارت بھی تھا۔ وہ طائف سے چمڑہ اور منقیٰ لائے تھے۔ جب لوگوں نے ان کو دیکھا تو واقد بن عبداللہ نے ان کی نگرانی کی۔ انھوں نے اپنا سر منڈوایا ہوا تھا۔ جب انھوں نے دیکھا تو کہا : ان سے کوئی خوف نہیں ہے، یہ عمرہ کرنے والے ہیں تو ان لوگوں نے رجب کے آخری دن مشورہ کیا کہ اگر تم ان کو قتل کرتے ہو تو یہ حرمت کا مہینہ ہے اور اگر ان کو چھوڑو گے تو یہ لوگ آج رات حرم میں داخل ہوجائیں اور تمہارے لیے ان کا قتل ممنوع ہوگا لہٰذا لوگوں نے ان کو قتل کرنے پر اتفاق کیا۔ عمرو بن حضرمی کو واقد بن عبداللہ تیمی نے تیر مار کر قتل کردیا اور عثمان بن عبداللہ نے حکم بن کیسان کو قیدی بنا لیا جبکہ مغیرہ بھاگ گیا اور یہ لوگ اس کو نہ پکڑ سکے۔ انھوں نے قافلہ کو لیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگئے تو آپ نے ان سے کہا : ” اللہ کی قسم ! میں نے تم کو حرمت والے مہینے میں قتال کا حکم نہیں دیا تھا۔ “ آپ نے قافلے اور اسیروں کو روکے رکھا۔ ان سے کچھ نہ لیا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی باز پرس کی تو وہ نادم ہوئے اور انھوں نے خیال کیا کہ وہ ہلاک ہوگئے اور مسلمانوں نے ان کی سرزنش کی۔ جب قریش کو یہ خبر ملی تو انھوں نے کہا کہ محمد نے حرمت والے مہینے میں خون بہایا اور بندوں کو اس میں قید کیا اور مہینے کی حرمت کو پامال کیا ہے تو اللہ نے یہ آیات نازل کردیں : { یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الشَّھْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْہِ قُلْ قِتَالٌ فِیْہِ کَبِیْرٌ وَ صَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ کُفْرٌ بِہٖ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ اِخْرَاجُ اَھْلِہٖ مِنْہُ اَکْبَرُ عِنْدَ اللّٰہِ وَ الْفِتْنَۃُ اَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ } [البقرۃ ٢١٧] ” تجھ سے حرمت والے مہینے کے متعلق اس میں لڑنے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دے : اس میں لڑنا بہت بڑا ہے اور اللہ کے راستہ سے روکنا اور کفر کرنا اور مسجد حرام سے روکنا اور اس کے رہنے والوں کو اس سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بھی بڑا (جرم) ہے اور فتنہ قتل سے بھی بڑا ہے۔ “ اللہ نے کہہ دیا کہ اللہ کا انکار کرنا قتال سے بڑا ہے۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قافلہ کو پکڑ لیا اور اسیروں پر فدیہ لگایا تو مسلمانوں نے کہا : کیا آپ اس کو ہمارے لیے غزوہ خیال کرتے ہیں تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : { اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا وَ جٰھَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اُولٰٓئِکَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰہِ } [البقرۃ ٢١٨] ” بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا وہی اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں۔ “ یہ لوگ آٹھ تھے اور نویں ان کے امیر عبداللہ بن جحش تھے۔

17996

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17996

Zaeef

(١٧٩٩٠) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَتَّابٍ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ عَمِّہِ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ فَذَکَرَ قِصَّۃَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَحْشٍ بِمَعْنَی ہَذَا قَالَ وَذَلِکَ فِی رَجَبٍ قَبْلَ بَدْرٍ بِشَہْرَیْنِ وَفِی ذَلِکَ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ ذَلِکَ کَانَ قَبْلَ نُزُولِ الآیَۃِ فِی الْغَنَائِمِ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩٩٠) موسیٰ بن عقبہ عبداللہ بن جحش کے اسی واقعہ کو نقل فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ بدر کے معرکہ سے دو ماہ پہلے رجب میں پیش آیا اور اس میں یہ دلالت بھی موجود ہے کہ یہ واقعہ عنیمتوں کی تقسیم کے بارے میں نازل ہونے والی آیت سے پہلے کا ہے۔