Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3566

سیر کا بیان

لڑائی والے علاقہ میں لشکر ہو اور ایک گروہ کو اردگرد کسی علاقہ میں روانہ کریں اس گروہ کو یا لشکر کو مال غنیمت حاصل ہو تو کیا کیا جائے

2 hadiths in this chapter

17963

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17963

Sahih

(١٧٩٥٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ بُرَیْدِ بْنِ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ أَبِی مُوسَی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْ حُنَیْنٍ بَعَثَ أَبَا عَامِرٍ عَلَی جَیْشٍ إِلَی أَوْطَاسٍ فَلَقِیَ دُرَیْدَ بْنِ الصِّمَّۃِ فَقُتِلَ دُرَیْدٌ وَہَزَمَ اللَّہُ أَصْحَابَہُ ۔ وَذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیثِ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ] قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : أَبُو عَامِرٍ کَانَ فِی جَیْشِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَمَعَہُ بِحُنَیْنٍ فَبَعَثَہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی اتِّبَاعِہِمْ وَہَذَا جَیْشٌ وَاحِدٌ کُلُّ فِرْقَۃٍ مِنْہُ رِدْئٌ لِلأُخْرَی وَإِذَا کَانَ الْجَیْشُ ہَکَذَا فَلَوْ أَصَابَ الْجَیْشُ شَیْئًا دُونَ السَّرِیَّۃِ أَوِ السَّرِیَّۃُ شَیْئًا دُونَ الْجَیْشِ کَانُوا فِیہِ شُرَکَائَ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩٥٧) حضرت ابو موسیٰ (رض) فرماتے ہیں : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حنین کی لڑائی سے فارغ ہوئے تو آپ نے ابو عامر کو ایک دستے کا امیر بنا کر اوطاس کی جانب روانہ کیا درید بن صبہ کی طرف۔ انھوں نے اس کو پایا اور وہ قتل ہوا۔ اللہ نے اس کے ساتھیوں کو شکست دی۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : ابو عامر حنین کی جنگ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لشکر میں تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اپنے کچھ پیروکاروں کے ساتھ بھیجا۔ یہ ایک لشکر تھا۔ ہر گروہ دوسرے کا مددگار تھا۔ جب لشکر کی یہ حیثیت ہو تو جس کو بھی غنیمت ملے تو لشکر اور علیحدہ گروہ دونوں اس میں شریک ہوں گے۔

17964

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17964

Zaeef

(١٧٩٥٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِالْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَامَ الْفَتْحِ فَقَالَ فِیہِ : وَالْمُسْلِمُونَ یَدٌ عَلَی مَنْ سِوَاہُمْ یَسْعَی بِذِمَّتِہِمْ أَدْنَاہُمْ یَرُدُّ عَلَیْہِمْ أَقْصَاہُمْ تَرُدُّ سَرَایَاہُمْ عَلَی قَعَدَتِہِمْ ۔ وَرَوَاہُ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ عَمْرٍو فَقَالَ : یَرُدُّ مُشِدُّہُمْ عَلَی مُضْعِفِہِمْ وَمُتَسَرِّعِہِمْ عَلَی قَاعِدِہِمْ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩٥٨) حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح کے موقع پر خطبہ میں کہا تھا : ” مسلمانوں کو دوسروں پر فوقیت ہے اور مسلمانوں میں سے کمزور ترین آدمی کی ضمان کا بھی خیال رکھا جائے گا۔ دور والوں کو ان پر لوٹایا جائے گا اور فوجی دفاعی دستوں کو ان کے بیٹھنے کی جگہ پر لوٹایا جائے گا۔ عمرو کی روایت میں ہے کہ عقل مندوں کو کمزوروں پر لوٹایا جائے گا اور سبقت لے جانے والوں کو بیٹھنے والوں پر لوٹایا جائے گا۔