Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3559

سیر کا بیان

اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ } [البقرۃ ١٩٥] ” اور اللہ کے راستے میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں مت ڈالو ! “ کا بیان

8 hadiths in this chapter

17929

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17929

Sahih

(١٧٩٢٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ سُلَیْمَانَ عَنْ أَبِی وَائِلٍ قَالَ قَالَ حُذَیْفَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی قَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ { وَلاَ تُلْقُوا بِأَیْدِیکُمْ إِلَی التَّہْلُکَۃِ } [البقرۃ ١٩٥] فِی النَّفَقَۃِ ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ النَّضْرِ بْنِ شُمَیْلٍ عَنْ شُعْبَۃَ وَقَالَ غَیْرُہُ عَنِ الأَعْمَشِ فِی ہَذَا قَالَ : ہُوَ تَرْکُ النَّفَقَۃِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ۔ [صحیح۔ بخاری ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩٢٣) حضرت حذیفہ (رض) فرماتے ہیں : آیت { وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ } [البقرۃ ١٩٥] ” اور ہاتھوں کو ہلاکت میں مت ڈالو۔ “ نفقہ (خرچ) کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ حضرت اعمش (رض) فرماتے ہیں : یہ آیت فی سبیل اللہ خرچ نہ کرنے کے بارے میں ہے۔

17930

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17930

Zaeef

(١٧٩٢٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفَضْلِ الصَّائِغُ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ مَوْلَی أُمِّ ہَانِئٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی قَوْلِہِ { وَأَنْفِقُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ } [البقرۃ ١٩٥] الآیَۃَ قَالَ یَقُولُ : لاَ یَقُولَنَّ أَحَدُکُمْ لاَ أَجِدُ شَیْئًا إِنْ لَمْ یَجِدْ إِلاَّ مِشْقَصًا فَلْیَجْہَزْ بِہِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ { وَلاَ تُلْقُوا بِأَیْدِیکُمْ إِلَی التَّہْلُکَۃِ } [البقرۃ ١٩٥] ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩٢٤) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اللہ کے قول : { وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ } [البقرۃ ١٩٥]” اور اللہ کے راستے میں خرچ کرو۔ “ کے بارے میں کہتے ہیں : ہرگز کوئی یہ نہ کہے کہ میرے پاس اللہ کے راستہ میں دینے کو کچھ نہیں۔ اگر اس پاس ایک نیزہ ہو تو اس کے ساتھ تیاری کرے { وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ } [البقرۃ ١٩٥]” اور ہاتھوں کو ہلاکت میں طرف مت ڈالو۔ “

17931

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17931

Sahih

(١٧٩٢٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ عَنْ حَیْوَۃَ بْنِ شُرَیْحٍ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ أَبِی حَبِیبٍ حَدَّثَنِی أَسْلَمُ أَبُو عِمْرَانَ قَالَ : کُنَّا بِالْقُسْطُنْطِینَۃِ وَعَلَی أَہْلِ مِصْرَ عُقْبَۃُ بْنُ عَامِرٍ وَعَلَی أَہْلِ الشَّأْمِ رَجُلٌ یُرِیدُ فَضَالَۃَ بْنَ عُبَیْدٍ فَخَرَجَ مِنَ الْمَدِینَۃِ صَفٌّ عَظِیمٌ مِنَ الرُّومِ فَصَفَفْنَا لَہُمْ فَحَمَلَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ عَلَی الرُّومِ حَتَّی دَخَلَ فِیہِمْ ثُمَّ خَرَجَ عَلَیْنَا فَصَاحَ النَّاسُ إِلَیْہِ فَقَالُوا : سُبْحَانَ اللَّہِ أَلْقَی بِیَدِہِ إِلَی التَّہْلُکَۃِ فَقَامَ أَبُو أَیُّوبَ الأَنْصَارِیُّ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّکُمْ لَتُأَوِّلُونَ ہَذِہِ الآیَۃَ عَلَی ہَذَا التَّأْوِیلِ إِنَّمَا أُنْزِلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ فِینَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ إِنَّا لَمَّا أَعَزَّ اللَّہُ دِینَہُ وَکَثُرَ نَاصِرُوہُ فَقُلْنَا فِیمَا بَیْنَنَا بَعْضُنَا لِبَعْضٍ سِرًّا مِنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِنَّ أَمْوَالَنَا قَدْ ضَاعَتْ فَلَوْ أَقْمَنَا فِیہَا فَأَصْلَحْنَا مَا ضَاعَ مِنْہَا فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ یَرُدُّ عَلَیْنَا مَا ہَمَمْنَا بِہِ فَقَالَ { وَأَنْفِقُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَلاَ تُلْقُوا بِأَیْدِیکُمْ إِلَی التَّہْلُکَۃِ } [البقرۃ ١٩٥] فَکَانَتِ التَّہْلُکَۃُ فِی الإِقَامَۃِ الَّتِی أَرَدْنَا أَنْ نُقِیمَ فِی أَمْوَالِنَا نُصْلِحُہَا فَأُمِرْنَا بِالْغَزِو فَمَا زَالَ أَبُو أَیُّوبَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ غَازِیًا فِی سَبِیلِ اللَّہِ حَتَّی قَبَضَہُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩٢٥) حضرت اسلم ابو عمران کہتے ہیں : ہم قسطنطنیہ میں تھے۔ اس وقت امیر عقبہ بن عامر تھے اور شام میں ایک اور آدمی امیر تھا جس کا نام فضالہ بن عبید تھا۔ روم سے ایک بڑا لشکر نکلا۔ ہم نے ان کے لیے صف بندی کی۔ ایک مسلمان نے رومیوں پر حملہ کیا۔ وہ ان کے پاس داخل ہوا پھر باہر آیا تو لوگ اس کو چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے : اس نے خود کو ہلاکت میں ڈال دیا ہے۔ ابوایوب الانصاری (رض) کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ یہ کچھ انصاریوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جب دین کی عزت اور مدد گار زیادہ ہوگئے تو ہم بعض ساتھیوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوشیدہ رکھ کر بات کی کہ ہمارے مال ضائع ہوگئے ہیں، اگر ہم وہاں ہوں ان کی اصلاح ہو سکے تو اللہ نے ہماری سوچ کی تریدید اس قول سے کی ہے : { وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ } [البقرۃ ١٩٥] ” اور اللہ کے راستے میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں مت ڈالو ! “ ہلاکت اس میں تھی جو ہم ارادہ کیا کہ اپنے اموال کی اصلاح کے لیے وہیں رہیں۔ ہمیں جہاد کا حکم دیا گیا۔ پھر ابوایوب وفات تک جہاد میں مشغول رہے۔

17932

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17932

Sahih

(١٧٩٢٦) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلْبَرَائِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَحْمِلُ عَلَی الْکَتِیبَۃِ بِالسَّیْفِ فِی أَلْفٍ مِنَ التَّہْلُکَۃِ ذَاکَ ۔ قَالَ : لاَ إِنَّمَا التَّہْلُکَۃُ أَنْ یُذْنِبَ الرَّجُلُ الذَّنْبَ ثُمَّ یُلْقِی بِیَدَیْہِ ثُمَّ یَقُولُ لاَ یُغْفِرُ لِی۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩٢٦) حضرت براء بن عازب (رض) سے ایک آدمی نے کہا : میں نے ایک ہزار کے لشکر پر حملہ کیا، کیا یہ ہلاکت سے ہے ؟ برائ (رض) نے کہا : نہیں ہلاکت یہ ہے کہ بندہ گناہ کرے پھر اس میں ڈوب جائے اور کہے : مجھے معاف نہیں کیا جائے گا۔

17933

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17933

Zaeef

(١٧٩٢٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ ہُوَ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفَضْلِ الْعَسْقَلاَنِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ { وَلاَ تُلْقُوا بِأَیْدِیکُمْ إِلَی التَّہْلُکَۃِ } [البقرۃ ١٩٥] قَالَ : یَقُولُ إِذَا أَذْنَبَ أَحَدُکُمْ فَلاَ یُلْقِیَنَّ بِیَدِہِ إِلَی التَّہْلُکَۃِ وَلاَ یَقُولَنَّ لاَ تَوْبَۃَ لِی وَلَکِنْ لِیَسْتَغْفِرِ اللَّہَ وَلْیَتُبْ إِلَیْہِ فَإِنَّ اللَّہَ غَفُورٌ رَحِیمٌ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩٢٧) حضرت نعمان بن بشیر (رض) آیت : { وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ } [البقرۃ ١٩٥] کے بارے میں فرماتے ہیں : جب بندہ گناہ کرے تو وہ خود کو ہلاکت میں نہ ڈالے اور ہرگز نہ کہے کہ مجھے معافی نہیں ہے بلکہ اس کو چاہیے وہ معافی مانگے اور اللہ کی طرف رجوع کرے اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا مہربان ہے۔

17934

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17934

Sahih

(١٧٩٢٨) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ : عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ عَنْ قَیْسٍ ہُوَ ابْنُ أَبِی حَازِمٍ عَنْ مُدْرِکِ بْنِ عَوْفٍ الأَحْمَسِیِّ : أَنَّہُ کَانَ جَالِسًا عِنْدَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرُوا رَجُلاً شَرَی نَفْسَہُ یَوْمَ نَہَاوَنْدَ فَقَالَ ذَاکَ وَاللَّہِ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ خَالِی زَعَمَ النَّاسُ أَنَّہُ أَلْقَی بِیَدَیْہِ إِلَی التَّہْلُکَۃِ ۔ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَذَبَ أُولَئِکَ بَلْ ہُوَ مِنَ الَّذِینَ اشْتَرُوْا الآخِرَۃَ بِالدُّنْیَا۔ کَذَا فِی رِوَایَۃِ یَعْلَی۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩٢٨) حضرت مدرک بن عوف احمسی حضرت عمر (رض) کے پاس بیٹھے تھے۔ لوگوں نے ایک آدمی کا ذکر کیا جس نے نہاوند کی لڑائی کے دن اپنی جان کا سودا کیا تو مدرک نے کہا : اے امیر المومنین ! یہ میرے ماموں تھے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ اس نے خود کو ہلاکت میں ڈالا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : لوگ غلط کہتے ہیں بلکہ اس نے اپنے نفس کے بدلہ میں آخرت کا سودا کیا ہے۔

17935

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17935

Sahih

(١٧٩٢٩) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُثْمَانَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ عَنْ حُصَیْنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : لَمَّا أُخْبِرَ عُمَرُ بِقَتْلِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ وَقِیلَ أُصِیبَ فُلاَنٌ وَفُلاَنٌ وَآخَرُونَ لاَ نَعْرِفُہُمْ قَالَ : وَلَکِنَّ اللَّہَ یَعْرِفُہُمْ قَالَ وَرَجُلٌ شَرَی نَفْسَہُ ۔ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَحْمَسَ یُقَالُ لَہُ مَالِکُ بْنُ عَوْفٍ : ذَاکَ خَالِی یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ زَعَمَ نَاسٌ أَنَّہُ أَلْقَی بِیَدِہِ إِلَی التَّہْلُکَۃِ ۔ فَقَالَ عُمَرُ : کَذَبَ أُولَئِکَ بَلْ ہُوَ مِنَ الَّذِینَ اشْتَرُوا الآخِرَۃَ بِالدُّنْیَا۔ قَالَ قَیْسٌ وَالْمَقْتُولُ عَوْفُ بْنُ أَبِی حَیَّۃَ وَہُوَ أَبُو شِبْلٍ قَالَ یَعْقُوبُ مَالِکٌ أَشْبَہُ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩٢٩) حضرت حصین بن عوف کہتے ہیں : جب حضرت عمر (رض) کو نعمان بن مقرن کے قتل کی خبر دی گئی اور کہا گیا کہ کچھ دوسرے لوگوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جن کو ہم نہیں جانتے۔ حضرت عمر (رض) نے کہا : اللہ ان کو جانتا ہے تو حصین بن نے کہا کہ ایک آدمی نے اپنے نفس کا سودا کیا ہے۔ احمس کے ایک آدمی نے کہا جس کو مالک بن عوف کہا جاتا ہے کہ یہ میرا ماموں ہے۔ اے امیرالمومنین ! لوگوں کا خیال ہے کہ اس نے خود کو ہلاکت میں ڈالا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے کہا : لوگ غلط کہتے ہیں بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کے بدلہ آخرت کا سودا کیا ہے۔ قیس کہتے ہیں : مقتول عوف بن ابی حیضہ تھا جبکہ یعقوب کہتے ہیں : مالک زیادہ انسب ہے۔

17936

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17936

Zaeef

(١٧٩٣٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالاَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃ أَخْبَرَنَا عَطَائُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ مُرَّۃَ الْہَمْدَانِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : عَجِبَ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رَجُلٍ غَزَا فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَانْہَزَمَ أَصْحَابُہُ فَعَلِمَ مَا عَلَیْہِ فَرَجَعَ حَتَّی أُہَرِیقَ دَمُہُ فَیَقُولُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَلاَئِکَتِہِ انْظُرُوا إِلَی عَبْدِی رَجَعَ رَغْبَۃً فِیمَا عِنْدِی وَشَفَقَۃً مِمَّا عِنْدِی حَتَّی أُہَرِیقَ دَمُہُ ۔ [منکر ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩٣٠) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ایک بندہ کے معاملہ میں تعجب کیا۔ وہ جہاد پر گیا اس کے ساتھیوں کو شکست ہوئی وہ جان گیا اس کے ساتھ کیا ہوگا۔ وہ لوٹا حتیٰ کہ اس کا خون بہا دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہتے ہیں : میرے بندے کو دیکھو میرے پاس جو ہے اس کی امید کی وجہ سے وہ لوٹا اور میری شفقت کی وجہ سے حتی کہ قتل کردیا گیا۔