Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3558

سیر کا بیان

دو بھلائیوں میں سے ایک کی امید رکھتے ہوئے خود کو لڑائی کے لیے پیش کرنے والا امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : انصار کے ایک آدمی نے حفاظتی ہتھیار کے بغیر ہی مشرکین کے ایک گروہ پر حملہ کردیا۔ یہ بدر کا موقع تھا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بارے میں خیر کی خبر دی تھی تو

8 hadiths in this chapter

17921

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17921

Sahih

(١٧٩١٥) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ یَعْنِی ابْنَ الْمُغِیرَۃِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرَ شَیْئًا مِنْ قِصَّۃِ بَدْرٍ قَالَ : فَدَنَا الْمُشْرِکُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : قُومُوا إِلَی جَنَّۃٍ عَرْضُہَا السَّمَوَاتُ وَالأَرْضُ ۔ قَالَ یَقُولُ عُمَیْرُ بْنُ الْحُمَامِ الأَنْصَارِیُّ : یَا رَسُولَ اللَّہِ عَرْضُہَا السَّمَوَاتُ وَالأَرْضُ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ : بَخٍ بَخٍ ۔ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَا یَحْمِلُکَ عَلَی قَوْلِکَ بَخٍ بَخٍ ؟ ۔ قَالَ : لاَ وَاللَّہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِلاَّ رَجَاہَ أَنْ أَکُونَ مِنْ أَہْلِہَا قَالَ : فَإِنَّکَ مِنْ أَہْلِہَا ۔ قَالَ : فَأَخْرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَرَنِہِ فَجَعَلَ یَأْکُلُ مِنْہُنَّ ثُمَّ قَالَ : لَئِنْ أَنَا حَیِیتُ حَتَّی آکُلَ تَمَرَاتِی ہَذِہِ إِنَّہَا لَحَیَاۃٌ طَوِیلَۃٌ۔ قَالَ : فَرَمَی بِمَا کَانَ مَعَہُ مِنَ التَّمْرِ ثُمَّ قَاتَلَہُمْ حَتَّی قُتِلَ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی النَّضْرِ وَغَیْرِہِ عَنْ أَبِی النَّضْرِ ۔ [صحیح۔ مسلم ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩١٥) حضرت انس بن مالک (رض) بدر کا واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ مشرکین قریب ہوئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جنت کی طرف بڑھو وہ جنت جس کی چوڑائی (عرض) زمین اور آسمان کے درمیان فاصلے کے برابر ہے۔ عمر بن حمام انصاری (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا اس کا عرض (چوڑائی) آسمان و زمین کے درمیانی خلا کے برابر ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ! “ تو عمیر نے کہا : واہ واہ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : ” تو نے واہ واہ کیوں کہا “ تو عمیر نے کہا کہ صرف اس امید کی وجہ سے کہ میں ان میں سے ہو جاؤں : تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تو ان میں سے ہے۔ “ اس نے اپنی پوٹلی سے کھجوریں نکال کر کھانا شروع کیں۔ پھر کہا : اگر ان کھجوروں کو کھانے تک میں مزید رکا تو یہ لمبی زندگی ہوگی، اسی وقت کھجوروں کو پھینکا اور دشمن سے لڑا حتیٰ کہ شہید ہوگیا۔

17922

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17922

Sahih

(١٧٩١٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمَ أُحُدٍ : أَرأَیْتَ إِنْ قُتِلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَیْنَ أَنَا ؟ قَالَ : فِی الْجَنَّۃِ ۔ فَأَلْقَی تُمَیْرَاتٍ کُنَّ فِی یَدِہِ ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ ۔ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ سُفْیَانَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩١٦) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے احد کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا اگر آج میں قتل کردیا جاؤں تو کہاں ہوگا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جنت میں “ اس نے اپنے سے کھجوریں پھینکیں اور دشمن سے لڑا اور شہید ہوگیا۔

17923

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17923

Sahih

(١٧٩١٧) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا حُمَیْدٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ النَّضْرَ بْنَ أَنَسٍ عَمَّ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ غَابَ عَنْ قِتَالِ بَدْرٍ فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ : غِبْتُ عَنْ أَوَّلِ قِتَالِ قَاتَلَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الْمُشْرِکِینَ لَئِنِ أَشْہَدَنِی اللَّہُ قِتَالاً لَیَرَیَنَّ اللَّہُ مَا أَصْنَعُ ۔ فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ أُحُدٍ انْکَشَفَ الْمُسْلِمُونَ فَقَالَ : اللَّہُمَّ إِنِّی أَبْرَأُ إِلَیْکَ مِمَّا جَائَ بِہِ ہَؤُلاَئِ یَعْنِی الْمُشْرِکِینَ وَأَعْتَذَرُ إِلَیْکَ مِمَّا صَنَعَ ہَؤُلاَئِ یَعْنِی الْمُسْلِمِینَ ثُمَّ مَشَی بِسَیْفِہِ فَلَقِیَہُ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَقَالَ : أَیْ سَعْدُ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ إِنِّی لأَجِدُ رِیحَ الْجَنَّۃِ دُونَ أُحُدٍ وَاہًا لِرِیحِ الْجَنَّۃِ ۔ قَالَ سَعْدٌ : فَمَا اسْتَطَعْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا صَنَعَ فَوَجَدْنَاہُ بَیْنَ الْقَتْلَی وَبِہِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ جِرَاحَۃً مِنْ ضَرْبَۃٍ بِسَیْفٍ وَطَعْنَۃٍ بِرُمْحٍ وَرَمْیَۃٍ بِسَہْمٍ وَقَدْ مَثَّلُوا بِہِ حَتَّی عَرَفَتْہُ أُخْتُہُ بِبَنَانِہِ ۔ قَالَ أَنَسٌ : کُنَّا نَقُولُ أُنْزِلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ { مِنَ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاہَدُوا اللَّہَ عَلَیْہِ } [الأحزاب ٢٣] فِیہِ وَفِی أَصْحَابِہِ ۔ کَذَا فِی کِتَابِی وَالصَّوَابُ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ حُمَیْدٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩١٧) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں : انس بن مالک کے چچا نضر بن انس بدر کی لڑائی سے غائب رہے۔ جب وہ آئے تو کہا کہ میں پہلی لڑائی سے غائب ہوا ہوں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین سے لڑی ہے۔ اگر میں حاضر ہوتا تو اللہ دیکھتا کہ میں کیا کرتا۔ جب احد کا موقعہ آیا تو مسلمانوں نے اس کو ظاہر کردیا اور اس کے کام کو دیکھ لیا۔ اس نے کہا : اے اللہ ! میں مشرکوں کے ارادہ سے بری ہوں اور مسلمان جو کریں میں ان کو معذور سمجھتا ہوں۔ پھر وہ اپنی تلوار لے کر نکلے اور سعد بن معاذ (رض) سے ملے۔ ان کو رسول اللہ نے کہا کہ اللہ کی قسم ! مجھے احد سے آگے جنت کی خوشبو آرہی ہے۔ جنت کی خوشبو کتنی پیاری ہے۔ سعد (رض) کہتے ہیں : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں اس کی طاقت نہیں رکھتا جو اس نے کیا۔ ہم نے اس کو مقتولین میں پایا۔ ان کو اسی سے اوپر زخم آئے تھے جس میں تلوار نیزہ اور تیر سب کے زخم تھے۔ ان کا مثلہ کردیا گیا تھا ان کی بہن نے ان کی انگلی کے پورے سے پہچانا تھا۔ انس (رض) کہتے ہیں : ہم کہا کرتے تھے کہ آیت { مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاھَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ } [الأحزاب ٢٣] ” مومنوں میں سے کچھ مرد ایسے ہیں جنہوں نے وہ بات سچ کہی جس پر انھوں نے عہد کیا تھا۔ “ ان کے اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں : میری کتاب میں اسی طرح ہے مگر صحیح نضر بن انس کی بجائے انس بن نضر ہے۔

17924

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17924

Sahih

(١٧٩١٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْخَطَّابِ بْنِ عُمَرَ الأَنْصَارِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ شَبِیبٍ الْمَعْمَرِیُّ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا ہُدْبَۃُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ وَثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أُفْرِدَ یَوْمَ أُحُدٍ فِی سَبْعَۃٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَرَجُلَیْنِ مِنْ قُرَیْشٍ فَلَمَّا رَہَقُوہُ قَالَ : مَنْ یَرُدُّہُمْ عَنَّا وَلَہُ الْجَنَّۃُ أَوْ ہُوَ رَفِیقِی فِی الْجَنَّۃِ ؟ ۔ فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ ثُمَّ رَہَقُوہُ أَیْضًا فَقَالَ : مَنْ یَرُدُّہُمْ عَنَّا وَلَہُ الْجَنَّۃُ أَوْ ہُوَ رَفِیقِی فِی الْجَنَّۃِ ؟ فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ فَلَمْ یَزَلْ کَذَلِکَ حَتَّی قُتِلَ السَّبْعَۃُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لِصَاحِبَیْہِ : مَا أَنْصَفْنَا أَصْحَابَنَا۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَدَّابِ بْنِ خَالِدٍ ۔ [صحیح۔ مسلم ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩١٨) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ احد کے میدان میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے سات انصار اور دو قریشی اکیلے رہ گئے۔ جب کافروں نے آپ کو گھیرے میں لے لیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” کون ہے جوان کو روکے اس کے لیے جنت ہے یا وہ جنت میں میرا ساتھی ہوگا۔ “ انصار میں سے ایک آگے آیا دشمن سے لڑا اور شہید ہوگیا۔ انھوں نے پھر گھیرا تنگ کیا تو آپ نے فرمایا : ” جو ان کو روکے گا اس کے لیے جنت ہے یا وہ جنت میں میرا ساتھی ہوگا۔ “ دوسرا انصاری آگے بڑھا اور لڑ کر شہید ہوگیا۔ اس طرح ساتوں انصاری شہید ہوگئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ہم نے اپنے ساتھیوں سے انصاف نہیں کیا۔ “

17925

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17925

Sahih

(١٧٩١٩) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُثْمَانَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ ہُوَ ابْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَازِعِ قَالَ سَمِعْتُ أَیُّوبَ السَّخْتِیَانِیَّ یُحَدِّثُ عَنْ بَعْضِ بَنِی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ عُبَیْدُ اللَّہِ أُرَاہُ ثُمَامَۃَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : مَرَرْتُ یَوْمَ الْیَمَامَۃَ بِثَابِتِ بْنِ قَیْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَہُوَ یَتَحَنَّطُ فَقُلْتُ : یَا عَمِّ أَمَّا تَرَی مَا یَلْقَی الْمُسْلِمُونَ أَیْ وَأَنْتَ ہَا ہَنُا ؟ قَالَ : فَتَبَسَّمَ ثُمَّ قَالَ : الآنَ یَا ابْنَ أَخِی۔ فَلَبِسَ سِلاَحَہُ وَرَکِبَ فَرَسَہُ حَتَّی أَتَی الصَّفَّ فَقَالَ أُفٍّ لِہَؤُلاَئِ وَلِمَا یَصْنَعُونَ وَقَالَ لِلْعَدِوِّ أُفٍّ لِہَؤُلاَئِ وَلِمَا یَعْبُدُونَ خَلُّوا عَنْ سَبِیلِہِ أَوْ قَالَ سَنَنِہِ یَعْنِی فَرَسَہُ حَتَّی أَصْلَی بِحَرِّہَا فَحَمَلَ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ ۔ [صحیح لغیرہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩١٩) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں : وہ یمامہ کی لڑائی کے دن ثابت بن قیس بن شماس کے پاس سے گزرے وہ مہندی لگا رہے تھے۔ میں نے کہا : آپ کو خبر نہیں کہ مسلمانوں پر کیا لاحق ہوگیا اور آپ یہاں ہیں۔ وہ مسکرائے اور کہا بھتیجے ابھی چلتے ہیں انھوں نے ہتھیار پہنے اور گھوڑے پر سوار ہوئے صفوں تک پہنچ گئے اور کہا افسوس ہے ان پر اور ان کے خون پر اور دشمن سے کہا : افسوس ہے ان پر اور جس کی یہ عبادت کرتے ہیں۔ انھوں نے ان کا راستہ چھوڑ دیا یا کہا کہ ان کے گھوڑے کا راستہ چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ گھمسان کی جنگ میں پہنچ گئے اور حملہ کیا لڑائی کی اور شہید ہوگئے۔

17926

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17926

Zaeef

(١٧٩٢٠) وَأَخْبَرَنَا أَبُوالْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُثْمَانَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ : أَنَّ عِکْرِمَۃَ بْنَ أَبِی جَہْلٍ تَرَجَّلَ یَوْمَ کَذَا فَقَالَ لَہُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ لاَ تَفْعَلْ فَإِنَّ قَتْلَکَ عَلَی الْمُسْلِمِینَ شَدِیدٌ۔ فَقَالَ : خَلِّ عَنِّی یَا خَالِدُ فَإِنَّہُ قَدْ کَانَتْ لَکَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - سَابِقَۃٌ وَإِنِّی وَأَبِی کُنَّا مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَمَشَی حَتَّی قُتِلَ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩٢٠) ثابت بنانی سے روایت ہے کہ عکرمہ بن ابی جہل ایک لڑائی میں ایک دن پیدل چلنے لگے تو خالد بن ولید نے کہا : ایسا نہ کر تیرا قتل مسلمانوں پر گراں ہوگا۔ انھوں نے کہا : میرا راستہ چھوڑ دیں۔ اے خالد (رض) ! آپ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ دینے میں مجھ سے آگے ہیں جبکہ میں اور میرا باپ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سب سے بڑے دشمن تھے وہ چلے اور شہید ہوگئے۔

17927

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17927

Sahih

(١٧٩٢١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَہَمِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَعْوَرُ أَخْبَرَنِی السَّرِیُّ بْنُ یَحْیَی عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ : أَنَّ الْمُسْلِمِینَ انْتَہَوْا إِلَی حَائِطٍ قَدْ أُغْلِقَ بَابُہُ فِیہِ رِجَالٌ مِنَ الْمُشْرِکِینَ فَجَلَسَ الْبَرَائُ بْنُ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی تُرْسٍ فَقَالَ : ارْفَعُونِی بِرِمَاحِکُمْ فَأَلْقُونِی إِلَیْہِمْ فَرَفَعُوہُ بِرِمَاحِہِمْ فَأَلْقُوہُ مِنْ وَرَائِ الْحَائِطِ فَأَدْرَکُوہُ قَدْ قَتَلَ مِنْہُمْ عَشَرَۃً ۔ [حسن ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩٢١) محمد بن سیرین (رض) فرماتے ہیں : مسلمان ایک باغ کے پاس پہنچے جس کا دروازہ بند تھا اور اس باغ میں مشرکین تھے تو براء بن مالک (رض) ایک ڈھال پر بیٹھ گئے اور کہا کہ مجھے اپنے نیزوں سے اوپر اٹھاؤ اور مجھے ان کی طرف ڈال دو تو انھوں نے اپنے نیزوں سے اٹھایا اور باغ کی دوسری طرف ڈال دیا۔ جب تک انھوں نے اس کو پایا تو وہ ان کے دس آدمی قتل کرچکے تھے۔

17928

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17928

Sahih

(١٧٩٢٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الإِمَامُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِیُّ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی مُوسَی عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ کَانَ بِحَضْرَۃِ الْعَدُوِّ قَالَ فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : الْجَنَّۃُ تَحْتَ ظِلاَلِ السُّیُوفِ ۔ قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ رَثُّ الْہَیْئَۃِ فَقَالَ : یَا أَبَا مُوسَی أَنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ ہَذَا ؟ قَالَ : اللَّہُمَّ نَعَمْ قَالَ فَرَجَعَ إِلَی أَصْحَابِہِ فَسَلَّمَ عَلَیْہِمْ ثُمَّ کَسَرَ جَفْنَ سَیْفِہِ وَشَدَّ عَلَی الْعَدُوِّ ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٩٢٢) ابوبکر بن ابی موسیٰ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ جب دشمن حاضر ہوا تو انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ کہتے ہوئے سنا : ” جنت تلواروں کے سائے میں ہے “ ایک آدمی اٹھا وہ پراگندہ حالت میں تھا۔ اس نے کہا : اے ابو موسیٰ ! تو نے خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ کہتے ہوئے سنا ؟ اس نے کہا : ہاں۔ وہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹا۔ ان کو سلام کیا اور اپنی تلوار کی میان کو توڑا اور دشمن پر زور دار حملہ کیا اور شہید ہوگیا۔ [صحیح۔ مسلم)