Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3548

سیر کا بیان

حکمران لشکر کو گھر واپسی سے نہ روکے امام شافعی (رح) فرماتے ہیں اگر حکمران غازیوں کو روکے گا وہ غلط کرے گا اور سب اس کی مخالفت کر کے واپس جاسکتے ہیں۔

3 hadiths in this chapter

17854

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17854

Zaeef

(١٧٨٤٨) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ یَعْنِی مَحْبُوبَ بْنَ مُوسَی حَدَّثَنَا الْفَزَارِیُّ عَنْ سَعِیدٍ الْجُرَیْرِیِّ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ أَبِی فِرَاسٍ قَالَ : خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ فِی خِطْبَتِہِ : أَیُّہَا النَّاسُ إِنِّی لَمْ أَبْعَثْ إِلَیْکُمْ عُمَّالِی لِیَضْرِبُوا أَبْشَارَکُمْ وَلاَ لِیَأْخُذُوا أَمْوَالَکُمْ وَلَکِنْ بَعَثْتُہُمْ لِیُعَلِّمُوکُمْ دِینَکُمْ وَسُنَّتَکُمْ فَمَنْ فُعِلَ بِہِ غَیْرَ ذَلِکَ فَلْیَرْفَعْہُ إِلَیَّ فَأُقِصَّہُ مِنْہُ أَلاَ لاَ تَضْرِبُوا الْمُسْلِمِینَ فَتُذِلُّوہُمْ وَلاَ تَمْنَعُوہُمْ فَتُکَفِّرُوہُمْ وَلاَ تُجَمِّرُوہُمْ فَتَفْتِنُوہُمْ وَلاَ تُنْزِلُوہُمُ الْغِیَاضَ فَتُضَیِّعُوہُمْ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨٤٨) حضرت ابو فراس فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے خطبہ میں ہمیں کہا : اے لوگو ! میں عمال کو تمہارے پاس اس لیے نہیں بھیجتا کہ وہ تمہارے چشموں کو بند کردیں اور تمہارے مال کو لے لیں۔ ان کو اس لیے بھیجتا ہوں کہ وہ تم کو دین سکھائیں اور سنت سکھائیں۔ اگر ان میں سے کوئی اس کے علاوہ کام کرے تو اس کا معاملہ مجھ تک پہنچاؤ۔ میں اس سے بدلہ لوں گا۔ خبردار ! مسلمانوں کو مار کر ان کو ذلیل نہ کرو۔ مسلمانوں کو بار بار ٹوک کر اور منع کر کے کفر پر مجبور نہ کریں اور گھروں کو واپسی سے مجاہدین کو نہ روکیں۔ اگر روکو گے تو وہ فتنہ میں مبتلا ہوجائیں گے اور مجاہدین کو مشکل راستوں پر ڈال کر ضائع نہ کرو۔

17855

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17855

Sahih

(١٧٨٤٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ شِہَابٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ الأَنْصَارِیِّ : أَنَّ جَیْشًا مِنَ الأَنْصَارِ کَانُوا بِأَرْضِ فَارِسَ مَعَ أَمِیرِہِمْ وَکَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُعَقِّبُ الْجُیُوشَ فِی کُلِّ عَامٍ فَشُغِلَ عَنْہُمْ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَلَمَّا مَرَّ الأَجَلُ قَفَلَ أَہْلُ ذَلِکَ الثَّغْرِ فَاشْتَدَّ عَلَیْہِ وَأَوْعَدَہُمْ وَہُمْ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالُوا : یَا عُمَرُ إِنَّکَ غَفِلْتَ عَنَّا وَتَرَکْتَ فِینَا الَّذِی أَمَرَ بِہِ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْ إِعْقَابِ بَعْضِ الَغَزِیَّۃِ بَعْضًا۔ [صحیح۔ اخرجہ السجستانی ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨٤٩) عبداللہ بن کعب بن مالک انصاری فرماتے ہیں کہ انصار کا لشکر اپنے امیر کے ساتھ فارس میں تھا اور حضرت عمر (رض) کا معمول تھا کہ ایک سال بعد لشکر کو واپس بلاتے تھے۔ حضرت عمر (رض) ان سے غافل ہوگئے۔ جب مقررہ وقت گزر گیا تو سرحد والے لوگ لوٹ آئے۔ امیر نے ان پر سختی کی اور ڈرایا اور یہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابی تھے۔ انھوں نے عمر (رض) سے کہا : آپ ہم سے غافل ہوگئے اور آپ نے ہمارے بارے میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کو ترک کردیا کہ لشکر کو تھوڑا تھوڑا کر کے واپس لایا جائے۔

17856

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17856

Zaeef

(١٧٨٥٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنَ اللَّیْلِ فَسَمِعَ امْرَأَۃً تَقُولُ : تَطَاوَلَ ہَذَا اللَّیْلُ وَاسْوَدَّ جَانِبُہُ وَأَرَّقَنِی أَنْ لاَ حَبِیبٌ أُلاَعِبُہُ فَوَاللَّہِ لَوْلاَ اللَّہُ إِنِّی أُرَاقِبُہُ تَحَرَّکَ مِنْ ہَذَا السَّرِیرِ جَوَانِبُہُ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لِحَفْصَۃَ بِنْتِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : کَمْ أَکْثَرُ مَا تَصْبِرُ الْمَرْأَۃُ عَنْ زَوْجِہَا ؟ فَقَالَتْ : سِتَّۃَ أَوْ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ ۔ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لاَ أَحْبِسُ الْجَیْشَ أَکْثَرَ مِنْ ہَذَا۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨٥٠) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) رات کو نکلے، انھوں نے ایک عورت کی آواز سنی۔ وہ شعر پڑھ رہی تھی :” رات لمبی ہوگئی اور اس کے اطراف سیاہ ہوگئے ہیں۔ میری راتوں کی نیند اڑا دی ہے اس بات نے کہ میرا حبیب (محبوب) نہیں ہے۔ اللہ کی قسم ! اگر اللہ نہ ہوتا تو میں اس کی دیکھ بھال کرتی۔ اور اس چارپائی کے پہلو حرکت کرتے۔ “ حضرت عمر (رض) نے اپنی بیٹی حفصہ (رض) سے پوچھا : عورت زیادہ سے زیادہ اپنے خاوند کے بغیر کتنا صبر کرسکتی ہے ؟ انھوں نے کہا : چھ ماہ یا چار ماہ تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں کسی لشکر کو اس سے زیادہ نہیں روکوں گا۔