Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3546

سیر کا بیان

غازی کو تیار کرنے اور اس کو بھیجنے والے کے اجر کا بیان

6 hadiths in this chapter

17847

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17847

Sahih

(١٧٨٤١) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ کَامِلٍ الْقَاضِی بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا حُسَیْنٌ الْمُعَلِّمُ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِی الْحَجَّاجِ أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَۃَ حَدَّثَنِی بُسْرُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنِی زَیْدُ بْنُ خَالِدٍ الْجُہَنِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : مَنْ جَہَّزَ غَازِیًا فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَقَدْ غَزَا وَمَنْ خَلَفَہُ فِی أَہْلِہِ بِخَیْرٍ فَقَدْ غَزَا ۔ لَفْظُ حَدِیثِ عَبْدِ الْوَارِثِ وَحَدِیثِ رَوْحٍ مِثْلَہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ عَنْ عَنْ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنِ أَبِی الرَّبِیعِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ زُرَیْعٍ عَنْ حُسَیْنٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨٤١) حضرت زید بن خالد جہنی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے غازی کو تیار کیا، اس نے جہاد کیا اور جس نے اس کے اہل خانہ کی بہتر کفالت کی، اس نے بھی جہاد کیا۔

17848

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17848

Sahih

(١٧٨٤٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالُوَیْہِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَسْلَمَ أَتَی النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : إِنِّی أُرِیدُ الْجِہَادَ وَلَیْسَ مَعِی مَا أَتَجَہَّزُ بِہِ فَقَالَ : إِنَّ فُلاَنًا قَدْ تَجَہَّزَ ثُمَّ مَرِضَ فَاذْہَبْ إِلَیْہِ فَقُلْ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یُقْرِئُکَ السَّلاَمَ وَیَأْمُرُکَ أَنْ تُعْطِیَنِی مَا أَتَجَہَّزُ بِہِ ۔ فَأَتَاہُ فَقَالَ لَہُ فَقَالَ لاِمْرَأَتِہِ : انْظُرِی أَنْ تُعْطِیہِ مَا جَہَّزْتِینِی بِہِ وَلاَ تَحْبِسِی مِنْہُ شَیْئًا فَیُبَارِکَ اللَّہُ لَکِ فِیہِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ عَفَّانَ ۔ [صحیح۔ مسلم ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨٤٢) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ بنو اسلم سے ایک آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور عرض کیا : میں جہاد پر جانے کا ارادہ رکھتا ہوں مگر میرے پاس زاد راہ نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” فلاں آدمی نے جہاد کی تیاری کی۔ پھر وہ بیمار ہوگیا تو اس کے پاس جا اور اس کو کہہ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تجھے سلام کہتے ہیں اور تجھے حکم دیتے ہیں کہ زاد راہ مجھے دے دے۔ جس سے میں جہاد کی تیاری کرسکوں۔ “ وہ آدمی اس کے پاس گیا اور اس کو کہا : اس نے اپنی بیوی کو کہا جو کچھ میرے لیے تیار کیا تھا وہ دیکھ کر اس کو دے دو اور کوئی چیز روک کر نہ رکھنا اللہ تجھے برکت دے گا۔

17849

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17849

Sahih

(١٧٨٤٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ أَبِی عَمْرٍو الشَّیْبَانِیِّ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ الأَنْصَارِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّہُ أُبْدِعَ بِی فَاحْمِلْنِی فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لَیْسَ عِنْدِی ۔ فَقَالَ رَجُلٌ : أَلاَ أَدُلُّکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ عَلَی مَنْ یَحْمِلُہُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَنْ دَلَّ عَلَی خَیْرٍ فَلَہُ أَجْرُ مِثْلِ فَاعِلِہِ ۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ فِی رِوَایَتِہِ قَالَ أَبُو مُعَاوِیَۃَ : أُبْدِعَ بِی یَقُولُ قُطِعَ بِی۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ ۔ [صحیح۔ مسلم ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨٤٣) (الف) حضرت ابو مسعود انصاری (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک آدمی آ کر کہنے لگا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں تھک گیا ہوں، مجھے سواری دیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میرے پاس نہیں ہے۔ “ ایک آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں ایسا آدمی بتاؤں جو اس کو سواری دے ؟ آپ نے فرمایا : ” بھلائی کی طرف رہنمائی کرنے والا اور اس پر عمل کرنے والا اجر میں برابر ہیں۔ “ (ب) ایک اور روایت میں ابو معاویہ کہتے ہیں میں تھک گیا ہوں کی بجائے میرا راستہ روک دیا گیا۔

17850

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17850

Sahih

(١٧٨٤٤) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ فَذَکَرَہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ فَقَالَ : مَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُکَ وَلَکِنِ ائْتِ فُلاَنًا فَأَتَاہُ فَحَمَلَہُ فَأَتَی النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَخْبَرَہُ فَقَالَ : مَنْ دَلَّ عَلَی خَیْرٍ فَلَہُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِہِ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨٤٤) اعمش فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : میرے پاس کچھ نہیں جو میں تم کو سواروں کے لیے دوں۔ ہاں تم فلاں آدمی کے پاس جاؤ۔ وہ گیا۔ اس آدمی نے اس کو سواری دی۔ یہ آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور خبر دی تو آپ نے فرمایا : ” بھلائی کی طرف راہنمائی کرنے والا اور اس پر عمل کرنے والا اجر میں برابر ہیں۔

17851

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17851

Sahih

(١٧٨٤٥) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالاَ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ حَیْوَۃَ بْنِ شُرَیْحٍ الْکِنْدِیِّ التُّجِیبِیِّ عَنِ ابْنِ شُفَیٍّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : لِلْغَازِی أَجْرُہُ وَلِلْجَاعِلِ أَجْرُہُ وَأَجْرُ الْغَازِی ۔ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : قَفْلَۃٌ کَغَزْوَۃٍ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨٤٥) حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غازی کا اجر اس کا ہے اور اس کو تیار کرنے والے کا اجر اس کا ہے۔ غازی کا اجر اور تیار کرنے والے کا اجر برابر ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غازی پر خرچ کرنا لڑائی کی طرح ہے۔

17852

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17852

Zaeef

(١٧٨٤٦) أَخْبَرَنَا أَبُوعَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الدِّمَشْقِیُّ أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَیْبٍ أَخْبَرَنِی أَبُو زُرْعَۃَ : یَحْیَی بْنُ أَبِی عَمْرٍو السَّیْبَانِیُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّہُ حَدَّثَہُ عَنْ وَاثِلَۃَ بْنِ الأَسْقَعِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : نَادَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ فَخَرَجْتُ إِلَی أَہْلِی وَأَقْبَلْتُ وَقَدْ خَرَجَ أَوْلُ صَحَابَۃِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَطَفِقْتُ فِی الْمَدِینَۃِ أُنَادِی أَلاَ مَنْ یَحْمِلُ رَجُلاً لَہُ سَہْمُہُ فَنَادَی شَیْخٌ مِنَ الأَنْصَارِ قَالَ لَنَا سَہْمُہُ عَلَی أَنْ نَحْمِلَہُ عُقْبَۃً وَطَعَامُہُ مَعَنَا قُلْتُ : نَعَمْ ۔ قَالَ : فَسِرْ عَلَی بَرَکَۃِ اللَّہِ فَخَرَجْتُ مَعَ خَیْرِ صَاحِبٍ حَتَّی أَفَائَ اللَّہُ عَلَیْنَا فَأَصَابَنِی قَلاَئِصُ فَسُقْتُہُنَّ حَتَّی أَتَیْتُہُ فَخَرَجَ فَقَعَدَ عَلَی حَقِیبَۃٍ مِنْ حَقَائِبِ إِبِلِہِ ثُمَّ قَالَ سُقْہُنَّ مُدْبِرَاتٍ ثُمَّ قَالَ سُقْہُنَّ مُقْبِلاَتٍ فَقَالَ مَا أَرَی قَلاَئِصَکَ إِلاَّ کِرَامًا۔ قَالَ : إِنَّمَا ہِیَ غَنِیمَتُکَ الَّتِی شَرَطْتُ لَکَ ۔ قَالَ : خُذْ قَلاَئِصَکَ ابْنَ أَخِی فَغَیْرَ سَہْمِکَ أَرَدْنَا۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : فَغَیْرَ سَہْمِکَ أَرَدْنَا یُشْبِہُ أَنْ یَکُونَ أَرَادَ أَنَّا لَمْ نَقْصِدْ بِمَا فَعَلْنَا الإِجَارَۃَ وَإِنَّمَا قَصَدْنَا الاِشْتِرَاکَ فِی الأَجْرِ وَالثَّوَابِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨٤٦) حضرت واثلہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ تبوک کے لیے منادی کی۔ میں اپنے گھر گیا جب واپس آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ابتدائی ساتھی جا چکے تھے۔ میں نے مدینہ کا چکر لگایا اور اعلان کیا جو شخص ایک آدمی کو سواری دے، اس کا حصہ سواری دینے والے کا ہوگا۔ انصار کے ایک معزز آدمی نے کہا کہ اس کا حصہ ہمارا ہوگا۔ اس کے بدلہ میں ہم اس کو سواری دیں گے اور اس کا کھانا ہمارے ساتھ ہوگا۔ میں نے قبول کرلیا، اس نے کہا : چلو اللہ کی برکت کے ساتھ، میں نکلا اپنے بہترین ساتھی کے ساتھ۔ ہمیں لڑائی بنا ہی مال ملا۔ مجھے کچھ اونٹنیاں ملیں۔ میں نے ان کو پانی پلایا۔ پھر میں اس کے پاس آیا۔ وہ نکلا اور اونٹ کے کجاوے پر بیٹھ گیا۔ پھر اس نے کہا : ان کو پانی پلاؤ آتے اور جاتے ہوئے اور کہا کہ تیری اونٹنیاں بہترین ہیں تو اس نے کہا : یہ نفع ہے جو میں نے آپ کے ساتھ شرط لگائی اس کا۔ یہ غنیمت آپ کی ہے تو اس نے کہا : میرے بھائی اپنی اونٹنیاں لے جاؤ، ہم نے اس کے علاوہ حصہ کا ارادہ کیا تھا۔ شیخ (رض) کہتے ہیں ( (فَغَیْرَ سَہْمِکَ أَرَدْنَا) ) کا مطلب ہے کہ ہم اجرت میں حصہ نہیں چاہتے تھے بلکہ ہمارا مقصد تو اجر وثواب میں شریک ہونا تھا۔