Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3529

سیر کا بیان

ہجرت کی فرضیت کا بیان اللہ تعالیٰ کا اس شخص کے بارے میں فرمان ہے جو اپنے دین کے بارے میں فتنوں میں مبتلا کیا جاتا ہے اور ہجرت پر قدرت رکھنے کے باوجود ہجرت نہیں کرتا حتیٰ کہ مرجاتا ہے : { اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰھُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِھِمْ

4 hadiths in this chapter

17755

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17755

Sahih

(١٧٧٤٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ الْوَاسِطِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا حَیْوَۃُ وَرَجُلٌ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ الأَسَدِیُّ قَالَ : قُطِعَ عَلَی أَہْلِ الْمَدِینَۃِ بَعْثٌ کُتِبْتُ فِیہِ فَلَقِیتُ عِکْرِمَۃَ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَنَہَانِی أَشَدَّ النَّہْیِ ثُمَّ قَالَ أَخْبَرَنِی ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ نَاسًا مِنَ الْمُسْلِمِینَ کَانُوا مَعَ الْمُشْرِکِینَ یُکَثِّرُونَ سَوَادَ الْمُشْرِکِینَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَیَأْتِی السَّہْمُ یُرْمِی بِہِ فَیُصِیبُ أَحَدَہُمْ فَیَقْتُلُہُ أَوْ یُضْرَبُ فَیُقْتَلُ فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی ذِکْرُہُ فِیہِمْ {إِنَّ الَّذِینَ تَوَفَّاہُمُ الْمَلاَئِکَۃُ ظَالِمِی أَنْفُسِہِمْ قَالُوا فِیمَ کُنْتُمْ قَالُوا کُنَّا مُسْتَضْعَفِینَ فِی الأَرْضِ قَالُوا أَلَمْ تَکُنْ أَرْضُ اللَّہِ وَاسِعَۃً فَتُہَاجِرُوا فِیہَا فَأُولَئِکَ مَأْوَاہُمْ جَہَنَّمُ وَسَائَ تْ مَصِیرًا } [النساء ٩٧] رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ ۔ [صحیح۔ بخاری ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٤٩) محمد بن عبدالرحمن بن نوفل اسدی نے کہا : مدینہ والوں کو ایک فوج نکالنے کا حکم دیا گیا اور اس میں میرا بھی نام لکھا گیا۔ (اسی دوران) میری ملاقات عکرمہ مولیٰ ابن عباس سے ہوئی تو انھوں نے مجھے بڑی سختی سے منع کیا اور کہا کہ مجھے ابن عباس (رض) نے بتایا کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ تھے جو مشرکین کی فوج کے ساتھ مل گئے اور ان کی تعداد میں اضافہ کا سبب بنے اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نہ ملے تو جب کبھی مسلمانوں کی طرف سے تیر آتا تو ان کو لگ جاتا اور یہ مرجاتے یا ویسے قتل ہوجاتے تو ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : { اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰھُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِھِمْ قَالُوْا فِیْمَ کُنْتُمْ قَالُوْا کُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ قَالُوْٓا اَلَمْ تَکُنْ اَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃً فَتُھَاجِرُوْا فِیْھَا فَاُولًٰئِکَ مَاْوٰیھُمْ جَھَنَّمُ وَ سَآئَ تْ مَصِیْرًا ۔ } [النساء ٩٧] ” جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں جب فرشتے ان کی روح قبض کرتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں : تم کس حال میں تھے (ہجرت کیوں نہ کی) ؟ یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم اپنی جگہ کمزور اور مغلوب تھے۔ فرشتے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم ہجرت کر جاتے ؟ یہی وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ پہنچنے کی بری جگہ ہے۔ “

17756

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17756

Zaeef

(١٧٧٥٠) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَاہُ حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی خَالِدٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ عَنْ جَرِیرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْبَجَلِیِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : مَنْ أَقَامَ مَعَ الْمُشْرِکِینَ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْہُ الذِّمَّۃُ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٥٠) حضرت جریر بن عبداللہ بجلی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس آدمی نے مشرکین کے ساتھ قیام کیا تو وہ اللہ کے ذمہ سے بری ہوگیا۔

17757

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17757

Sahih

(١٧٧٥١) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ أَبِی نُخَیْلَۃَ عَنْ جَرِیرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَتَیْتُ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَہُوَ یُبَایِعُ النَّاسَ فَقُلْتُ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ ابْسُطْ یَدَکَ حَتَّی أُبَایِعَکَ وَاشْتَرِطْ عَلَیَّ فَأَنْتَ أَعْلَمُ بِالشَّرْطِ مِنِّی۔ قَالَ : أُبَایِعُکَ عَلَی أَنْ تَعْبُدَ اللَّہَ وَتُقِیمَ الصَّلاَۃَ وَتُؤْتِیَ الزَّکَاۃَ وَتُنَاصِحَ الْمُؤْمِنَ وَتُفَارِقَ الْمُشْرِکَ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٥١) حضرت جریربن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور آپ لوگوں سے بیعت لے رہے تھے۔ میں نے کہا : اے اللہ کے نبی ! اپنا ہاتھ پھیلائیے تاکہ میں آپ کی بیعت کروں اور مجھ پر شرط بھی لگائیے جو آپ میرے بارے میں مناسب جانیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں آپ کی اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ آپ اللہ کی عبادت کریں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں اور مؤمن کی خیر خواہی کریں اور مشرک سے الگ رہیں۔

17758

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17758

Zaeef

(١٧٧٥٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ قُرَّۃَ بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الشِّخِّیرِ قَالَ : بَیْنَا نَحْنُ بِہَذَا الْمِرْبَدِ إِذْ أَتَی عَلَیْنَا أَعْرَابِیٌّ شَعِثُ الرَّأْسِ مَعَہُ قِطْعَۃُ أَدِیمٍ أَوْ قِطْعَۃُ جِرَابٍ فَقُلْنَا کَأَنَّ ہَذَا لَیْسَ مِنْ أَہْلِ الْبَلَدِ فَقَالَ أَجَلْ لاَ ہَذَا کِتَابٌ کَتَبَہُ لِی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ الْقَوْمُ ہَاتِ فَأَخَذْتُہُ فَقَرَأْتُہُ فَإِذَا فِیہِ : بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ ہَذَا کِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ رَسُولِ اللَّہِ لِبَنِی زُہَیْرِ بْنِ أُقَیْشٍ ۔ قَالَ أَبُو الْعَلاَئِ : وَہُمْ حَیٌّ مِنْ عُکْلٍ : إِنَّکُمْ إِنْ شَہِدْتُمْ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَقَمْتُمُ الصَّلاَۃَ وَآتَیْتُمُ الزَّکَاۃَ وَفَارَقْتُمُ الْمُشْرِکِینَ وَأَعْطَیْتُمْ مِنَ الْغَنَائِمِ الْخُمُسَ وَسَہْمَ النَّبِیِّ وَالصَّفِیَّ ۔ وَرُبَّمَا قَالَ : وَصَفِیَّہُ فَأَنْتُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللَّہِ وَأَمَانِ رَسُولِہِ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٥٢) حضرت یزید بن عبداللہ بن شخیر فرماتے ہیں کہ ہم ایک دفعہ اس اونٹوں کے باڑے میں تھے کہ ہمارے پاس ایک دیہاتی آیا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ اس کے پاس ایک کھال کا ٹکڑا تھا یا چمڑے کا تو ہم نے کہا : لگتا ہے کہ یہ ہمارے شہر کا نہیں۔ اس نے کہا ہاں میں تمہارے شہر کا نہیں ہوں۔ میرے پاس ایک خط ہے جو مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لکھوا کردیا تھا تو قوم نے کہا : دکھاؤ ! تو میں نے اس سے وہ لے لیا اور اس کو پڑھا تو اس میں یہ عبارت لکھی ہوئی تھی۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ یہ خط محمد رسول اللہ ( (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) کی طرف سے ہے بنی زہیر بن اقیش کے لیے۔ ابو العلاء نے کہا کہ یہ عکل قبیلے میں سے ایک قبیلہ ہے اگر تم لا الہ الا اللہ کی گواہی دے دو اور نماز قائم کرنے لگ جاؤ اور زکوۃ ادا کرنے لگ جاؤ اور مشرکین سے الگ ہو جاؤ اور مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرنا اور میرا حصہ اور میرے اہل و عیال کا حصہ ادا کرنا۔ جب تم یہ کرنے لگ جاؤ گے تو تم اللہ اور اس کے رسول کی امان میں آ جاؤ گے۔