Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3528

سیر کا بیان

مشرکین سے درگزر کے منسوخ ہونے اور ان سے قتال کی نہی کے منسوخ ہونے کا بیان اور حرمت والے مہینوں میں قتال کرنے کی ممانعت کا بیان امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے منسوخ ہوگیا : { وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ} [الب

7 hadiths in this chapter

17748

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17748

Zaeef

(ہ ١٧٧٤) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی قَوْلِہِ { فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِینَ حَیْثُ وَجَدْتُمُوہُمْ } [التوبۃ ٥] وَقَوْلِہِ { قَاتِلُوا الَّذِینَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَلاَ بِالْیَوْمِ الآخِرِ } [التوبۃ ٢٩] قَالَ فَنَسَخَ ہَذَا الْعَفْوَ عَنِ الْمُشْرِکِینَ وَقَوْلِہِ { یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ جَاہِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنَافِقِینَ وَاغْلُظْ عَلَیْہِمْ } [التوبۃ ٧٣] فَأَمَرَہُ اللَّہُ بِجِہَادِ الْکُفَّارِ بِالسَّیْفِ وَالْمُنَافِقِینَ بِاللَّسَانِ وَأَذْہَبَ الرِّفْقَ عَنْہُمْ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٤٢) حضرت ابن عباس (رض) اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں فرماتے ہیں : { فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَ جَدْتُّمُوْھُمْ } [التوبۃ ٥] ” مشرکین کو جہاں پاؤ ان کو قتل کر دو ۔ “ اور اسی طرح اس آیت کے بارے میں { قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ } [التوبۃ ٢٩] ” تم ان لوگوں سے قتال کرو جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان نہیں لاتے۔ “ ان آیات سے مشرکین سے درگزر کو منسوخ کردیا گیا اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں فرماتے ہیں : { یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ جَاھِدِ الْکُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْھِمْ } [التوبۃ ٧٣] ” اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کفار اور منافقین سے قتال کیجیے اور ان پر سختی کیجیے۔ “ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس آیت میں کفار سے جہاد بالسیف کرنے کا حکم دیا اور منافقین سے جہاد باللسان کا حکم دیا اور ان پر نرمی کرنے کو ختم کردیا۔

17749

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17749

Zaeef

(١٧٧٤٣) وَبِہَذَا الإِسْنَادِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ قَوْلُہُ { وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِینَ } [الأنعام ١٠٦] وَ { لَسْتَ عَلَیْہِمْ بِمُسَیْطِرٍ } [الغاشیۃ ٢٢] یَقُولُ لَسْتَ عَلَیْہِمْ بِجَبَّارٍ { فَاعْفُ عَنْہُمْ وَاصْفَحْ } [المائدۃ ١٣] { وَإِنْ تَعْفُوا وَتَصْفَحُوا } [التغابن ١٤] { فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّی یَأْتِیَ اللَّہُ بِأَمْرِہِ } [البقرۃ ١٠٩] { قُلْ لِلَّذِینَ آمَنُوا یَغْفِرُوا لِلَّذِینَ لاَ یَرْجُونَ أَیَّامَ اللَّہِ } [الجاثیۃ ١٤] وَنَحْوَ ہَذَا فِی الْقُرْآنِ أَمَرَ اللَّہُ بِالْعَفْوِ عَنِ الْمُشْرِکِینَ وَإِنَّہُ نَسَخَ ذَلِکَ کُلَّہُ قَوْلُہُ { اقْتُلُوا الْمُشْرِکِینَ حَیْثُ وَجَدْتُمُوہُمْ } [التوبۃ ٥] وَقَوْلُہُ { قَاتِلُوا الَّذِینَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَلاَ بِالْیَوْمِ الآخِرِ } [التوبۃ ٥] إِلَی قَوْلِہِ { وَہُمْ صَاغِرُونَ } [التوبۃ ٢٩] فَنَسَخَ ہَذَا الْعَفْوَ عَنِ الْمُشْرِکِینَ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٤٣) اسی سند سے حضرت ابن عباس (رض) سے منقول ہے۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے متعلق فرمایا : { وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْنَ } [الأنعام ١٠٦] اور { لَّسْتَ عَلَیْہِمْ بِمُسَیْطِرٍ ۔ } [الغاشیۃ ٢٢] انھوں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ آپ ان پر زبردستی کرنے والے نہیں ہیں اور اسی طرح یہ قول { فَاعْفُ عَنْھُمْ وَ اصْفَحْ } [المائدۃ ١٣] ” ان کو معاف کیجیے اور ان سے درگزر کیجیے۔ “ اور ایسے ہی { وَاِنْ تَعْفُوْا وَتَصْفَحُوْا } [التغابن ١٤] اور { فَاعْفُوْا وَاصْفَحُوْا حَتّٰی یَاْتِیِ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖ } [البقرۃ ١٠٩] ” ان کو معاف کرو اور ان سے درگزر کرو حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اپنا کوئی اور حکم صادر فرمائیں۔ “ اور یہ آیت کریمہ { قُلْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لاَ یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰہِ } [الجاثیۃ ١٤] ” آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایمان والوں سے کہہ دیں کہ وہ ان لوگوں سے درگزر کریں جو اللہ کے دنوں کی توقع نہیں رکھتے “ اور ان جیسی جتنی بھی قرآن مجید میں آیات ہیں جن کے اندر اللہ تعالیٰ نے مشرکین سے درگزر کرنے کا حکم دیا وہ سب کی سب اللہ تعالیٰ کے اس فرمان { فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَ جَدْتُّمُوْھُمْ } [التوبۃ ٥] اور اس فرمان { قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ } [التوبۃ ٢٩] ” تم ان لوگوں سے قتال کرو جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان نہیں لاتے۔ “ سے مشرکین سے درگزر کو منسوخ کردیا گیا ہے۔

17750

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17750

Sahih

(١٧٧٤٤) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُوبَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ہُوَ الْفَزَارِیُّ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَطَائٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { فَإِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوہُمْ وَاقْتُلُوہُمْ حَیْثُ وَجَدْتُمُوہُمْ وَلاَ تَتَّخِذُوا مِنْہُمْ وَلِیًّا وَلاَ نَصِیرًا إِلاَّ الَّذِینَ یَصِلُونَ إِلَی قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُمْ مِیثَاقٌ} الآیَۃَ [النساء ٨٩-٩٠] قَالَ وَقَالَ { لاَ یَنْہَاکُمُ اللَّہُ عَنِ الَّذِینَ لَمْ یُقَاتِلُوکُمْ فِی الدِّینِ وَلَمْ یُخْرِجُوکُمْ مِنْ دِیَارِکُمْ } الآیَۃَ [الممتحنۃ ٨] ثُمَّ نَسَخَ ہَؤُلاَئِ الآیَاتِ فَأَنْزَلَ اللَّہُ { بَرَائَ ۃٌ مِنَ اللَّہِ وَرَسُولِہِ إِلَی الَّذِینَ عَاہَدْتُمْ مِنَ الْمُشْرِکِینَ } [التوبۃ ١] إِلَی قَوْلِہِ { فَإِذَا انْسَلَخَ الأَشْہُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِینَ حَیْثُ وَجَدْتُمُوہُمْ } [التوبۃ ٥] وَأَنْزَلَ { قَاتِلُوا الْمُشْرِکِینَ کَافَّۃً کَمَا یُقَاتِلُونَکُمْ کَافَّۃً } [التوبۃ ٣٦] قَالَ { وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَہَا } [الأنفال ٦١] ثُمَّ نَسَخَ ذَلِکَ ہَذِہِ الآیَۃُ { قَاتِلُوا الَّذِینَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَلاَ بِالْیَوْمِ الآخِرِ وَلاَ یُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّہُ وَرَسُولُہُ }[التوبۃ ٢٩] ۔[ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٤٤) حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : { فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْھُمْ وَ اقْتُلُوْھُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْھُمْ وَ لَا تَتَّخِذُوْامِنْھُمْ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا ۔ اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ۔۔۔} [النساء ٨٩-٩٠] ” پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو انھیں پکڑو اور قتل کرو جہاں بھی ہاتھ لگ جائیں۔ خبردار ! ان میں سے کسی کو بھی اپنا رفیق اور مدد گار نہ بنا بیٹھنا سوائے ان لوگوں کے جو اس قوم سے تعلق رکھتے ہیں جن سے تمہارا معاہدہ ہوچکا ہے۔ “ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : { لاَیَنْہٰکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ } [الممتحنۃ ٨] ” جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں کی اور نہ تم کو جلا وطن کیا اللہ تعالیٰ تم کو ان کے ساتھ احسان اور حسن سلوک کرنے سے نہیں روکتا۔۔۔“ پھر یہ آیات منسوخ ہوئیں اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں : { بَرَآئَ ۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖٓ اِلَی الَّذِیْنَ عٰھَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ } [التوبۃ ١] اللہ تعالیٰ کے اس فرمان تک { فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْھُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَ جَدْتُّمُوْھُمْ } [التوبۃ ٥] ” اللہ اور اس کا رسول ان مشرکین سے اعلانِ برائت کرتے ہیں جن سے تم نے عہد کیا ہے۔ “ یہاں تک ” جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو مشرکین کو جہاں بھی تم پاؤ قتل کر دو ۔ “ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا : { وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِکِیْنَ کَآفَّۃً کَمَا یُقَاتِلُوْنَکُمْ کَآفَّۃً } [التوبۃ ٣٦]” مشرکین سے تم سب مل کرو قتال کرو جس طرح وہ سب مل کر تم سے قتال کرتے ہیں۔ “ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : { وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ } [الأنفال ٦١] ” اور اگر یہ صلح کی طرف مائل ہوں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ہوجائیں۔ “ یہ والی آیت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے منسوخ ہوگئی : { قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ } [التوبۃ ٢٩]” ان لوگوں سے قتال کرو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور نہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی حرام کردہ چیزوں کو حرام کرتے ہیں۔ “

17751

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17751

Sahih

(١٧٧٤٥) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو : عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِیُّ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِی یُحَدِّثُ عَنِ الْحَضْرَمِیِّ عَنْ أَبِی السَّوَّارِ عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - رَہْطًا وَاسْتَعْمَلَ عَلَیْہِمْ عُبَیْدَۃَ بْنَ الْحَارِثِ قَالَ فَلَمَّا انْطَلَقَ لِیَتَوَجَّہَ بَکَی صَبَابَۃً إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَکَانَہُ رَجُلاً یُقَالُ لَہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَحْشٍ وَکَتَبَ لَہُ کِتَابًا وَأَمَرَہُ أَنْ لاَ یَقْرَأَہُ إِلاَّ بِمَکَانِ کَذَا وَکَذَا وَقَالَ : لاَ تُکْرِہَنَّ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِکَ عَلَی الْمَسِیرِ مَعَکَ ۔ فَلَمَّا صَارَ ذَلِکَ الْمَوْضِعَ قَرَأَ الْکِتَابَ وَاسْتَرْجَعَ قَالَ : سَمْعًا وَطَاعَۃً لِلَّہِ وَرَسُولِہِ قَالَ فَرَجَعَ رَجُلاَنِ مِنْ أَصْحَابِہِ وَمَضَی بَقِیَّتُہُمْ مَعَہُ فَلَقَوُا ابْنَ الْحَضْرَمِیِّ فَقَتَلُوہُ فَلَمْ یُدْرَ ذَلِکَ مِنْ رَجَبٍ أَوْ مِنْ جُمَادَی الآخِرَۃِ فَقَالَ الْمُشْرِکُونَ قَتَلْتُمْ فِی الشَّہْرِ الْحَرَامِ فَنَزَلَتْ { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیہِ قُلْ قِتَالٌ فِیہِ کَبِیرٌ} [البقرۃ ٢١٧] إِلَی قَوْلِہِ { وَالْفِتْنَۃُ أَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ } [البقرۃ ٢١٧] قَالَ فَقَالَ بَعْضُ الْمُسْلِمِینَ لَئِنْ کَانُوا أَصَابُوا خَیْرًا مَا لَہُمْ أَجْرٌ فَنَزَلَتْ {إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَالَّذِینَ ہَاجَرُوا وَجَاہَدُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ أُولَئِکَ یَرْجُونَ رَحْمَۃَ اللَّہِ وَاللَّہُ غَفُورٌ رَحِیمٌ} [البقرۃ ٢٨١] ۔ [حسن ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٤٥) حضرت جندب بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک گروہ کو روانہ کیا اور اس پر عبیدہ بن حارث کو امیر بنایا اور جب وہ جانے کے لیے نکلا تو اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت نے رلا دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی جگہ پر عبداللہ بن جحش کو امیر بنادیا اور ایک خط لکھ کردیا اور ان سے کہا کہ اس کو فلاں جگہ پر کھول کر پڑھنا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اپنے ساتھ سفر پر لے جانے کے لیے اپنے کسی بھی ساتھی پر جبر نہ کرنا۔ “ جب وہ اس جگہ پر پہنچے جہاں پر آپ نے خط کھولنے کا حکم دیا تھا تو انھوں نے خط کھول کر پڑھا اور ساتھ ہی انا للہ و انا الیہ راجعون بھی پڑھ دیا اور کہا کہ ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی بات سنی اور اس کی اطاعت کی۔ کہتے ہیں کہ ان کے ساتھیوں میں سے آدمی واپس آگئے اور باقی ان کے ساتھ چلتے رہے اور ابن حضرمی ملے اور انھوں نے اس کو قتل کردیا اور ان کو پتا نہ چلا کہ یہ رجب کا مہینہ ہے یا جمادی اخریٰ کا تو مشرکین نے کہا کہ تم نے حرمت والے مہینے میں قتل کردیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ والی آیات نازل فرمائیں : { یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الشَّھْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْہِ قُلْ قِتَالٌ فِیْہِ کَبِیْرٌ۔۔۔} [البقرۃ ٢١٧] ” اس قول تک { وَ الْفِتْنَۃُ اَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ } [البقرۃ ٢١٧] ” یہ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حرمت والے مہینے میں قتال کرنے کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیجیے کہ ان میں قتال کرنا تو کبیرہ گناہ ہے ۔۔۔ لیکن فتنہ پھیلانا تو قتل کرنے سے بھی بڑا گناہ ہے۔ “ راوی کہتے ہیں کہ بعض مسلمانوں نے کہا کہ اگر انھوں نے اچھا کام بھی کیا ہے تو اس پر ان کو اجر نہیں ملے گا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : { اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا وَ جٰھَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اُولٰٓئِکَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰہِ وَ اللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ۔} [البقرۃ ٢٨١] ” جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا تو یہی لوگ اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔ “

17752

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17752

Zaeef

(١٧٧٤٦) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَعَثَ سَرِیَّۃً مِنَ الْمُسْلِمِینَ وَأَمَّرَ عَلَیْہِمْ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ جَحْشٍ الأَسَدِیَّ فَانْطَلَقُوا حَتَّی ہَبَطُوا نَخْلَۃَ فَوَجَدُوا بِہَا عَمْرَو بْنَ الْحَضْرَمِیِّ فِی عِیرِ تِجَارَۃٍ لِقُرَیْشٍ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی قَتْلِ ابْنِ الْحَضْرَمِیِّ وَنُزُولِ قَوْلِہِ { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ } [البقرۃ ٢١٧] قَالَ : فَبَلَغَنَا أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَقَلَ ابْنَ الْحَضْرَمِیِّ وَحَرَّمَ الشَّہْرَ الْحَرَامَ کَمَا کَانَ یُحَرِّمُہُ حَتَّی أَنْزَلَ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ { بَرَائَ ۃٌ مِنَ اللَّہِ وَرَسُولِہِ } [التوبۃ ١] قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَکَأَنَّہُ أَرَادَ قَوْلَ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ { وَقَاتِلُوا الْمُشْرِکِینَ کَافَّۃً } [التوبۃ ٣٦] وَالآیَۃَ الَّتِی ذَکَرَہَا الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَعَمُّ فِی النَّسْخِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٤٦) حضرت عروہ بن زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں میں سے ایک لشکر روانہ کیا اور اس پر عبداللہ بن جحش (رض) کو امیر بنایا۔ وہ سفر کرتے کرتے ایک نخلستان میں اترے، وہاں پر انھوں نے قریش کے تجارتی قافلے میں عمرو بن حضرمی کو پایا اور انھیں قتل کردیا اور اسی طرح انھوں نے پوری حدیث بیان کی جس میں اس آیت کے نزول کا بھی ذکر ہے { یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الشَّھْرِ الْحَرَامِ }[البقرۃ ٢١٧] اور اس میں انھوں نے یہ بھی بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرمی کی دیت دی اور حرمت والے مہینے کی حرمت کو برقرار رکھا جیسا کہ اس کی حرمت کو وہ لوگ باقی رکھتے تھے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : { بَرَآئَ ۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖٓ} [التوبۃ ١] ” اللہ اور اس کا رسول بری ہیں۔ “ شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ امام شافعی (رح) نے اس آیت : { وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِکِیْنَ کَآفَّۃً } کہ مشرکین سے سب مل کر قتال کرو اس کو نسخ میں عام قرار دیا ہے۔ واللہ اعلم

17753

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17753

Sahih

(١٧٧٤٧) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَخْرَمَۃُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : وَاسْتَفْتَی ہَلْ یَصْلُحُ لِلْمُسْلِمِینَ أَنْ یُقَاتِلُوا الْکُفَّارَ فِی الشَّہْرِ الْحَرَامِ فَقَالَ سَعِیدٌ : نَعَمْ ۔ وَقَالَ ذَلِکَ سُلَیْمَانُ بْنُ یَسَارٍ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٤٧) مخرمہ بن بکیر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے سعید بن مسیب سے سوال کیا کہ کفار سے حرمت والے مہینوں میں مسلمانوں کا قتال کرنا درست ہے ؟ تو انھوں نے کہا : ہاں ! اور کہا کہ یہ سلیمان بن یسار کا قول ہے۔

17754

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17754

Sahih

(١٧٧٤٨) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ سَأَلْتُ سُفْیَانَ عَنْ قَوْلِ اللَّہِ { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیہِ قُلْ قِتَالٌ فِیہِ کَبِیرٌ} [البقرۃ ٢١٧] قَالَ : ہَذَا شَیْئٌ مَنْسُوخٌ وَقَدْ مَضَی وَلاَ بَأْسَ بِالْقِتَالِ فِی الشَّہْرِ الْحَرَامِ وَغَیْرِہِ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٤٨) ابو اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے سفیان سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان : { یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الشَّھْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْہِ قُلْ قِتَالٌ فِیْہِ کَبِیْرٌ۔۔۔} [البقرۃ ٢١٧] کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ یہ حکم منسوخ ہوچکا ہے اور اب حرمت والے مہینوں اور اس کے علاوہ میں ان سے قتال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔