Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 60 · Chapter 3522

کتاب الا شربة

ولی کو ولی کے بدلے پکڑنا

3 hadiths in this chapter

17704

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17704

Sahih

(۱۷۶۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ إِیَادِ بْنِ لَقِیطٍ حَدَّثَنِی إِیَادُ بْنُ لَقِیطٍ عَنْ أَبِی رِمْثَۃَ قَالَ : انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِی نَحْوَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَسَلَّمَ عَلَیْہِ أَبِی وَجَلَسْنَا سَاعَۃً فَتَحَدَّثْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لأَبِی : ابْنُکَ ہَذَا؟ ۔ قَالَ : إِیْ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ۔ قَالَ : حَقًّا ۔ قَالَ : أَشْہَدُ بِہِ۔قَالَ : فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ضَاحِکًا مِنْ ثَبَتِ شَبَہِی بِأَبِی وَمِنْ حَلِفِ أَبِی عَلَی ذَلِکَ قَالَ ثُمَّ قَالَ : أَمَا إِنَّ ابْنَکَ ہَذَا لاَ یَجْنِی عَلَیْکَ وَلاَ تَجْنِی عَلَیْہِ ۔ قَالَ وَقَرَأَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- {أَلاَّ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی} [النجم ۳۸] إِلَی قَوْلِہِ {ہَذَا نَذِیرٌ مِنَ النُّذُرِ الأُولَی} [النجم ۵۶]۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٦٩٨) ابو رمثہ کہتے ہیں کہ میں انپے والد کے ساتھ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ ہم نے سلام کیا۔ ہم بیٹھ گئے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : یہ تیرا بیٹا ہے ؟ میرے والد نے کہا : جی ہاں رب کعبہ کی قسم ! فرمایا : سچے ہو، میں اس پر گواہ ہوں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرائے کہ میں اپنے باپ سے مشابہت بھی رکھتا تھا اور وہ قسم بھی اٹھا رہے تھے۔ پھر آپ نے فرمایا : تیرے جرم کے بدلے تیرے بیٹے کو یا تیرے بیٹے کے بدلے تجھے نہیں پکڑا جائے گا۔ پھر یہ آیات پڑھیں : { اَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرَی ۔ } [النجم ٣٨ تا ٥٦]

17705

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17705

Sahih

(۱۷۶۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِی الشَّعْثَائِ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ ہِلاَلٍ عَنْ ثَعْلَبَۃَ بْنِ زَہْدَمٍ الْحَنْظَلِیِّ قَالَ : قَدِمْنَا عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- نَفَرٌ مِنْ بَنِی تَمِیمٍ فَانْتَہَیْنَا إِلَیْہِ وَہُوَ یَقُولُ : یَدُ الْمُعْطِی الْعُلْیَا ابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ أُمَّکَ وَأَبَاکَ وَأُخْتَکَ وَأَخَاکَ ثُمَّ أَدْنَاکَ أَدْنَاکَ ۔ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَؤُلاَئِ بَنُو ثَعْلَبَۃَ بْنِ یَرْبُوعَ الَّذِینَ أَصَابُوا فُلاَنًا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ فَہَتَفَ النَّبِیُّ -ﷺ- : أَلاَ إِنَّہَا لاَ تَجْنِی نَفْسٌ عَلَی أُخْرَی۔ [صحیح لغیرہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٦٩٩) ثعلبہ بن زہدم حنظلی کہتے ہیں کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے۔ بنو تمیم کی ایک جماعت بھی تھی۔ ہم ان کی طرف بڑھے آپ فرما رہے تھے کہ دینے والا ہاتھ اور اوپر والا ہے تو سب سے پہلے اپنے عیال سے اپنی ماں، اپنے باپ، اپنی بہنیں، اپنے بھائی، پھر اس طرح ان سے ادنیٰ کو دو ۔ ایک انصاری کھڑا ہوا اور کہنے لگا : یا رسول اللہ ! ان بنو ثعلبہ بن یربوع نے جاہلیت میں ایک شخص کو قتل کیا تھا تو آپ نے اسے ڈانٹا اور فرمایا : کسی کے کیے کی سزا انھیں نہیں دی جائے گی۔

17706

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17706

Sahih

(۱۷۷۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ قَالَ : کَانَ الرَّجُلُ یُؤْخَذُ بِذَنْبِ غَیْرِہِ حَتَّی جَائَ إِبْرَاہِیمُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَقَالَ اللَّہُ تَعَالَی {وَإِبْرَاہِیمَ الَّذِی وَفَّی أَلاَّ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی} [النجم ۳۷-۳۸] قَالَ الشَّافِعِیُّ وَالَّذِی سَمِعْتُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ فِی قَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ {أَلاَّ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی} [النجم ۳۸] أَنْ لاَ یُؤْخَذَ أَحَدٌ بِذَنْبِ غَیْرِہِ لأَنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ جَزَی الْعِبَادَ عَلَی أَعْمَالِ أَنْفُسِہِمْ وَکَذَلِکَ أَمْوَالِہِمْ لاَ یَجْنِی أَحَدٌ عَلَی أَحَدٍ فِی مَالٍ إِلاَّ حَیْثُ خَصَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِأَنَّ جِنَایَۃَ الْخَطَإِ مِنَ الْحُرِّ مِنَ الآدَمِیِّینَ عَلَی عَاقِلَتِہِ۔ ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٠٠) عمر بن اوس کہتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے آدمی دوسرے کے کردہ گناہ میں بھی پکڑا جاتا تھا۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے آنے کے بعد یہ حکم ہوا : { وَاِبْرٰہِیْمَ الَّذِیْ وَفَّی ۔ اَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرَی ۔ } [النجم ٣٧ تا ٣٨] امام شافعی فرماتے ہیں کہ اللہ کے اس فرمان کا یہی مطلب ہے کہ کسی کو کسی کے جرم کے بدلے نہیں پکڑا جائے گا؛کیونکہ ہر بندے کو اس کے اعمال کا بدلہ ملے گا۔ اسی طرح مال میں ہے کہ ہر ایک اپنا ضامن ہے۔ ہاں قتل خطاء میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیت آزاد آدمی کے عصبہ پر رکھی ہے۔