Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 60 · Chapter 3505

کتاب الا شربة

حدود میں سفارش کرنے کا بیان

5 hadiths in this chapter

17622

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17622

Sahih

(۱۷۶۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ (ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : إِنَّ قُرَیْشًا ہَمُّوا بِشَأْنِ الْمَخْزُومِیَّۃِ الَّتِی سَرَقَتْ فَقَالُوا : مَنْ یُکَلِّمُ فِیہَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-؟ فَقَالُوا : مَنْ یَجْتَرِئُ عَلَیْہِ إِلاَّ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-؟ فَکَلَّمَہُ أُسَامَۃُ فَقَالَ : یَا أُسَامَۃُ تَشْفَعُ فِی حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّہِ؟ ۔ ثُمَّ قَامَ النَّبِیُّ -ﷺ- خَطِیبًا فَقَالَ : إِنَّمَا ہَلَکَ الَّذِینَ قَبْلَکُمْ أَنَّہُمْ کَانُوا إِذَا سَرَقَ فِیہِمُ الشَّرِیفُ تَرَکُوہُ وَإِذَا سَرَقَ فِیہِمُ الضَّعِیفُ أَقَامُوا عَلَیْہِ الْحَدَّ وَایْمُ اللَّہِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ یَدَہَا ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٦١٦) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ قریش نے ارادہ کیا کہ مخزومیہ عورت جس نے چوری کرلی تھی کے بارے میں کوئی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات کرے تو فیصلہ ہوا کہ اتنی ہمت صرف اسامہ بن زید ہی کرسکتے ہیں، وہ محبوب رسول ہیں تو حضرت اسامہ نے آپ سے بات کی تو آپ نے فرمایا : ” اے اسامہ ! کیا اللہ کی حدود میں تو سفارش کررہا ہے ؟ “ پھر آپ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : تم سے پہلے لوگ اسی لیے ہلاک ہوئے کہ ان میں کوئی امیر چوری کرتا توا سے چھوڑ دیتے اور غریب پر حد قائم کرتے۔ اللہ کی قسم ! اگر فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی چوری کرتی تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔

17623

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17623

Sahih

(۱۷۶۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ حَدَّثَنَا عُمَارَۃُ بْنُ غَزِیَّۃَ عَنْ یَحْیَی بْنِ رَاشِدٍ الدِّمَشْقِیِّ : أَنَّہُمْ جَلَسُوا لاِبْنِ عُمَرَ قَالَ فَمَا رَأَیْتُہُ أَرَادَ الْجُلُوسَ مَعَنَا حَتَّی قُلْنَا ہَلُمَّ إِلَی الْمَجْلِسِ یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ فَرَأَیْتُہُ تَذَمَّمَ قَالَ فَجَلَسَ فَسَکَتْنَا فَلَمْ یَتَکَلَّمْ مِنَّا أَحَدٌ فَقَالَ مَا لَکُمْ لاَ تَنْطِقُونَ أَلاَ تَقُولُونَ سُبْحَانَ اللَّہِ وَبِحَمْدِہِ فَإِنَّ الْوَاحِدَۃَ بِعَشْرٍ وَالْعَشْرُ بِمَائَۃٍ وَالْمِائَۃُ بِأَلْفٍ وَمَا زِدْتُمْ زَادَکُمُ اللَّہُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُہُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حَدِّ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَدْ ضَادَّ اللَّہَ فِی أَمْرِہِ وَمَنْ مَاتَ وعَلَیْہِ دَیْنٌ فَلَیْسَ بِالدِّینَارِ وَالدِّرْہَمِ وَلَکِنَّہَا الْحَسَنَاتُ وَالسَّیِّئَاتُ وَمَنْ خَاصَمَ فِی بَاطِلٍ وَہُوَ یَعْلَمُہُ لَمْ یَزَلْ فِی سَخَطِ اللَّہِ حَتَّی یَنْزِعَ وَمَنْ قَالَ فِی مُؤْمِنٍ مَا لَیْسَ فِیہِ أَسْکَنَہُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ رَدْغَۃَ خَبَالٍ حَتَّی یَخْرُجَ مِمَّا قَالَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٦١٧) یحییٰ بن راشد دمشقی کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) ہمارے پاس آ کر بیٹھے۔ ہم خاموش تھے تو آپ (رض) نے فرمایا : خاموش کیوں ہو ؟ بولتے کیوں نہیں ! تم سبحان اللہ وبحمدہ کیوں نہیں کہتے ۔ یہ ایک دس اور دس سو اور سو ہزار کے برابر ہے اور جتنا زیادہ پڑھو گے اللہ زیادہ کرتے جائیں گے۔ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا : ” جس کی شفاعت حدود اللہ میں سے کسی حد کے علاوہ میں حائل ہوگئی۔ اس نے اپنے معاملے میں اللہ سے ضد کی ہے اور جو مرگیا اور اس پر قرض ہے تو وہ نیکیوں اور برائیوں کی صورت میں ادا ہوگا اور جو کسی باطل کے لیے لڑتا ہے اور وہ جانتا بھی ہے تو وہ ہمیشہ اللہ کی ناراضگی میں رہتا ہے۔ جب تک کہ اس سے پیچھے نہ ہٹ جائے اور جو کسی مومن کے لیے ناحق بات کہتا ہے تو اللہ اسے جہنم کے کیچڑ میں ڈالیں گے۔ یہاں تک کہ وہ نکل جائے گا جو اس نے کہا۔

17624

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17624

Zaeef

(۱۷۶۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ ابْنُ الشَّرْقِیِّ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِیسَ الْحَنْظَلِیُّ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ الْمُؤَذِّنُ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ بَشِیرٍ عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ حَدَّثَہُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لأَصْحَابِہِ وَہُمْ جُلُوسٌ : مَا لَکُمْ لاَ تَتَکَلَّمُونَ مَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللَّہِ وَبِحَمْدِہِ کَتَبَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لَہُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ وَمَنْ قَالَہَا عَشْرًا کَتَبَ اللَّہُ لَہُ مِائَۃَ حَسَنَۃٍ وَمَنْ قَالَہَا مِائَۃَ مَرَّۃٍ کَتَبَ اللَّہُ لَہُ أَلْفَ حَسَنَۃٍ وَمَنْ زَادَ زَادَہُ اللَّہُ وَمَنِ اسْتَغْفَرَ غَفَرَ اللَّہُ لَہُ وَمَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُہُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّہِ فَقَدْ ضَادَّ اللَّہَ فِی حُکْمِہِ وَمَنِ اتَّہَمَ بَرِیئًا صَیَّرَہُ اللَّہُ إِلَی طِینَۃِ الْخَبَالِ حَتَّی یَأْتِیَ بِالْمَخْرَجِ مِمَّا قَالَ وَمَنِ انْتَفَی مِنْ وَلَدِہِ یَفْضَحُہُ بِہِ فِی الدُّنْیَا فَضَحَہُ اللَّہُ عَلَی رُئُ وسِ الْخَلاَئِقِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٦١٨) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اور صحابہ کرام بیٹھے ہوئیے تھے تم کچھ بولتے کیوں نہیں۔ جس نے سبحان اللہ وبحمدہ کہا اللہ اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دیتا ہے اور جس نے دس دس مرتبہ کہا اس کے سو اور جس نے سو مرتبہ کہا اس کے لیے ہزار نیکیاں لکھ دیتا ہے۔ جو زیادہ کرے گا اللہ بھی زیادہ کر دے گا اور جو اللہ سے استغفار کرے گا اللہ اسے بخش دے گا جس کی شفاعت حدود اللہ میں سے کسی حد کے علاوہ میں حائل ہوگئی تو اس نے اپنے معاملے میں اللہ سے ضد کی اور جو مرگیا اور اس پر قرض ہے تو وہ نیکیوں اور برائیوں کی صورت میں ادا ہوگا اور جو کسی باطل کے لیے لڑتا ہے اور وہ جانتا بھی ہے تو وہ ہمیشہ اللہ کی ناراضگی میں رہتا ہیجب تک کہ اس سے پیچھے نہ ہٹ جائے اور جو کسی مومن کے لیے ناحق بات کہتا ہے تو اللہ اسے جہنم کے کیچڑ میں ڈالیں گے یہاں تک کہ وہ نکل جائے گا، جو اس نے کہا : جو دنیا میں اپنے بچے کا انکار کرے گا اس کو رسوا کرنے کے لیے تو اللہ اسے تمام مخلوقات کے سامنے قیامت کے دن رسوا کرے گا۔

17625

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17625

Zaeef

(۱۷۶۱۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی الْجَہْمِ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیہِ الزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : اشْفَعُوا فِی الْحُدُودِ مَا لَمْ تَبْلُغِ السُّلْطَانَ فَإِذَا بَلَغَتِ السُّلْطَانَ فَلاَ تَشْفَعُوا۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٦١٩) حضرت زبیر بن عوام فرماتے ہیں : حدود میں سفارش کرو جب تک بادشاہ تک معاملہ نہ پہنچا ہو۔ اور جب بادشاہ تک معاملہ پہنچ جائے تو پھر سفارش نہ کرو۔

17626

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17626

Sahih

(۱۷۶۲۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنِ الْفَرَافِصَۃِ الْحَنَفِیِّ قَالَ : مَرَّ عَلَیْنَا الزُّبَیْرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَقَدْ أَخَذْنَا سَارِقًا فَجَعَلَ یَشْفَعُ لَہُ فَقَالَ : أَرْسِلُوہُ۔ قَالَ قُلْنَا : یَا أَبَا عَبْدِ اللَّہِ تَأْمُرُنَا أَنْ نُرْسِلَہُ؟ قَالَ : إِنَّ ذَلِکَ یُفْعَلُ دُونَ السُّلْطَانِ فَإِذَا بَلَغَ السُّلْطَانَ فَلاَ أَعْفَاہُ اللَّہُ إِنْ أَعْفَاہُ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٦٢٠) فرافصہ حنفی کہتے ہیں کہ حضرت زبیر (رض) ہمارے پاس سے گزرے، ہم نے ایک چور کو پکڑا ہوا تھا۔ آپ نے اس کی سفارش کی کہ اسے چھوڑ دو ۔ ہم نے کہا : اے ابو عبداللہ ! آپ ہمیں چھوڑنے کا کہہ رہے ہو ! فرمایا : سلطان سے پہلے یہ کہا جاسکتا ہے۔ اگر سلطان تک بات چلی گئی پھر کوئی معافی نہیں۔ پھر اللہ ہی چاہے تو اسے معاف کرے۔