Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 58 · Chapter 3408

حدود کا بیان

رجم کیا ہوا غسل بھی دیا جائے گا، اس پر نماز بھی پڑھی جائے گی پھر دفن بھی کیا جائے گا

6 hadiths in this chapter

16957

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16957

Sahih

(۱۶۹۵۱) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ أَنَّ أَبَا قِلاَبَۃَ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِی الْمُہَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ : أَنَّ امْرَأَۃً مِنْ جُہَیْنَۃَ أَتَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- وَہِیَ حُبْلَی مِنَ الزِّنَا فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَلِیَّہَا أَنْ یُحْسِنَ إِلَیْہَا فَإِذَا وَضَعَتْ حَمْلَہَا فَائْتِنِی بِہَا فَفَعَلَ فَأَمَرَ بِہَا فَشُکَّتْ عَلَیْہَا ثِیَابُہَا ثُمَّ أَمَرَ بِہَا فَرُجِمَتْ ثُمَّ صَلَّی عَلَیْہَا فَقَالَ لَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَتُصَلِّی عَلَیْہَا وَقَدْ زَنَتْ فَقَالَ : لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَۃً لَوْ قُسِمَتْ بَیْنَ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ لَوَسِعَتْہُمْ وَہَلْ وَجَدْتَ شَیْئًا أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِہَا ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٩٥١) عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ جہینہ قبیلہ کی ایک عورت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور وہ زنا سے حاملہ تھی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی ولی کو کہا کہ اس کے ساتھ احسان کر۔ جب یہ وضع حمل کر دے، پھر لے کر آنا تو اس نے ایسے کیا۔ پھر جب وہ دوبارہ آئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے رجم کا حکم دے دیا اور پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر نماز بھی پڑھی۔ حضرت عمر فرمانے لگے : یا رسول اللہ ! اس نے تو زنا کیا تھا اور آپ اس پر نماز پڑھ رہے ہیں ؟ فرمایا : اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر تمام اہل مدینہ پر تقسیم کی جائے تو ان کو کافی ہوجائے۔ کیا تو نے اس سے بھی افضل کوئی چیز دیکھی ہے کہ اس نے اپنے نفس کو اللہ کے لیے پیش کردیا۔ [صحیح ]

16958

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16958

Zaeef

(۱۶۹۵۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ الْقَبَّانِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنِی أَبِی فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ وَمَعْنَاہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : لَوْ قُسِمَتْ بَیْنَ سَبْعِینَ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ لَوَسِعَتْہُمْ وَہَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِہَا لِلَّہِ عَزَّ وَجَلَّ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی غَسَّانَ عَنْ مُعَاذٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٩٥٢) تقدم قبلہ

16959

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16959

Sahih

(۱۶۹۵۳) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا بَشِیرُ بْنُ الْمُہَاجِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ فِی قِصَّۃِ الْغَامِدِیَّۃِ وَرَجْمِہَا وَسَبِّ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ إِیَّاہَا قَالَ فَسَمِعَ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- سَبَّہُ إِیَّاہَا فَقَالَ : مَہْلاً یَا خَالِدُ بْنَ الْوَلِیدِ لاَ تَسُبَّہَا فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَۃً لَوْ تَابَہَا صَاحِبُ مَکْسٍ لَغُفِرَ لَہُ فَأَمَرَ بِہَا فَصُلِّیَ عَلَیْہَا وَدُفِنَتْ ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ بَشِیرِ بْنِ الْمُہَاجِرِ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٩٥٣) حضرت بریدہ قصہ غامدیہ اور اس کے رجم میں فرماتے ہیں کہ خالد بن ولید نے اسے گالی دی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی گالی سن لی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خالد رک جاؤ، اسے گالی نہ دو ۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ (ناجائز) ٹیکس لینے والے کو بھی وہ کفایت کر جائے اور اس کے غسل کا حکم دیا، اس پر نماز پڑھی اور دفن کیا۔

16960

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16960

Zaeef

(۱۶۹۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا حَرَمِیُّ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُلاَثَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ أَنَّ خَالِدَ بْنَ اللَّجْلاَجِ حَدَّثَہُ أَنَّ أَبَاہُ اللَّجْلاَجَ أَخْبَرَہُ : أَنَّہُ کَانَ قَاعِدًا یَعْتَمِلُ فِی السُّوقِ فَمَرَّتِ امْرَأَۃٌ تَحْمِلُ صَبِیًّا فَثَارَ النَّاسُ وَثُرْتُ فِیمَنْ ثَارَ فَانْتَہَیْتُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- أَظُنُّہُ قَالَ فَقَالَ : مَنْ أَبُو ہَذَا مَعَکِ؟ ۔ قَالَ فَسَکَتَتْ قَالَ فَقَالَ شَابٌّ حِذَائَ ہَا أَنَا أَبُوہُ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : فَأَقْبَلَ عَلَیْہَا فَقَالَ : مَنْ أَبُو ہَذَا مَعَکِ؟ ۔ قَالَ فَسَکَتَتْ قَالَ فَقَالَ الْفَتَی : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّہَا حَدِیثَۃُ السِّنِّ حَدِیثَۃُ عَہْدٍ بِخَزْیَۃٍ وَلَیْسَتْ مُکَلِّمَتَکَ فَأَنَا أَبُوہُ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ فَنَظَرَ إِلَی بَعْضِ مَنْ حَوْلَہُ کَأَنَّہُ یَسْأَلُہُمْ عَنْہُ فَقَالُوا مَا عَلِمْنَا إِلاَّ خَیْرًا أَوْ نَحْوَ ذَا فَقَالَ: أَحْصَنْتَ؟ قَالَ : نَعَمْ۔ فَأَمَرَ بِہِ یُرْجَمُ قَالَ : فَخَرَجْنَا بِہِ فَحَفَرْنَا لَہُ حَتَّی أَمْکَنَّا ثُمَّ رَمَیْنَاہُ بِالْحِجَارَۃِ حَتَّی ہَدَأَ ثُمَّ انْصَرَفْنَا إِلَی مَجَالِسِنَا قَالَ فَبَیْنَا نَحْنُ کَذَلِکَ إِذْ جَائَ شَیْخٌ یَسْأَلُ عَنِ الْمَرْجُومِ فَقُمْنَا إِلَیْہِ فَأَخَذْنَا بِتَلاَبِیبِہِ فَانْطَلَقْنَا بِہِ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقُلْنَا إِنْ ہَذَا جَائَ یَسْأَلُ عَنِ الْخَبِیثِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَہْ لَہُوَ أَطْیَبُ عِنْدَ اللَّہِ مِنْ رِیحِ الْمِسْکِ ۔ قَالَ : فَانْصَرَفْنَا مَعَ الشَّیْخِ فَإِذَا ہُوَ أَبُوہُ فَأَتَیْنَا إِلَیْہِ فَأَعَنَّاہُ عَلَی غُسْلِہِ وَتَکْفِینِہِ وَدَفْنِہِ قَالَ وَلاَ أَدْرِی قَالَ وَالصَّلاَۃِ عَلَیْہِ أَمْ لاَ۔ وَرُوِّینَا عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- رَجَمَ امْرَأَۃً فَلَمَّا طَفِئَتْ أَخْرَجَہَا فَصَلَّی عَلَیْہَا۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٩٥٤) لجلاج کہتے ہیں کہ میں بازار میں بیٹھا کام کررہا تھا کہ ایک عورت بچے کو اٹھائے ہوئے گزری تو لوگ اس پر جوش میں آگئے، میں بھی آگیا۔ میں اسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے گیا تو اس سے پوچھا : یہ جو بچہ تیرے پاس ہے اس کا والد کون ہے ؟ وہ خاموش رہی تو ایک نوجوان وہیں سے کھڑا ہوا اور کہنے لگا : میں اس کا باپ ہوں یا رسول اللہ !۔ پھر اس عورت سے وہی پوچھا کہ اس کا باپ کون ہے ؟ تو وہ نوجوان کہنے لگا : یا رسول اللہ میں ہوں۔ یہ نو عمر ہے یہ آپ سے بات نہیں کرے گی تو آپ نے اپنے ارد گرد بیٹھے لوگوں کی طرف دیکھا، گویا آپ اس کے بارے میں ان سے پوچھ رہے ہوں تو لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے تو اسے بڑا بہترین پایا ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : شادی شدہ ہو ؟ کہا : ہاں تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے رجم کا حکم دیا تو ہم نے گڑھا کھود کر اسے رجم کردیا اور اپنی مجالس میں پھر آگئے تو ایک بوڑھا آدمی آیا اور اس رجم کیے ہوئے کے بارے میں پوچھنے لگا تو ہم اسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے گئے اور کہا : اے اللہ کے رسول ! یہ اس خبیث کے بارے میں پوچھ رہا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رک جاؤ، وہ اللہ کے ہاں کستوری سے زیادہ خوشبو دار ہے۔ کہتے ہیں : ہم اس شیخ کے ساتھ واپس آئے تو پتہ چلا کہ یہ اس کا باپ تھا تو ہم نے اس کے غسل، کفن، دفن میں اس کی مدد کی۔ کہتے ہیں : نماز کا مجھے یاد نہیں پڑھی تھی کہ نہیں۔

16961

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16961

Sahih

(۱۶۹۵۵) وَأَمَّا مَاعِزُ بْنُ مَالِکٍ فَفِیمَا أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَسْلَمَ جَائَ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا فَأَعْرَضَ عَنْہُ ثُمَّ اعْتَرَفَ فَأَعْرَضَ عَنْہُ حَتَّی شَہِدَ عَلَی نَفْسِہِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : أَبِکَ جُنُونٌ؟ ۔ قَالَ : لاَ۔ قَالَ : أَحْصَنْتَ؟ ۔ قَالَ : نَعَمْ فَأَمَرَ بِہِ النَّبِیُّ -ﷺ- فَرُجِمَ بِالْمُصَلَّی فَلَمَّا أَذْلَقَتْہُ الْحِجَارَۃُ فَرَّ فَأُدْرِکَ فَرُجِمَ حَتَّی مَاتَ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- خَیْرًا وَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْہِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَسُقْ مَتْنَ الْحَدِیثِ وَسَاقَہُ غَیْرُہُ عَنْ إِسْحَاقَ وَقَالَ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ أَصْحَابُ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْہُ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ غَیْلاَنَ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَقَالَ فِیہِ : فَصَلَّی عَلَیْہِ وَہُوَ خَطَأٌ۔ قَالَ الْبُخَارِیُّ وَلَمْ یَقُلْ یُونُسُ وَابْنُ جُرَیْجٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ فَصَلَّی عَلَیْہِ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٩٥٥) حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ اسلم قبیلہ کا ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور زنا کا اعتراف کیا تو آپ نے اس سے اعراض کیا، یہاں تک کہ اس نے چار مرتبہ اپنے نفس پر گواہی دی تو آپ نے پوچھا : کیا پاگل ہے ؟ کہا : نہیں پوچھا : شادی شدہ ہے ؟ کہا : ہاں تو آپ نے اسے رجم کرنے کا حکم دے دیا۔ جب اسے پتھر لگے تو بھاگا، لیکن پکڑ کر پھر رجم کیا گیا اور وہ مرگیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے اچھے کلمات کہے، لیکن نماز نہیں پڑھی۔

16962

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16962

Sahih

(۱۶۹۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ غَنَّامٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ : جَائَ مَاعِزُ بْنُ مَالِکٍ فَاعْتَرَفَ عِنْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- بِالزِّنَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَسَأَلَ عَنْہُ النَّبِیُّ -ﷺ- ثُمَّ أَمَرَ بِہِ فَرُجِمَ فَرَمَیْنَاہُ بِالْخَزَفِ وَالْجَنْدَلِ وَالْعِظَامِ وَمَا حَفَرْنَا لَہُ وَلاَ أَوْثَقْنَاہُ فَمَضَی یَشْتَدُّ إِلَی الْحَرَّۃِ وَاتَّبَعْنَاہُ فَقَامَ لَنَا فَرَمَیْنَاہُ حَتَّی سَکَنَ فَمَا اسْتَغْفَرَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- وَلاَ سَبَّہُ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ فَہَکَذَا فِی ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ۔ وَقَدْ رُوِّینَا فِی حَدِیثِ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ مَا دَلَّ عَلَی أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- إِنْ لَمْ یَسْتَغْفِرْ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِکٍ فِی الْحَالِ أَمَرَہُمْ بِالاِسْتِغْفَارِ لَہُ بَعْدَ یَوْمَیْنِ أَوْ ثَلاَثَۃٍ۔ وَرُوِّینَا فِی حَدِیثِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی قِصَّۃِ الْغَامِدِیَّۃِ أَنَّہُ أَمَرَ بِہَا فَصُلِّیَ عَلَیْہَا وَدُفِنَتْ وَقِصَّۃُ الْغَامِدِیَّۃِ بَعْدَ قِصَّۃِ مَاعِزٍ فَفِی قِصَّۃِ الْغَامِدِیَّۃِ أَنَّہَا قَالَتْ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ لِمَ تَرُدَّنِی فَلَعَلَّکَ أَنْ تَرُدَّنِی کَمَا رَدَدْتَ مَاعِزًا فَوَاللَّہِ إِنِّی لَحُبْلَی۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٩٥٦) ابو سعید کہتے ہیں کہ ماعز نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے آ کر تین مرتبہ زنا کا اعتراف کیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے سوال کر کے رجم کردیا۔ نہ ہم نے اس کے لیے گڑھا کھودا، نہ باندھا۔ وہ بھاگا ہم نے حرہ کی طرف جا کر اسے پکڑ لیا اور وہاں پتھر مارے تو وہ مرگیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہ اس کے لیے استغفار کی اور نہ ہی برا کہا۔ بریدہ والی روایت جس میں غامدیہ عورت کا قصہ ہے، اس پر نماز بھی پڑھی گئی، آپ کے حکم سے اور دفن بھی کی گئی اور غامدیہ کا واقعہ ماعز کے بعد کا ہے؛ کیونکہ غامدیہ نے کہا تھا کہ آپ مجھے بھی ماعز کی طرح لوٹانا چاہتے ہیں۔