Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 57 · Chapter 3389

مرتد کا بیان

جو اسلام سے پھر جائے اس کے قتل کا بیان

6 hadiths in this chapter

16823

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16823

Sahih

(۱۶۸۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِیلَ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِیسَی ابْنُ الطَّبَّاعِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ حَدَّثَنِی أَبُو أُمَامَۃَ بْنُ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِیعَۃَ قَالاَ : کُنَّا مَعَ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الدَّارِ وَہُوَ مَحْصُورٌ وَکُنَّا إِذَا دَخَلْنَا نَدْخُلُ مَکَانًا نَسْمَعُ کَلاَمَ مَنْ بِالْبَلاَطِ فَخَرَجَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَوْمًا مُتَغَیِّرًا لَوْنُہُ قُلْنَا : مَا لَکَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ؟ قَالَ : إِنَّہُمْ لَیُوَاعِدُونِی بِالْقَتْلِ۔ فَقُلْنَا : یَکْفِیکَہُمُ اللَّہُ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ۔ قَالَ : وَبِمَ یَقْتُلُونِی وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : لاَ یَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلاَّ بِإِحْدَی ثَلاَثٍ رَجُلٌ کَفَرَ بَعْدَ إِسْلاَمِہِ أَوْ زَنَی بَعْدَ إِحْصَانِہِ أَوْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ ۔فَوَاللَّہِ مَا زَنَیْتُ فِی جَاہِلِیَّۃٍ وَلاَ إِسْلاَمٍ قَطُّ وَلاَ قَتَلْتُ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ وَلاَ تَمَنَّیْتُ بِدِینِی بَدَلاً مُذْ ہَدَانِی اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لِلإِسْلاَمِ فَبِمَ یَقْتُلُونِی؟ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٨١٧) ابو امامہ بن سہل بن حنیف اور عبداللہ بن عامر بن ربیعہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عثمان کے ساتھ گھر میں تھے ، جب وہ قید تھے۔ ہم گھر میں وہاں سے داخل ہوئے کہ ہم باہر کھڑے لوگوں کی باتیں سن سکتے تھے تو حضرت عثمان ایک دن نکلے ، آپ کا رنگ تبدیل تھا۔ ہم نے کہا : اے امیر المؤمنین ! خیریت ہے ؟ فرمایا : وہ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے کہا : اللہ آپ کو ان سے کافی ہے۔ کہا : وہ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں ؟ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ کسی بھی مسلمان کا خون صرف ٣ وجوہات کی بنا پر جائز ہے : 1 مرتد عن الاسلام 2 شادی شدہ زانی 3 ناحق قتل کرنے والا۔ نہ تو میں نے نہ جاہلیت میں نہ اسلام میں زنا کیا، نہ کسی کو ناحق قتل کیا، جب سے اللہ نے مجھے ہدایت دی ہے۔ میں نے کبھی اسلام کو چھوڑنے کا سوچا بھی نہیں، پھر کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں ؟

16824

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16824

Sahih

(۱۶۸۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ : شُجَاعُ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ مِہْرَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُرَّۃَ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ یَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ مُسْلِمٍ یَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنِّی رَسُولُ اللَّہِ إِلاَّ أَحَدُ ثَلاَثَۃِ نَفَرٍ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ وَالثَّیِّبُ الزَّانِی وَالتَّارِکُ لِدِینِہِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَۃِ ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٨١٨) عبداللہ فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی بھی مسلمان کا خون جائز نہیں مگر تین وجوہات سے : قصاصاً قتل کیا جائے، یا شادی شدہ زانی یا مرتد جو دین اور جماعت کو چھوڑ دے۔

16825

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16825

Zaeef

(۱۶۸۱۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ سُفْیَانَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُرَّۃَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : قَامَ فِینَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : وَالَّذِی لاَ إِلَہَ غَیْرُہُ لاَ یَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ مُسْلِمٍ یَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنِّی رَسُولُ اللَّہِ إِلاَّ ثَلاَثَۃُ نَفَرٍ التَّارِکُ الإِسْلاَمَ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَۃِ أَوِ الْجَمَاعَۃَ وَالثَّیِّبُ الزَّانِی وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ ۔ قَالَ الأَعْمَشُ فَحَدَّثْتُ بِہِ إِبْرَاہِیمَ فَحَدَّثَنِی عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ بِمِثْلِہِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٨١٩) تقدم قبلہ سابقہ روایت

16826

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16826

Sahih

(۱۶۸۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ أَیُّوبَ بْنِ أَبِی تَمِیمَۃَ عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ: لَمَّا بَلَغَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَرَّقَ الْمُرْتَدِّینَ أَوِ الزَّنَادِقَۃَ قَالَ: لَوْ کُنْتُ أَنَا لَمْ أُحَرِّقْہُمْ وَلَقَتَلْتُہُمْ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ بَدَّلَ دِینَہُ فَاقْتُلُوہُ۔ وَلَمْ أُحَرِّقْہُمْ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ یَنْبَغِی لأَحَدٍ أَنْ یُعَذِّبَ بِعَذَابِ اللَّہِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٨٢٠) عکرمہ کہتے ہیں کہ جب ابن عباس کو پتہ چلا کہ حضرت علی نے مرتدین اور زنادقہ کو جلایا ہے تو فرمایا : میں ہوتا انھیں جلاتا نہ بلکہ قتل کرتا؛ کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ جو دین کو بدل دے اور مرتد ہوجائے اسے قتل کر دو اور میں جلاتا اس لیے نہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کسی کے یہ لائق نہیں کہ اللہ کے عذاب کے ساتھ کسی کو عذاب دے۔

16827

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16827

Zaeef

(۱۶۸۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی مَالِکٌ وَدَاوُدُ بْنُ قَیْسٍ وَہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : مَنْ غَیَّرَ دِینَہُ فَاضْرِبُوا عُنُقَہُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٨٢١) زید بن اسلم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ جو اپنے دین کو بدل دے اسے قتل کر دو ۔

16828

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16828

Sahih

(۱۶۸۲۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَمُسَدَّدٌ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ قَالَ مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ ہِلاَلٍ حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَۃَ قَالَ قَالَ أَبُو مُوسَی : أَقْبَلْتُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَمَعِی رَجُلاَنِ مِنَ الأَشْعَرِیِّینَ أَحَدُہُمَا عَنْ یَمِینِی وَالآخَرُ عَنْ یَسَارِی وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَسْتَاکُ فَکِلاَہُمَا سَأَلَ الْعَمَلَ وَالنَّبِیُّ -ﷺ- سَاکِتٌ فَقَالَ: مَا تَقُولُ یَا أَبَا مُوسَی أَوْ یَا عَبْدَ اللَّہِ بْنَ قَیْسٍ؟ ۔ قُلْتُ : وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا أَطْلَعَانِی عَلَی مَا فِی أَنْفُسِہِمَا وَمَا شَعَرْتُ أَنَّہُمَا یَطُلبَانِ الْعَمَلَ قَالَ وَکَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی سِوَاکِہِ تَحْتَ شَفَتِہِ قَلَصَتْ قَالَ : لَنْ أَسْتَعْمِلَ أَوْ لاَ أَسْتَعْمِلُ عَلَی عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَہُ وَلَکِنِ اذْہَبْ أَنْتَ یَا أَبَا مُوسَی أَوْ یَا عَبْدَ اللَّہِ بْنَ قَیْسٍ ۔ فَبَعَثَہُ عَلَی الْیَمَنِ ثُمَّ أَتْبَعَہُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَالَ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَیْہِ مُعَاذٌ قَالَ انْزِلْ وَأَلْقَی لَہُ وِسَادَۃً وَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَہُ مُوثَقٌ قَالَ مَا ہَذَا قَالَ ہَذَا کَانَ یَہُودِیًّا فَأَسْلَمَ ثُمَّ رَاجَعَ دِینَہُ دِینَ السَّوْئِ قَالَ لاَ أَجْلِسُ حَتَّی یُقْتَلَ قَضَائُ اللَّہِ وَرَسُولِہِ -ﷺ- ثَلاَثَ مِرَارٍ وَأَمَرَ بِہِ فَقُتِلَ ثُمَّ تَذَاکَرَا قِیَامَ اللَّیْلِ فَقَالَ أَحَدُہُمَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَمَّا أَنَا فَأَنَامُ وَأَقُومُ أَوْ أَقُومُ وَأَنَامُ وَأَرْجُو فِی نَوْمَتِی مَا أَرْجُو فِی قَوْمَتِی۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی قُدَامَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ یَحْیَی۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٨٢٢) ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ میرے ساتھ دو اشعری آدمی اور بھی تھے۔ وہ دونوں میرے دائیں بائیں تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسواک کر رہے تھے، انھوں نے عامل بنانے کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مطالبہ کیا۔ آپ خاموش رہے پھر فرمایا : اے ابو موسیٰ ! تم کیا کہتے ہو ؟ میں نے کہا : قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، مجھے نہیں پتہ تھا کہ یہ دونوں کس لیے آئے ہیں اور ان کا کیا ارادہ ہے۔ فرماتے ہیں : میں مسواک کو آپ کے ہونٹ کی طرف سکڑتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو خود مانگ کر عامل بنے اسے ہم عامل نہیں بناتے، لیکن اے ابو موسیٰ ! تو یمن جا، پھر یہ حضرت معاذ کے پیچھے گئے، جب معاذ آئے تو فرمایا : آئیے اور ان کے لیے تکیہ رکھا تو ایک آدمی کو دیکھا جو بندھا ہوا تھا۔ پوچھا : یہ کہا ہے ؟ جواب دیا : یہ یہودی تھا مسلمان ہوا لیکن پھر یہودی ہوگیا تو فرمایا : میں تو اسے قتل کرنے تک نہیں بیٹھوں گا ؛کیونکہ اس میں اللہ اور اس کے رسول کا یہی فیصلہ ہے، اسے قتل کردیا گیا۔ پھر بیٹھے اور قیام اللیل کے بارے میں مذاکرہ کیا تو حضرت معاذ نے فرمایا : میں قیام بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور اپنی نیند سے اللہ سے اسی کی امید رکھتا ہوں جو قیام میں امید رکھتا ہوں۔