Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 56 · Chapter 3361

باغیوں سے قتال کا بیان

خیر خواہی اللہ کے لیے اور اس کی کتاب کے لیے اور اس کے رسول اور ائمۃ مسلمین کے لیے اور عام مسلمانوں کے لیے ہے اور رعایا پر واجب کہ وہ اپنے عادل امیر کی عزت کریں

5 hadiths in this chapter

16662

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16662

Sahih

(۱۶۶۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمِشٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ مُنِیبٍ حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ أَخْبَرَنَا سُہَیْلُ بْنُ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ اللَّہَ یَرْضَی لَکُمْ ثَلاَثًا وَیَکْرَہُ لَکُمْ ثَلاَثًا رَضِیَ لَکُمْ أَنْ تَعْبُدُوہُ وَلاَ تُشْرِکُوا بِہِ شَیْئًا وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّہِ جَمِیعًا وَلاَ تَفَرَّقُوا وَأَنْ تُنَاصِحُوا مَنْ وَلَّی اللَّہُ أَمْرَکُمْ وَیَکْرَہُ لَکُمْ قِیلَ وَقَالَ وَکَثْرَۃَ السُّؤَالِ وَإِضَاعَۃَ الْمَالِ۔ قَالَ عَطَائُ بْنُ یَزِیدَ اللَّیْثِیُّ سَمِعْتُ تَمِیمَ الدَّارِیَّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ الدِّینَ النَّصِیحَۃُ۔ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ قَالُوا: یَا رَسُولَ اللَّہِ لِمَنْ؟ قَالَ: لِلَّہِ وَلِکِتَابِہِ وَلأَئِمَّۃِ الْمُسْلِمِینَ۔ أَوْ قَالَ: لأَئِمَّۃِ الْمُسْلِمِینَ وَعَامَّتِہِمْ۔ أَخْرَجَ مُسْلِمٌ الْحَدِیثَ الأَوَّلَ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ وَغَیْرِہِ عَنْ جَرِیرٍ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٦٥٦) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے تمہارے لیے تین چیزیں پسند فرمائی ہیں اور تین چیزیں ناپسند : وہ راضی ہوا ہے تم سے کہ تم اس کی عبادت کرو ، شرک نہ کرو، اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو فرقوں میں نہ بٹو، اور امیر کی خیر خواہی کرو اور ناپسند کیا ہے تمہارے لیے قیل و قال، کثرت سوال اور مال کا ضیاع۔ عطاء بن یزید لیثی فرماتے ہیں : میں نے تمیم داری سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دین نصیحت ہے تین مرتبہ فرمایا : پوچھا : یا رسول اللہ ! کس کے لیے ؟ فرمایا : اللہ کے لیے، اس کے رسول اور ائمۃ مسلمین کے لیے اور ان کے عام لوگوں کے لیے۔

16663

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16663

Sahih

(۱۶۶۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوسُفَ قَالَ ذَکَرَ سُفْیَانُ عَنْ سُہَیْلِ بْنِ أَبِی صَالِحٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَزِیدَ اللَّیْثِیِّ عَنْ تَمِیمٍ الدَّارِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّمَا الدِّینُ النَّصِیحَۃُ إِنَّمَا الدِّینُ النَّصِیحَۃُ إِنَّمَا الدِّینُ النَّصِیحَۃُ ۔ فَقِیلَ : لِمَنْ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ : لِلَّہِ وَلِکِتَابِہِ وَرَسُولِہِ وَلأَئِمَّۃِ الْمُؤْمِنِینَ وَعَامَّتِہِمْ ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٦٥٧) تمیم داری والی سابقہ روایت

16664

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16664

Zaeef

(۱۶۶۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الصَّوَّافُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ حُمْرَانَ حَدَّثَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِی جَمِیلَۃَ عَنْ زِیَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ عَنْ أَبِی کِنَانَۃَ عَنْ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ مِنْ إِجْلاَلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ إِکْرَامَ ذِی الشَّیْبَۃِ الْمُسْلِمِ وَحَامِلِ الْقُرْآنِ غَیْرِ الْغَالِی فِیہِ وَلاَ الْجَافِی عَنْہُ وَإِکْرَامَ ذِی السُّلْطَانِ الْمُقْسِطِ ۔ وَرَوَاہُ ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ عَوْفٍ فَوَقَفَہُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٦٥٨) ابو موسیٰ اشعری فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کے عزت و جلال سے تین چیزیں ہیں : بزرگ مسلمان کی عزت کرنا اور قرآن کا حامل نہ اس میں غلو کرے اور نہ اس میں جفا اور عادل بادشاہ کی عزت کرنا۔

16665

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16665

Zaeef

(۱۶۶۵۹) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ صَالِحٍ الشِّیرَازِیُّ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ مِہْرَانَ الْکِنْدِیُّ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ عَنْ زِیَادِ بْنِ کُسَیْبٍ الْعَدَوِیِّ قَالَ : کَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَامِرٍ یَخْطُبُ النَّاسَ عَلَیْہِ ثِیَابٌ رِقَاقٌ مُرَجِّلٌ شَعَرَہُ قَالَ فَصَلَّی یَوْمًا ثُمَّ دَخَلَ قَالَ وَأَبُو بَکْرَۃَ جَالِسٌ إِلَی جَنْبِ الْمِنْبَرِ فَقَالَ مِرْدَاسٌ أَبُو بِلاَلٍ : أَلاَ تَرَوْنَ إِلَی أَمِیرِ النَّاسِ وَسَیِّدِہِمْ یَلْبَسُ الرِّقَاقَ وَیَتَشَبَّہُ بِالْفُسَّاقِ فَسَمِعَہُ أَبُو بَکْرَۃَ فَقَالَ لاِبْنِہِ الأُصَیْلِعِ ادْعُ لِی أَبَا بِلاَلٍ فَدَعَاہُ لَہُ فَقَالَ أَبُو بَکْرَۃَ أَمَا إِنِّی قَدْ سَمِعْتُ مَقَالَتَکَ لِلأَمِیرِ آنِفًا وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : مَنْ أَکْرَمَ سُلْطَانَ اللَّہِ أَکْرَمَہُ اللَّہُ وَمَنْ أَہَانَ سُلْطَانَ اللَّہِ أَہَانَہُ اللَّہُ ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٦٥٩) زیاد بن کسیب عدوی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عامر لوگوں کو خطبہ دیتے تھے اور نرم کپڑے پہنے ہوئے اور بالوں کو کنگھی کی ہوتی۔ ایک دن نماز پڑھی، پھر داخل ہوئے ۔ ابو بکرہ منبر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو مرداس ابو بلال نے کہا کہ کیا تم امیر کو نہیں دیکھتے جو نرم کپڑے پہنتا ہے اور فساق کی مشابہت کرتا ہے۔ جب یہ بات ابو بکرہ نے سنی تو اپنے بیٹے اصلع کو کہا : ابو بلال کو بلاؤ، وہ بلا لایا۔ تو فرمایا : میں نے تمہارے بارے میں یہ بات سنی ہے جو تم نے امیر کے بارے میں کہی ہے۔ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ جو امیر کی عزت کرے گا اللہ اس کی عزت کرے گا اور جو امیر کو رسوا کرے گا اللہ اسے رسوا کریں گے۔

16666

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16666

Zaeef

(۱۶۶۶۰) أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ الْحُرْفِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا حَمْزَۃُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْعَلاَئِ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْبَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْعَلاَئِ بْنِ زِبْرِیقٍ الْحِمْصِیُّ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَالِمٍ عَنِ الزُّبَیْدِیِّ وَفِی رِوَایَۃِ الْحُرْفِیِّ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَالِمٍ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ عَامِرٍ وَہُوَ الزُّبَیْدِیُّ حَدَّثَنَا الْفُضَیْلُ بْنُ فَضَالَۃَ یَرُدُّہُ إِلَی ابْنِ عَائِذٍ یَرُدُّہُ ابْنُ عَائِذٍ إِلَی جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ : أَنَّ عِیَاضَ بْنَ غَنْمٍ الأَشْعَرِیَّ وَقَعَ عَلَی صَاحِبِ دَارَائَ حِینَ فُتِحَتْ فَأَتَاہُ ہِشَامُ بْنُ حَکِیمٍ فَأَغْلَظَ لَہُ الْقَوْلَ وَمَکَثَ ہِشَامٌ لَیَالِیَ فَأَتَاہُ ہِشَامٌ یَعْتَذِرُ إِلَیْہِ وَقَالَ لَہُ یَا عِیَاضُ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا لِلنَّاسِ فِی الدُّنْیَا ۔ فَقَالَ لَہُ عِیَاضٌ : یَا ہِشَامُ إِنَّا قَدْ سَمِعْنَا الَّذِی سَمِعْتَ وَرَأَیْنَا الَّذِی رَأَیْتَ وَصَحِبْنَا مَنْ صَحِبْتَ أَوَلَمْ تَسْمَعْ یَا ہِشَامُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : مَنْ کَانَتْ عِنْدَہُ نَصِیحَۃٌ لِذِی سُلْطَانٍ فَلاَ یُکَلِّمْہُ بِہَا عَلاَنِیَۃً وَلْیَأْخُذْ بِیَدِہِ فَلْیَخْلُ بِہِ فَإِنْ قَبِلَہَا قَبِلَہَا وَإِلاَّ کَانَ قَدْ أَدَّی الَّذِی عَلَیْہِ وَالَّذِی لَہُ ۔ وَإِنَّکَ یَا ہِشَامُ لأَنْتَ الْجَرِیئُ أَنْ یَجْتَرِئَ عَلَی سُلْطَانِ اللَّہِ فَہَلاَّ خَشِیتَ أَنْ یَقْتُلَکَ سُلْطَانُ اللَّہِ فَتَکُونَ قَتِیلَ سُلْطَانِ اللَّہِ۔ لَفْظُ حَدِیثِہِمَا سَوَاء ٌ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٦٦٠) جبیر بننفیرکہتے ہیں کہ عیاض بن غنم اشعری دارائ کے مالک پر واقع ہوگئے، جب وہ فتح کیا گیا تو ہشام بن حکیم آئے اور انھیں بہت سخت باتیں کہیں۔ ہشام چند راتوں کے بعد ان سے معذرت کرنے آگئے تو اس نے عیاض کو کہا : کیا تو نہیں جانتا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن سب سے سخت عذاب اسے ہوگا جو دنیا میں سب سے سخت عذاب لوگوں کو دیتا ہوگا۔ عیاض کہنے لگے : اے ہشام ! جس سے تو نے سنا ہے جن کو تو نے دیکھا ہے جن کے ساتھ تو رہا ہے ہم میں ان سے ملے ہیں۔ ہم نے سنا ہے اور ساتھ رہے ہیں۔ اے ہشام ! کیا تو نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نہیں سنا کہ جس کے پاس امیر کے لیے کوئی نصیحت ہو تو وہ سب لوگوں کے سامنے نہ کہے، ہاتھ پکڑ کر تنہائی میں لے جائے۔ اگر امیر قبول کرلے تو ٹھیک نہ کرے تو اس نے اپنا حق ادا کردیا۔ اے ہشام ! تو بہت جرأت والا ہے، اللہ کے سلطان پر جرأت کر گیا تجھے ڈر نہیں کہ اللہ کا سلطان تجھے قتل کرے تو تو سلطان اللہ کے ہاتھوں سے مقتول ہو۔