Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 54 · Chapter 3307

دیت کا بیان

ہنسلی کی ہڈی اور پسلی کی دیت کا بیان

1 hadith in this chapter

16339

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16339

Zaeef

(۱۶۳۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکٌ وَہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ أَسْلَمَ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَضَی فِی الضِّرْسِ بِجَمَلٍ وَفِی التَّرْقُوَۃِ بِجَمَلٍ وَفِی الضِّلَعِ بِجَمَلٍ۔ لَفْظُ حَدِیثِ الشَّافِعِیِّ۔ زَادَ أَبُو سَعِیدٍ فِی رِوَایَتِہِ قَالَ الشَّافِعِیُّ : فِی الأَضْرَاسِ خَمْسٌ خَمْسٌ لِمَا جَائَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی السِّنِّ خَمْسٌ وَکَانَتِ الضِّرْسُ سِنًّا وَأَنَا أَقُولُ بِقَوْلِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی التَّرْقُوَۃِ وَالضِّلَعِ لأَنَّہُ لَمْ یُخَالِفْہُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِیمَا عَلِمْتُہُ فَلَمْ أَرَ أَنْ أَذْہَبَ إِلَی رَأْیٍ فَأُخَالِفَہُ بِہِ قَالَ الشَّیْخُ وَإِلَی ہَذَا ذَہَبَ سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ۔ وَقَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی کِتَابِ الْجِرَاحِ یُشْبِہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ أَنْ یَکُونَ مَا حُکِیَ عَنْ عُمَرَ فِیمَا وَصَفْتُ حُکُومَۃً لاَ تَوْقِیتَ عَقْلٍ فَفِی کُلِّ عَظْمٍ کُسِرَ مِنْ إِنْسَانٍ غَیْرِ السِّنِّ حُکُومَۃٌ وَلَیْسَ فِی شَیْئٍ مِنْہَا أَرْشٌ مَعْلُومٌ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٣٣٣) حضرت عمر (رض) نے داڑھ، ہنسلی کی ہڈی اور پسلی میں ایک اونٹ دیت کا فیصلہ فرمایا۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ داڑھ میں پانچ اونٹ ہیں کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ دانت میں پانچ اونٹ ہیں اور داڑھ بھی دانت ہے اور ہنسلی کی ہڈی اور پسلی میں میرا مؤقف عمر والا ہی ہے کیونکہ کسی صحابی نے اس کی کوئی مخالفت نہیں کی اور میں بھی کوئی وجہ اختلاف نہیں پاتا اور فرماتے ہیں کہ حضرت عمر سے جو داڑھ میں ایک اونٹ کا ذکر ہے۔ یہ شاید اس وجہ سے ہے کہ یہ حکومتی فیصلے پر ہے کہ اس میں کوئی مقررہ دیت نہیں ہے۔