Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 51 · Chapter 3160

عدت کا بیان

سوگ کیسے کیا جائے

15 hadiths in this chapter

15530

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15530

Sahih

(۱۵۵۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَارِثِ البَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ بْنُ الْحَجَّاجِ قَالَ حُمَیْدُ بْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنِی قَالَ سَمِعْتُ زَیْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَۃَ تُحَدِّثُ عَنْ أُمِّہَا : أَنَّ امْرَأَۃً تُوُفِّیَ عَنَہْا زَوْجُہَا فَاشْتَکَتْ عَیْنَہَا وَخَشُوا عَلَی عَیْنِہَا فَسُئِلَ عَنْ ذَلِکَ النَّبِیُّ -ﷺ- قَالَ : قَدْ کَانَتْ إِحْدَاکُنَّ تَمْکُثُ فِی شَرِّ أَحْلاَسِہَا فِی بَیْتِہَا إِلَی الْحَوْلِ فَمَرَّ کَلْبٌ رَمَتْ بِبَعَرَۃٍ ثُمَّ خَرَجَتْ لاَ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا ۔ لَفْظُ حَدِیثِ یَحْیَی وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی دَاوُدَ : فَسُئِلَ النَّبِیُّ -ﷺ- أَتَکْحَلُ؟ فَقَالَ : لاَ ۔ وَقَالَ فِی آخِرِہِ : لاَ حَتَّی تَمْضِیَ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ وَعَشْرٌ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٥٢٤) شعبہ بن حجاج سے روایت ہے کہ حمید بن نافع نے مجھے خبر دی کہ میں نے زینب بنت ام سلمہ سے سنا، وہ اپنی والدہ سے روایت کرتی ہیں کہ اس کا خاوند فوت ہوگیا، اس نے اپنی آنکھوں کی شکایت کی اور انھوں نے اس کی آنکھوں پر (بیماری کا) خوف محسوس کیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : تمہاری عورتیں بدترین لباس اور بدترین گھر میں ایک سال تک رہتیں۔ جب کتا گزرتا تولید کے ساتھ مارتی۔ پھر وہ نکلتی۔ اب صرف چار ماہ اور دس دن ہیں۔ ابو داؤد کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا : کیا وہ سرمہ لگا سکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں اور اس کے آخر میں فرمایا : نہیں یہاں تک کہ وہ چار ماہ اور دس دن گزارے۔ اس کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔

15531

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15531

Sahih

(۱۵۵۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ الْمُلاَئِیُّ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ حَفْصَۃَ بِنْتِ سِیرِینَ عَنْ أُمِّ عَطِیَّۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ یَحِلُّ لاِمْرَأَۃٍ تُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلاَّ عَلَی زَوْجٍ فَإِنَّہَا لاَ تَکْتَحِلُ وَلاَ تَمْتَشِطُ وَلاَ تَتَطَیَّبُ إِلاَّ عِنْدَ أَدْنَی طُہْرَتِہَا وَلاَ تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلاَّ ثَوْبَ عَصْبٍ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ دُکَیْنٍ مُخْتَصَرًا ثُمَّ قَالَ وَقَالَ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٥٢٥) ام عطیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی عورت کے لیے حلال نہیں ہے جو اللہ اور اس کے رسول اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے مگر اپنے خاوند پر، وہ نہ سرمہ لگائے اور نہ کنگھی کرے اور نہ خوشبو لگائے مگر اپنی طہارت کے وقت اور نہ رنگ دار کپڑے پہنے باندھنے والا کپڑا۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے۔

15532

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15532

Sahih

(۱۵۵۲۶) فَذَکَر مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی الْوَزِیرِ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَتْنَا حَفْصَۃُ بِنْتُ سِیرِینَ قَالَتْ حَدَّثَتْنِی أُمُّ عَطِیَّۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَہَی أَنْ تُحِدَّ الْمَرْأَۃُ فَوْقَ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ إِلاَّ عَلَی زَوْجٍ فَإِنَّہَا تُحِدُّ عَلَیْہِ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا وَلاَ تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلاَّ ثَوْبَ عَصْبٍ وَلاَ تَکْتَحِلُ وَلاَ تَمَسُّ طِیبًا إِلاَّ إِلَی أَدْنَی طُہْرَتِہَا إِذَا طَہُرَتْ بِنُبْذَۃٍ مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٥٢٦) ام عطیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع کیا کہ عورت کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے مگر اپنے خاوند پر وہ اس پر چار ماہ ، دس دن سوگ تک کرے اور نہ رنگ دار کپڑے پہنے اور نہ ہی سرمہ لگائے اور نہ ہی خوشبو لگائے مگر اپنے طہر کے قریب، جب وہ پاک ہوجائے تو ایک پھوہاکستوری کا لے۔

15533

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15533

Sahih

(۱۵۵۲۷) حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَقِیہُ الشِّیرَازِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ أَخْبَرَنَا ہِشَامٌ عَنْ حَفْصَۃَ عَنْ أُمِّ عَطِیَّۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ یَحِلُّ لاِمْرَأَۃٍ تُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَی مَیِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلاَّ عَلَی زَوْجٍ فَإِنَّہَا تُحِدُّ عَلَیْہِ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا وَلاَ تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلاَّ ثَوْبَ عَصْبٍ وَلاَ تَکْتَحِلُ وَلاَ تَمَسُّ طِیبًا إِلاَّ عِنْدَ أَدْنَی طُہْرِہَا إِذَا اغْتَسَلَتْ منِ حَیْضِہَا مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِدْرِیسَ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ عَنْ ہِشَامٍ۔ وَرَوَاہُ إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ حَسَّانَ بِمَعْنَاہُ وَزَادَ فِیہِ : وَلاَ تَخْتَضِبُ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٥٢٧) ام عطیہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی عورت کے لیے نہیں حلال ہے جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے مگر اپنے خاوند پرچار ماہ اور دس دن سوگ کرے، وہ نہ رنگ دار کپڑے پہنے اور نہ ہی وہ سرمہ لگائے اور نہ ہی خوشبو لگائے مگر اپنے طہر کے قریب جب وہ غسل کرے اپنے حیض سے تو ایک پھوہاکستوری سے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔

15534

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15534

Sahih

(۱۵۵۲۸) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ حَدَّثَنِی ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٥٢٨) ہشام بن حسان نے اس کو اسی طرح ذکر کیا ہے۔

15535

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15535

Sahih

(۱۵۵۲۹) وَرَوَاہُ یَعْقُوبُ الدَّوْرَقِیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی بُکَیْرٍ فَقَالَ مَکَانَ عَصْبٍ إِلاَّ ثَوْبًا مَغْسُولاً أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الدَّوْرَقِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ فَذَکَرَہُ۔ وَرَوَاہُ یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ حَسَّانَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٥٢٩) یحییٰ بن بکیرنے بھی اس حدیث کو اسی طرح ذکر کیا ہے۔

15536

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15536

Sahih

(۱۵۵۳۰) کَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلاَء ً أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْہَالِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ حَفْصَۃَ بِنْتِ سِیرِینَ عَنْ أُمِّ عَطِیَّۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ یَحِلُّ لاِمْرَأَۃٍ تُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَی ہَالِکٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلاَّ عَلَی زَوْجٍ فَإِنَّہَا تُحِدُّ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا وَلاَ تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا وَلاَ ثَوْبَ عَصْبٍ وَلاَ تَکْتَحِلُ بِالإِثْمِدِ وَلاَ تَخْتَضِبُ وَلاَ تَمَسُّ طِیبًا إِلاَّ عِنْدَ أَدْنَی طُہْرِہَا إِذَا تَطَہَّرَتْ مِنْ حَیْضِہَا بِنُبْذَۃٍ مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ ۔ کَذَا قَالَ وَلاَ ثَوْبَ عَصْبٍ۔ وَبَلَغَنِی عَنْ عِیسَی بْنِ یُونُسَ أَنَّہُ رَوَاہُ عَنْ ہِشَامِ بْنِ حَسَّانَ کَذَلِکَ وَرِوَایَۃُ الْجَمَاعَۃِ بِخِلاَفِ ذَلِکَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٥٣٠) ام عطیہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی عورت کے لیے حلال نہیں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی ہلاک ہونے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے مگر اپنے خاوند پر وہ چار مہینے اور دس دن سوگ کرے اور نہ وہ رنگ دار لباس پہنے اور نہ ہی سرمہ لگائے اور نہ ہی خوشبو لگائے اور نہ ہی خضاب لگائے مگر اپنے طہر کے وقت جب وہ اپنے حیض سے غسل کرے تو کستوری کا ایک پھوہا لے لے ۔

15537

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15537

Sahih

(۱۵۵۳۱) وَقَدْ رَوَاہُ عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ زُرَیْعٍ نَحْوَ رِوَایَۃِ الْجَمَاعَۃِ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنِی ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ فَذَکَرَہُ نَحْو رِوَایَۃِ الْجَمَاعَۃِ وَقَالَ : إِلاَّ ثَوْبَ عَصْبٍ ۔ وَلَمْ یَذْکُرِ الْخِضَابَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٥٣١) ہشام بن حسان سے روایت ہے کہ باندھنے والے کپڑے کے علاوہ اور انھوں نے خضاب کا ذکر نہیں کیا۔

15538

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15538

Sahih

(۱۵۵۳۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَہَّابِ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ الزَّہْرَانِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ حَفْصَۃَ بِنْتِ سِیرِینَ عَنْ أُمِّ عَطِیَّۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کُنَّا نُنْہَی أَنْ نُحِدَّ عَلَی مَیِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلاَّ عَلَی زَوْجٍ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا وَلاَ نَکْتَحِلُ وَلاَ نَتَطَیَّبُ وَلاَ نَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلاَّ ثَوْبَ عَصْبٍ وَقَدْ رُخِّصَ فِی طُہْرِہَا إِذَا اغْتَسَلَتْ إِحْدَانَا مِنْ مَحِیضِہَا فِی نُبْذَۃٍ مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الرَّبِیعِ وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ الْحَجَبِیِّ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ۔[صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٥٣٢) ام عطیہ (رض) سے روایت ہے کہ ہمیں منع کیا جاتا کہ ہم کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کریں مگر خاوند پر چار ماہ اور دس دن سوگ کریں اور ہم نہ سرمہ لگائیں اور نہ خوشبہ لگائیں اور نہ ہی رنگ دار کپڑے پہنیں مگر اس کے طہر میں رخصت ہے جب اپنے حیض سے غسل کرے تو اپنے کستوری کا ایک پھوہاپکڑے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔

15539

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15539

Sahih

(۱۵۵۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَء ً أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَارِثِ البَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ حَدَّثَنِی بُدَیْلُ بْنُ مَیْسَرَۃَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ شَیْبَۃَ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : الْمُتَوَفَّی عَنْہَا لاَ تَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ مِنَ الثِّیَابِ وَلاَ الْمُمَشَّقَۃَ وَلاَ الْحُلِیَّ وَلاَ تَخْتَضِبُ وَلاَ تَکْتَحِلُ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَارِثِ وَزَادَ الصَّغَانِیُّ فِی رِوَایَتِہِ قَالَ وَحَدَّثَنِی بُدَیْلُ بْنُ مَیْسَرَۃَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ مُسْلِمٍ قَالَ : لَمْ أَرَہُمْ یَرَوْنَ بِالصَّبِرِ بَأْسًا۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٥٣٣) ام سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ عورت جس کا خاوند فوت ہوجائے وہ زرد رنگ کے کپڑے نہ پہنے اور نہ ہی کنگھی کرے نہ زیور پہنے اور نہ ہی خضاب لگائے اور نہ سرمہ لگائے۔ یہ ابراہیم بن حارث کی حدیث کے الفاظ ہیں اور صنعانی نے اپنی روایت میں کچھ الفاظ زیادہ کیے ہیں کہ مجھے بدیل بن میسرۃ نے حدیث بیان کی کہ حسن بن مسلم فرماتے ہیں : میں نہیں سمجھتا کہ وہ صَبِر بوٹی کے لگانے میں کوئی حرج محسوس کرتے ہوں۔

15540

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15540

Sahih

(۱۵۵۳۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ بُدَیْلٍ الْعُقَیْلِیِّ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ شَیْبَۃَ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : لاَ تَلْبَسُ الْمُتَوَفَّی عَنْہَا مِنَ الثِّیَابِ الْمُصْبَغَۃِ شَیْئًا وَلاَ تَکْتَحِلُ وَلاَ تَزَیَّنُ وَلاَ تَلْبَسُ حُلِیًّا وَلاَ تَخْتَضِبُ وَلاَ تَطَیَّبُ۔ وَہَذَا مَوْقُوفٌ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٥٣٤) ام سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے وہ رنگ دار کپڑوں میں سے کوئی بھی نہ پہنے اور نہ ہی وہ سرمہ لگائے اور نہ ہی خوبصورتی اختیار کرے اور نہ وہ زیور پہنے اور نہ وہ خضاب لگائے اور نہ ہی خوشبو لگائے۔

15541

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15541

Sahih

(۱۵۵۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا نُمَیْرٌ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : الْمُتَوَفَّی عَنْہَا زَوْجُہَا لاَ تَکْتَحِلُ وَلاَ تَطَیَّبُ وَلاَ تَخْتَضِبُ وَلاَ تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلاَّ السود الْمعصب وَلاَ تَبِیتُ فِی غَیْرِ بَیْتِہَا وَلَکِنْ تَزُورُ بِالنَّہَارِ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٥٣٥) ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے وہ نہ سرمہ لگائے نہ خوشبو لگائے نہ خضاب لگائے نہ رنگے ہوئے کپڑے پہنے مگر سیاہ کپڑے پہنے اور کسی دوسرے کے گھر میں رات نہ گزارے، لیکن زیارت دین میں کرسکتی ہے۔

15542

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15542

Zaeef

(۱۵۵۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ أَنَّہُ بَلَغَہُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَتْ لاِمْرَأَۃٍ حَادٍّ عَلَی زَوْجِہَا اشْتَکَتْ عَیْنَیْہَا فَبَلَغَ ذَلِکَ مِنْہَا : اکْتَحِلِی بِکُحْلِ الْجِلاَئِ بِاللَّیْلِ وَامْسَحِیہِ بِالنَّہَارِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٥٣٦) مالک فرماتے ہیں : ان کو یہ بات پہنچی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں : اپنے خاوند پر سوگ گزارنے والی عورت کی انکھیں خراب ہوئیں اور یہ بات آپ کو پہنچی تو آپ نے فرمایا : تو کحل جلآء کے ساتھ سرمہ لگارات کو اور دن کے وقت صاف کر دے۔

15543

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15543

Zaeef

(۱۵۵۳۷) وَبِالإِسْنَادِ حَدَّثَنَا مَالِکٌ أَنَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- دَخَلَ عَلَی أُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَہِیَ حَادٌّ عَلَی أَبِی سَلَمَۃَ وَقَدْ جَعَلَتْ عَلَی عَیْنَیْہَا صَبِرًا فَقَالَ : مَا ہَذَا یَا أُمَّ سَلَمَۃَ؟ ۔ فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّمَا ہُوَ صَبِرٌ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : اجْعَلِیہِ بِاللَّیْلِ وَامْسَحِیہِ بِالنَّہَارِ ۔ وَہَذَانِ مُنْقَطِعَانِ وَقَدْ رُوِیَا بِإِسْنَادٍ مَوْصُولٍ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٥٣٧) مالک فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ام سلمہ (رض) پر داخل ہوئے اور وہ ابو سلمہ پر سوگ کرنے والی تھی ۔ انھوں نے اپنی آنکھوں پر (صبر بوٹی) لگائی ہوئی تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ام سلمہ ! یہ کیا ہے ؟ عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! صبر بوٹی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اس کو رات کے وقت لگا اور دن کے وقت اس کو صاف کر دے۔

15544

Sunan Al Kubra Bayhaqi #15544

Zaeef

(۱۵۵۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَخْرَمَۃُ عَنْ أَبِیہِ قَالَ سَمِعْتُ الْمُغِیرَۃَ بْنَ الضَّحَّاکِ یَقُولُ أَخْبَرَتْنِی أُمُّ حَکِیمٍ بِنْتُ أَسِیدٍ عَنْ أُمِّہَا : أَنَّ زَوْجَہَا تُوُفِّیَ وَکَانَتْ تَشْتَکِی عَیْنَہَا فَتَکْتَحِلُ بِکُحْلِ الْجِلاَئِ قَالَ أَحْمَدُ الصَّوَابُ بِکُحْلِ الحلاء فَأَرْسَلَتْ مَوْلاَۃً لَہَا إِلَی أُمِّ سَلَمَۃَ فَسَأَلَتْہَا عَنْ کُحْلِ الْجِلاَئِ فَقَالَتْ : لاَ تَکْتَحِلُ بِہِ إِلاَّ مِنْ أَمْرٍ لاَ بُدَّ مِنْہُ یَشْتَدُّ عَلَیْکِ فَتَکْتَحِلِینَ بِاللَّیْلِ وَتَمْسَحِینَہُ بِالنَّہَارِ۔ ثُمَّ قَالَتْ عِنْدَ ذَلِکَ أُمُّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : دَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حِینَ تُوُفِّیَ أَبُو سَلَمَۃَ وَقَدْ جَعَلْتُ عَلَی عَیْنَیَّ صَبِرًا فَقَالَ : مَا ہَذَا یَا أُمَّ سَلَمَۃَ؟ ۔ فَقُلْتُ : إِنَّمَا ہُوَ الصَّبِرُ یَا رَسُولَ اللَّہِ لَیْسَ فِیہِ طِیبٌ۔ قَالَ : إِنَّہُ یَشُبُّ الْوَجْہَ فَلاَ تَجْعَلِیہِ إِلاَّ بِاللَّیْلِ وَتَنْزَعِینَہُ بِالنَّہَارِ وَلاَ تَمْتَشِطِی بِالطِّیبِ وَلاَ بِالْحِنَّائِ فَإِنَّہُ خِضَابٌ۔ قَالَتْ قُلْتُ : بِأَیِّ شَیْئٍ أَمْتَشِطُ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ: بِالسِّدْرِ تُغَلِّفِینَ بِہِ رَأْسَکِ ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٥٥٣٨) مغیرہ بن ضحاک فرماتے ہیں کہ مجھے ام حکیم بنت اسید نے اپنی والدہ سے خبر دی کہ اس کا خاوند فوت ہوگیا اور اس کی آنکھیں خراب ہوگئیں ۔ اس نے کحل جلاء کے ساتھ سرمہ لگایا۔ احمد کہتے ہیں : درست کہ کحل جلاء ہے۔ اس نے اپنی لونڈی کو ام سلمہ کی طرف بھیجا ۔ اس نے کحل جلاء کے بارے میں اس سے سوال کیا تو وہ فرمانے لگیں : وہ یہ سرمہ نہ لگائے مگر کسی ایسے معاملے میں جس میں نہایت ضروری ہو۔ تو رات کو سرمہ لگا اور دن کو اس کو صاف کر دے پھر فرمایا : میرے پاس اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے جس وقت ابو سلمہ (رض) فوت ہوئے اور میں نے اپنی آنکھوں پر صبر (بوٹی) لگائی ہوئی تھی۔ آپ نے فرمایا : اے ام سلمہ ! یہ کیا ہے ؟ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ تو صبر (بوٹی) ہے۔ اس میں خوشبو نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا : یہ چہرے کو چمکاتی ہے ، تو اس کو رات کو لگا اور دن کو اتار دے اور تو کنگھی خوشبو کے ساتھ نہ کر اور نہ ہی مہندی لگا ۔ یہ خضاب ہے۔ فرماتی ہیں : اے اللہ کے رسول ! میں کس چیز کے ساتھ کنگھی کروں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیری کے ساتھ کنگھی کر اور اس کے ساتھ اپنے سر کو ڈھانپ لے۔